rss

انسانی بیوپار سے متعلق 2018 کی رپورٹ کے اجرا ءکی تقریب سے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
بیان
28 جون 2018

 

ڈین ایچیسن آڈیٹوریم
واشنگٹن ڈی سی

مس جانسٹن: ہیلو، دفتر خارجہ میں خوش آمدید۔ میرا نام کیری جانسٹن ہے اور میں یہاں انسانی بیوپار کی نگرانی اور روک تھام کے دفتر میں قائم مقام ڈائریکٹر ہوں۔

انسانی بیوپار سے متعلق 18ویں سالانہ رپورٹ یا ٹی آئی پی رپورٹ کے اجرا پر آج ہمارے ساتھ موجودگی کا شکریہ۔ آج یہاں وزیر خارجہ پومپئو اور اور صدر کی مشیر ایوانکا ٹرمپ موجودگی اعزاز کی بات ہے۔ ہم انسانی بیوپار کا مسئلہ اٹھانے اور ہمارے دفتر کی معاونت پر آپ کے مشکور ہیں۔

میں جلدی سے آج کے پروگرام کی بابت بتا دوں۔ سب سے پہلے وزیر خارجہ پومپئو کلیدی خطاب کریں گے۔ اس کے بعد وزیرخارجہ اور مس ٹرمپ ٹی آئی پی رپورٹ کے 10 نمایاں لوگوں میں سے ایک کی مختصر گفتگو سنیں گے۔ اس کے بعد یہ پروگرام ختم ہو جائے گا۔ میں آپ کو آڈیٹوریم کے عقب میں آ کر اس رپورٹ کی ایک ایک کاپی وصول کرنے کی دعوت دوں گی۔

خواتین و حضرات اب وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو گفتگو کا آغاز کریں گے۔

وزیرخارجہ پومپئو: سبھی کو دفتر خارجہ میں خوش آمدید۔ ہمیں آج اس تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے بے حد فخر محسوس ہو رہا ہے۔

مسلسل دوسرے برس اس تقریب میں شرکت پر میں ایوانکا ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس مسئلے میں آپ کی ذاتی دلچسپی بے حد بامعنی ہے۔ اس سے اندرون و بیرون ملک انسانی بیوپار کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے عزم اور ترجیح کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارے ساتھ موجودگی پر آپ کا شکریہ۔ آپ کی حمایت اہم ہے اور آج ہم اس پر بات کریں گے۔

سینیٹر کورکر کی موجودگی بھی میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں نے نمائندے سمتھ اور ڈونووان کو بھی یہاں دیکھا ہے۔ یہاں آنے اور ہمارا ساتھ دینے پر آپ سب کا شکریہ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی بیوپار کا خاتمہ ایک ایسا مقصد ہے جس پر سبھی متفق ہیں۔ امریکہ میں یہ معاملہ سیاست سے ماورا ہے۔ اس کے خلاف جدوجہد اور اس کے خاتمے کے لیے ہمارا عزم بے حد مضبوط ہے۔ میں غیرملکی سفارتوں سے تعلق رکھنے والے تمام سفیروں اور نمائندوں کو بھی یہاں خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں۔ آپ اس مسئلے میں بھی ہمارے اہم شراکت دار ہیں۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پیش رفت صرف دفتر خارجہ کے کام سے ممکن نہیں۔ ہم بہت سے وفاقی اداروں، افراد، غیرسرکاری تنظیموں اور عالمی اداروں کے مشکور ہیں جو انسانی بیوپار کی متعدد اشکال اور اس سے نمٹنے کے موثر طریقوں کو سمجھنے میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔

آخر میں ہم انسانی بیوپار کے مسئلے پر امریکی مشاورتی کونسل کے کام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس مارچ میں صدر نے مشاورتی کونسل میں نو ارکان کا تقرر کیا۔ ان میں ہر رکن انسانی بیوپار سے متاثر ہو چکا ہے اور یہ لوگ مختلف پس منظر اور تجربات کے حامل ہیں۔ یہ کونسل ٹرمپ انتظامیہ کو انسانی بیوپار کے خلاف وفاقی پالیسیوں اور پروگراموں کے سلسلے میں مشاورت مہیا کرتی ہے۔

یہ کونسل ایک نمونے کا کام بھی دیتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ دیگر حکومتیں بھی ایسی ہی کونسلیں قائم کرنے پر غور کریں گے۔ اس سے متاثرین کو انسداد انسانی بیوپار کی پالیسیاں تشکیل دینے میں رہنمائی کا موقع اور یہ امر یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ حکومتیں متاثرین کو مدنظر رکھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں گی۔

آج ہمیں 10 ایسے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کا غیرمعمولی موقع بھی میسر آیا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے وقف کر رکھی ہیں اور اس کام میں اکثر اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ آئندہ چند منٹ میں 2018 کی ٹی آئی پی رپورٹ کے ان نمایاں لوگوں کی خدمات کا رسمی اعتراف کیا جائے گا مگر میں ذاتی طور پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے بہت بڑے اور متاثر کن کام پر اپنی جانب سے ستائش کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ اس برس کے ان بہادر لوگوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔ (تالیاں)

ہر سال ہماری رپورٹ میں کسی خاص چیز پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اس برس ٹی آئی پی رپورٹ انسانی بیوپاریوں کے سدباب اور متاثرین کو مدد کی فراہمی کے سلسلے میں مقامی معاشروں کے اہم کام پر روشنی ڈالتی ہے۔ انسانی بیوپار ایک عالمی مسئلہ ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مقامی مسئلہ بھی ہے۔ کسی اچھے ریستوران، ہوٹل، اندرون شہر، کسی فارم پر یا ہمسایے کے گھر میں بھی انسانی بیوپار کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو سکتا ہے۔

میں اس پر اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کر سکتا ہوں۔ جب میں جنوبی وسطی کنساس سے کانگریس کا رکن تھا تو اب ہمارے سفیر اور اس وقت کے گورنر براؤن بیک کی رہنمائی میں ہم نے کنساس کے علاقے وچیٹیا جیسی جگہ پر انسانی بیوپار کے اثرات کا مشاہدہ کیا۔ آئی 35 شاہراہ شہر سے گزر کر جنوب کی جانب جاتی ہے اور ہم نے اپنے سماج اور خاص طور پر ہمارے علاقے سے بیوپار کا نشانہ بننے والے لوگوں پر اس کے اثر کا مشاہدہ کیا۔ اس وقت کے بعد یہ مسئلہ میرے لیے اہم ہو گیا ہے اور مجھے یہ رپورٹ پیش کرنے کے لیے یہاں موجودگی پر فخر ہے۔

اگر ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے تو قومی حکومتوں کو لازمی طور سے مقامی لوگوں کو بااختیار بنانا ہو گا تاکہ وہ انسانی بیوپار کی پیشگی نشاندہی کر سکیں اور اس سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر طریقہ کار ترتیب دے سکیں۔

ہر سال کی طرح یہ رپورٹ اس جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ کون سے ممالک انسانی بیوپار سے نمٹنے کی کوششوں کو بہتر بنا رہے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہے کہ ہمارے پاس بہت سی اچھی خبریں ہیں۔
ایسٹونیا میں حکومت نے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جو متاثرین کو آگے آنے اور بحالی کے لیے درکار معاونت کے حصول میں مدد دے گا۔

ارجنٹائن کی حکومت نے انسانی بیوپار کے جرائم میں ملوث حکام کو سزا دی، متاثرین کے لیے اضافی قانونی تحفظ کا اہتمام کیا اور انسانی بیوپار کے خلاف پہلا قدم اٹھانے والوں کو تربیت دینے کی کوششیں آگے بڑھائیں۔
قبرص کی حکومت نے انسانی بیوپاریوں کو سزا دینے اور متاثرین کے تحفظ کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں کو فروغ دیا۔

ہم نے تمام خطوں میں بعض مثبت تحریکوں کا مشاہدہ بھی کیا۔ اس رپورٹ میں شامل 48 افریقی ممالک میں سے 14 کو اچھے نمبر ملے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان ممالک میں انسانی بیوپار کے خلاف مجموعی ردعمل میں بہتری کی کوششوں میں بھرپور اضافہ دیکھا۔ سکیورٹی کے حوالے سے نمایاں خطرات، مہاجرت کے مسائل، دیگر مالیاتی محدودات اور دوسری رکاوٹوں کے باوجود اس خطے میں انسانی بیوپار سے نمٹنے کی کوششوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ہم ایسے اقدامات اٹھانے والے ممالک کو سراہتے ہیں مگر ہم ایسے ممالک کی نشاندہی سے بھی نہیں کترائیں گے جنہیں اس ضمن میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ہم لیبیا میں انسانی بیوپار اور افریقی تارکین وطن، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ پیش آنے والے ہولناک حالات کی بابت پڑھتے سنتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں جدید غلامی کی منڈیاں بن گئی ہیں۔ ہم ایسے جرائم کے مرتکبین اور ان کے ساتھ ملوث سرکاری حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے لیبیا کی قومی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم اس سلسلے میں پیش رفت کے لیے اس کے عہد کا خیرمقدم کرتے ہیں اور حقیقی کارروائی کے منتظر ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا میں برما کی مسلح افواج اور دیگر کرداروں نے لاکھوں روہنگیا اور دیگر نسلی گروہوں کے لوگوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کیا جس کے نتیجے میں بہت لوگوں کا استحصال ہوا۔ برما کی فوج کے بعض کرداروں نے بچہ سپاہی بھی بھرتی کیے اور اقلیتی نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بڑوں اور بچوں کو جبری مشقت پر مجبور کیا۔

شمالی کوریا میں جبری مشقت کی المناک مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ شمالی کوریا کے شہریوں کی نامعلوم تعداد اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں بیرون ملک جبری مشقت کا نشانہ بن رہی ہے اور ایسے بہت سے واقعات میں میزبان ملک کی خاموش رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔

ایران میں انسانی بیوپار کے متاثرین کو سزا دی جاتی ہے، انہیں جبراً کرائے گئے جرائم کی پاداش میں سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر وہاں جنسی بیوپار کی متاثرین کو بدکاری کے الزام میں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بدعنوان حکومت کی جانب سے انصاف کے عمل میں پیداکردہ ہولناک بگاڑ ہے۔

ہم ان داستانوں کو دل سے سنتے ہیں۔ ہم انہیں خود کو انسانی بیوپار ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے سلسلے میں اپنے مشترکہ کام کے سلسلے میں تحریک و ترغیب کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

آپ آج جاری ہونے والی اس رپورٹ میں دیکھیں گے کہ ابھی اس ضمن میں بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم انسانی بیوپار کو قصہ ماضی بنانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اپنی بات ختم کرنے سے پہلے میں قائم مقام ڈائریکٹر جانسٹن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو گزشتہ برس سے ٹی آئی پی دفتر کی قیادت کر رہی ہیں۔ شکریہ کیری۔ ٹی آئی پی دفتر میں آپ کے محنتی اور باصلاحیت عملے کا شکریہ۔ آپ نے طویل وقت اور کڑی محنت صرف کر کے جو رپورٹ تیار کی ہے وہ بے کار نہیں جائے گی۔ یہ ٹیم اور محکمے بھر کی کوشش ہے۔ آپ اور آپ کی ٹیم کا شکریہ۔ (تالیاں)

اس کے ساتھ ہی 2018 کے ٹی آئی پی ہیروز کو اعزازات پیش کرنے کے لیے براہ مہربانی صدر کی مشیر ایوانکا ٹرمپ کے استقبال میں میرا ساتھ دیجیے۔ (تالیاں)

مس جانسٹن: پرمقصد الفاظ اور اس اہم مسئلے پر بات کے لیے شکریہ۔ اب ہم ٹی آئی پی رپورٹ کے ہر ہیرو سے کہیں گے کہ جب ان کا اور ان کے ملک کا نام پکارا جائے تو وہ کھڑے ہوں اور اپنا اعزاز وصول کریں۔

بحرین سے اسامہ العباسی۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز انسانی بیوپار کے متاثرین کے لیے خطے کی سب سے بڑی پناہ گاہ بنا کر متاثرین کی بہبود مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کی تشکیل کے لیے ثابت قدمی سے کام کرنے، انسانی بیوپار کے متاثرین کے لیے حکومت کا نیا قومی حوالہ جاتی طریقہ کار شروع کرنے اور حکومتی سپانسرشپ کے نظام میں اصلاح کے ذریعے غیرملکی کارکنوں کو انسانی بیوپار سے لاحق خطرات کم کرنے کی کوششوں پر دیا جا رہا ہے۔

ان کے بعد برکینا فاسو سے جوسو انگو ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز اپنے پورے کیریئر میں انسانی بیوپار کے خلاف جدوجہد میں ان کے غیرمعمولی عزم، برکینا فاسو میں انسانی بیوپار کے خلاف جامع اور کثیر ملکی نیٹ ورک کے قیام میں مرکزی کردار اور بچہ مزدوری کی روک تھام نیز انسانی بیوپار کا آسان شکار بننے والے نوجوانوں کی مدد کے لیے حکومتی اقدامات بہتر بنانے کے لیے ان کے قابل قدر کردار پر دیا جا رہا ہے۔

کیمرون سے فرانسسکا ایواہ ایمبولی اس اعزاز کی حقدار ٹھہری ہیں (تالیاں) انہیں یہ اعزاز کیمرون میں کمزور لوگوں کو جبری مشقت سے بچانے کے لیے ان کے اٹل ارادے، اندرون ملک اور دنیا بھر میں میڈیا اداروں اور عالمی تنظیموں کی شراکت سے آگاہی پھیلانے کے عزم اور انسانی بیوپار سے متاثرہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ان کے اختراعی پروگراموں پر دیا جا رہا ہے۔ (تالیاں)

ایل سلواڈور سے یانیرا وایولیٹا اولیویریز پائنیڈا اس اعزاز کی حق دار قرار پائی ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز ایل سلواڈور میں انسانی بیوپار کے خلاف کام کرنے والے خصوصی یونٹ کی سربراہ کے طور پر جدید غلامی کی روک تھام کے ضمن میں ان کی متحرک قیادت، انسانی بیوپاریوں کے خلاف قانونی کارروائی اور محدود وسائل کے باوجود مقامی اور عالمی سطح پر ان کی کارروائیوں کا قلع قمع کرنے اور انسداد انسانی بیوپار کی کوششوں کو حکومتی ترجیح بنانے میں ان کے اہم کردار پر دیا جا رہا ہے۔ (تالیاں)

انڈونیشیا سے مائزیدا صلاص اس اعزاز کی حقدار ٹھہری ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز کام کاج کی تربیت، عوامی سطح پر آگاہی بیدار کرنے اور خاندانی معاونت کے ذریعے تارکین وطن کو بااختیار بنانے کی کوششوں پر دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انڈونیشیا میں تارکین وطن کارکنوں کی پہلی کمیونٹی کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا اور حکام نیز مقامی لوگوں کے ساتھ مسلسل روابط کےذریعے خطرات کا شکار کارکنوں اور انسانی بیوپار کے متاثرین کو تحفظ دلانے کے لیے دلیرانہ طور پر کام کیا۔

نیپال سے سنیتا ڈینوار اس اعزاز کی حقدار قرار پائی ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز نیپال میں انسانی بیوپار کے متاثرین کے لیے جامع خدمات فراہم کرنے والی پہلی تنظیم کے قیام میں غیرمعمولی کردار پر دیا جا رہا ہے۔ یہ تنظیم انسانی بیوپار کے متاثرین نے قائم کی اور وہی اسے چلاتے ہیں۔ یہ اعزاز انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے لوگوں تک رسائی اور خطرات کا شکار لوگوں سے روابط نیز متاثرین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے ان کے بے مثل عزم کا اعتراف ہے۔ (تالیاں)

نائجیریا سے بلیسنگ اوکوایڈیون اس اعزاز کی حقدار ٹھہری ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز ان کی غیرمعمولی ہمت، انسانی بیوپار سے آگاہی اور اس کی روک تھام کے لیے اپنے تجربے سے کام لینے، متاثرین کی مدد کے لیے ان کی بے لوث خدمات اور تاحال اس جرم کا نشانہ بننے والوں کی مدد نیز اٹلی اور نائجیریا میں انسانی بیوپار کے متاثرین اور اس حوالے سے خطرات کا شکار لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے ثابت قدم کوششوں پر دیا جا رہا ہے۔ (تالیاں)

سربیا سے ایوانا ریڈووک نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز سربیا میں انسداد انسانی بیوپار کی سب سے بڑی تنظیم کے کام میں ان کے نمایاں کردار، انسانی بیوپار کے متاثرین کے لیے ان کی مسلسل کوششوں اور سرکاری و نجی شعبے کے اداروں کی صلاحیت میں اضافے کے ذریعے سربیا میں انسداد انسانی بیوپار کی کوششیں مضبوط بنانے میں ان کے بے مثال کردار پر دیا جا رہا ہے۔ (تالیاں)

جنوبی کوریا سے کم جانگ چل اس اعزاز کے حقدار ٹھہرے ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزاز جنوبی کوریا اور دنیا بھر میں انسانی بیوپار پر پہلی جامع تحقیق کے ذریعے جبری مشقت سے متعلق حالات سامنے لانے کے عزم خصوصاً جنوبی کوریا کے بحری جہازوں پر غیرملکی مچھیروں کی صورتحال منکشف کرنے نیز خطرات کا شکار لوگوں اور انسانی بیوپار کے متاثرین کے حقوق کے لیے انتھک کام پر دیا جا رہا ہے۔ (تالیاں)

سوڈان سے ڈاکٹر یوسف ابراہم میہاری اس اعزاز کے حق دار قرار پائے ہیں۔ (تالیاں) انہیں یہ اعزازبطور طبی معالج اور انسانی بیوپار کے متاثرین کو ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے بے لوث کوششوں پر دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متاثرین کو معیاری طبی نگہداشت اور مدد فراہم کرنے کے لیے اپنے وقت اور وسائل فراہم کرنے کے لیے بے مثل فیاضی کا مظاہرہ کیا اور متاثرین کو نئی زندگی شروع کرنے میں مدد دینے کے لیے ان سے رابطے کی غرض سے سوڈانی حکام سے تعاون کیا۔ (تالیاں)

اب مجھے ٹی آئی پی رپورٹ کی ہیرو فرانسسکا ایوا ایمبولی کا تعارف کراتے ہوئے خوشی ہو گی۔ وہ انسانی بیوپار کے متاثرین میں شامل ہیں اور کیمرون میں متاثرین کے نیٹ ورک کی بانی ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ انہیں گھر میں جبراً کام پر مجبور کیا گیا تھا۔ وہ اپنے تجربے اور تخلیقیت کی بنا پر کیمرون بھر میں اس مسئلے کی بابت آگاہی پھیلاتی اور متاثرین کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ ان کی تنظیم نے متاثرین کو بااختیار بنانے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے جس معاشی خودمختاری اور خواتین و لڑکیوں میں کاروباری نظامت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان کی یہاں موجودگی ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ آج انسانی بیوپار کی سالانہ رپورٹ کے ہیروز کی جانب سے خطاب کریں گی۔

مس ایوا ایمبولی: جناب وزیرخارجہ پومپئو اور ممتاز مہمانان گرامی، انسانی بیوپار کے تمام متاثرین اور ٹی آئی پی ہیروز کی جانب سے میں اس اعزاز پر آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ (تالیاں)

ٹی آئی پی دفتر کو دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے میں قائدانہ کردار کے باعث جانا جاتا ہے۔ آپ کی جانب سے انسانی بیوپار کے خاتمے کے لیے ہماری کوششوں پر روشنی ڈالے جانے سے عالمی سطح پر ہماری ساکھ میں اضافہ ہوا ہے اور ہم دنیا بھر میں اس غلامی سے آزادی پانے کی جدوجہد کرنے والوں کے نیٹ ورک میں شامل ہو گئے ہیں۔

چند برس پہلے میں ایسے اعزاز کا خواب ہی دیکھ سکتی تھی۔ تین سال پہلے میں نے خلیج تعاون کونسل میں انگریزی پڑھانے کی ایک نوکری قبول کی۔ اس وقت میں ناروے سے واپس آئی تھی جہاں میں انسانی حقوق اور کثیرالثقافتی امور سے متعلق ماسٹر ڈگری کے لیے تعلیم حاصل کر رہی تھی مگر میرے لیے وہاں رہنا ممکن نہیں تھا۔

جب میں خلیج تعاون کونسل میں آئی تو وہاں انگریزی پڑھانے کی نوکری نہیں تھی۔ وہاں میں گھریلو ملازمہ کے طور پر غلامی کا شکار بن گئی جہاں مجھے غیرانسانی برتاؤ اور جنسی بدسلوکی کے سوا کچھ نہ ملا۔ جب میں نے کہاکہ میں گھر جانا چاہتی ہوں تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے تین ہزار امریکی ڈالر ادا کرنا ہوں گے اور تبھی میں وطن واپس جا سکوں گی۔ یہ جھوٹ تھا۔

تاہم میں نے اپنا گردہ بیچ کر تین ہزار امریکی ڈالر حاصل کرنے اور آزادی پانے پر غور کیا۔ دوسری لڑکیاں اس قدر مایوس کن صورتحال کا شکار تھیں کہ وہ قحبہ خانوں میں چلی گئیں۔ ان میں بعض کے بارے میں دوبارہ کوئی خبر نہیں آئی۔ میں خلیج تعاون کونسل جاتے ہوئے جتنی بھی خواتین سے ملی ان سے اچھی نوکریوں کے وعدے کیے گئے تھے تاہم کسی کو بھی وعدے کے مطابق نوکری یا تنخواہ نہ ملی۔

ہم سب نے اس لیے گھر چھوڑا تھا کہ اپنے اہلخانہ کی مالی معاونت کر سکیں۔ بہت سی خواتین سے ان کے گھرانوں کی امیدیں وابستہ تھیں۔ ایک این جی او کی مدد سے میں ان لوگوں کے چنگل سے نکلنے اور گھر واپس آنے میں کامیاب رہی۔ پھر ہم نے 27 دیگر خواتین کو گھر واپسی میں مدد دی۔ بہت سی دیگر اس قدر خوش قسمت نہیٰں تھیں۔

عالمی امداد کے ذریعے حاصل ہونے والے وسائل بے حد محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے میں نے انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے آگاہی پروگرام شروع کرنے کی غرض سے نچلی سطح پر تحریک چلانے کو اپنا اور اپنی تنظیم کا مقصد بنایا۔ میرے بہن بھائیوں کو نوکری کے جھوٹے وعدوں کی پہچان سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے لوگوں کو فنی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ وہ کام کے لیے درکار صلاحیتیں حاصل کر سکیں اور اپنے ممالک میں خود پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

جو لوگ کاروبار شروع کرنے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں انہیں چھوٹے قرضوں سے مدد مل سکتی ہے۔ سماجی و معاشی طور پر بااختیار بننے کی تعلیم درکار ہے تاکہ مرد خواتین کے مستقبل پر قابو نہ پا سکیں۔ اس طریقے سے انسداد بیوپار کی تنظیموں نے بہت سی خواتین کو خودمختار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

کمیونٹی کی بات کی جائے تو انسانی بیوپار اور جدید غلامی کے بارے میں آگاہی مہمات سے ہر عمر کے لوگوں کو علم اور تحفظ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہروں، سکولوں، گرجا گھروں، بس اڈوں ، ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں، انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا پر ایسی سرگرمیوں سے آگاہی بڑھتی ہے اور اس بات کے امکان میں اضافہ ہوتا ہے کہ راہگیر اور دیکھنے سننے والے کوئی قدم اٹھائیں گے یا مجرم کچھ کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچیں گے۔

فی الوقت دنیا بھر میں انسانی بیوپار یا جدید غلامی کا شکار 25 ملین لوگوں کو بچانے اور ان کی نگہداشت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ جب متاثرین کو بچا لیا جاتا ہے تو ان کے لیے امدادی نیٹ ورک اور ایسا بنیادی ڈھانچہ ہونا چاہیے جس کی بدولت وہ دوبارہ انسانی خریدوفروخت کا نشانہ بننے سے بچ سکیں۔

مجھے اور ٹی آئی پی رپورٹ میں شامل میرے ساتھیوں کی ہمارے مقصد میں مدد کرنے پر آپ کا شکریہ۔ یہ اعزاز و اعتراف ہمارے لیے بہت کچھ ہے اور اس ہولناک جرم کے خلاف جدوجہد کے لیے ہماری کوششوں کی توثیق اور ہماری اہلیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ناصرف ہم بلکہ کوئی بھی شخص انسانی بیوپار کے خلاف جدوجہد میں شامل ہو سکتا ہے اور اسے ہونا چاہیے۔ ہم اپنے سکولوں میں، کام کی جگہوں اور اپنے اہلخانہ کے ساتھ کھانے پر اس بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ جتنے لوگ اس مسئلے کی بابت آگاہ ہوں گے اسی قدر زیادہ تعداد میں لوگوں کو بچایا جا سکے گا۔

ہم کیمرون میں انسداد انسانی بیوپار کی مہم شروع کر رہے ہیں۔ تاہم میں جانتی ہوں کہ ہم سب مل کر جدید دور کی غلامی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ، آپ سبھی کا شکریہ۔ (تالیاں)

مس جانسٹن: فرانسسکا، متاثر کن باتوں پر آپ کا شکریہ۔ ہمیں آپ کی جدوجہد سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ آپ کی قوت اور استقامت سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ دوسرے بھی پرعزم زندگی گزار سکتے ہیں۔

اس پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کے اتنے محافظین کے ساتھ موجودگی اعزاز کی بات ہے جو دلیرانہ انداز میں آزادی کی جستجو میں لگے ہیں۔ یہ بات میرے لیے ازحد خوشی کا باعث ہے کہ جب یہ ہیروز مقامی رہنماؤں اور تنظیموں سے ملیں گے تو انہیں دفتر خارجہ کے اس ہال سے باہر اپنی بات کہنے کا موقع میسر آئے گا۔ دنیا بھر م میں رہنماؤں، ماہرین اور کارکنوں سے روابط، ان سے اپنی کہانیوں، امید افزا طریقہ ہائے کار اور سیکھے گئے اسباق کا تبادلہ انسانی بیوپار کے خلاف ہماری عالمگیر جدوجہد کو آگے بڑھاتا ہے۔

ہم خاص طور پر ریاستی اور مقامی سطح پر تعاون اور شراکت پر پورا یقین رکھتے ہیں اور اس برس ٹی آئی رپورٹ میں بھی اسی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ میری ٹیم نے اور میں نے یہ سیکھا ہے کہ بعض انتہائی اختراعی تصورات، حکمت عملی اور مسائل کے حل نچلی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں سے سامنے آتے ہیں خواہ یہ امریکہ میں ہوں یا کہیں اور۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ افراد مثبت فرق پیدا کرتے ہیں۔ خواہ یہ سیکرامینٹو کا اوبر ڈرائیور ہو جس نے ایک نوجوان مسافر اور اس کی خریدوفروخت کرنے والوں کی بات چیت سن کر پولیس کو بتایا یا شکاگو کے ریستوران کا مینجر ہو جس نے دو ملازمین کے چہروں پر جلنے کے نشانات دیکھے اور انہیں پولیس سے رابطہ کرنے کو کہا جس نے ان کے مالک کے خلاف جبری مشقت کے جرم میں قانونی کارروائی کی۔

گزشتہ برس میں گھانا میں مقامی لوگوں کے رہنماؤں کو رضاکاروں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کر انسانی بیوپار کے خلاف پیش بندی کی کوششیں کرتے دیکھ کر بے حد متاثر ہوئی۔ ان افراد اور ان جیسے دیگر لوگوں کے مجموعی کام نے 180 بچوں کو جبری مشقت سے نکلنے میں مدد دی اور متعدد دیگر کو ایسے استحصال سے بچایا۔ فرد کے اقدامات اہمیت رکھتے ہیں خواہ یہ کسی اچھے فلاحی کارکن، مقامی رہنما یا انسداد انسانی بیوپار کو زندگی کا مقصد بنانے والے کسی بھی فرد کی جانب سے انجام دیے گئے ہوں۔

دفتر خارجہ میں ہم وسیع النوع فریقین کے ساتھ اس سلسلے میں شراکت قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ ہم مل جل کر بہتر طور سے اس جرم کے آگے بند باندھ سکیں، انسانی بیوپاریوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا سکیں اور متاثرین کو مدنظر رکھتے ہوئے نیز صدمے سے آگاہی پر مبنی طریقہ ہائے کار کے تحت انسانی بیوپار کا شکار ہونے والوں کی معاونت کر سکیں۔ آئیے ان تمام ہیروز سے تحریک لیں جو آج سٹیج پر موجود ہیں اور ان لوگوں سے سیکھیں جو دنیا بھر میں انسانی بیوپار کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔ ہو سکتا ہے اس جرم کا حجم اور اس کے سدباب کی راہ میں درپیش مسائل بعض اوقات بہت بڑے معلوم ہوں مگر ہمیں جدید غلامی کے خاتمے کے لیے بھرپور طور سے مل کر کام کرنا ہے۔ ہمیں انصاف اور آزادی کا پھیلاؤ یقینی بنانا ہے۔

آج یہاں آنے پر آپ سبھی کا شکریہ۔ براہ مہربانی وزیر خارجہ، مس ٹرمپ اور ہمارے ہیروز کی روانگی تک اپنی نشستوں پر رہیے۔ اس کے بعد میں آپ سب سے چند منٹ ٹھہرنے اور ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کو کہوں گی پھر ہم عقب میں جائیں گے جہاں آپ انسانی بیوپار سے متعلق 2018 کی رپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

آپ کا بے حد شکریہ۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں