rss

ناسا کے چیف سائنس دان ڈاکٹر جم گرین کی ٹیلیفونک پریس بریفنگ

English English, Français Français, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 
 

نگران: برسلز میں امریکی یورپی میڈیا مرکز کی جانب سے سبھی کو تسلیمات۔ میں یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے ٹیلی فون پر موجود اپنے شرکا کا خیرمقدم کرنا چاہوں گا اور اس بات چیت میں شمولیت پر آپ سبھی کا مشکور ہوں۔

آج ناسا کے چیف سائنس دان ڈاکٹر جم گرین ویانا سے ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں جس پر ہمیں بے حد خوشی ہے۔ ڈاکٹر گرین نظام شمسی میں زمین سے پرے زندگی کی تلاش پر بات چیت نیز ناسا کی تحقیقی مہم اور ‘یونی سپیس پلس 5’ پروگرام میں امریکی کردار پر گفتگو کریں گے جو 18 سے 21 جون تک ویانا میں ہو رہا ہے۔

ہم آج اپنے ساتھ بات چیت کے لیے وقت نکالنے پر ڈاکٹر گرین کے شکرگزار ہیں۔

ہم آج کی کال کا آغاز ڈاکٹر گرین کے افتتاحی کلمات سے کریں گے اور پھر آپ کے سوالات کی جانب آئیں گے۔ ہم 30 منٹ کے مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ سوالات لینے کی کوشش کریں گے۔ یاد دہانی کے لیے بتاتے چلیں کہ آج کی کال آن دی ریکارڈ ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں ڈاکٹر گرین کو بات کی دعوت دوں گا۔

ڈاکٹر گرین: آپ کا بے حد شکریہ۔

میں سبھی کو ناسا کے کام، بنیادی طور پر گزشتہ دس برس کی کارکردگی کا مختصر پس منظر بتانا چاہوں گا۔ ہم نے ایک کام شروع کیا ہے جس میں ہمارا مقصد زمین سے پرے زندگی ڈھونڈنا ہے۔ درحقیقت ہم اپنے سامنے چند بنیادی ترین سوالات میں سے ایک کا جواب ڈھونڈنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تمام انسان اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ ‘آیا ہم اکیلے ہیں؟’

خیال یہ ہے کہ اگر ہم دیگر جگہوں، مختلف سیاروں یا مختلف سیاروں کے گرد گھومتے چاند یا دیگر ستاروں کے گرد گردش کرتے سیاروں پر زندگی ڈھونڈ  سکتے ہیں تو پھر نظام شمسی میں ہر جا زندگی ہونی چاہیے۔

اب مجھے آپ کو فوری طور پر یہ بتانا ہو گا کہ تاحال ہم نے زمین سے پرے زندگی کا نشان نہیں پایا مگر ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش میں خاصی کامیابی مل رہی ہے کہ ہمیں زندگی کہاں تلاش کرنی چاہیے ، کون سی علامات ڈھونڈنی چاہئیں اور ہمیں کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

قریباً 15 برس پیشتر ہم نے اپنے فلکی حیاتیات دانوں سے زندگی کی وضاحت کرنے کو کہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم خلائی جہازوں کے ذریعے بھیجے جانے والے ایسے آلات بنانا چاہتے تھے جو ایسی باتوں کا پتا چلا سکیں جس سے ہمیں زندگی کے بارے میں مطلق جوابات مل سکیں۔

فلکی حیاتیات دانوں کی جانب سے آنے والا جواب خاصا مایوس کن تھا۔ نئے خلیے بننا، نسل آگے بڑھنا اور ارتقا زندگی کے لازمے ہیں۔ اس میں مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایسا آلہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائے جو زمین سے پرے ان تین عوامل کی جانچ کر سکتا ہو جو ہمارے فلکی حیاتیات دانوں کے خیال میں زندگی کی علامت ہیں۔

چنانچہ ہم نے زندگی کی پہلی صورت کا جائزہ لیا جو یہ ہے کہ اس میں بہرصورت نئے خلیے بننا چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کے ذریعے مادہ تحلیل ہو سکتا ہے، اس سے توانائی حاصل کی جا سکتی ہے اور پھر پانی کے ذریعے خرچ شدہ مادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا زندگی کی تعریف میں پانی بنیادی عنصر تھا۔

قریباً دس برس پہلے ہم نے ‘پانی ڈھونڈنے’ کا عمل شروع کیا۔ اگر ہم اپنے نظام شمسی میں ایسی جگہوں تک پہنچ جائیں جہاں پانی مائع حالت میں موجود ہو یا ماضی میں موجود رہا ہو تو پھر شاید وہاں آج بھی زندگی موجود ہو سکتی ہے یا مستقبل اور ماضی میں وہاں زندگی کا امکان ہو سکتا ہے۔

چنانچہ آج میں یہاں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے اس سے کیا سیکھا۔ ہم نے گزشتہ دس برس میں بہت سی جانچ پڑتال کی اور  اپنے نظام شمسی میں بڑے اجسام کا پہلی مرتبہ تفصیلی جائزہ لیا۔ پلوٹو کے قریب نیوہورائزن کی پرواز سے ہم نے تمام بڑے سیاروں، متعدد بونے سیاروں اور بہت بڑے سیاروں کے گرد گردش کرتے بہت سے چاند وغیرہ کے جائزے کا سلسلہ مکمل کر لیا۔

اس عمل سے حاصل شدہ اعدادوشمار ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ ان سیاروں پر جو حالات پیش آئے  ہم ان کا نمونہ تیار کر سکتے ہیں۔ یہ کام انتہائی اہم ثابت ہوا ہے۔

سیارہ زہرہ کو دیکھیے، جیسا کہ آج ہم اسے جانتے ہیں یہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔ اس کی سطح اس قدر گرم ہے کہ وہاں سیسہ پگھل جاتا ہے۔ وہاں بے حد دباؤ ہے۔ یہ ویسا ہی دباؤ ہے جس کا مشاہدہ سمندر کی گہرائی میں ہوتا ہے جہاں جا کر یہ دباؤ جھیلنے کے لیے بہت مضبوط چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری جانب مریخ بے حد بنجر ہے۔ یہ قریباً صحرا جیسا سیارہ ہے جہاں کرہ ہوائی بے حد لطیف ہے۔

مگر یہ ان سیاروں کی آج کی حالت ہے۔ مگر مشاہدات سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ماضی میں زہرہ، مریخ اور زمین تینوں ہی نیلے سیارے تھے۔ ان تینوں پر سمندر تھے۔ یہ دونوں سیارے بھی ماضی میں زمین جیسے ہی تھے۔

اب یوں لگتا ہے کہ غالباً زہرہ نظام شمسی میں زندگی کے قابل پہلا سیارہ تھا جس پر پانی کی نمایاں مقدار موجود تھی۔ گزشتہ 800 ملین برس میں وہاں بہت بڑے پیمانے پر گرمی کے اثرات نے یہ پانی خشک کر دیا اور اس سیارے کی حالت ویسی ہو گئی جو آج ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ کیا ماضی میں زہرہ پر زندگی موجود ہو سکتی تھی؟ اگر اس سیارے کے حجم، وہاں  پائے جانے والے مادوں اور سمندروں کی موجودگی کو دیکھا جائے تو ایسا ممکن تھا۔ تاہم اس وقت یہ سیارہ بہت مختلف صورت اختیار کر چکا ہے۔

مریخ کی بھی یہی صورتحال تھی جس کے شمالی کرے کا دو تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ درحقیقت وہاں بعض آبی مقامات ایک میل سے بھی زیادہ گہرے تھے۔ درحقیقت مریخ پر موسمی نظام تھے، وہاں اچھے خاصے عرصہ تک بارش، بادل، برفانی چوٹیاں اور بڑے بڑے سمندروں کا وجود رہا۔ تاہم یہ سیارہ اپنی تاریخ کے ابتدائی عرصہ میں ہی تیزتر موسمیاتی تبدیلی کی زد میں آگیا۔ کم و بیش 800 ملین سال تک یہ نیلا سیارہ تھا۔ یہ عرصہ اس سیارے پر بھی زندگی کی شروعات کے لیے کافی تھا۔

اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ جو کچھ زہرہ پر ہوا وہی زمین پر بھی ہو سکتا ہے۔ جو کچھ مریخ پر پیش آیا وہی کچھ زمین پر بھی پیش آ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ہمیں جہاں یہ جاننا ہے کہ آیا ان اجرام  پر ماضی میں زندگی موجود تھی یا اس وقت موجود ہو سکتی ہے وہیں ہمیں ان سیاروں کی اپنی خصوصیات کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔

ہم اپنے نظام شمسی کے ایک اور حیران کن حصے کا جائزہ بھی لے رہے ہیں جہاں زندگی کے قابل دنیائیں ہو سکتی ہیں اور یہ حصہ مریخ کے مدار سے پرے ہے۔ ان بہت بڑے سیاروں کے بہت سے چاند ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ چاند طویل عرصہ تک برفانی شکل میں رہے جبکہ پانی کے بغیر ہم زندگی کا تصور نہیں کر سکتے۔ اب ہمیں یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ ان میں بہت سے چاند ایسے ہیں جن کی سطح پر بہت بڑے سمندر ہیں اور ان سمندروں کی سطح پر برف کی تہہ موجود ہے۔ سیارہ مشتری کے چاند یوروپا کی برفانی تہہ کے نیچے اتنا بڑا سمندر ہے جس کے پانی کی مقدار ہماری زمین کے سمندر سے دو گنا زیادہ ہے جبکہ مشتری کے اس چاند کا حجم ہماری زمین کے گرد گرش کرتے چاند جتنا ہی ہے۔ نظام شمسی میں مزید پرے تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سیارہ زحل کے گرد بہت سے برفانی اجسام گردش کر رہے ہیں جن پر سمندر بھی پائے جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان اجسام پر جمی برفانی تہہ کے نیچے بہت بڑے سمندر اور پانی موجود ہے۔

مثال کے طور پر اینسلڈس نامی چاند کی سطح پر موجود دراڑوں سے پانی نکلتا رہتا ہے۔ یہ پانی جمی ہوئی شکل میں زحل کے مدار میں برفانی ذرات کی صورت میں ایک نیا دائرہ بناتا ہے جسے ہم نے ‘ای رنگ’ کا نام دیا ہے۔

زحل کا ایک اور چاند بے حد مسحور کن ہے جسے ہم ٹائٹن کہتے ہیں۔ اس کا حجم سیارہ عطارد سے کچھ بڑا ہے۔ اس کی اپنی آب و ہوا ہے جس کا بڑا حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے اور یہ نظام شمسی میں زمین کے بعد واحد دوسرا جرم ہے جس کی سطح پر مائع موجود ہے۔ مگر یہ مادہ پانی نہیں بلکہ میتھین ہے۔ درحقیقت وہاں میتھین کی بعض جھیلیں  ہمارے بحیرہ اسود سے بھی بڑی ہیں۔

ٹائٹن پر تبخیری کیفیت بھی پائی جاتی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں پانی کے بجائے میتھین کی تبخیر ہوتی ہے۔ میتھین بخارات بن کر فضا میں جاتی ہے اور پھر جنوبی کرے میں بارش کی صورت میں برستی ہے جس سے نئے سمندر جنم لیتے ہیں۔

ٹائٹن کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ہم نے یہ دیکھنا ہو کہ کیا کہیں زندگی کی کوئی ایسی شکل بھی موجود ہو سکتی ہے جو ہم جیسی نہ ہو تو وہ ٹائٹن پر ممکن ہے کیونکہ وہاں نئے خلیے بننے کے عمل میں پانی کے بجائے مائع میتھین استعمال ہوتی ہو گی۔

چنانچہ یہ واقعتاً دلچسپ جگہیں ہیں اور ہم نے ان کے مشاہدے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مستقبل میں ہم مریخ پر مشن بھیجیں گے۔ ہم زہرہ  پر جانے اور وہاں زندگی کی موجودگی بارے تحقیق پر غور کر رہے ہیں۔ ہم یوروپا پر مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم ٹائٹن اور زحل کے نظام میں مشن بھیجنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ یہ مستقبل کی جانب بہت بڑی پیش رفت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انسان نظام شمسی کے مطالعے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس وقت ہم نچلے زمینی مدار سے زمین اور چاند کے درمیانی خلا میں جانے کے تصور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ چاند کے گرد وہ جگہ ہے جہاں ہم تحقیق کر سکتے ہیں اور دوسرے سیاروں کی سطح پر رہنے اور کام کرنے کی بابت سیکھ سکتے ہیں۔ ایسی پہلی سطح چاند کی ہو گی۔ ہم مریخ پر جانے سے پہلے یہ مقصد حاصل کر لیں گے۔

یہ سب ہمارے خلائی پروگرام کے لیے واقعتاً دلچسپ دور ہے۔ ہم بڑی پیش رفت کے لیے کڑی محنت کر رہے ہیں۔ ہمیں امریکی عوام، حکومت اور کانگریس کی جانب سے اس ضمن میں بے حد مدد مل رہی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اب مجھے آپ کے سوالات لینا چاہئیں۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔ اب ہم سوال و جواب کا سلسلہ شروع کریں گے۔

ہمارا پہلا سوال مصر کے محمد عطایا کی جانب سے ہے۔

سوال: میرا نام محمد عطایا ہے اور میرا تعلق بلدان الیوم اخبار سے ہے۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مریخ پر نامیاتی مادے دریافت ہونے کے بعد وہاں کسی قسم کی زندگی کا  وجود ممکن ہے؟

ڈاکٹر گرین: یہ واقعتاً اچھا سوال ہے۔ آپ کا شکریہ۔

کیوروسٹی مشن کی جانب سے مریخ پر کیے گئے حالیہ مشاہدات بے حد دلچسپ ہیں۔ کیوروسٹی نے یہ دریافت کیا ہے کہ وہاں کاربن کے پیچیدہ مالیکیول موجود ہیں۔ کئی طرح سے یہ مالیکیول زندگی کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ فطری طور پر وجود میں آئے ہوں۔ ہم یہ نہیں جانتے مگر ہم اس پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس تحقیق کے ساتھ ساتھ کیوروسٹی سیارے کی سطح سے نکلنے والی میتھین کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔ یہ بات بے حد دلچسپ ہے کہ ہماری زمین پر موجود تمام میتھین کا 95 فیصد حیاتیات یعنی زندگی سے وجود میں آیا ہے۔ اس میتھین  کا آغازجرثوموں سے  ہوا جو بعدازاں دیمک  پھر گایوں اور انسانوں کی جانب آئی۔ لہٰذا گرچہ میتھین غیرحیاتی طریقے سے بھی پیدا کی جا سکتی ہے تاہم یہ سوچ کر ذہن میں بہت سی توقعات جنم لیتی ہیں کہ ہو سکتا ہے مریخ کی سطح کے نیچے بھی زندگی موجود ہو۔

جب ہم اس موضوع کو سامنے رکھتے ہوئے زمین پر موجود حیاتی مادے کی کی مقدار کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ ہمارے فلکی حیاتیات دانوں نے زمین پر ہر جگہ اور ہر طرح کے ماحول کا جائزہ لیا ہے اور ہر جگہ انہیں پانی اور اس کے نتیجے میں زندگی دکھائی دی ہے۔ درحقیقت حالیہ اندازے کے مطابق زیرزمین حیاتی مادے کی مقدار زمین کی سطح کے اوپر موجود ایسے مادے یا پودوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ شدید حالات میں زندگی چٹانوں میں چلی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مریخ پر سطح کے نیچے کوئی زندگی موجود ہو۔

نگران: شکریہ

اب ہم کروشیا میں’ سائنس میگزین ‘کے مدیر نینڈ جیرک ڈاؤنہائر کی جانب سے پیشگی بھیجے گئے سوال کی جانب جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ‘پیو تحقیقی مرکز’ کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی آبادی کا بڑا حصہ خلائی کھوج کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ ناسا بہت سے مشن چلا رہا ہے مگر بیشتر امریکی زمین سے قریب کام کرنے والے مشن جیسے ماحولیاتی نظام کی نگرانی یا شہاب ثاقب وغیرہ کی نگرانی جیسے خلائی کاموں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ زمین کو شہابیوں جیسے اجرام فلکی کے ٹکراؤ سے بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ کیا امریکہ میں خلائے بسیط اور خلائی مخلوق سے دلچسپی ختم ہو رہی ہے؟ کیا آپ اس پر کوئی تبصرہ کریں گے؟

ڈاکٹر گرین: یہ نہایت اہم جائزہ تھا۔ پیو ریسرچ سنٹر نے بہت اچھا کام کیا۔ ہماری جانب سے سیاروں اور وہاں زندگی کے امکانات کا جائزہ زمین کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے ماحول کے تجزیے کی طرح زمین کا تجزیہ بھی اہم ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا سیارہ زہرہ پر ہوا کا خاتمہ قریباً صرف 700 ملین سال پہلے شروع ہوا تھا اور اب یہ بالکل بھی رہنے کے قابل نہیں رہا۔ چنانچہ ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ زہرہ  پر وہ کون سے حالات تھے جن کے سبب یہ اس حالت کو پہنچا؟

مریخ پر کیا ہو رہا ہے یہ بھی ہمارے لیے اہم ہے۔ اس وقت مریخ پر مقناطیسی میدان نہیں ہے اور شمسی ہوائیں اس کی فضا ختم کیے دیتی ہیں۔ درحقیقت مریخ کے بھاپ بن جانے والے سمندر شمسی ہواؤں کی نذر ہو گئے اور یہ پانی کبھی واپس نہیں آیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ مریخ کے مقناطیسی میدان ختم ہو گئے تھے اور یوں یہ اپنی فضا اور پانی کا تحفظ نہ کر سکا۔

زمین کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم جانتے ہیں کہ موسم تبدیل ہو رہا ہے، سائنس دان آپ کو بتا سکتے ہیں کہ یہ تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ تبدیلی  کی شرح اور اس تبدیلی کا سبب بننے والے عوامل کا معاملہ ہے۔ جب ہم زمین کے مقناطیسی میدان کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں سمت کی تبدیلی کے رحجانات دکھائی دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں زمین کے مقناطیسی میدان نے کئی مرتبہ رخ بدلا ہے۔ ہم واضح طور پر نہیں جانتے کہ ایسا کیسے اور کیوں ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب یہ اپنا رخ بدلتا ہے تو حقیقی طور سے یہ صفر ہو جاتا ہے کیونکہ زمین کی تہہ میں موجود برقی کرنٹ قطبین کی طرف حرکت کرتے ہیں اور مخالف سمت میں جا کر نیا میدان بناتے ہیں۔ لہٰذا ایک وقت ایسا آئے گا جب زمین کا مقناطیسی میدان بھی غائب ہو جائے گا اور زمینی حالت بھی مریخ جیسی ہو جائے گی۔ ایسے میں ہم شمسی ہواؤں کی زد میں ہوں گے جو ہمارا کرہ ہوائی اور پانی اڑا لے جائیں گی۔

اسی لیے ہم مریخ اور زہرہ کے بارے میں جو کچھ جان رہے ہیں وہ زمین کے لیے بھی اہم ہے۔ اس سے ہمیں نئے اور اہم تناظرات مل رہے ہیں جن پر ہمیں کام کرتے رہنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ عوام کی جانب سے زمین اور اس میں وقوع ہونے والی تبدیلیوں کے مطالعے کی خواہش سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

نگران: شکریہ

اگلے سوال کے لیے ہم پیٹر ماروے کا رخ کریں گے جو ہنگری کے’ ہیٹیک میگزین’ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سوال: صبح بخیر ڈاکٹر گرین۔ میرا سوال نظام شمسی کے ایک اور دلچسپ پہلو سے متعلق ہے۔ گولڈ مین ساکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نجی کمپنیوں میں قیمتی شہاب ہائے ثاقب کے حصول کی دوڑ شروع ہونے کو ہے۔ کیا ناسا نے اس بابت کچھ سوچا ہے؟ کیا آپ بھی اس دوڑ میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا یہ مالیاتی طور پر معقول اور قانونی طور پر ممکن ہے؟ شکریہ۔

ڈاکٹر گرین: میں آپ کے سوال کو ایک اور انداز میں دہرانے کی کوشش کرتا ہوں۔ امریکہ میں بہت سی کمپنیاں خلا کے تجارتی سفر کر رہی ہیں اور ناسا ان کے ساتھ کیسے معاملہ کرتا ہے۔

سوال: جی بالکل

ڈاکٹر گرین: ہمیں بے حد خوشی ہے کہ امریکی کمپنیاں ایسے کام کر رہی ہیں۔ اس میں  بہت سارے دیگر فوائد بھی ہیں اور ان کمپنیوں کی بدولت ناسا کو ان کی خدمات لینے اور فاضل وسائل اپنا انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کے بجائے دیگر جہان کھوجنے پر خرچ کرنے  میں مدد ملی رہی ہے۔ چاند اور پھر مریخ کا سفر ایسے ہی کام ہیں۔ اس لیے یہ خاصا دلچسپ وقت ہے جب تجارتی ادارے سامنے آ رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ میں آپ کو صرف سپیس ایکس کی مثال دوں گا۔ سپیس ایکس نظام شمسی کی کھوج جاری رکھنے کی خواہش مند ہے اور ناصرف سازوسامان کی ترسیل میں مدد دینے اور انسانوں کو خلائی سٹیشن پر لے جانے بلکہ مریخ کے سفر میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ ہم اس سے بات چیت کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارے پاس ‘سپیس ایکٹ ایگریمنٹ’ موجود ہیں۔ چنانچہ میں کہوں گا کہ یہ واقعتاً دلچسپ دور ہے اور ناسا ان کمپنیوں سے پورا فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ

ہمارا اگلا سوال ‘وی او اے’ روس سے تعلق رکھنے والے سینڈزہر خامیدوو نے پیشگی بھیجا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے سوموار کو محکمہ دفاع اور پینٹاگون کو ایک خلائی فورس کی تشکیل کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فورس امریکی مسلح افواج کی چھٹی شاخ ہو گی اور اس کا مقصد خلا میں بالادستی قائم کرنا ہے۔ اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے۔

ڈاکٹر گرین: ناسا غیرفوجی خلائی ادارہ ہے اور اس کا محکمہ دفاع سے ہمیشہ رابطہ رہتا ہے اور محکمہ دفاع جو بھی قدم اٹھائے یہ رابطہ برقرار رہے گا۔

چنانچہ اس تناظر سے میں سمجھتا ہوں کہ ناسا اس حوالے سے اپنا کام جاری رکھے گا اور محکمہ دفاع کو جو معلومات اور خدمات درکار ہوئیں وہ مہیا کرے گا۔

نگران: شکریہ

ہمارا اگلا سوال ‘ڈپلومیٹ میگزین’ کے گوئیڈو لافرانچی کریں گے۔

سوال: ڈاکٹر گرین، تازہ ترین معلومات کی فراہمی پر آپ کا بے حد شکریہ۔

میرا سوال ناسا کے بجٹ سے متعلق ہے۔ یہ وفاقی بجٹ کا حصہ ہے۔ گزشتہ پانچ برس میں اس بجٹ میں جتنی کمی آئی ہے اتنی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اب یہ وفاقی بجٹ کا صرف 0.5 فیصد ہے جو کہ ماضی میں کسی بھی شرح سے بہت کم ہے۔

چنانچہ اگر آپ اس رحجان میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور سیاست دانوں نیز عام امریکیوں کو خلائی سائنس پر زیادہ خرچ کرنے پر قائل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کیا منصوبہ ہے۔ شکریہ۔

ڈاکٹر گرین: میرا خیال ہے آپ اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ ناسا کی سرمایہ کاری کو دیکھا جائے تو کیسے اس کے بجٹ میں تبدیلی دکھائی دیتی ہے یا 60 کی دہائی میں امریکہ نے ناسا پر کس قدر پیسہ خرچ کیا تھا جب چاند پر جانے کا بڑا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ یقیناً آپ کو یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ 60 کی دہائی میں ناسا کا آغاز ہوا تھا اور اس کے پاس اہلیتوں اور سہولیات کی کمی تھی اور دیکھا جائے تو اس وقت راکٹوں کی تیاری کا بھی آغاز ہی ہوا تھا۔ لہٰذا اس دور میں ٹیکنالوجی کے حصول کی خاطر امریکہ نے  بہت بڑی رقومات خرچ کیں۔

دراصل اس کے بعد یہ صورتحال ہے کہ اب ہمارے پاس بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور ناسا اسے استعمال کر رہا ہے۔ اسی لیے 60 کی دہائی کے بعد جی ڈی پی میں ناسا کے بجٹ میں کمی آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ ناسا کی سرگرمیوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور کانگریس سے قریباً 20 ارب ڈالر کا بجٹ منظور کرنے کی تجویز دے رہی ہے۔ ناسا کی گزشتہ دس برس کی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو یہ اس عرصے میں سب سے بڑا بجٹ ہو گا۔ کانگریس نے گزشتہ متعدد برسوں میں اس بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔

لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ناسا کے تناظر میں ہم واقعتاً درست جا رہے ہیں۔ ہم بہت سی دریافتیں کر رہے ہیں۔ ہم ملک کی جانب سے خلائی پروگرام کے لیے کی گئی ابتدائی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا مستقبل بے حد روشن ہے۔

نگران: شکریہ

اگلا سوال ‘اے ایف پی’ سے مارلو ہوڈ کریں گے۔

سوال: ہیلو ڈاکٹر گرین۔ ان سوالات کا جواب دینے پر بے حد شکریہ۔

آپ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں احساس ہوا ہے کہ جو کچھ سیارہ زہرہ اور مریخ پر ہوا وہی کچھ زمین پر بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ انسانی اسباب سے جنم لینے والی موسمیاتی تبدیلیوں بارے خلائی بنیاد پر ہونے والی تحقیق میں ناسا نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے،  مجھے یہ پوچھنا کہ آیا اب بھی یہ آپ کی ویسی ہی ترجیح ہے جیسی ماضی میں تھی؟

میرا دوسرا سوال مریخ کی سطح پر کیوروسٹی کے دریافت کردہ کاربن کے مالیکیولوں سے متعلق ہے۔ کیا کاربن کے ان مالیکیولز میں کوئی ایسی علامت بھی ہو سکتی ہے جس سے آپ کو مطلقاً یہ اندازہ ہو سکے کہ ان مالیکیولوں نے کہاں جنم لیا اور کیا یہ فطری طور پر وجود میں آئے یا نہیں؟

ڈاکٹر گرین: درحقیت ناسا کا ‘زمینی سائنس کا پروگرام’ غیرمعمولی حد تک صحت مندانہ ہے اور ہم زمین، زمینی ماحول، سمندروں، عمل تبخیر اور زمین کے دیگر پہلوؤں کی بابت نگرانی اور خصوصی طور سے اہم مشاہدات کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ ہمارے پالیسی سازوں کو مستقبل کے حوالے سے معلومات میسر آ سکیں۔

آپ کے سوال کا دوسرا حصہ مریخ پر ملنے والے کاربن کے مالیکیولوں سے متعلق ہے۔ یہ مالیکیول ناسا کے اگلے بڑے اقدامات میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور زندگی سے ان کا تعلق ڈھونڈنے کے لیے ہمیں انہیں یہاں زمین پر لیبارٹری میں لانا پڑے گا۔

چنانچہ ناسا ایک خاص مشن پر کام کر رہا ہے جسے ‘مارس 2020’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی گاڑی ہو گی جو آئندہ دہائی کے آخر تک مریخ کی سطح پر چٹانوں کے اندرونی نمونے زمین پر لائے گی اور ہم یہاں ان کا معائنہ کریں گے۔ مریخ پر ماضی میں زندگی کی ممکنہ موجودگی کا پتا چلانے اور مستقبل میں زندگی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ان نمونوں کا زمین پرلایا جانا ہی بہترین طریقہ ہے۔

نگران: شکریہ، اب ہم ایک مرتبہ پھر پیشگی بھیجے گئے سوال کی جانب جائیں گے۔ یہ سوال اٹلی میں ‘گیلیلیو جیرونال ڈی سائنزا’ کے سیمون والیسینی نے بھیجا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں، یوروپا اور مریخ جیسے انتہائی امید افزا اہداف سے ہٹ کر کیا ہمارے نظام شمسی میں ایسے دیگر سیارے یا سیارچے بھی ہیں جہاں کسی طرح کی غیرارضی زندگی کے امکانات پوشیدہ ہوں؟ اور کیا آپ کا  ایسی جگہیں کھوجنے کا منصوبہ بھی ہے؟

ڈاکٹر گرین: بہت اچھا سوال ہے۔ ایسی بہت سی جگہیں ہیں جہاں کا ابھی ہم نے رخ نہیں کیا اور ہمیں ان جگہوں کے حوالے سے بہت سے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ آپ یورینس اور نیپچون جیسے بڑے سیاروں سے واقف ہیں۔ طویل عرصہ سے ہم نے کوئی خلائی جہاز ان کے قریب نہیں بھیجا جو ہمیں ان کی بابت بتا سکے تاہم ہمارا خیال ہے کہ غالباً وہاں بھی سمندری دنیائیں ہو سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر نیپچون کے بہت بڑے چاند ٹرائیٹن کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہ حجم میں پلوٹو سے بھی بڑا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئپر بیلٹ سے نیپچون کی جانب آیا ہے۔ اس چاند پر برف کی تہہ تلے بھی سمندر ہو سکتا ہے اور اب ہمارا یہ خیال بھی ہے کہ پلوٹو کی سطح کے نیچے بھی سمندر پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا ہم جوں جوں اپنے نظام شمسی سے باہر کی جانب دیکھتے ہیں ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر مائع حالت میں پانی ایسے بہت سے سیاروں کا اہم جزو ہو سکتا ہے اور اسی لیے ایسی بہت سی جگہوں پر زندگی کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں۔

نگران: شکریہ

اگلے سوال کے لیے ہم اینڈریس ٹوتھ کا رخ کریں گے جن کا تعلق ‘444 ان ہنگری’ سے ہے۔

سوال: شکریہ

ڈاکٹر گرین، ناسا کا آئندہ مشن ‘یوروپا کلپر’ مشتری کے اس چاند کے بارے میں ہماری معلومات میں کیا اضافہ کرے گا اور یہ تعین کیسے ہو گا کہ یہ جگہ زندگی کے لیے موزوں ہے یا نہیں؟ شکریہ

ڈاکٹر گرین: کلپر اب تیار ہوا ہے۔ اس میں بہت سے آلات نصب ہیں جو کیسینی کے آلات سے کہیں زیادہ جدید اور طاقتور ہیں۔ ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ برف کی تہہ میں جھانکنے والے اس کے ریڈار کی مدد سے یہ دیکھا جائے گا کہ یہ برفانی تہہ کتنی موٹی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ بہت سی جگہوں پر یہ برفانی تہہ بہت باریک ہے۔ شاید یہ اس قدر باریک ہے کہ اس کی بہت سی دراڑوں سے پانی ابل رہا ہے۔ ہبل دوربین کے حالیہ مشاہدات سے بھی یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارے چاند کے حجم جتنے اس چاند پر پانی کے فوارے ابل رہے ہیں۔

مزید براں جب برفانی دراڑیں کھلتی ہیں تو برف کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر نیچے آتی ہیں۔ یہ عمل ہماری زمین پر پلیٹ ٹیکٹونیکس سے مشابہت رکھتا ہے جو زندگی کے لیے درکار ضروری عناصر کو حرکت دیتا ہے۔ چنانچہ ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ ایسی جگہیں تلاش کی جائیں جہاں ہمارے مشن کو برفانی دراڑوں میں اترنے اور یوروپا کے سمندر میں جانے کا موقع مل سکے۔

نگران: شکریہ

اب ہم ‘روسیا سیگودنیا’ میڈیا گروپ کے انصاف بصیروو کا سوال لیں گے۔

سوال: جناب گرین، صبح بخیر۔ میرے دو سوالات ہیں مگر میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا مجھے یہ سوال آپ سے ہی کرنا چاہئیں۔ تاہم میں کیے دیتا ہوں۔ مستقبل میں روس اور امریکہ ‘لونر آربٹل پلیٹ فارم گیٹ وے’ نامی پروگرام پر اکٹھے کام کریں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت یہ منصوبہ کس مرحلے میں ہے اور کیا آپ روسی سائنس دانوں کو اس منصوبے پر کام کے لیے مدعو کریں گے۔ اگر کریں گے تو وہ کون سے شعبہ جات میں کام کریں گے؟ ان کا کام کس نوعیت کا ہو گا؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا ناسا خلائی شٹل’ اورین’ کی پہلی آزمائشی پرواز کے لیے روسی خلابازوں کو بھی مدعو کرے گا؟

ڈاکٹر گرین: سوالات کا شکریہ۔ درحقیقت گیٹ وے انسان کو خلا میں بھیجنے کے حوالے سے ناسا کے پروگرام کا ایک اہم جزو ہے جس کی بدولت ہمیں خلا میں رہنے اور چاند کے قریب زمینی مدار میں کام کرنے میں مدد ملے گی۔

اب اس حوالے سے خاص اہلیت میں جدید انجن بھی شامل ہیں جن سے ایسی بہت سی سرگرمیاں ممکن ہو جائیں گی جو ہم چاند پر انجام دیں گے اور انہیں گیٹ وے میں موجود خلا باز کنٹرول کریں گے۔ اس سے ہمیں مریخ پر اپنے کام کے سلسلے میں مدد ملے گی۔ یقیناً عالمی سطح پر یہ گیٹ وے متعدد انداز میں زیربحث آیا ہے۔ بہت سے ممالک گیٹ وے کے متعدد حصوں اور پہلوؤں میں شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاحال ایسا کوئی اعلان نہیں ہوا کہ کون سا ادارہ کیا کرے گا تاہم میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ سال تک آپ کو ان سوالات کے جواب خود بخود مل جائیں گے۔

نگران: اب ہم پیشگی بھیجا گیا سوال لیں گے جو یونان میں ‘آرمی وائس’ کی آئیونا الیاڈی کی جانب سے آیا ہے۔

سوال: مصنوعی سیاروں کے ذریعے بیرونی خلا سے معلومات کے حصول کے سلسلے میں یورپی خلائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

ڈاکٹر گرین: یہاں میں یہ بات بتاتا چلوں کہ ریڈیو ٹرانسمیشن کے شعبے میں ‘ای ایس اے’ اور ناسا طویل عرصہ سے اکٹھے کام کرتے چلے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر اس تعاون کی بدولت ‘ای ایس اے’ کی ڈشوں سے ناسا کے سیٹلائٹ ڈھونڈے جاتے ہیں اور ناسا کی ڈشیں ‘ای ایس اے’ کے سیٹلائٹ ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہیں۔ چنانچہ یہ دوطرفہ اہتمام کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ اہلیتوں اور سہولتوں کے تبادلے کا بہترین انداز ہے۔ ہم اس انداز میں اپنے ساتھ کام کرنے پر ‘ای ایس اے’ کی اہلیت کو واقعتاً سراہتے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ اس طرح کے تعاون سے دونوں اداروں کے خلائی پروگرام کو ترقی دینے میں مدد ملتی ہے۔ درحقیقت ان اہلیتوں سے اداروں کے لیے خلائی جہازوں سے متعلق ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کی مدد کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا عالمی تعاون یقیناً جاری رہے گا اور باہمی تعاون کی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن کی ہم واقعتاً قدر کرتے ہیں۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔

نگران: شکریہ۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس مزید سوالات کے لیے وقت باقی نہیں رہا۔

ڈاکٹر گرین، کیا آپ آخر میں کچھ کہنا چاہیں گے؟

ڈاکٹر گرین: میں آپ لوگوں کو نئے اور دلچسپ حقائق سے آگاہ کرنے کے اس موقع کی قدر کرتا ہوں۔ شاید یہ باتیں ابھی کئی برس تک نصابی کتب کا حصہ نہیں بنیں گی اور ابھی ہم اس سلسلے میں بہت سی نئی اور تیزتر پیش ہائے رفت کر رہے ہیں۔ اپنے کام سے آپ کو آگاہ کرنا اور مزید تفصیلات کے لیے آپ سے سوالات لینا میرے لیے واقعتاً ایک شاندار موقع ہے۔ وقت دینے کا بے حد شکریہ۔

نگران: ڈاکٹر گرین، میں یہاں آنے پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اچھا ہوتا اگر آپ دن بھر ہمارے سوالات کا جواب دینے کے لیے دستیاب ہوتے۔ میں اس کال میں شمولیت اور سوالات کرنے پر تمام صحافیوں کا بھی مشکور ہوں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں