rss

سفارتی گھرانوں میں گھریلو غلامی کے مسئلے سے حکومتیں کیسے نمٹتی ہیں

العربية العربية, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

پی ڈی ایف – ڈاؤن لوڈ کریں

امریکی محکمہ خارجہ
انسانی سمگلنگ کی نگرانی اور خاتمے کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی

جون 2018

سفارتی گھرانوں میں گھریلو غلامی کے مسئلے سے حکومتیں کیسے نمٹتی ہیں

حکومتوں کو سفارت کاروں کی رہائش گاہوں پر گھریلو غلامی سے نمٹنے میں خصوصی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ انسانی خریدوفروخت کی ایک ایسی شکل ہے جس میں سفارت کاروں اور بیرون ملک عالمی تنظیموں میں تعینات عہدیداروں کے ہاں ملازمت کرنے والے افراد متاثرہ فریق ہوتے ہیں۔ اگرچہ سفارت کاروں کی جانب سے گھریلو کارکنوں کو ان کی مرضی کے بغیر زبردستی محکوم بنانے یا دیگر طرز کے استحصال کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں تاہم جب ایسا ہوتا ہے تو یہ مسئلہ سنگین ہو جاتا ہے اور میزبان حکومتوں کے لیے اس سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا۔

بیرون ملک سفارتی عملے کے ارکان اور ان کے اہلخانہ کو اس ملک میں قانونی کارروائی سے متعدد اقسام کا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے جس میں وہ تعینات ہوتے ہیں۔ خاص طور پر غیرملکی حکومتوں کے ایسے نمائندے جنہیں میزبان ملک میں ‘سفارتی نمائندوں’ یا اس جیسا مرتبہ حاصل ہوتا ہے (جیسے کہ اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے)۔ انہیں اپنی بیوی/شوہر اور بچوں سمیت فوجداری اور زیادہ تر دیوانی قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیوں سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اور یوں جب تک ان کی حکومت ان کا استثنیٰ ختم نہ کر دے اس وقت تک نہ تو ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ سفارت کار اور ان کے قریبی اہلخانہ شخصی استثنٰی کے حقدار ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قید میں ڈالا جا سکتا ہے۔ سفارت خانے کے انتظامی اورتکنیکی عملے کے ارکان جیسے غیرملکی حکومت کے دیگر نمائندوں کو نسبتاً کم  درجے کے استحقاق اور استثنیٰ حاصل ہوتے ہیں تاہم اُن کا بھی میزبان ملک میں انتظامی اور مجرمانہ دائرہ اختیار سے باہر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

سفارتی مشن کے ارکان کو حاصل عمومی استثنیٰ کی تفصیلات کا سفارتی تعلقات  کے بارے میں ویانا کنونشن میں مفصل احاطہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد ان تمام ممالک کے دوطرفہ مفادات پر ہے جو غیرملکی سفارت کاروں کی میزبانی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سفارت کار بھی بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ کنونشن میں سفارت کاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کریں۔ علاوہ ازیں اس کنونشن میں گھریلو ملازموں کو سفارت کاروں کے ساتھ  دوسرے ملک لے جانے  کے دیرینہ استحقاق کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

گھریلو ملازموں کو اکثروبیشتر اس قسم کے حالات کا سامنا ہوتا ہے جن کے نتیجے میں وہ اپنے سفارت کار مالکان کے استحصال کا باآسانی نشانہ بن سکتے ہیں۔ عموماً وہ سفارت کار کی دی گئی ملازمت کی بنیاد پر ہی میزبان ملک کے قانونی رہائشی ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ ممکنہ طور پر اس استحصالی صورت حال میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ مزید برآں میزبان ملک کی زبان، رسومات اور ثقافت سے ناواقفیت کی بنا پر یہ گھریلو ملازمین سفارت کار کے خاندان کے ساتھ معاشرے سے الگ تھلگ ہوکر رہتے ہیں۔  سفارت کار اپنے ملک کی حکومت کا اعلیٰ عہدیدار ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے اور گھریلو کارکن کے درمیان اختیار کے حوالے سے برابری نہیں ہوتی۔ ایسے ملازمین کا خاندانی پس منظر بھی کمزور ہوتا ہے اور ان کی تعلیمی یا لسانی اہلیتیں بھی محدود ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں گھریلو ملازمیں کو عموماً سفارت کاروں کے خصوصی مرتبے  سے خبردار کر دیا جاتا ہے جس سے شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ احتساب کے قوانین ان کے مالکان پر نافذ نہیں ہوتے اور اس لیے مدد کے حصول کی کوشش کرنے کو وہ بے سود سمجھتے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے یہ مدنظر رکھتے ہوئے ایک عالمگیر اتفاق رائے کے قیام کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں کہ سفارت کاروں کو اپنے گھریلو ملازمین کے استحصال پر جوابدہ ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پر یہ سوچ تیزی سے تقویت پا رہی ہے کہ سفارت کاروں اور ان کے اہلخانہ کو کچھ وقت کے لیے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ سفارتی تعلقات کے بارے میں ویانا کنونشن کہتا ہے کہ سفارت کار کو عہدہ چھوڑنے کے بعد ایک محدود نوعیت کا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے جس کی حد اس عہدے پر رہتے ہوئے صرف اس کے سرکاری افعال تک محدود ہوتی ہے۔ گھریلو ملازم رکھنے کو سرکاری فرض نہیں سمجھا جاتا۔ اسی لیے بہت سے واقعات میں گھریلو ملازمین نے سفارت کاروں کے خلاف (اور ان کی بیگمات کے خلاف) اُن کی سفارتی حیثیت ختم ہونے کے بعد اُس وقت کی جانے والی مبینہ زیادتیوں کی بنا پر مقدمات دائر کیے اور جیتے جب وہ میزبان ملک میں ایک سفارت کار کی حیثیت سے تعینات تھے۔

ذیل میں فی الوقت امریکہ اور دنیا بھر میں دیگر میزبان حکومتوں کی جانب سے سفارت کاروں کے ہاں گھریلو ملازمین پر جبر کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ‘روک تھام، تحفظ اور قانونی کارروائی’ پر مشتمل بعض اختراعی طریقہائے کار کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جنہیں مخففاً تھری پی کہا جاتا ہے۔

روک تھام

  • سفارت کاروں کے ہمراہ بیرون ملک ان کے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ اس ملک میں پہنچنے سے پہلے ایسی زبان میں کام کا معاہدہ ضروری ہے جسے وہ اچھی طرح سمجھتے ہوں۔ معاہدے میں کام کے اوقات، تنخواہ، چھٹیوں اور طبی نگہداشت وغیر کے بارے میں واضح طور سے لکھا ہونا چاہیے۔ بہت سی حکومتیں مالکان سفارت کارو کو کارکنوں کی سفری و شناختی دستاویزات قبضے میں رکھنے سے بھی روکتی ہیں۔
  • گھریلو ملازمین کا میزبان حکومت (عموماً وزارت خارجہ میں پروٹوکول آفس) کے پاس ذاتی طور پر جاکر اپنے آپ کو رجسٹر کروانے کو ضروری قرار دیا جانا ہے۔ اس رجسٹریشن کی بدولت گھریلو ملازموں کو اپنے مالکان کے بغیر میزبان حکومت کے نمائندوں سے ملنے کا موقع میسر آتا ہے تاکہ وہ اپنے حالات کار اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے متعلق بات چیت کرسکیں۔ عام طور پر گھریلو ملازمین کو ایک شناختی کارڈ دیا جاتا ہے جس کی وقفے وقفے سے تجدید ہوتی ہے۔ اس کارڈ پر بوقت ضرورت رابطے سے متعلق معلومات درج ہوتی ہیں۔
  • جن ممالک میں موثر بینکاری نظام موجود ہے وہاں گھریلو ملازمین کو نقد اجرت دینے کی ممانعت کر کے تنخواہ کی رقم کا کارکن کے اپنے ذاتی نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست منتقل کیا جانا یا چیک کی صورت میں ادا کیا جانا ضروری ہے۔ ایسے اقدامات سے اجرت کے تنازعات کی صورت میں معروضی شہادت دستیاب ہوتی ہے۔ مزید براں بہت سی حکومتوں نے کم از کم اجرت کی شرح مقرر کر رکھی ہوتی ہے اور ایسے قوانین کے ذریعے تنخواہ سے قیام و طعام کے اخراجات کی مخصوص رقم سے زیادہ کٹوتی کی روک تھام ممکن ہو جاتی ہے اور ایسے اخراجات کی آڑ میں ملازمین کو طے شدہ رقم سے کم ادائیگی کے مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔
  • سفارت کاروں کی جانب سے وعدے کے مطابق اجرتوں کی ادائیگی ممکن بنانے کے لیے ایک سفارت کار کے لیے گھریلو ملازمین کی تعداد مخصوص کرنا، علاوہ ازیں کارکنوں کے اہلخانہ کو ان کے ساتھ جانے سے روکنا کیونکہ ان لوگوں کے استحصال کا نشانہ بننے کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ آنے والے ملازمین کی جانب سے اُن کے خلاف کی جانے والی بدسلوکی کی شکایت کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ ایسی صورت میں ان کی بیویاں اور بچے رہائشی درجہ کھو بیٹھیں گے۔
  • دوسرے ملک جانے والے گھریلو ملازمین کو ویزا جاری کیے جانے سے پہلے اس ملک کی کم از کم ایک زبان کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
  • سفارتی عملے کو بیرون ملک ذمہ داریاں سونپنے سے پہلے انہیں گھریلو ملازمین سے مناسب سلوک کے بارے میں تربیت دینا اور بیرون ملک قیام کے دوران گھریلو ملازمین سے بدسلوکی کرنے والے سفارت کاروں پر پابندیوں کے لیے وزارت خارجہ کے شعبہ انسانی وسائل میں پالیسیاں وضع کرنا ضروری ہے۔

تحفظ

  • کسی سفارت کار پر گھریلو ملازم کے استحصال کی بابت قابل اعتبار الزامات اس ملک کے سفیر کے علم میں لائے جاتے اور ان پر بروقت کارروائی کی درخواست کی جاتی ہے۔ بعض میزبان ممالک ان الزامات پر خاطرخواہ کارروائی ہونے تک اس مشن کے ارکان کی جانب سے مزید گھریلو ملازمین کے لیے ویزوں کا اجرا محدود کرنے جیسے اضافی اقدامات بھی اٹھاتے ہیں۔
  • سفارتی سطح پر غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے عدم ادائیگیوں کے عدالتی فیصلوں سمیت تصفیے اور/یا فوجداری مقدمات میں حتمی عدالتی فیصلے کی صورت میں ادائیگی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ جیسا کہ بالائی سطور میں بیان کیا گیا ہے بہت سے واقعات میں گھریلو ملازمین نے سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کے خلاف متعلقہ سفارت کار کی سفارتی حیثیت ختم ہوجانے کے بعد مقدمات دائر کیے اور جیتے۔
  • گھریلو ملازم کی جانب سے سنگین الزامات کی زد میں آنے والے سفارت کار آجروں کی مسئلہ حل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اگر مناسب ہو تو ملازم کو معاوضے کی ادائیگی کروائی جاتی ہے خواہ اس ملک قانونی لحاظ سے رسمی تلافی کا نظام نہ بھی ہو۔
  • سفارت کاروں اور گھریلو ملازمین میں تنازعات کے حوالے سے ثالثی کی غرض سے متبادل طریقہ کار طے کیے جاتے ہیں۔
  • قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی این جی اوز میں یہ امر یقینی بنانے کے لیے شراکتیں قائم کی جاتی ہیں کہ انسانی خریدوفروخت سے بچ کر بھاگ نکلنے والے گھریلو ملازمین کو پناہ اور مدد تک رسائی حاصل ہو۔

قانونی کارروائی

  • سفارت کاروں کو جوابدہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میزبان ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مشورہ دیں کہ وہ کسی سنگین جرم (بشمول انسانی خریدوفروخت) میں ملوث ایسے سفارت کار کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جسے استثنٰی حاصل نہ ہو تو پھر میزبان ملک اس سفارت کار کو بھجوانے والے ملک سے اس سفارت کار کا سفارتی استثنٰی ختم کرنے کی درخواست کر سکتا ہے تا کہ قانونی کارروائی مکمل کی جاسکے۔ اگر دوسرا ملک استثنٰی کو ختم نہیں کرتا تو سفارت کار اور اس کے اہلخانہ کو ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔
  • کسی سفارت کار پر گھریلو ملازم کے استحصال کی بابت قابل اعتبار الزامات پر تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کیا جاتا ہے ۔
  • غیرملکی سفارتی مشنوں سے تعلق رکھنے والے ایسے سابقہ ارکان اور ان کے اہلخانہ کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کو ریڈ نوٹس بھیجنے کی تجویز دی جاتی ہے جو گھریلو ملازمین کے استحصال میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس طرح دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوشیار کر دیا جاتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی حکومت کو گرفتاری کے وارنٹوں کی بنیاد پر مقدمے کے لیے یہ افراد مطلوب ہیں۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں