rss

وزیرخارجہ مائیکل آر پومپئو کا سی این این کی ایلیس لیبٹ کو انٹرویو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 جون 2018

بذریعہ ٹیلی فون

 

مس نوئرٹ: تو ایلیس، ہمارے پاس 10 منٹ ہیں اسی لیے میں یہیں رہوں گی۔

سوال: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ جناب وزیر، دو ماہ قبل آپ نے ایسے دفتر خارجہ کی سربراہی سنبھالی جس کی کارکردگی واقعتاً خراب تھی، حوصلے ٹوٹ رہے تھے، عملے کی کمی تھی اور آپ نے محکمے کی آن بان واپس لانے کا وعدہ کیا۔ میں آپ کا نکتہ نظر جاننا چاہتی ہوں۔ آپ کے خیال میں جب سے آپ نے ذمہ داری سنبھالی ہے اس وقت سے کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: ہمیں دو ماہ ہوئے ہیں اور ہم نے چند معاملات میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پہلی بات یہ کہ ہم کمان اور کنٹرول میں کمی لا رہے ہیں، میں نے افسروں کو خود فیصلے لینے کی اجازت دی ہے۔ ہم نے ساتویں منزل سے بہت سے فیصلے افرادی قوت میں شامل پیشہ ور لوگوں کو سونپے ہیں، وعدے کے مطابق ہم ماہرین کو صدر کی ہدایت اور میری رہنمائی بارے سمجھ بوجھ کے ساتھ فیصلہ سازی کا اختیار دے رہے ہیں تاکہ انہیں علم ہو کہ کمانڈر کیا چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ناصرف ہماری صدر کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی اہلیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہمارے مخالفین کے اقدامات کا توڑ کرنے کی رفتار بھی تیز ہوئی ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہم نے عملے میں اضافے کے حوالے سے بھی نمایاں عملی اقدامات کیے ہیں۔ میں نے خود ناصرف سول سروس کے افسروں کے بڑے گروہ بلکہ بعض سینئر لوگوں سے بھی حلف لیا ہے۔ ہم کیپیٹل ہل میں بھی پیش رفت کر رہے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمارے پاس مزید نائب وزرا اور معاون وزرا ہوں گے۔ لہٰذا ٹیم پوری کرنے کے لیے حقیقی پیش رفت جاری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں فیصلہ سازی میں سامنے آ کر کام کرنے کے بعض مواقع بھی ملے ہیں۔ ہم نے سنگاپور میں صدر کے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت زبردست کام کیا، اس سلسلے میں ہماری ٹیم بہت شاندار تھی۔ میں نیٹو کانفرنس کے سلسلے میں اپنی تیاریوں کی بابت بھی یہی کہوں گا۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کی بدولت ہماری ٹیم پرجوش ہے کہ وہ وہی کام انجام دے رہی ہے جس کے لیے وہ دفترخارجہ آئی تھی۔

سوال: ذرا شمالی کوریا کے بارے میں کچھ بات ہو جائے۔ ملاقات کے موقع پر جاری ہونے والے بیان میں کم جانگ ان جوہری اسلحے کے خاتمے کی بابت بعض نہایت وسیع باتوں پر متفق ہوئے۔ وزیر ماٹس کا کہنا ہے کہ انہوں نے تاحال عملی اقدامات بارے کوئی واضح علامات نہیں دیکھیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شمالی کوریا والے کب اور کیا کرنا چاہتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ چالیس سالہ پرانا مسئلہ ہے اور معاہدے کو ابھی 12 دن ہوئے ہیں، مگر میں کہوں گا، میں یہ کہوں گا۔ اس ملاقات سے پہلے فریقین میں بہت سے معاملات پر اتفاق پایا گیا تھا۔ ان میں بعض چیزیں اس وقت طے ہوئیں جب صدر سنگاپور میں موجود تھے۔ ان باتوں نے ہمیں درست راہ پر ڈال دیا تاکہ ہم کامیابی کے لیے ایک بنیادی ڈھانچہ تیار کر سکیں۔

دو بنیادی فیصلہ سازوں کے بغیر یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ فیصلہ ساز نے جوہری اسلحے کے خاتمے بارے اپنا ارادہ واضح کیا۔ جب میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے وہاں تھا تو میں نے یہ بات ان کی زبانی خود سنی، جب میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے پیانگ یانگ گیا تو تب بھی میں نے یہ بات سنی اور سنگاپور میں صدر اور چیئرمین کم کی موجودگی میں بھی یہی بات ہوئی۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے پہلی مرتبہ انہیں شمالی کوریا میں یہ بات کرتے دیکھا ہے۔

مسائل تو ہمیشہ رہیں گے اور ان کے حل کے لیے کام کرنا ہو گا۔ تاہم یہ سب کچھ دو انتہائی سینئر رہنماؤں کے عزم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ جب تک یہ عزم موجود ہے امریکہ وہی کچھ کرنے کو تیار ہے جو صدر نے کہا تھا، یعنی شمالی کوریا کے لیے روشن تر مستقبل تخلیق کیجیے اور شمالی کوریا کے لوگوں کو سلامتی کی ضمانت دیجیے۔

سوال: مگر میرا مطلب ہے کہ آپ نے خود کہا کہ یہ ایک عمل کی ابتدا ہے اور کم جانگ ان نے واضح طور پر یہ باتیں کی تھیں۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں آپ کا، امریکہ کا تحمل لامحدود ہے۔ میں کسی مقررہ وقت کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی مگر آپ ان وعدوں کی حقیقی سنجیدگی کو کب تک پرکھ سکتے ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ شاید آپ موسم گرما کے اواخر تک کوئی نمایاں پیش رفت چاہیں گے۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آیا آپ کے خیال میں اس وقت ازسرنو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آپ اس معاملے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: ایلیس، ہم تسلسل سے جائزہ لیں گے۔ یہ ایک جاری عمل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پیش رفت کے لیے یہ عمل جاری رہے گا۔ مگر دیکھیے، صدر نے واضح بات کی ہے۔ ہم صدر کی جانب سے اعلیٰ سطحی جنگی مشقوں کی معطلی جیسے جو بھی اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ اسی وقت تک قائم رہ سکتے ہیں جب نیک نیتی سے مذاکرات ہوں گے اور مثبت نتائج حاصل کیے جائیں گے۔ اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے اور یہ سامنے آتا ہے کہ دونوں رہنماؤں  نے جو نتائج دینے کا وعدہ کیا تھا ان کا حصول ممکن  نہیں ہے تو پھر ہم ازسرنو جائزہ لیں گے کہ کیا ہونا چاہیے، میں اس سلسلے میں کسی مقررہ وقت کی بات نہیں کروں گا۔ مگر خواہ یہ مقصد دو ماہ میں حاصل ہو یا اس میں چھ ماہ لگ جائیں، ہم مستعد طور سے آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ آیا وہ سب کچھ ممکن ہے جس کا دونوں نے عزم ظاہر کیا ہے۔

سوال: آنے والے دنوں میں نیٹو کانفرنس ہونا ہے، صدر چند ہفتوں میں برطانیہ جائیں گے۔ یہ کانفرنس اور دورہ صدر کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کی بات کے بعد ہو رہا ہے۔ میرا مطلب ہے انہوں نے خاصی اشتعال انگیز زبان استعمال کی، میرا خیال ہے کہ اپنے کسی قریب ترین اتحادی کے حوالے سے یہ سخت الفاظ تھے، چنانچہ اب آپ سن رہے ہیں کہ یورپی ممالک اور کینیڈا کہہ رہے ہیں کہ وہ امریکہ پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ ایسے حالات میں جبکہ آپ کے دوست آپ کے ساتھ موجود نہیں ہیں تو پالیسی کے حوالے سے نمایاں اہداف آگے بڑھانے کے لیے آپ کا کام مشکل ہو گیا ہے۔ آپ ماورائے اوقیانوس اتحاد میں اس طرح کے جھگڑوں کو حل کرنے کے لیے کیا کریں گے؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں 1980 کی دہائی میں نوجوان فوجی اہلکار کے طور پر جرمنی میں تعینات تھا۔ مجھے ایسی ہی بعض باتیں یاد ہیں جب کہا جاتا تھا کہ اوہ، یورپی شراکت داروں کو امریکی اقدامات پر تشویش ہے۔ ہم میزائل نصب کر رہے تھے، ہم میزائل ہٹا رہے تھے، ایسی بہت سی باتیں ہوتی تھیں۔ میں امریکہ اور یورپ کے اختلافات کی بابت گھنٹوں بات کر سکتا ہوں۔

آپ نے جو باتیں کی ہیں یہ امریکہ اور یورپ کے مابین کئی دہائیوں سے ہوتی چلی آئی ہیں۔ اس وقت ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ یورپی شراکت دار نیٹو کے اخراجات کے ضمن میں اپنا جائز حصہ ڈالیں۔

میری تواتر سے بات چیت ہوتی رہتی ہے میں نے گزشتہ تیس گھنٹوں میں کرسٹیا فری لینڈ سے بات کی تھی۔ میں نے گزشتہ روز فرانس کے وزیرخارجہ سے بات کی تھی اور مجھے یقین ہے کہ اس ہفتے کسی وقت میں بورس سے بات کروں گا۔ ہماری ہر بات چیت کا مقصد مشترکہ مقاصد کا حصول تھا۔ امریکہ اور یورپ میں اتنا اختلاف نہیں ہے جتنا بیان کیا جاتا ہے۔ ہماری بہت سی اقدار اور خدشات مشترک ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ان اہداف کے حصول کے لیے کام کریں گے جو صدر نے مقرر کیے ہیں اور آج جو مسائل دکھائی دے رہے ہیں انہیں ختم کیا جائے گا، تاہم آخر میں روایتی طور پر اقدار کی بنیاد پر یورپ اور امریکہ میں اتحاد، ماورائے اوقیانوس اتحاد مضبوط ہو گا جسے اب 70 برس سے زیادہ عرصہ ہو چلا ہے۔

سوال: جناب وزیر، صدر بہت جلد روسی صدر پوٹن سے ملیں گے۔ آخری مرتبہ جب ان کی ملاقات ہوئی تو پوٹن نے کہا تھا کہ روس نے انتخابات میں مداخلت نہیں کی تھی جبکہ نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کوٹس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں وہ اب بھی امریکی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔  اب جبکہ وسط مدتی انتخابات چند مہینے کی دوری پر رہیں تو کیا آنے والی ملاقات میں یہ گفت و شنید کا اہم ایجنڈا نہیں ہو گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: امریکہ اور روس میں بہت سی بات چیت ہونا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں سفیر بولٹن روس روانہ ہو چکے ہیں۔ ان ابتدائی مہینوں میں چند مرتبہ میری اپنے ہم منصب سرگئی لاورو سے بات ہوئی جس میں شام کی صورتحال، یوکرائن کے حالات اور روس کے اقدامات کی بابت بہت سے موضوعات پر گفت و شنید ہوئی۔ ایسے بہت سے موضوعات ہیں جن کے حوالے سے مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن ان پر بات چیت کریں گے۔ تعلقات کو دوبارہ خوشگوار بنانے کے لیے ان میں ہر موضوع اہم ہے۔ یورپی ممالک سے برعکس روس اور ہماری اقدار ایک سی نہیں ہیں۔ یہ ایک الگ نوعیت کی بات چیت ہے مگر بہرحال اس کی اہمیت ہے۔

سوال: یقیناً بہت سے شعبہ جات میں آپ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں، مگر کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ بداعتمادی ایسا مسئلہ ہے جو گرمجوش تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: میرا مطلب ہے انہوں نے برطانیہ میں کسی کو قتل کیا۔ میں بہت سی باتیں دہرا سکتا ہوں۔ ایسے بہت سے معاملات ہیں جنہیں لے کر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی۔ تاہم یاد رہے کہ میرے خیال میں صدر ٹرمپ اس بات پر متفق ہیں کہ روسی ہمارے انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

سوال: جناب وزیر، مجھے ایک دو مزید سوالات کرنا ہیں۔

وزیرخارجہ پومپئو: یقیناً

سوال: اب جبکہ امریکہ ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہو چکا ہے تو ہم نے نئی پابندیوں کا مشاہدہ کیا ہے، آپ نے آئندہ اقدامات کے لیے دفتر خارجہ اور محکمہ خزانہ کے حکام کو بھیجا اور ایران بشمول پاسداران انقلاب سے لاحق خطرے کی بابت آپ کھل کر بات کرتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسے غیرملکی دہشت گرد گروہ قرار دینا اگلا ممکنہ قدم ہو سکتا ہے؟ امریکی انتظامیہ میں یہ بات ہو رہی ہے کہ اگلا قدم یہی ہونا چاہیے۔

وزیر خارجہ پومپئو: ایسے بہت سے اگلے اقدامات ہیں۔ میں صدر کی جانب سے فیصلہ سازی کے عمل میں پیشگی کچھ نہیں کہنا چاہتا مگر ۔۔۔۔

سوال: کیا یہ بات زیرغور ہے یا نہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: بہت سے چیزیں زیرغور ہیں جن کے بارے میں ہمارا یقین ہے کہ وہ حتمی مقصد کے حصول کے لیے بےحد موثر ہوں گی۔ حتمی مقصد یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو قائل کیا جائے کہ وہ ذمہ دار ملک بن جائے۔ یہ سادہ سی بات ہے۔ سبھی نے ان بارہ مطالبات کا تذکرہ کیا ہے جو ہم نے ایران سے کیے تھے۔ ہم بیلجیم سے بھی یہی مطالبات کرتے ہیں۔ کوئی سا بھی ملک چن لیں، جیسا کہ سنگاپور سے بھی ہمارے یہی مطالبات ہیں۔

ہم انہیں کہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کا سا طرزعمل اختیار کریں۔ دہشت گردی کا ارتکاب مت کریں، عالمی ہوائی اڈوں پر میزائل مت برسائیں، دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کے سب سے بڑے معاون مت بنیں، جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کے تقاضوں پر عمل کریں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہیں اور ہم صرف ایران سے ہی یہ مطالبات نہیں کر رہے۔ ہم انہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ دوسرے ممالک کا سا طرزعمل اختیار کریں تاکہ ان کے تجارتی اور سفارت تعلقات معمول پر آ سکیں۔ ہم یہی کچھ چاہتے ہیں اور یہ سیدھی سی بات ہے۔ جہاں تک ایران کے حوالے سے کسی خاص کارروائی کا تعلق ہے تو میں اس پر بات نہیں کروں گا۔

سوال: ٹھیک ہے، مجھے تارکین وطن کے حوالے سے بحرانی کیفیت پر سوال کرنا ہے جس کے بعد میں بات ختم کروں گی۔ آپ نے خاندانوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیے جانے کی تصاویر دیکھی ہوں گی، بعض ایسی اطلاعات ہیں کہ والدین کو بچوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس پر دنیا بھر میں بہت شور ہوا ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ آپ کو امریکہ کے ماتھے پر لگنے والے اس داغ کی بابت کتنی تشویش ہے۔ جب اسے ٹیرف کے معاملے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو خدشہ ہے کہ اس سے امریکہ کے بارے میں یہ تاثر جاتا ہے کہ وہ مقامی صنعت کو دوسرے ممالک کے ساتھ مسابقت سے بچانا چاہتا ہے۔

وزیرخارجہ پومپئو: مجھے انسانی تہذیب کی فیاض ترین قوم کا وزیرخارجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ تجارتی مسائل ہوں، مہاجرین کی قبولیت کا معاملہ ہو انسانی امداد کی تاریخ ہو، امریکہ ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔ مجھے اس پر کوئی تشویش نہیں کہ دنیا میں کوئی امریکہ کو اس انداز میں دیکھے گا، میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو امید، جمہوریت اور آزادی کے حوالے سے دیکھا جائے گا۔ اس حوالے سے ہماری طویل تاریخ ہے اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

سوال: جناب وزیر، اب میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے ۔۔۔

مس نوئرٹ: ایلیس، ہمیں جانا ہے۔

سوال: بس مجھے بات ختم کرنا ہے، ایک آخری سوال، براہ مہربانی۔

وزیر پومپئو: جی میڈم

سوال: آپ کا بے حد شکریہ جناب وزیر، آپ کے محکمے کو ان میں سے بعض ممالک کی جانب سے سفری صلاح موصول ہوئی تھیں۔ آپ جانتے ہیں گزشتہ برس دفتر خارجہ کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں غیرقانونی امیگریشن کی بنیادی وجوہات اور اس کے حقیقی محرکات جیسے غربت، تشدد اور جرائم وغیرہ پر قابو پانے کی ضرورت کا تذکرہ تھا۔ یہ لوگ بعض خطرناک ترین ممالک سے یہاں آ رہے ہیں۔ کیا ان ممالک میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے متفقہ کوشش بارے کوئی سوچ پائی جاتی ہے تاکہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے؟

وزیرخارجہ پومپئو: آپ نے جو بات کی انہی خطوط پر عمل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش کے کئی پہلو ہیں اور ہاں ہم دفتر خارجہ کی جانب سے شمالی تکونی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ایسے حالات ترتیب دیے جائیں کہ وہ امریکہ میں داخلے کے لیے میکسیکو کا طویل، کٹھن اور خطرناک راستہ اختیار نہ کریں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ اہم ہے۔ مگر ہم نے اس بے قاعدہ امیگریشن سے نمٹنے کے لیے وسطی امریکہ کے ان ممالک کے ساتھ مل کر بہت سا کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے اور ہم اس پر کڑے طور سے روبہ عمل ہیں۔

مس نوئرٹ: ایلیس ہمیں جانا ہے۔

سوال: ٹھیک ہے جناب وزیر۔

وزیرخارجہ پومپئو: ایلیس، آپ کا شکریہ۔

سوال: شکریہ۔ وقت نکالنے پر میں آپ کی مشکور ہوں۔ امید ہے آپ سے جلد ملاقات ہو گی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں