rss

خاندانوں کی علیحدگی کے معاملے سے نمٹنے کے لیے کانگریس کو موقع کی فراہمی

English English, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
امریکی صدر کا انتظامی حکم

 

آئین اور امریکی قوانین بشمول ‘تارکین وطن اور شہریت کے قانون’ (آئی این اے)، 8 یو۔ایس۔سی۔ 1101 اور متعلقات کی رو سے صدر کی حیثیت سے حاصل اختیارات کے تحت میں نے درج ذیل حکم جاری کیا ہے۔

سیکشن 1۔ پالیسی۔ ہمارے امیگریشن قوانین کا سختی سے نفاذ اس انتظامیہ کی پالیسی ہے۔ ہمارے قوانین کے تحت کسی غیرملکی کے لیے اس ملک میں داخلے کا واحد قانونی طریقہ یہ ہے کہ وہ خاص وقت پر داخلے کے مقررہ مقام کے ذریعے ہی یہاں آئے۔ جب کوئی غیرملکی کسی اور راستے سے ملک میں داخل ہوتا یا داخلے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کم از کم غلط طریقے سے داخلے کے جرم کا مرتکب ہوتا اور امریکی قانون کے ٹائٹل 8 کے سیکشن 1325 (اے) کے تحت جرمانے یا قید کی سزا کا مستوجب ٹھہرتا ہے۔ موجودہ انتظامیہ کانگریس کی جانب سے کوئی قدم اٹھائے جانے تک اس ضابطے اور ‘آئی این اے’ میں جرائم کے حوالے سے دیگر قوانین کے نفاذ کے لیے اقدامات کرے گی۔ خاندان کو یکجا رکھنا اور جہاں موزوں ہو قوانین اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے غیرملکی خاندانوں کو اکٹھے حراست میں رکھنا بھی اس انتظامیہ کی پالیسی ہے۔ بدقسمتی سے کانگریس کی جانب سے کوئی قدم اٹھانے میں ناکامی اور عدالتی احکامات نے انتظامیہ کو قانون کے موثر نفاذ کے لیے غیرملکی خاندانوں کی علیحدگی پر مجبور کیا۔

سیکشن 2۔ تعریفات۔ اس حکم کے حوالے سے درج ذیل تعریفات کا اطلاق ہوتا ہے۔

(الف) ”غیرملکی خاندان” کا مطلب ہے :

1۔ ایسا فرد جو امریکی شہری نہ ہو اور جسے امریکہ میں داخلہ دیا گیا ہو نہ ہی وہ امریکہ میں داخلے یا ملک میں رہنے کا مجاز ہو، ایسا شخص غیرملکی بچے یا بچوں کے ساتھ داخلے کے مقررہ مقام سے یا ایسے مقامات کے درمیان کسی جگہ سے ملک میں داخل ہو اور اسے گرفتار کر لیا جائے، اور

2۔ ایسے فرد کا غیرملکی بچہ یا غیرملکی بچے

(ب) ”غیرملکی بچے” سے مراد ایسا فرد ہے جو امریکی شہری نہ ہو اور جسے

1۔ امریکہ میں داخلہ دیا گیا ہو نہ ہی وہ امریکہ میں داخلے یا یہاں رہنے کا مجاز ہو

2۔ جس کی عمر 18 سال سے کم ہو، اور

3۔ اس کا ایسے غیرملکی کے ساتھ والدین اور بچے کا قانونی رشتہ ہو جو غیرملکی بچے کے ساتھ ملک میں داخلے کے مقررہ مقام یا ایسے مقامات کے درمیان کسی جگہ سے امریکہ میں داخل ہوا ہو اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہو۔

سیکشن 3اس ملک میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہونے والے خاندانوں کے لیے عارضی حراست کی پالیسی۔ (الف) وزیر برائے داخلی سلامتی (وزیر) قانون میں دی گئی حدود اور تصرفات کی دستیابی مدنظر رکھتے ہوئے جرم کی ذیل میں آنے والے ناموزوں داخلے یا ایسے افراد کے امیگریشن معاملات پر کارروائی کے دوران غیرملکی خاندانوں کو تحویل میں رکھنے کا بندوبست کریں گے۔

(ب) تاہم جہاں کسی غیرملکی بچے کو اس کے غیرملکی والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ حراست میں رکھنے سے اس کی بہبود کو خطرات لاحق ہوں تو وزیر اس غیرملکی خاندان کو اکٹھے حراست میں نہیں رکھیں گے۔

(ج) وزیر دفاع وزیر داخلی سلامتی کی جانب سے درخواست پر غیرملکی خاندانوں کی رہائش  اور دیکھ بھال کے لیے دستیاب سہولیات کی فراہمی کے لیے قانونی طور پر دستیاب تمام اقدامات اٹھائیں گے اور اگر ضروری ہو اور قانون اجازت دے تو ایسی سہولیات تعمیر کریں گے۔ وزیر قانونی حدود مدنظر رکھتے ہوئے ان خاندانوں کو زرتلافی کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوں گے۔

(د) انتظامیہ محکمہ جات اور اداروں کے سربراہان قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر کے لیے ایسے خاندانوں کی رہائش اور دیکھ بھال کی غرض سے درکار تمام موزوں سہولیات کا اہتمام کریں گے جو ملک میں ناموزوں طریقے سے داخلے کے کے حوالے سے عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں۔ وزیر قانون کے مطابق ان خاندانوں کو زرتلافی کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوں گے۔

(ر) اٹارنی جنرل فوری طور پر سنٹرل ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے جس میں آبادکاری کے حوالے فلورس معاہدے میں اس انداز میں ترمیم کے لیے کہا جائے گا جس سے وزیر دستیاب وسائل میں غیرملکی خاندانوں کو اس وقت تک حراست میں رکھ سکیں جب تک ان کے ملک میں ناموزوں طریقے سے داخلے یا کسی طرح کی موقوفی  یا امیگریشن کے حوالے سے کسی دیگر قانونی کارروائی پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

سیکشن 4غیرملکی خاندانوں کےے حوالے سے امیگریشن کی ترجیحی کارروائی۔ جہاں تک ممکن ہو اٹارنی جنرل زیرحراست خاندانوں کے کیسز کو ترجیحی طور سے نمٹائیں گے۔

سیکشن 5عمومی شرائط۔ (الف) اس حکم میں کسی بات کی یہ تعبیر اخذ نہ کی جائے کہ اس سے

1۔ کسی انتظامی محکمے یا ادارے یا اس کے سربراہ کو قانون کی جانب سے تفویض کردہ اختیار کم یا متاثر ہو گا، یا

2۔ بجٹ، انتظام و انصرام یا قانونی تجاویز سے متعلق دفتر برائے انتظام و بجٹ کے ڈائریکٹر کے کام متاثر ہوں گے۔

(ب) اس حکم پر قابل اطلاق قانون کی مطابقت اور تصرفات کی دستیابی مدنظر رکھتے ہوئے عملدرآمد ہونا چاہیے۔

(ج) اس حکم کے اجرا کا مقصد امریکہ، اس کے محکمہ جات، اداروں، اس کے افسروں، ملازمین، نمائندوں یا کسی دیگر فرد کے خلاف قانونی طور سے قابل نفاذ کوئی اساسی یا ضابطی حق یا فائدہ تخلیق کرنا نہیں ہے۔

ڈونلڈ جے ٹرمپ
وائٹ ہاؤس
20 جون 2018


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں