rss

انسانی بیوپار کے متاثرین کا غلط قانونی کارروائیوں اور مزید ظلم سے تحفظ

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国), हिन्दी हिन्दी

پی ڈی ایف – ڈاؤن لوڈ کریں

امریکی محکمہ خارجہ
انسانی بیوپار کی نگرانی اور خاتمے کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی
جون 2018

انسانی بیوپار کے متاثرین کا غلط  قانونی کارروائیوں اور مزید ظلم سے تحفظ

انسانی بیوپار سے متعلق رپورٹ سالہا سال سے نفاذ قانون کے عمل کے ذریعے انسانی خریدوفروخت کے متاثرین کو تحفظ دینے کی اہمیت بڑے مفصل انداز سے بیان کرتی چلی آ رہی ہے۔ متاثرین کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے گئے طریقہِ کار کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ انسانی بیوپار کے متاثرین کو ان کے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجرمانہ عمل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ یہ سرگرمیاں انسانی بیوپار کا نشانہ بننے کے براہ راست نتیجے میں سرزرد ہوئی ہوتی ہیں۔

انسانی بیوپار کے جرم میں کسی فرد کا استحصال کرنے کے لیے طاقت، دھوکہ دہی یا دھمکیوں سے کام لیا جاتا ہے۔ انسانی بیوپاری متاثرین پر اپنے اثرورسوخ کو انہیں ایسی سرگرمیوں پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جن سے بیوپاریوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ انسانی خریدوفروخت میں ملوث عناصر عموماً متاثرین کو جسم فروشی، جیب تراشی، منشیات کی سمگلنگ اور اِن کی کاشت جیسے مجرمانہ کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

نفاذ قانون کے حکام جب مشتبہ مجرموں کو حراست میں لیتے ہیں تو وہ بالعموم ان میں سے انسانی بیوپار کے متاثرین کی مناسب شناخت اور نشاندہی کرنے میں میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجتاً جب متاثرین کو انسانی بیوپاریوں کے دباؤ میں آ کر کیے گئے جرائم کی سزا دی جاتی ہے تو گویا وہ ایک مرتبہ پھر زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مجرم قرار دیے جانے سے متاثرین کے ساتھ کی جانے والی نا انصافی اُن کی زندگی کی مشکلات کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر جنسی بیوپار کا متاثرہ فرد جسم فروشی کے جرم میں سابقہ گرفتاری کے سبب کرائے پر مکان نہیں لے سکتا/سکتی، یا کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھوں چوری یا منشیات فروشی پر مجبور ہونے والا فرد اپنے مجرمانہ ریکارڈ کے باعث نوکری حاصل نہیں کر پاتا/پاتی۔ اگر انسانی بیوپار کے کسی متاثرہ فرد کو سزا نہ بھی دی جائے یا اگر اسے بری بھی کر دیا جائے تو اس صورت میں بھی گرفتاری کا ریکارڈ اور بدنامی اس کے نام سے جڑی رہتی ہے جس سے  متاثرین کو ناصرف رہائش اور ملازمت کے مواقعوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ایسے افراد لوگوں کے نامناسب طرزعمل کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔

اگرچہ انسانی بیوپار خصوصاً عورتوں اور بچوں کی خریدوفروخت کی روک تھام، خاتمے اور ذمہ داروں کو سزا دینے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے  ضابطے میں، جو کہ بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن (پالرمو پروٹوکول) کی تکمیل کرتا ہے، خاص طور پر انسانی بیوپار سے متاثرہ افراد کو مجرمانہ سرگرمیوں سے بری الذمہ ہونے کی بات نہیں کی گئی تاہم اس کے آرٹیکل 2 (بی) میں کہا گیا ہے کہ اس پروٹوکول کا ایک مقصد ”ایسی خریدوفروخت کے متاثرین کے انسانی حقوق کا مکمل احترام کرتے ہوئے انہیں تحفظ دینا اور معاونت فراہم کرنا ہے۔” مزید براں بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے حوالے سے فریقین کے اجلاس میں مشاورت مہیا کرنے والے انسانی بیوپار سے متعلق ورکنگ گروپ نے 2009 میں درج ذیل سفارشات پیش کیں:

”انسانی بیوپار کے متاثرین کو سزا نہ دینے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی فریقین کو چاہیے کہ: (الف) انسانی بیوپار سے متاثرہ افراد کی نشاندہی اور ایسے لوگوں کی مدد کے لیے موزوں طریقہائے کار تیار کریں۔ (ب) مقامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات پر غور کریں کہ انسانی بیوپار سے متاثرہ افراد کو ایسے جرائم پر نہ تو سزا دی جائے اور نہ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو ان سے متاثرہ فرد کی حیثیت سے سرزرد ہوئے ہوں کیونکہ ایسے جرائم ان کے منفی حالات کا براہ راست نتیجہ ہوتے ہیں یا انہیں غیرقانونی سرگرمیوں پر مجبور کیا گیا ہوتا ہے … "

امریکہ کے انسانی بیوپار سے متاثرہ افراد کے تحفظ سے متعلق قانون میں کانگریس کا کہنا ہےکہ:

”انسانی بیوپار کی بدترین اقسام کے متاثرین کو ایسے جرائم کی پاداش میں قید، جرمانہ یا کوئی اور سزا نہ دی جائے جو متاثرہ فرد کی حیثیت سے ان کے حالات کا براہ راست نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے جرائم میں جعلی دستاویزات کا استعمال، دستاویزات کے بغیر ملک میں داخلہ یا دستاویزات کے بغیر کام کرنا شامل ہیں۔”

یورپ کی کونسل اور یورپی یونین نے ایسے طریقہائے کار منظور کیے ہیں جن کی بدولت عدم سزا کے اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انسانی بیوپار کی روک تھام اور اس کے خلاف کارروائی سے متعلق یورپی یونین کے ہدایت نامہ 2011 کے آرٹیکل 8 میں کہا گیا ہے کہ:

” رکن ممالک کو چاہیے کہ اپنے قانونی نظام کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امر یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں کہ متعلقہ حکام انسانی بیوپار کے متاثرین کو ان جرائم میں ملوث ہونے پر قانونی کارروائی یا سزا کا نشانہ نہ بنائیں جو ان سے انسانی بیوپار کا شکار ہونے کے نتیجے میں مجبوراً سرزرد ہوئے ہوں (جیسا کہ انسانی بیوپار سے متعلقہ جرائم) جن  کا حوالہ آرٹیکل 2 میں دیا گیا ہے۔”

‘او ایس سی ای’ ریاستوں میں انسانی خریدوفروخت کی روک تھام کے لیے تیار کیے گئے عملی منصوبے کے 2013 میں جاری کردہ سیکشن 4 میں پیراگراف  2.6 کے انصاف اور موزوں تداراک تک رسائی کے زیر عنوان جاری کیے گئے اُس ضمیمے میں یہ لکھا ہے جس کی پابندی لازمی نہیں:

”2.6  یہ امر یقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں کہ جہاں مناسب ہو انسانی بیوپار کے مصدقہ متاثرین کو ایسے جرائم کی پاداش میں سزا نہ دی جائے جو ان سے جبراً کروائے گئے ہوں۔”

انسانی بیوپار خصوصاً عورتوں اور بچوں کی خریدوفروخت کے خلاف ‘آسیان کنونشن’ کے چوتھے باب کے  آرٹیکل 14 (7) میں کہا گیا ہے کہ:

”ہر فریق کو چاہیے کہ  اپنے مقامی قوانین، ضوابط اور پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور جہاں مناسب ہو، انسانی بیوپار کے متاثرین کو ایسی غیرقانونی سرگرمیوں کی پاداش میں مجرمانہ عمل کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے جو انسانی بیوپار سے براہ راست تعلق رکھتی ہوں۔”

غیرقانونی کاموں میں ملوث متاثرین سمیت انسانی بیوپار سے متاثرہ افراد کی موثر طور سے نشاندہی ان لوگوں کی بہبود کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دیے گئے طریقہ کار میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر انسانی بیوپار کے متاثرین کو گرفتاری یا قانونی کارروائی کا خوف نہ ہو تو ان کی جانب سے اپنی صورتحال اور اس کے ذمہ داروں کی بابت تفصیلات  بتانے  کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ نتیجتاً اس سے حکومت کو متاثرین کے لیے تحفظ اور معاونت کے اہتمام میں اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے پوری کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ اس جرم کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیق و تفتیش اور قانونی کارروائی بھی ممکن ہو جاتی ہے۔ متاثرین کو مزید منفی حالات سے بچانے کے لیے ان کی ابتدا ہی میں نشاندہی لازمی ہے جس کے نتیجے میں ان کی بحالی کا عمل جتنی جلدی ممکن ہو اتنی  جلدی شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

قانونی کارروائی اور سزا  کی منسوخی

2010 میں نیویارک امریکہ کی پہلی ایسی ریاست بن گئی جہاں وہ قانون منظور کیا گیا جس کی رو سے انسانی بیوپار کے ہاتھوں جسم فروشی کے جرائم پر مجرم گردانے جانے کے فیصلے کالعدم قرار پائے۔ 2013 میں فلوریڈا کے قانون میں اس سے بھی آگے کی بات کی گئی۔ اس قانون کے تحت کسی فرد کے انسانی بیوپار کا شکار بننے کے نتیجے میں کیے گئے جرم کی پاداش میں دی گئی کسی بھی قسم کی سزا ختم کی جا سکتی ہے۔ مارچ 2018 تک 39 ریاستوں میں مقدمات کی منسوخی کے حوالے سے ایسے قوانین موجود تھے جن کی بدولت انسانی خریدوفروخت کے دوران سرزرد ہونے والے جرائم کی پاداش میں دی گئی سزائیں ختم کرانے کے لیے، انسانی بیوپار کا شکار ہونے والے افراد عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

مقدمے یا سزا کی منسوخی ‘حقیقی بے گناہی’ کا باضابطہ اعتراف ہے۔ ایسے قوانین کا اطلاق بڑوں اور بچوں دونوں پر ہونا چاہیے کیونکہ جس شخص کو طاقت کے زور پر، دھوکے سے یا جبراً مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا گیا ہو اسے اپنی رضامندی سے جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاستوں کو یہ امر بھی یقینی بنانا  چاہیے کہ ایسے قوانین کا اطلاق ان سزاؤں پر بھی کیا جائے جو ایسے بہت سے غیرمتشدد جرائم پر دی جاتی ہیں جو ان متاثرین نے بہ امرِ مجبوری کیے ہوتے ہیں۔

یہ قوانین متاثرین کے لیے ناصرف ماضی کی ناانصافیوں کے ازالے کا کام کرتے ہیں بلکہ ان کی بدولت متاثرین کو اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کرنے میں مدد بھی ملتی ہے۔ قانونی کارروائی اور سزا کی منسوخی سے متاثرہ فرد کی کام تلاش کرنے، اپنی معاشی تنگی دور کرنے اور دوبارہ انسانی بیوپار کا نشانہ بننے سے بچنے کی اہلیتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے قانون کی عدم موجودگی میں متاثرین کو ہمیشہ ایک سابقہ مجرم کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے جس سے ان کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو تعمیر کرنے کی کوششیں کئی حوالوں سے متاثر ہوتی ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں