rss

وزیرخارجہ مائیکل آر پومپئو کا ‘ایم ایس این بی سی’ کے ہیو ہیوٹ کو انٹرویو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
24 جون 2018
ٹریٹی روم
واشنگٹن ڈی سی

 

سوال: وزیر پومپئو، ہمیں وقت دینے کا شکریہ

وزیر خارجہ پومپئو: ہیو، آپ سے ملنا بہت خوشی کی بات ہے۔ دفتر خارجہ میں خوش آمدید۔

سوال: میں گفتگو کا آغاز کرتا ہوں۔ یہاں آ کر بے حد خوشی ہوئی۔ بات شروع کرتے ہیں۔ جب آپ دفتر خارجہ آئے تو یہاں بہت سے دفاتر خالی تھے۔ کیا سینیٹ خالی عہدوں پر تقرریوں کے لیے آپ کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ آپ کے پاس دنیا کے اس بہترین سفارتی محکمے میں کہیں قیادت کا فقدان نہ ہو؟

وزیرخارجہ پومپئو: اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں تیزی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام میں شامل ہر ایک کو یہی کرنا ہے۔ ہمیں ہرممکن طور پر جلد دنیا کے ہر کونے میں اپنے سفارت کار پہنچانا ہیں۔ جب میں نے عہدہ سنبھالا تو کئی اہم جگہیں خالی تھیں۔ بہت جلد جنوبی کوریا میں ہمارے سفیر کی تقرری عمل میں آ جائے گی اور ایسی دیگر جگہوں پر بھی لوگ کام شروع کر دیں گے جو بہت اہم ہیں۔ مگر ہمیں ہر ایک سے مدد درکار ہے اور مجھے یقین ہے کہ سینیٹر مینینڈز اور کورکر اس کام کی تکمیل میں میری مدد کریں گے۔

سوال: سینیٹ میں لیڈر کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ نے اس بارے میں میکونل سے بھی بات کی ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی، ہم ان سے مکمل مشاورت کر رہے ہیں۔ وہ  ہر ممکن طور پر جلد از جلد ہمارے لوگوں کی تعیناتی عمل میں لا رہے ہیں۔ اگست میں ہمیں چند اضافی ہفتے لگ سکتے ہیں جب صدر کی خواہش کے مطابق دنیا کے ہر کونے میں ان کی خارجہ پالیسی پر عملدرآمدکے لیے ہمارے پاس بعض اضافی لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کا موقع ہو گا۔

سوال: آپ کانگریس کے سابق رکن ہیں۔ آپ اگست میں یہاں ہوتے ہوئے اپنے سینیٹ کے ساتھیوں کو ناخوش نہیں کر سکتے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: اس موقع پر گرمی ہو گی مگر میں ان کے ساتھ یہاں موجود ہوں گا۔

سوال: ٹھیک ہے۔

وزیرخارجہ پومپئو: ہمارے سفارت کار بھی یہی کریں گے۔

سوال: اب ذرا سیاسی و جغرافیائی امور کی بات ہو جائے۔ چالیس سال پہلے اسی مہینے الیگزنڈر سولنسٹن نے دنیا اور سوویت یونین کی تقسیم کے بارے میں بات کی تھی۔ اکہتر برس پہلے فوج سے تعلق رکھنے والی شخصیت جارج مارشل نے مارشل پلان دیا تھا۔ ددونوں سوویت یونین کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روس کے بجائے عوامی جمہوریہ چین کو اپنے ہمسر یا ہمسر حریف کے طور پر دیکھیں؟ کیا مسابقتی ماحول میں وہ ہمارے اولین حریف ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان سے انتہائی سنجیدہ  نوعیت کا خطرہ ہے اور کھل کر کہا جائے تو یہ امریکہ کے لیے ایک موقع ہے اگر اس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو۔ اگر آپ سوویت یونین کے بجائے روس اور چین کا موازنہ اور مقابلہ کریں تو ایک کے پاس دولت اور وسائل ہیں جبکہ دووسرے کے پاس طاقت ہے جو کہ زوردار طور سے جدوجہد میں لگا ہے۔

ہمیں یقینی طور پر یہ بات سمجھنا ہو گی کہ چین کیا کر رہا ہے۔ چین ہمارے اثاثے، ہماری انٹیلیکچوئل پراپرٹی اور دیگر چیزیں چرانا چاہتا ہے اور صدرٹرمپ  امریکہ کو لاحق اس  خطرے کی بابت پوری طرح واضح سوچ کے مالک ہیں۔ روس کی جانب سے خود کو پہلے سے بڑا، مضبوط اور کڑا ملک بنانے کے لیے جنوبی چینی سمندر اور دنیا بھر میں کی جانے والی کوششوں پر ہماری آنکھیں کھلی ہیں۔ بہت سے معاملات میں ہمارے مفادات مشترک ہیں اور ہم نے ایسے کام ان کے ساتھ مل کر کرنا ہیں مگر جہاں ایسی صورتحال نہیں ہے وہاں ہمیں یہ امر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ امریکہ دنیا میں ان کے متعلقہ کردار کی بابت ان سے بات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔

سوال: کچھ ہی عرصہ پہلے آپ صدر ژی سے ملے تھے۔ کیا یہ ملاقات خوشگوار رہی؟ کیا یہ دوستانہ ملاقات تھی؟ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ آپ سفارت کار ہیں،  ہو سکتا ہے آپ صدر ٹرمپ کے نرم کردار سے برعکس سخت کردار ادا کر رہے ہوں۔ اس ملاقات میں کیا ہوا؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔ وہ مہربان طور سے مجھ سے ملے۔ یہ ملاقات شام کے اواخر میں ہوئی تھی۔ میں امریکہ واپس آ رہا تھا تاہم  مجھے ملاقات کے لیے ٹھہرایا گیا۔ شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے مسئلے پر ہمارے کام میں چین کا اہم کردار ہو گا۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ صدر ٹرمپ کی چیئرمین کم سے کیا بات ہوئی نیز مجھے یہ یقین دہانی درکار تھی کہ وہ جان لیں کہ ہم اس سلسلے میں ان سے کیا چاہتے ہیں اور اس وقت ہمارا مقصد یہ ہے کہ شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں برقرار رہیں۔ اس کے بعد متعدد دیگر امور پر بھی میری صدر ژی سے بات ہوئی۔ یہ اچھی، گرمجوشانہ اور خوشگوار ملاقات تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور میں نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے لیے وقت نکالنے پر انہیں سراہا۔

سوال: اب وہ طویل عرصہ کے لیے صدر ہیں، جب آپ ان کے بارے میں سوچتے ہیں تو کیا آپ کو ماؤ اور ڈینگ کا خیال آتا ہے؟ کیا ہمیں صدر ژی کے ساتھ بیس پچیس سال تک چلنا ہو گا، اور کیا امریکی عوام اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ اس وقت کس قدر اہم کھلاڑی ہیں جنہوں نے اسی سال نہیں بلکہ آئندہ دہائی یا دو دہائیوں تک اس عہدے پر رہنا ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ انہیں جس طرح کا اختیار حاصل ہوا ہے وہ  ان سے پہلے والوں کے پاس نہیں تھا اور یہ واقعتاً تاریخی نوعیت کا واقعہ ہے۔ امریکہ اور خطے میں دیگر ممالک کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بعض ممالک کو اس صورت حال کا جس طرح ادراک ہو رہا ہے وہ دو یا پانچ سال پہلے نہیں تھا۔ ہم سب کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ چین ہمارے لیے کس طرح فائدہ مند ہے اور ہمیں اس سے کون سے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔

سوال: 1972 میں صدر نکسن جب ماؤ سے ملنے گئے تو انہوں نے گویا سوویت یونین کے حوالے سے سکرپٹ تبدیل کر دیا حالانکہ 20ویں صدی میں ماؤ بہت بڑا قاتل تھا۔ کیا ایسا ہے کہ آپ اور صدر ایک مرتبہ پھر اس سکرپٹ میں تبدیلی لا رہے ہیں اور شاید روس سے آپ کا رویہ بہتر رہے کیونکہ چین امریکہ کے لیے بڑا حریف ثابت ہو رہا ہے؟

وزیر خارجہ پومپئو: صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے واضح طور پر جو بات کہی ہے وہ یہ کہ بہت سے معاملات میں روس ہمارے خلاف چل رہا ہے اور بہت سے معاملات ایسے بھی ہیں جہاں ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔ مجھے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے یہی کچھ کرنے کا موقع ملا تھا جب ہم نے انسداد دہشت گردی کے امور پر روسیوں سے مل کر کام کیا کیونکہ اس معاملے پر دونوں ممالک کے مفادات ایک سے تھے۔ ہم اپنے روسی ہمسروں سے بات چیت میں یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہاں ہمارے مفادات ایک سے ہیں، تاہم جہاں ہمارے مفادات ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے وہاں ہم امریکی مفاد کا تحفظ کریں گے۔

سوال: کیا آپ اس موسم گرما میں روس جا رہے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں نہیں جانتا آیا مجھے ماسکو جانا ہو گا یا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کہیں نہ کہیں میری اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات ضرور ہو گی۔ میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے سرگئی لاورو سے متعدد مرتبہ بات کر چکا ہوں۔ ہمارے مابین اچھی گفت و شنید ہوئی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے متعدد معاملات پر ناخوشی کا اظہار بھی کیا اور اس دوران یہ بات یقینی بنائی کہ جو معاملات امریکہ سے متعلق ہوں ان پر بات کی جائے، ٹھیک، آپ امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ شام اور یوکرائن جیسی جگہوں پر ان کا طرز عمل مددگار نہیں ہے، جن اقدار کو امریکہ عزیز رکھتا ہے ان کے حوالے سے روس کا طرزعمل مثبت نہیں ہے۔ ہم یہ امر یقینی بنائیں گے کہ وہ جان لیں ہمارے مفادات اور خدشات کیا ہیں۔ اس کے بعد ایسی جگہیں ہیں جہاں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں، یقیناً ہم کوشش کریں گے کہ ۔۔۔

سوال: اگر صدر ٹرمپ اس موسم گرما میں ماسکو جاتے ہیں تو کیا یہ حیرت کی بات ہو گی؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں صدر کے شیڈول کی بابت نہیں جانتا۔ میں یہ جانتا ہوں کہ سفیر بولٹن اتوار یا سوموار کو ماسکو جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ وہاں اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے اور میرا خیال ہے کہ اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ مستقبل قریب میں اپنے ہم منصب سے ملیں گے۔

سوال: دلچسپ بات ہے۔ میں صدر ژی کے بارے میں پوچھنا چاہوں گا۔ چیئرمین ان اور معاہدے کے حوالے سے ان کا کیا کردار ہے؟ آپ اور شمالی کوریا جو کچھ کر رہے کیا اس پر انہیں ویٹو جیسا اختیار حاصل ہے؟

وزیر خارجہ پومپئو: امریکہ اور شمالی کوریا میں بات چیت دوطرفہ ہے۔ یہ بات چیت انہی دونوں ممالک میں ہو رہی ہے۔ ہم معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے لیے چیئرمین کم نے دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سمجھوتہ ہو گا، وہ اپنے جوہری اسلحے کا مکمل خاتمہ کریں گے اور ہمیں اس کی تصدیق کی اجازت دیں گے، اس کے بدلے میں ہم انہیں سلامتی کی ضمانت دیں گے۔

آپ اس معاملے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ کئی دہائیوں تک شمالی کوریا کی قیادت، چیئرمین کم، ان کے والد اور دادا کا یہی خیال رہا کہ جوہری پروگرام ان کے تحفظ کی ضمانت ہے اور یہ انہیں استحکام اور سلامتی مہیا کرتا ہے۔ اب ہم نے یہ بیانیہ تبدیل کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے  انہیں قائل کیا ہے کہ جوہری پروگرام دراصل ان کے لیے خطرہ ہے اور اسے ترک کرنے سے ہی شمالی کوریا کے عوام روشن مستقبل سے ہم کنار ہو سکیں گے۔

سوال: جناب وزیر، جب کیمرے آف اور دروازے بند ہوں تو وہ کیسے دکھائی دیتے ہیں؟ جب آپ پہلی مرتبہ پیانگ یانگ گئے تو انہیں کیسا پایا، کیا ان میں حس مزاح بھی ہے؟ کیا انہوں نے آپ سے کوئی مذاق بھی کیا؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی ہاں، وہ حس مزاح کے مالک بھی ہیں، وہ مغربی دنیا کے معاملات پر بات چیت بھی کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حالات حاضرہ سے آگاہ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ یہ شو بھی دیکھ رہے ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکی کیا کہہ رہے ہیں، وہ یہ تعین کرنا چاہتے ہیں کہ آیا امریکہ اس بارے میں سنجیدہ ہے۔

اگر وہ ایسا کرتے ہیں، اگر وہ یہ قدم اٹھاتے ہیں اور شمالی کوریا کے لیے نئی تزویراتی سمت کا تعین کر لیتے ہیں جہاں وہ جنگی مشین کے بجائے معیشت اور اپنے عوام پر توجہ دیں گے، وہ یہ دیکھ رہے  ہیں کہ اگر ایسی تزویراتی تبدیلی آ جاتی ہے تو کیا امریکہ کی صورت میں ان کے پاس ایک قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہو گا جو اس انداز میں عمل کرے گا جس کا وعدہ صدر ٹرمپ نے سنگاپور میں ملاقات کے موقع پر کیا تھا؟

لہٰذا وہ روشن دماغ ہیں۔ وہ معاملات سے آگاہ ہیں۔ وہ اس موضوع پر اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ رہنمائی کے لیے دوسروں کی جانب نہیں دیکھ رہے۔ یہ چیئرمین کم ہیں جو سنگاپور میں واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ وہ جوہری اسلحے کے مکمل خاتمے کے لیے تیار ہیں۔

سوال: وزیر پومپئو، جب آپ چیئرمین کم یا صدر ژی جیسی شخصیات سے ملتے ہیں تو آپ کے سامنے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا انسانی حقوق کے بارے میں ریکارڈ بے حد خوفناک ہے۔ مگر فرینکلن روزویلٹ سٹالن کے ساتھ بیٹھے اور نکسن نے ماؤ جبکہ صدر ریگن نے گورباچوف سے ملاقات کی۔ جب آپ کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ اس نے بہت سے لوگوں کی جان لی ہے مگر ہمیں اس سے معاملہ کرنا ہے تو پھر آپ کے ذہن میں کیا ہوتا ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی، ہم تواریخ سے واقف ہیں۔ موجودہ امریکی انتظامیہ انسانی حقوق کے دفاع کی بابت بے حد واضح ہے۔ ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہیں اس پر بات کرتے ہیں، جب ہم ایسے ممالک کے رہنماؤں سے ملتے ہیں جو انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تو ہم ان سے بات کرتے ہیں کہ ان کا طرزعمل ہماری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہم نے چیئرمین کم سے یہی بات کہی۔ میں جانتا ہوں کہ صدر نے اس حوالے سے ژی سے بھی بات کی ہے۔

مگر آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے یہ مسائل موجودہ انتظامیہ کے آنے سے کہیں پہلے سے وجود رکھتے ہیں جب ان ممالک کے حوالے سے ہماری پالیسیاں بہت مختلف تھیں۔ قبل ازیں ان ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کی گئی کوششیں ناکام رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیئرمین کم کا جوہری پروگرام امریکہ کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے اور ہمیں اسی سے آغاز کرنا ہے۔ اگر ہم کامیاب رہتے ہیں اور ہمیں مطلوبہ نتائج حاصل ہو جاتے ہیں جس کی ہمیں امید ہے تو پھر ہمارا خیال ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہو گا کہ ناصرف شمالی کوریا بلکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

سوال: کیا سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں ایسے معاہدوں کے مسودات پر بھی دستخط ہوئے جن سے ہم واقف نہیں ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں سنگاپور میں ہونے والی بات چیت اور اس کے بعد جاری گفت و شنید کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ میرے خیال میں یہ کہنا درست ہے کہ بہت سے معاملات پر کام جاری ہے۔ بہت سے اصولوں پر باہم اتفاق پایا گیا، دونوں فریقین کو اس کا ادراک ہے، انہیں علم ہے کہ سرخ لکیر کہاں ہے، دونوں میں کوئی ملک اسے نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ ہمیں بات چیت کا جو موقع میسر آیا ہے وہ پہلے سے مختلف ہے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا خیال غلط ہو سکتا ہے  اور صدر نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ چیئرمین کم جوہری ہتھیار ختم نہیں کر سکتے یا اس کے لیے تیار نہیں ہیں  تو پابندیاں برقرار رہیں گی اور ان کا نفاذ جاری رہے گا۔ اگر نیک نیتی سے بات چیت نہ کی گئی یا اس کا انداز تعمیری نہ ہوا تو ہم سخت قدم اٹھائیں گے۔

سوال: صدر ژی کے حوالے سے ایک دو سوال مزید ہو  جائیں۔ ہم اپنے تائیوانی دوستوں کے بارے میں ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صدر ژی نے چین کا تاحیات صدر بنتے وقت ڈھائی تین گھنٹے کی جو تقریر کی تھی اس میں انہوں نے تائیوان کے حوالے سے طاقت کا امکان خارج قرار دیا اور کیا امریکہ تائیوان کے دفاع کی بابت اپنے تاریخی معاہدوں کی پاسداری کرے گا؟

وزیر خارجہ پومپئو: ہم کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے چین کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ واحد چین کی پالیسی اور اس کے بعد آنے والے تین اعلامیے اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ صدر نے متعدد مواقع پر ژی سے یہ بات کی ہے۔ ہم نے انہیں بتایا ہے کہ عدم تشدد کا راستہ ہی مستقبل کی بہترین راہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک اس حوالے سے ایک دوسرے کی پالیسی سے اچھی طرح واقف ہیں۔

سوال: اگر طاقت کے استعمال کی بات کی جائے، آئیے ایران کا رخ کرتے ہیں، غالباً وہ دنیا میں روزانہ بنیادوں پر تشدد پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے (ناقابل سماعت) اگر وہ جوہری راستے پر سفر جاری رکھتا ہے تو کیا آپ مستقبل میں اس کے خلاف طاقت کا استعمال دیکھ رہے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: نوجوان، مجھے یقینی امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ ایران سے درپیش خطرے کے پیچھے بنیادی کردار کے حامل آیت اللہ اور سلیمانی اس بات کا احساس کریں گے کہ دوسرے ممالک نے ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ لیا ہو، مجھے امید ہے وہ احساس کریں گے کہ اگر انہوں نے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھا تو ان پر پوری دنیا کا قہر نازل ہو گا۔ چنانچہ ایسا کرنا عملی طور پر ان کے بہترین مفاد میں نہیں ہے۔

جوہری معاہدے کے حوالے سے جو بھی پیش رفت ہو، میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی اس بات کو سمجھتے ہیں۔ اگر وہ جوہری اسلحہ بنائیں گے تو یہ بات پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول ہو گی اور اس کے نتائج ایران، مشرق وسطیٰ کے دیگر کرداروں یا درحقیقت پوری دنیا کے لیے منفی اثرات کے حامل ہوں گے۔

سوال: جب آپ ‘پوری دنیا کے قہر’ کی بات کرتے ہیں تو میرے ذہن میں ایک نئی مفاہمت کا خیال ابھرتا ہے، میں ناظرین کے فائدے کے لیے کہہ رہا ہوں، صرف اسرائیل  کے حوالے سے نہیں بلکہ اس میں بحرین، مصر، اردن، عراق یا سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں ہمارا بہت اچھا دوست ہے۔ اگر ایران کا طرزعمل ٹھیک نہیں رہتا تو کیا یو اے ای اس پر امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں برسنے والے قہر کی حمایت کرے گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: جب میں ‘قہر’ کی بات کرتا ہوں تو اسے فوجی کارروائی سے گڈ مڈ مت کیجیے۔ جب میں قہر کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد اخلاقی مذمت اور معاشی طاقت ہوتی ہے جو ان پر برسے گی۔ میں اسی کی بات کرتا ہوں۔ میں یہاں فوجی کارروائی کا ذکر نہیں کر رہا۔ میں واقعتاً یہ امید رکھتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ یہ کسی کے بہترین مفاد میں نہیں ہے۔ تاہم غلطی مت کیجیے، صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی جوہری اسلحے کے حصول کا پروگرام شروع کرے گا۔

میں نے کسی کو یہ کہتے سنا کہ ایران کے مسئلے پر ہمارے اتحادی ہم سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ میں ایسا نہیں سمجھتا۔ جب میں اپنے عرب دوستوں سے بات کرتا ہوں، اسرائیلیوں سے بات کرتا ہوں تو خطے کے یہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ جب میں یورپیوں سے بھی بات کرتا ہوں، جن کے ساتھ ایرانی جوہری معاہدے پر ہمارے اختلافات ہیں تو انہیں  بھی ایران سے لاحق خطرے کا اندازہ ہے خواہ یہ حزب اللہ کے ساتھ مضرت رساں سرگرمی ہو یا یمن، شام اور عراق میں ایران  کی کارروائیاں ہوں یا اس کا میزائل پروگرام ہو جس کے ذریعے ان ہوائی اڈوں پر میزائل برسائے جا رہے ہیں جن سے  مغربی ممالک کے لوگ سفر کرتے ہیں۔ سبھی ایران کے بداندیشانہ طرز عمل بارے متفقہ رائے کے حامل ہیں، چنانچہ اگر ایران نے جوہری اسلحے کے حصول کا راستہ اختیار کیا تو دنیا اس کے خلاف متحد ہو گی۔

سوال: آپ نے جنرل سلیمانی کا ذکر کیا۔ وہ شام میں اپنے مقاصد آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں انہوں نے پاسداران انقلاب اور قدس فورس بھیجی ہے، میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر ضروری ہوا تو کیا امریکہ ایران کو جوہری اسلحے کے حصول سے روکنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے کو تیار ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنا موقف بالکل واضح کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔

سوال: اب ۔۔۔۔

وزیر خارجہ پومپئو: ہیو یہ بات بھی یاد رکھیں، آپ کے ناظرین کو یہ بتانا اہم ہے کہ گزشتہ معاہدے میں انہیں یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی گئی تھی، ایسا ہی ہے؟ ہم نے اپنے اتحادی اماراتیوں سے کڑا معاہدہ  کیا، اس کے بعد ہم نے ایرانیوں سے بات کی۔ میں نے درجن بھر باتوں کا تذکرہ کیا ہے جو ہم ایران سے کہہ رہے ہیں۔ اگر آپ کے ناظرین ان کا جائزہ لیں تو یہ بہت سادہ سے مطالبات ہیں۔

ان میں ہم نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اقوام عالم کا حصہ بنے، ٹھیک؟ ہم نے اسے کہا ہے کہ وہ دوسرے ممالک پر میزائل حملے بند کرے، دنیا بھر میں دہشت گردی کی اعانت بند کرے اور جوہری ہتھیار نہ بنائے۔ ہم نے جس طرح ایران سے کہا ہے کہ وہ اقوام عالم کا حصہ بنے اسی طرح ہم دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کہتے ہیں کہ وہ عالمی نظام کا حصہ بنیں۔

سوال: میری طرح جو بھی آپ کی ٹویٹر فیڈ پر نظر رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں آپ نے ایرانی  جمہوریت کی جتنی حمایت کی اتنی گزشتہ انتظامیہ نے وہاں سبز انقلاب کی تحریک کے دوران بھی نہیں کی تھی۔ کیا دفتر خارجہ میں وزیر پومپئو کی موجودگی ایران میں جمہوری تحریک کی حمایت سے عبارت ہو گی؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ یہ صدر ٹرمپ اور ہماری انتظامیہ کی پالیسی ہو گی۔ ہمیں پوری امید ہے کہ وہاں جمہوری اقدار میں اضافہ ہو گا اور ایرانی عوام کی اسلامی جمہوریہ ایران میں اظہار خیال کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔

سوال: میں آخر میں اس سوال کی جانب آتا ہوں کہ سفارت کاری کیسے تبدیل ہوئی ہے۔ پہلے آپ فوجیں، میزائل یا جہاز وغیرہ گنتے تھے۔ اب ہتھیار دکھائی نہیں دیتے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے آپ انہیں لینگلے سے دیکھتے تھے۔ سائبر دنیا میں اب ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ کس کے پاس ہتھیار ہیں اور ان ہتھیاروں کی بابت اندازہ لگانے اور سفارت کاری سے کام لینے کے لیے آپ وزیر ماٹس کے ساتھ کیسے کام کر رہے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: ہیو یہ زبردست سوال ہے۔ سائبر سرگرمیوں میں ترقی کے ساتھ میدان جنگ کی وسعت بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ برے طرزہائے عمل کی نشاندہی کی صلاحیت میں امریکہ کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم سے غلطی نہیں ہو سکتی مگر پوری امریکی حکومت میں ہمارے پاس زبردست سائبر ٹیمیں ہیں، یہ محکمہ دفاع سمیت ہر جگہ نگرانی میں مصروف ہیں۔ یہ دنیا بھر میں سائبر سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس اس حوالے سے ردعمل کی صلاحیت ہے۔

سفارت کار کی حیثیت سے میں وزیر ماٹس کے ساتھ جن بنیادی باتوں پر متفق ہوں ان میں ایک یہ ہے کہ سائبر حملے کا جواب سائبر ذرائع سے دینا ہی لازم نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جنگی نوعیت کی ایسی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو امریکہ کو محض سائبر ردعمل تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ مخصوص وقت میں امریکی حکومت موزوں فیصلہ کرے گی کیونکہ آپ خاموشی سے کارروائی انجام دے سکتے ہیں۔ آپ سائبر دنیا میں ایسا پیغام بھیج سکتے ہیں جو ضروری نہیں کہ تمام دنیا کو دکھائی دے تاہم آپ کے مخالفین  اسے اچھی طرح دیکھ سکیں گے۔ تاہم ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب سائبر کارروائی کا جواب سفارتی ردعمل یا ہماری حکومت کی جانب سے دیگر طرز کی کسی کارروائی کا تقاضا کرتا ہے۔

سوال: اب ایک دو آخری سوالات، کیا عوام کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم پر کب حملہ ہو گا؟ ہم نے اس ہفتے سماعتوں کے موقع پر دیکھا کہ انتخابات میں روسی مداخلت کے موقع پر ہمیں آرام سے بیٹھنے کو کہا گیا تھا۔ کیا عوام کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ کیا انہیں صدر ٹرمپ، آپ کے اور وزیر ماٹس کے ردعمل کی بابت آگاہ ہونا چاہیے؟

وزیر خارجہ پومپئو: اس کا درست جواب ڈھونڈنا مشکل کام ہے، اسی طرح انٹیلی جنس برادری کے پاس ایسی معلومات ہوتی ہیں جو ہم عوام کے سامنے نہیں لاتے کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی مفاد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا محکمہ دفاع بعض سرگرمیاں خاموشی سے انجام دیتا ہے جن سے ہمارے مخالفین ہی واقف ہوتے ہیں۔ ہم امریکی رازوں کا تحفظ کر کے امریکی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ کتنی معلومات ظاہر کی جانی چاہئیں اور کب کی جانی چاہئیں، ہر موقع پر یہ ایک پیچیدہ حساب کتاب ہوتا ہے۔

تاہم جب امریکہ کے اندرونی مسائل کی بات ہو تو امریکی عوام کو اس بابت آگاہ کیا جانا چاہیے۔ میں زیادہ تر ایسے امور پر بات کر رہا تھا جن کا تعلق دنیا بھر میں سلامتی کے دائرے سے ہے۔ جب ہمارے انتخابات اور امریکی جمہوریت کی بات ہو تو یقیناً میں سمجھتا ہوں کہ امریکی عوام کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے اردگرد کون سے خطرات ہیں۔

سوال: وزیر مائیک پومپئو، آج پروگرام میں وقت دینے پر آپ کا شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: بے حد شکریہ، آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں