rss

بچوں کی ادارہ جاتی نگہداشت اور انسانی سمگلنگ

中文 (中国) 中文 (中国), English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

پی ڈی ایف – ڈاؤن لوڈ کریں

امریکی محکمہ خارجہ
انسانی سمگلنگ کی نگرانی اور خاتمے کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی
جون 2018

بچوں کی ادارہ جاتی نگہداشت اور انسانی سمگلنگ
عالمی برادری کا اس بات پر اتفاق ہےکہ خاندانی نگہداشت کا ماحول یا اس کا کوئی مناسب اور ثقافتی اعتبار سے موثر متبادل بچوں کی نشوونما، بہبود اور تحفظ کے لیے سب سے اچھا ماحول ہوتا ہے۔ کسی بچے کی اپنے اہلخانہ سے علیحدگی عارضی اور انتہائی ناگزیر صورت حال میں ہی ہونی چاہیے۔ جائزوں سے سامنے آیا ہے کہ بچوں کے لیے نجی یا سرکاری رہائشی ادارے جیسا کہ یتیم خانے اور ذہنی امراض کے وارڈ جہاں گھر جیسا ماحول نہ ہو ایسی جذباتی رفاقت اور توجہ پیدا نہیں کر پاتے جو خاندان میں ملتی ہے اور جو صحت مند سوچ سمجھ کی نمو کی بنیادی شرط ہے۔ دنیا بھر میں قریباً 80 لاکھ بچے ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ان میں 80 تا 90 فیصد بچوں کے والدین میں سے کم از کم والد یا والدہ میں سے ایک ضرور حیات ہوتا ہے۔ رہائشی اداروں میں رہنے کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات، سماجی تنہائی اور اکثروبیشتر حکومتوں کی جانب سے ضابطوں کے نفاذ کی ناکافی نگرانی کے سبب یہ بچے ایسے حالات کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ان کے انسانی بیوپار کا نشانہ بننے کا خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

سرکاری اداروں میں رہنے والے بچوں سمیت ادارہ جاتی نگہداشت میں رہنے والے بچے انسانی سمگلروں کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ یہ رہائشی ادارے کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، ان کے لیے بچوں کی وہ جذباتی معاونت ممکن نہیں ہوتی جو عام طور پر اہلخانہ سے ہی ملتی ہے یا ان کی یہ ضرورت کوئی ایسا نگہبان پوری کر سکتا ہے جن کے ساتھ بچے کا لگاؤ ہو۔ جب انسانی سمگلر والدین کی عدم موجودگی میں جنم لینے والی اس ضرورت کو بھانپ لیتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پھر بچے ان کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ مزید برآں کڑے نظام الاوقات اور رہائشی اداروں میں سماجی تنہائی، انسانی سمگلروں کو جو شاطرانہ فائدہ پہنچاتی ہے اس کے تحت وہ بچوں کو اس جگہ سے نکلنے پر قائل کرلیتے ہیں اور ان کے استحصال کی راہیں تلاش کرلیتے ہیں۔

جن رہائشی جگہوں پر بہتر انتظام و انصرام کا فقدان ہو وہاں بچوں کے انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھنے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً یہ سمگلرکسی روک ٹوک کے بغیر ان جگہوں پر آ جا سکتے ہیں۔ ایسے عناصر کے ساتھ ملی بھگت یا انسانی بیوپار میں براہ راست ملوث رہائشی ادارے بچوں تک آزادانہ رسائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ بچوں کو مدد تک رسائی حاصل نہیں۔ حالیہ عرصہ میں بحرالکاہل کے جزائر، وسطی امریکہ اور مشرقی یورپ میں بہت سے یتیم خانوں کو قحبہ خانوں کے طور پر چلائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک یتیم خانے میں رہنے والے بچوں نے اور عالمگیر غیرسرکاری اداروں نے بتایا کہ عملے کی جانب سے بعض لڑکیوں کو رات کے وقت باہر جا کر تجارتی بنیادوں پر جنسی سرگرمیوں میں شرکت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان میں خاص طور پر وہ لڑکیاں شامل تھیں جن کا تعلق دیہی یا مقامی پس منظر سے تھا۔ سول سوسائٹی کے گروہوں نے رہائشی اداروں میں جبری مشقت کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ایک یتیم خانے میں عملے نے ‘ورک تھیراپی’ کی آڑ میں معذور بچوں کو ایک تعمیراتی منصوبے میں مشقت کرنے اور گندے گدوں کو صاف کرنے جیسی خطرناک سرگرمیوں پر مجبور کیا۔ متعدد ممالک میں ان بچوں سے قریبی دیہات میں گھریلو کام کاج یا کھیتوں پر محنت مشقت بھی کرائی جاتی ہے۔

انسانی بیوپار سے ادارہ جاتی ملی بھگت کا دائرہ بچوں کی بھرتی تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس ضمن میں "بچوں کو ڈھونڈنے والے” افراد مقامی دیہاتوں یا بستیوں کا رخ کرتے ہیں اور ان میں جنگ، قدرتی آفات، غربت یا سماجی امتیاز سے متاثرہ بچوں کو تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان بچوں کے والدین سے انہیں تعلیم، خوراک، تحفظ اور نگہداشت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ افراد وعدے پورے کرنے کی بجائے بچوں کو یتیم خانوں کے ذریعے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے کر چندہ جمع کرنے یا ممکنہ عطیات دہندگان سے مزید عطیات لینے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یتیم خانے عطیات دہندگان کی مزید ہمدردی حاصل کرنے اور رقم اینٹھنے کے لیے بچوں کو صحت کے حوالے سے کمزور حالت میں بھی رکھتے ہیں۔

اپنی چھٹیوں میں خیراتی سرگرمیوں کو شامل کرنے کے خواہش مند غیرملکی سیاح عموماً یتیم خانوں میں "رضاکارانہ کاموں” میں شریک ہوتے ہیں جنہیں بچوں کے حقوق کی حامی تنظیمیں اور حکومتیں نقصان دہ قرار دیتی ہیں۔ مناسب تربیت کے بغیر مختصر مدت کے لیے ان جگہوں پر رضاکارانہ کام سے بچوں میں مزید جذباتی تناؤ جنم لیتا ہے اور اکیلے چھوڑے جانے کا احساس تقویت پاتا ہے کیونکہ محفوظ تعلقات کے عارضی اور بے قاعدہ تجربات سے ان بچوں میں لگاؤ سے متعلق مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ مزید برآں ان رضاکاروں کی ماضی کی زندگیوں کی زیادہ تحقیق و تفتیش بھی نہیں کی جاتی جس سے بچوں کو مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خطرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسی رضاکاریت سے بچوں کو ہی غیرمطلوبہ نتائج کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ بعض یتیم خانوں کے بدکردار مالکان رضاکارانہ کاموں کے پروگراموں کے لیے ادا کردہ معاوضے سے حاصل شدہ منافع یا سیاحوں کی جانب سے موصول ہونے والے عطیات سے مزید یتیم خانے کھولنے کے لیے بچوں کی بھرتی اور انہیں اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے یتیم خانے بچوں کے بیوپار میں ملوث گروہوں کو سہولت بہم پہنچاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے بچوں کی بھرتی کے لیے جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں عطیات دہندگان سے منافع حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیپال، کمبوڈیا اور ہیٹی سمیت متعدد ممالک میں اس طریقہِ واردات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے۔

جب کوئی بچہ یتیم خانے سے نکل جاتا ہے یا یتیم خانے میں رہنے کے لیے متعینہ عمر سے اس کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے تو جسمانی و نفسیاتی اعتبار سے پہنچنے والے نقصان کے باعث اس وقت بھی وہ انسانی سمگلروں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہتا ہے۔ سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے رہائشی اداروں میں رہنے والے بچے، مستحکم اور طویل مدتی خاندانی یا سماجی تعلقات بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ بچوں کو سماجی معاونت کا حلقہ استوار کرنے کے مواقع، مناسب تعلیم اور عام زندگی یا سماجی حالات کے تجربات نیز عام سمجھ بوجھ اور مسائل کے حل کی اہلیت سے محروم رکھے جانے کے باعث، اِن اداروں سے فارغ کیے جانے والے بچے انسانی بیوپار میں ملوث عناصر کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔ بعض انسانی سمگلر ان بچوں کی کمزوریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے اُن شکاروں پر نظر رکھتے ہیں جو اِن اداروں سے فارغ ہوتے ہیں یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے نکال دیے جاتے ہیں۔

صورتحال میں بہتری لانے کے لیے حکومتیں بچوں کو ان حالات سے بچانے کے لیے اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم ایسے خاندانوں کی معاونت کرنا ہے جو اپنے بچوں کو خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولیات مہیا نہیں کرسکتے۔ ان کی مدد کرکے ان کے بچوں کو والدین کی نگہداشت سے محرومی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ جب بھی مناسب ہو حکومتیں ادارہ جاتی نگہداشت کی جگہ خاندانی بنیاد پر نگہداشت کے متبادلات تیار کریں، رابطہ کاری کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ نگرانی کرنے والے اداروں کو بچوں کے رہائشی اداروں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور یہ امر یقینی بنانا چاہیے کہ وہاں عالمگیر رہنما اصولوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ایسے عناصر کا مجرمانہ احتساب ہونا چاہیے جو سرکاری جگہوں میں یا ان کے قریب انسانی بیوپار کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں یا انہیں سہولت فراہم کرتے ہوں۔ حکومتیں معذور بچوں کے تحفظ کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے اپنے قوانین کا جائزہ لے سکتی ہیں اور بچوں کے بہترین مفاد میں انہیں اہلخانہ کے ساتھ رکھنے کے لیے والدین کے حقوق اور اہلیتوں میں بہتری لا سکتی ہیں۔ عطیات دینے والے ممالک یہ امر یقینی بنا سکتے ہیں کہ ان کی دی گئی امداد سے خاندانی بنیاد پر نگہداشت کی حوصلہ افزائی کی جائے اور عالمی معیارات پر پورے نہ اترنے والے رہائشی اداروں کی مدد نہ کی جائے ۔ عطیات دینے والے ممالک بیرون ملک رہائشی اداروں کی امداد کرنے والی تنظیموں اور خیراتی پروگراموں کی نگرانی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ مزید برآں آگاہی میں اضافے کی کوششوں سے یتیم خانوں میں رضاکارانہ کاموں کے فروغ کی مہمات کا توڑ کرنے کے ساتھ ساتھ نیک نیتی سے کام کرنے والی ایسی سیاحتی کمپنیوں اور مذہبی تنظیموں کو آگاہی فراہم کی جا سکتی ہے جو غیر ارادی طور پر بچوں کے رہائشی اداروں کو دوام دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ادارہ جاتی نگہداشت سے خاندانی نگہداشت کی جانب بنیادی تبدیلی کے اپنے مسائل ہیں۔ اس میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کہیں بچوں کے اہلخانہ ہی انسانی بیوپار میں میں ملوث نہ ہو جائیں۔ اس سلسلے میں ایسے وسائل اور مہارتیں پیدا کرنا ہوں گی جن کی بدولت بچوں کی صحت اور اُن کے تحفظ کے لیے بہترین حل ڈھونڈے جا سکیں۔ عالمی برادری تسلیم کرتی ہے کہ خاندان میں مستقل قیام کے حوالے سے کام کرتے ہوئے جہاں مناسب ہو گھروں میں، رشتہ داروں اور برادری میں بچوں کی نگہداشت کا اہتمام فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ کمیونٹی کے وسائل سے مسلسل مدد حاصل کرنے سمیت بعد از نگہداشت منصوبہ بندی کی بدولت، بچوں کا نگہداشت کے اداروں سے نکلنے کے بعد زندگی میں آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے انتظامات سے نہ صرف بچوں کی پرورش پر منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے بلکہ اگر انہیں مختصر مدت کے لیے اور عالمی معیارات کے مطابق رکھا جائے تو وہ انسانی سمگلروں کا آسان ہدف بھی نہیں بنتے۔ ان معیارات میں بچوں کی متبادل نگہداشت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے رہنما اصول (یو این جنرل اسمبلی اے/آر ای ایس/64/14223(2010) بھی شامل ہیں۔ ایسے خدشات کے حوالے سے کی گئی تحقیق کی دستاویزات میں دی گئی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتوں کے لیے ادارہ جاتی نگہداشت سے خاندانی بنیاد پر نگہداشت کی جانب مراجعت اور ادارہ جاتی نگہداشت کی تکمیل کے بعد بالغ عمر میں قدم رکھنے والوں کو وسائل کی فراہمی کس قدر اہم ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں