rss

انسانی بیوپار کے متاثرین کی نگہداشت – صدمے سے آگاہی کے طریق کار پر عملدرآمد

中文 (中国) 中文 (中国), English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

پی ڈی ایف – ڈاؤن لوڈ کریں

امریکہ کا محکمہ خارجہ
انسانی بیوپار کی نگرانی اور انسداد کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی
جون 2018

انسانی بیوپار کے متاثرین کی نگہداشت –  صدمے سے آگاہی کے طریق کار پر عملدرآمد

انسانی بیوپار کے متاثرین کو عموماً اِتنا زیادہ ذہنی صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے کہ اس سے ان پر دیرپا نفسیاتی و جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے متاثرین کی مناسب طور سے مدد کے لیے قانونی کارروائی اور متاثرہ افراد کو خدمات کی فراہمی سمیت انسانی بیوپار کےخلاف کی جانے والی تمام کوششوں میں صدمے سے متعلق آگاہی کا طریقہ کار شامل کیا جانا چاہیے۔ اس مسئلے کی روک تھام سے متعلق حکمت عملی اختیار کرتے وقت اورعوامی آگاہی کی سرگرمیوں اور میڈیا رپورٹنگ کے تناظر میں متاثرین سے رابطے کے دوران صدمے سے آگاہی کی سوچ سے کام لینا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

صدمہ کسی خوفناک واقعے کا جذباتی ردعمل ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں نے زندگی میں کسی نہ کسی حد تک صدمے کا سامنا ضرور کیا ہوتا ہے مگر صدماتی واقعات میں ہر شخص کا ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ کسی صدماتی واقعے کے بعد تناؤ کی مختلف کیفیتیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ بہت سے لوگ دیرپا اثرات کے بغیر ہی صدماتی کیفیت سے نکل آتے ہیں جبکہ بعض کے ذہن پر اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں دباؤ، صدمے کے بعد تناؤ کا مسئلہ اور خودکشی کا خیال نمایاں ہیں۔

انسانی بیوپار کے متاثرین کو عموماً پیچیدہ نوعیت کے صدموں سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو متعدد صدماتی واقعات کا سامنا کرنے کے نتیجے میں پیش آتے ہیں۔ یہ عام طور پر گہرے اور باہمی نوعیت کے ہوتے ہیں اور متاثرین کے ذہن پر وسیع اور طویل مدتی اثرات چھوڑتے ہیں۔ انسانی بیوپار کے متاثرین کو تسلسل سے متعدد اقسام کے مظالم یا سماجی تشدد بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں جس میں مختلف کرداروں کی جانب سے جذباتی، جسمانی یا جنسی بدسلوکی بھی شامل ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیچیدہ صدمے فرد کے سوچنے کے طریقے اور اس کے انداز اور ذہن میں یاد داشتیں محفوظ رکھنے کی استعداد اور صحت مندانہ تعلقات کے تجربے اور اعتماد پیدا کرنے میں کیسے تبدیلیاں پیدا کردیتے ہیں۔

صدمہ شعوری عمل میں خلل ڈالتا، تناؤ سے نمٹنے کی اہلیت کو نقصان پہنچاتا، ماضی کے خطرے کو ذہن میں لاتا اور جذبات کو اپنے قابو میں کر لیتا ہے۔ متاثرین کو جب ایسے واقعات یاد آتے ہیں تو انہیں دوبارہ صدمے یا ایسے پریشان کن خیالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے ابتدائی صدمے کی یاد کو تازہ کردیتے ہیں۔ ایسا کوئی فرد اگر تعاون نہ کرے اور لڑائی جھگڑے کی طرف مائل ہو  تو اس بات کا احتمال ہوسکتا ہے کہ یہ شخص اپنے ابتدائی صدمے سے متعلقہ اثرات سے گزر رہا ہے۔ کسی متاثرہ فرد کی جانب سے کسی طرح کے نظام یا خدمات کے ساتھ مثبت طور سے ربط قائم کرنے کی توقع رکھنے سے پہلے اس میں استحکام اور سلامتی کا احساس پیدا کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات مدنظر رکھنا بھی اہم ہے کہ منشیات یا شراب کے استعمال سمیت ماحول سے غیرمربوط طرزعمل کے خطرناک رویے، کسی فرد کے لیے اپنی  بقا کے طریقہائے کار کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔

انسانی بیوپار کے خلاف کام کرنے والے تمام لوگوں کو صدمے کے وسیع اثرات اور متاثرین کی مزید موثر طور سے مدد کرنے کے لیے اپنے کام میں صدمے سے آگاہی پر مبنی سوچ سے کام لینا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اور استغاثہ کے حکام، خدمات مہیا کرنے والوں اور دوسرے متعلقہ پیشہ ور لوگوں کو متاثرین کے ساتھ اپنے کام کے دوران صدمے سے متعلق وسیع نوعیت کے ردعمل کا مشاہدہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی متاثرہ فرد کے افعال کے پیچھے کارفرما وجوہات کو سمجھنے سے ربط اور اعتماد قائم کرنے میں بے حد مدد ملتی ہے خواہ اس کا مقصد قانونی کارروائی کے لیے متاثرہ فرد کو گواہی دینے کے لیے تیار کرنا یا اسے مناسب خدمات کی فراہمی سے ہی کیوں نہ ہو۔

صدمے سے آگاہی کی سوچ کی عدم موجودگی میں قانونی مدد مہیا کرنے والے پیشہ ور لوگ اور خدمات فراہم کرنے والے ماہرین کسی فرد کو صدمے سے نکالنے کے ضمن میں اہم علامات پر دھیان دینے میں ناکام ہو سکتے ہیں اور غیرارادی طور پر متاثرہ فرد کو دوبارہ صدمے کی کیفیت میں دھکیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ذاتی تحفظ اور سلامتی انسانی بیوپار کے متاثرین کی توجہ کا بنیادی مرکز ہوتے ہیں۔ چونکہ متاثرین کو بقا کا بنیادی مسئلہ درپیش ہوتا ہے اس لیے وہ دوسروں سے میل جول میں بے حسی یا تذبذب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے متاثرین خود کو ‘متاثرہ’ نہ سمجھتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ابتداً وہ مجرموں کے حق میں بیانات دیں یا قانون نافذ کرنے والوں اور خدمات مہیا کرنے والوں سے دور بھاگیں۔ ایسے واقعات متاثرین کے عمومی حالات کی نسبت زیادہ وقت، صبر اور رابطہ کاری کا تقاضا کرتے  ہیں۔

صدمے سے متعلق آگاہ ہونا ایک موثر طریقہ کار ہے جس سے متاثرہ فرد کی زندگی پر مثبت طور سے اثرانداز ہونے میں مدد ملتی ہے۔ یہ طریقہ کار صدمے کی علامات کو سمجھنے اور انسانی  بیوپار کے متاثرین کے ساتھ  تمام تعاملات اس انداز میں ترتیب دینے کا تقاضا کرتا ہے جس سے متاثرہ فرد کے دوبارہ صدمے کا شکار ہونے کا احتمال نہ ہو۔ یہ طریقہ کار خاص طور پر جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تحفظ اور بہبود پر زور دیتا ہے تاکہ متاثرین کے منفرد تجربات اور ان کی ضروریات سے نمٹا جا سکے۔ اس میں متاثرین کے لیے ایک ایسی محفوظ جگہ تیار کرنا ہوتی ہے جہاں اُن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ساتھ ساتھ خدمت اور متاثرین کے لیے ممکنہ مواقع پیدا کرنے کی پالیسی کی تمام سطحوں کا جائزہ لیا جا سکے تاکہ ان کے خود اختیاری کے احساس کی تعمیر نو کی جا سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے متاثرہ فرد کی با اختیاری اور خود انحصاری کو تقویت ملتی ہے۔ جہاں بھی ممکن ہو انسانی بیوپار کے متاثرین کو انتخاب کا اختیار دیا جانا چاہیے جس میں یہ تعین کرنے کی اہلیت بھی شامل ہو کہ آیا قانونی کارروائی میں شامل ہوا جائے یا نہیں۔ انہیں ایسی خدمات تک رسائی بھی میسر ہونی چاہیے جن سے خودمختاری حاصل ہوتی ہو، جو جامع ہوں، جنہیں متاثرین کو مدنظر رکھ  کر ترتیب دیا گیا  ہو اور جو ثقافتی اعتبار سے بھی مناسب ہوں۔

علاوہ ازیں بیوپار کا شکار ہونے والے افراد بتاتے ہیں کہ  صدمے سے آگاہی کے لیے متاثرہ افراد کے بارے میں آگاہی بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ صدمے کے بارے میں آگاہی پر مبنی کاموں میں پروگرام یا منصوبہ بندی کی تمام سطحوں پر متاثرین کی متنوع کمیونٹی سے حاصل ہونے والی بامعنی معلومات کے ساتھ ساتھ  تیاری، عملدرآمد اور جائزے شامل ہوتے ہیں۔ جب بھی ممکن ہو قانون نافذ کرنے والے اور استغاثہ کے حکام، خدمات رساں اور دوسرے متعلقہ ماہرین کو تنظیمی حکمت عملی اور پروگراموں سے متعلق متاثرین سے اُن کی رائے معلوم کرنا چاہیے۔ متاثرین کو بھی تشخیصی سرگرمیوں، مرتکز گروہوں اور خدمات کی فراہمی کے موثر ہونے کا اندازہ لگانے کی دیگر کوششوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں جب متاثرین سے معلومات یا مشاورت فراہم کرنے کا کہا جائے تو انہیں ان کی مہارت اور وقت کا معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے۔

ذیل کی سطور میں جسٹس ریسورس انسٹیٹیوٹ میں صدمے سے متعلق مرکز کی جانب سے تیار کی گئی پڑتالی فہرست  دی گئی ہے جس سے انسانی بیوپار کے خلاف قانونی کارروائی، اس کی روک تھام اور متاثرین کو تحفظ دینے کی کاوشوں کے سلسلے میں صدمے سے آگاہی پر مبنی طریق کار اختیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے:

انسانی بیوپار کے متاثرین سے تعامل کے لیے صدمے سے آگاہی پر مبنی پڑتالی فہرست*

  • اگر کوئی فرد خاموش یا اردگرد کے ماحول سے لا تعلق نظر آئے تو یہ امر اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ وہ فرد ہیجان کا شکار ہو گیا ہے۔
  • ایسا مواد تیار رکھیں جس سے ملاقاتوں، بات چیت یا گواہی کے دوران صدماتی کیفیت یا فوری ردعمل پر قابو پانے میں مدد ملتی ہو۔
  • اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متاثرہ فرد آپ کی بات سن رہا ہے اور آپ کے بیانات یا سوالات کو سمجھ رہا ہے۔ بات چیت کے دوران پابندی سے وقفہ کیا جائے۔
  • ذہن میں رکھیں کہ یاد داشت میں رونما ہونے والی تبدیلیاں لازمی طور سے جھوٹ یا کہانیاں گھڑنے کی علامات نہیں ہوتیں، اس کے بجائے یہ صدمے کے ردعمل کی علامات ہو سکتی ہیں۔
  • ایسے وقت میں انٹرویو یا دیگر اہم گفتگوؤں کا اہتمام کیا جائے جب متاثرہ افراد خود کو مستحکم ترین اور محفوظ ترین محسوس کرتے ہوں۔
  • کاموں کو واضح طور پر چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے میں مدد کریں۔ یہ فرض کریں کہ چھوٹے چھوٹے کام بھی متاثرہ فرد پر غالب آ سکتے ہیں۔ متاثرہ فرد کو کام کی تکمیل کے لیے مدد تک رسائی میں مدد کریں۔
  • متاثرہ فرد کے جذباتی ردعمل یا مجرمانہ عمل کے تعین میں واقعات کے بارے میں اندازوں میں الجھنے کی بجائے تجربات سے متعلقہ حقائق پر توجہ مرکوز کریں۔
  • متاثرہ فرد کے مجرموں سے تعلقات کی پریشان کن نوعیت سے آگاہ رہیں اور مفروضے قائم نہ کریں۔
  • ذاتی طور پر سخت ردعمل اختیار نہ کریں۔ اپنے ذاتی جذباتی ردعمل سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
  • جہاں ممکن ہو متاثرہ فرد کو کنٹرول اور با اختیاری کے مواقعے فراہم کریں۔
  • جسمانی و جذباتی معاونت کی اہمیت سے آگاہ رہیں۔

حاشیے

www.apa.org/topics/trauma

www.nctsn.org/trauma-types/complex-trauma

3۔ ٹرنر، ایچ، فنکلہور، ڈی، اور اورمروڈ، آر (2010)۔ بچوں اور نوجوانوں کے قومی نمونے میں کثیر رخی بدسلوکی۔ انسدادی ادویات کا امریکن جرنل ، وی 38، شمارہ 3، 323  تا 330

4۔ محکمہ انصاف۔ انسانی بیوپار سے متعلق ٹاسک فورس کی ای گائیڈ، مشترکہ ردعمل کی مضبوطی۔ 5.4، کامیاب قانونی کارروائی

https://www.ovcttac.gov/taskforceguide/eguide/5-building-strong-cases/54-landing-a-successful-prosecution/the-victim-as-a-witness/

5۔ محکمہ صحت و انسانی خدمات۔ انسانی بیوپار سے متعلق ٹاسک فورس کی ای گائیڈ، مشترکہ ردعمل کی مضبوطی، 5.4، کامیاب قانونی کارروائی۔

6۔ محکمہ صحت و انسانی خدمات۔ ایس اے ایم ایچ ایس اے کا تصور برائے صدمہ و صدمے سے آگاہی کے طریق کار کی سوچ:  https://store.samhsa.gov/shin/content/SMA14-4884/SMA14-4884.pdf

www.acf.hhs.gov/otip/resource/htlasipractice

* جسٹس ریسورس انسٹیٹیوٹ سے حاصل کردہ۔ مواد کی تیاری کے لیے انسانی بیوپار سے متعلقہ کام میں صدمے سے آگاہی کے طریق کار کا استعمال۔ http://www.traumacenter.org/clients/projectreach/H-O%20Trauma-Informed%20Case%20Study_final.pdf


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں