rss

وزیرخارجہ اور اقوام متحدہ میں مستقل امریکی نمائندہ نکی ہیلی کا انسانی حقوق کونسل سے امریکی دستبرداری پر

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
19 جون 2018 بیان
ٹریٹی روم
واشنگٹن ڈی سی

 

وزیرخارجہ پومپئو: سہ پہر بخیر۔ ٹرمپ انتظامیہ ہر انسان کے خداداد وقار اور آزادی کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ہر فرد کے پیدائشی اور ناقابل فسخ حقوق ہیں۔ یہ حقوق حکومت کے نہیں بلکہ خدا کے عطا کردہ ہیں۔ اسی وجہ سے کسی حکومت کو انہیں واپس نہیں لینا چاہیے۔

کئی دہائیوں تک امریکہ نے انسانی حقوق کے فروغ کے سلسلے میں عالمگیر کوششوں کی قیادت کی ہے۔ اکثر اوقات یہ کام کثیرطرفی اداروں کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اب جبکہ ہمیں انسانی حقوق کے حوالے سے مخصوص حالات میں بہتری دکھائی دیتی ہے وہیں اس کے لیے ہمیں طویل انتظار بھی کرنا پڑا کہ بہتری کا یہ عمل سست رو تھا اور بعض معاملات میں کوئی بہتری نہ آ سکی۔ اس حوالے سے بہت سے وعدے پورے نہ ہوئے۔

صدر ٹرمپ ان حالات میں پیش رفت چاہتے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی دن ان اداروں اور ممالک سے بات کی جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔ انسانی حقوق کونسل میں بالکل یہی مسئلہ ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا ”یہ اقوام متحدہ کے لیے بے حد شرمندگی کی بات ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی قابل اعتراض ریکارڈ کی حامل بعض حکومتیں انسانی حقوق کونسل میں بیٹھی ہیں”

ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کبھی اس کونسل کا وژن بے حد عمدہ تھا۔ مگر آج ہمیں اس حوالے سے دیانت دارانہ طرزعمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی حقوق کونسل انسانی حقوق کے دفاع میں کمزور واقع ہوئی ہے۔

اس سے بھی بدترین بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کونسل بے شرمانہ منافقت کی مشق بن چکی ہے جہاں دنیا میں انسانی حقوق کی بہت سی بدترین خلاف ورزیاں نظرانداز کر دی جاتی ہیں اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کے بعض مرتکبین اس کونسل میں براجمان ہیں۔

اس کونسل نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا اور اس سے بھی بدترین بات یہ ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے اور اسی لیے یہ ترقی اور تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انسانی حقوق کونسل غلط کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کے سامنے خاموش رہ کر اور کوئی جارحیت نہ کرنے والوں کی غلط طور سے مذمت کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوممکن بناتی ہے۔ آج دنیا پر طائرانہ نگاہ ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کونسل اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واضح اور نفرت انگیز ریکارڈ کی حامل آمرانہ حکومتیں بھی اس کی رکن ہیں۔ چین، کیوبا اور وینزویلا اس کی نمایاں مثال ہیں۔

ان ممالک میں کوئی انتخابی عمل نہیں ہوتا اور انہوں نے حکومتی ارکان کے چناؤ کے موجودہ طریقے کو کمزور کرنے کے لیے باہم سازباز کر رکھی ہے۔

اسرائیل کے خلاف اس کونسل کا مسلسل اور ریکارڈ پر موجود تعصب ناقابل جواز ہے۔ اپنی تخلیق سے اب تک کونسل نے پوری دنیا کے خلاف اتنی مذمتی قراردادیں منظور نہیں کی جتنی اکیلے اسرائیل کے خلاف کی ہیں۔
اصولی طور پر امریکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کثیرطرفی اداروں کا مخالف نہیں ہے۔ ہم اس اہم مقصد کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جو کہ آزادی سے متعلق امریکی عہد کا اظہار ہے۔

مگر جب ادارے ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے قومی مفادات کو کمزور کرنا چاہیں گے تو پھر ہم ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ جب وہ ہماری قومی سلامتی کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی امداد دیتا ہے اور اس کی افواج کے ارکان نے کروڑوں لوگوں کو جبرواستبداد سے نجات دلانے کے لیے زندگیوں اور اعضا کی قربانی دی ہے۔ اس لیے ہم منافق اداروں سے بھاشن نہیں لیں گے۔ امریکی غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کے لیے بے غرضانہ طور سے اپنا خون اور خزانہ دیتے ہیں۔
سفیر ہیلی نے انسانی حقوق کونسل میں اصلاحات کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصہ تک کوششیں کیں۔
وہ اقوام متحدہ میں اس ضمن میں ہماری کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے موزوں رہنما ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں انتھک کوششیں کیں۔

انہوں نے اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے لے کر شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی پشت پناہی سے ہونے والی اشتعال انگیزیوں کے مسئلے سمیت ہر معاملے پر امریکی قیادت منوائی۔

سفیر ہیلی ہمارے اتحادی اسرائیل کے لیے بے خوفی اور تسلسل سے آواز بلند کرتی چلی آئی ہیں۔ انہوں نے امریکی مفاد مقدم رکھتے ہوئے دنیا بھر میں انسانوں کی سلامتی، وقار اور آزادی کے تحفظ کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پرجوش محافظ رہی ہیں۔

اب میں سفیر ہیلی کو گفتگو کی دعوت دوں گا جو یہ اعلان کریں گی کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے حوالے سے امریکہ کے آئندہ اقدامات کیا ہوں گے۔

سفیر ہیلی: شکریہ۔ سہ پہر بخیر۔ میں ان مسائل پر آگے بڑھتے ہوئے وزیرخارجہ پومپئو کا ان کی دوستی، شراکت اور رہنمائی کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔

ایک سال قبل میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں گئی تھی۔ اس موقع پر میں نے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے امریکی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا اور کہا کہ اگر ضروری اصلاحات کر لی گئیں تو ہم انسانی حقوق کونسل کا حصہ رہنا چاہیں گے۔ کونسل کو انسانی حقوق کا سنجیدہ حامی بنانے کے لیے یہ اصلاحات ضروری تھیں۔ انسانی حقوق کونسل طویل عرصہ تک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کا تحفظ کرتی چلی آئی ہے اور یہ سیاسی تعصب کا جوہڑ بن چکی ہے۔

افسوسناک طور سے اب یہ واضح ہے کہ اصلاحات کے لیے ہمارے مطالبے پر کان نہیں دھرے گئے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکبین بدستور یہاں موجود ہیں اور کونسل میں منتخب ہو رہے ہیں۔ دنیا میں انتہائی درجے کے غیرانسانی طرزعمل کی حامل حکومتیں جانچ پڑتال سے بچ نکلتی ہیں اور کونسل ایسے ممالک کو سیاست اور قربانی کا بکرا بنانے میں مصروف ہے جو انسانی حقوق کے مثبت ریکارڈ کے حامل ہیں۔ اس کا مقصد اپنی صفوں میں موجود منفی ریکارڈ والے ممالک سے توجہ ہٹانا ہے۔

اسی لیے جیسا کہ ایک سال قبل ہم نے اعلان کیا تھا اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر امریکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے سرکاری طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارے عزائم سے پسپائی مت سمجھا جائے۔ اس سے برعکس ہم نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے کہ ہمارا عزم ہمیں اس منافقانہ اور خودغرضانہ ادارے کا حصہ رہنے کی اجازت نہیں دیتا جس نے انسانی حقوق کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔

ہم نے یہ فیصلہ غیرسنجیدگی سے نہیں کیا۔ 17 ماہ پہلے جب موجودہ امریکی انتظامیہ نے ذمہ داری سنبھالی تو ہم انسانی حقوق کونسل میں پائی جانے والی بہت بڑی خامیوں سے آگاہ تھے۔ ہم فوری طور پر بھی اس سے الگ ہو سکتے تھے۔ مگر ہم نے ایسا نہ کیا۔

اس کے بجائے ہم نے نیک نیتی سے کوششیں کیں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔ ہم جنیوا میں درجن سے زیادہ ممالک کے نمائندوں سے ملے۔ گزشتہ ستمبر میں صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خظاب میں رکن ممالک کو انسانی حقوق کونسل میں اصلاحات کی حمایت کرنے کو کہا۔ گزشتہ برس اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ہم نے انسانی حقوق کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اجلاس کی قیادت کی جس میں برطانیہ اور ہالینڈ کے وزرائے خارجہ معاون میزبان تھے اور 40 سے زیادہ دیگر ممالک بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

اس پورا سال نیویارک میں ہماری کوششیں جاری رہیں جہاں میری ٹیم نے 125 سے زیادہ رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور ان میں اصلاحاتی مسودے کا متن تقسیم کیا۔ ہم جس بھی ملک کے نمائندے سے ملے اس نے اصولی طور پر ہم سے اتفاق کیا اور بند دروازوں کے پیچھے جہاں انسانی حقوق کونسل کو بڑی، ڈرامائی اور باقاعدہ تبدیلیوں کی ضرورت تھی وہاں ان میں کسی ملک کو ہماری جدوجہد میں ساتھ دینے کی جرات نہ ہوئی۔

دریں اثنا کونسل میں حالات بہتر ہونے کے بجائے بدترین صورت اختیار کرتے چلے گئے۔ ہمارا ایک بنیادی مقصد دنیا میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو کونسل کی رکنیت کے حصول سے روکنا تھا۔ مگر کیا ہوا؟ گزشتہ برس جمہوریہ کانگو کو کونسل کا رکن منتخب کیا گیا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے کانگو بدترین ریکارڈ کا حامل ہے۔ اس کے کونسل کا رکن منتخب ہونے کے بعد بھی کانگو میں اجتماعی قبریں دریافت ہوتی رہیں۔

ہمارا ایک اور مقصد کونسل کو دنیا میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو تحفظ دینے سے روکنا تھا۔ مگر کیا ہوا؟ کونسل نے وینزویلا میں انسانی حقوق کی صورت حال پر ایک اجلاس بھی نہ بلایا۔ مگر کیوں؟ کیونکہ وینزویلا انسانی حقوق کونسل کا رکن ہے جیسا کہ کیوبا اور چین اس کے رکن ہیں۔
اسی طرح یہ کونسل دسمبر اور جنوری میں اس وقت کوئی ردعمل دینے میں ناکام رہی جب ایرانی حکومت نے اظہار خیال کرنے والے سینکڑوں لوگوں کو ہلاک، اور گرفتار کیا۔

جب ایک خود ساختہ انسانی حقوق کونسل وینزویلا اور ایران میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں سے آنکھیں اور کان بند رکھتی ہے اور جمہوریہ کانگو کو نئے رکن کی حیثیت سے خوش آمدید کہتی ہے تو وہ اس نام کی حقدار نہیں رہتی۔ درحقیقت ایسی کونسل انسانی حقوق کے مقصد کو نقصان پہنچاتی ہے۔

یقیناً اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف دیرینہ تعصب کا معاملہ بھی ہے۔ گزشتہ برس امریکہ نے واضح کر دیا تھا کہ ہم ایجنڈا آئٹم سات کی مسلسل موجودگی قبول نہیں کریں گے جس میں اسرائیل کے ساتھ جیسا امتیازی سلوک ہوتا ہے ویسا کسی اور ملک کے ساتھ نہیں ہوتا۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال کے آغاز میں بھی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل کے خلاف پانچ قراردادیں منظور کیں جو کہ شمالی کوریا، ایران اور شام کے خلاف منظور کردہ قراردادوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اسرائیل پر ایسی غیرمتناسب توجہ اور اس کی لامختتم مخالفت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ کونسل انسانی حقوق کے بجائے سیاسی تعصب کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔

انہی تمام وجوہات کی بنا پر امریکہ نے گزشتہ برس انسانی حقوق کونسل میں اصلاحات کی مخلصانہ کوششیں کرتے گزارا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ہماری کوششیں کیوں اکارت گئیں۔ بنیادی طور پر اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ بہت سے غیرآزاد ممالک کونسل کو موثر نہیں دیکھنا چاہتے۔ انسانی حقوق سے متعلق ایک قابل اعتبار ادارہ ان کے لیے حقیقی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اور اسی لیے وہ ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جن کی بدولت یہ ادارہ قابل اعتبار حیثیت اختیار کرنے نہ پائے۔

کونسل کے ارکان پر نظر ڈالیے، آپ کو بعض بنیادی انسانی حقوق کی ہولناک پامالی دکھائی دے گی۔ یہ ممالک ایسی ہر کوشش کے خلاف کڑی مزاحمت کرتے ہیں جس سے ان کا طرزعمل دنیا کے سامنے آنے کا خدشہ ہو۔ درحقیقت اسی لیے ان میں بہت سے ممالک انسانی حقوق کونسل کی نشست لینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ خود کو جائزے اور جانچ پڑتال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ جب ہم نے یہ واضح کر دیا کہ ہم بھرپور طریقے سے کونسل میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں تو یہ ممالک اس کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ گئے۔ روس، چین، کیوبا اور مصر سمیت سبھی نے گزشتہ برس ہماری اصلاحاتی مساعی کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔

ہماری اصلاحات کامیاب نہ ہونے کی دوسری وجہ اس سے کہیں زیادہ مایوس کن ہے۔ انسانی حقوق کونسل میں موجود متعدد ممالک ہم جیسی اقدار کے حامل ہیں۔ ان میں بیشتر ممالک نے ہم پر کونسل کا حصہ رہنے کے لیے زور دیا۔ انہیں اسرائیل کے خلاف ناروا سلوک پر پریشانی تھی۔ وہ کیوبا، وینزویلا، جمہوریہ کانگو اور کونسل میں موجود دیگر ممالک کی منافقت کے حوالے سے ہمارے ہم خیال تھے۔

تاہم ان میں ہمارے بہت سے ہم خیال ممالک اس صورتحال کو سنجیدگی سے چیلنج کرنے پر رضامند نہیں تھے۔ ہم نے انہیں ایک کے بعد دوسرا موقع دیا اور کئی ماہ تک ان سے مشاورت جاری رہی تاہم وہ ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہو سکے۔ ان میں بعض کو اس وقت تک کونسل کی کھلی خامیوں سے سروکار نہیں تھا جب تک موجودہ ڈھانچے میں ان کے اپنے محدود مفادات پورے ہو رہے ہیں۔

2006 میں جب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا گزشتہ کمیشن موقوف ہوا تو ہم ایسے اخلاقی سمجھوتے پر تیار نہیں ہوئے تھے اور ہم اب بھی اس پر تیار نہیں ہیں۔ ان میں بہت سے ممالک کا استدلال تھا کہ امریکہ کو انسانی حقوق کونسل سے الگ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ امریکی موجودگی سے ہی یہ کونسل کسی حد تک بااعتبار دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ہمارے لیے اسے چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اگر انسانی حقوق کونسل ایسے ممالک پر حملے کرے گی جو انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں اور ایسے ممالک کو تحفظ دے گی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر امریکہ کو اسے ساکھ فراہم نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بجائے ہم انسانی حقوق کونسل سے باہر رہ کر انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی قیادت جاری رکھیں گے۔

گزشتہ برس سلامتی کونسل میں امریکی صدارت کے دوران ہم نے پہلی مرتبہ انسانی حقوق، امن اور سلامتی کے باہمی ربط پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا۔ احتجاج اور ممانعات کے باوجود ہم نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے چیمبرز سے باہر وینزویلا کی صورتحال پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔ گزشتہ جنوری میں ہم نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نیویارک میں سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا۔

میں نے ایتھوپیا، کانگو، ترکی اور اردن میں مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کے لیے قائم کیے گئے اقوام متحدہ کے کیمپوں کا دورہ کیا اور مسائل کا شکار خطوں میں مظالم کا نشانہ بننے والوں سے ملاقاتیں کیں۔ ہم نے انسانی حقوق کے تحفظ کےلیے اقوام متحدہ میں روزانہ امریکی آواز اٹھائی اور ووٹ کا حق استعمال کیا۔ ہم یہ کرتے رہیں گے۔ ہم انسانی حقوق کونسل میں اپنی رکنیت ختم کرنے کے باوجود ہ انسانی حقوق سے متعلقہ معاملات میں اقوام متحدہ کی شمولیت کے پورے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور انسانی حقوق کونسل میں اصلاحات کی بھرپور حمایت کرتے رہیں گے۔ اگر اس میں اصلاحات ہو جاتی ہیں تو پھر ہم بخوشی اس میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لیں گے۔

انسانی حقوق کے چیمپئن کی حیثیت سے امریکہ پُرفخر ورثے کا مالک ہے، دنیا بھر میں انسانی امداد کی فراہمی، زیراستبداد لوگوں کو آزادی دلانے اور دنیا بھر میں جبر کو شکست دینے کے حوالے سے امریکی ورثہ بھی ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ ہم کسی پر امریکی نظام مسلط کرنا نہیں چاہتے مگر ہم تمام لوگوں کی آزادیوں کے خداداد حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ یہ ایسا ادارہ ہے جس نے اپنے نام کا حق ادا نہیں کیا۔
شکریہ۔

سوال: سفیر، کیا اس وقت کا سرحدی پالیسی پر تنقید سے کوئی تعلق ہے؟
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تنقید قابل جواز ہے؟


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں