rss

3 پی: پراسیکیوشن [ قانونی کارروائی]، پروٹیکشن [تحفظ] اور پریونشن [روک تھام]

中文 (中国) 中文 (中国), English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

پی ڈی ایف – ڈاؤن لوڈ کریں

3 پی: پراسیکیوشن [ قانونی کارروائی]، پروٹیکشن [تحفظ] اور پریونشن [روک تھام]

‘3 پی’ پر مشتمل نمونہ یعنی ‘قانونی کارروائی، تحفظ اور روک تھام’ بدستور دنیا بھر میں انسانی بیوپار کا مقابلہ کرنے کا ایک اساسی طریقہِ عمل بنا ہوا ہے۔ امریکہ بھی اسی طریقے پر عمل کرتا ہے اور انسانی بیوپار خصوصاً عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے والی ایسی سرگرمیوں کی روک تھام، ان کے خاتمے اور ذمہ داروں کو سزا دینے سے متعلق ضوابط کے طریقہائے کار اُس کے عمل کا ثبوت ہیں۔ یہ ضوابط منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن (پالرمو پروٹوکول) اور امریکہ میں ‘انسانی بیوپار کے متاثرین کے تحفظ کے ترمیم شدہ قانون 2000 (ٹی وی پی اے) کی تکمیل کرتا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ میں قائم انسانی بیوپار کی نگرانی اور روک تھام سے متعلق دفتر (ٹی آئی پی آفس) دنیا بھر میں ‘3 پی’ کے عملی نمونے کو فروغ دینے کے لیے متعدد سفارتی اور پروگراموں مشتمل ذرائع سے کام لیتا ہے۔ مزید برآں ‘چوتھا پی’ یعنی پارٹنرشپ [شراکت] ‘3 پی’ کے ضمن میں پیش رفت کے تکمیلی ذریعے کا کام دیتا ہے اور جدید غلامی کے خلاف جنگ میں سماج کے تمام حصوں کی شمولیت کو ممکن بناتا ہے۔

قانونی کارروائی

پالرمو پروٹوکول اور ٹی وی پی اے میں مقرر کردہ طریقہائے کار کے تحت انسانی بیوپار کے خلاف حکومتی کوششوں میں قانون کا موثر نفاذ ایک ناگزیر عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی بیوپار سے متعلق سالانہ رپورٹ میں محکمہ خارجہ یہ تجزیہ کرتا ہے کہ آیا حکومتیں ہر قسم کی انسانی خریدوفروخت کو مجرمانہ کارروائی کی ذیل میں شمار کرتی ہیں، انسانی بیوپار کے معاملات کی کڑی تفتیش اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتی ہیں اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قید کی سزائیں دیتی ہیں، یہ سزائیں کافی حد تک سخت ہونے کے ساتھ ساتھ جرم کی گھناؤنی نوعیت کی مناسب عکاسی کرتی ہیں۔

‘ٹی وی پی اے’ کے مطابق انسانی بیوپار کے حوالے سے موثر تعزیری انصاف کے ذریعے ایسے معاملات کو اغوا اور جنسی زیادتی جیسے دیگر سنگین جرائم کی طرح دیکھا جانا چاہیے۔ حکومتوں کو ممکنہ استحصال کے سہولت کاروں سمیت انسانی بیوپار کے مجرموں کو مجرمانہ احتساب کے دائرے میں لانا چاہیے اور معطل سزاؤں، جرمانے یا انتظامی ہرجانے عائد کرنے کی بجائے قید کی سزائیں دینا چاہئیں۔ پالرمو پروٹوکول کی مناسبت سے دیکھا جائے تو متاثرین کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے گئے قانونی ڈھانچے میں مثالی طور پر انسانی بیوپاریوں کو کامیابی سے سزا دینے کے ساتھ ساتھ عدالتی حکم پر متاثرین کو ہرجانے کی ادائیگی اور اُن کا معمول کی زندگی کی بحالی کا اختیار بھی شامل ہونا چاہیے۔

مصالحتی طریقہائے کار جیسے عوامل پالرمو پروٹوکول کے معیارات پر پورا نہیں اترتے جس میں انسانی بیوپار کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے اور یہ کوئی ایسی عام غلطی نہیں ہے جس کی صرف ہرجانے کے ذریعے درستگی کی جا سکتی ہو۔ سزائے قید کے بغیر انسانی بیوپاریوں کو موثر طور سے باز نہیں رکھا جا سکتا۔

ٹی آئی پی کا شعبہ امریکی حکومت میں اپنے بین الاداراتی اور نفاذ قانون سے متعلق شراکت داروں نیز دنیا بھر میں این جی اوز اور عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر حکومتوں کو انسانی بیوپار کے خلاف  جامع قوانین کی تیاری و نفاذ اور انسانی بیوپاریوں کے خلاف کڑی قانونی کارروائی میں مدد دیتا ہے۔

تحفظ

جدید غلامی کے خلاف عالمی برادری کی کوششوں میں متاثرین کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے گئے طریقہ کار میں ‘تحفظ’ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ متاثرہ فرد کے موثر تحفظ کا نتیجہ متاثرین کی نشاندہی، جامع نوعیت کی خدمات میں حوالوں کی فراہمی، ایسی خدمات کی فراہمی کے لیے این جی اوز کی براہ راست مالی معاونت اور متاثرہ افراد کو زندگیوں کی تعمیرنو میں مدد دینے کے کاموں کی صورت میں نکلتا ہے۔

متاثرین کی نشاندہی انہیں درکار امداد اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔ فعالیت پر مبنی نشاندہی کی کوششیں اور سب سے پہلے موقعے پر پہنچنے والے ہنگامی کارکنوں کی تربیت، لائسنس یافتہ طبی عملہ اور خدمات مہیا کرنے والے دیگر ادارے انسانی بیوپار کے خلاف حکومتی اہلیت میں نمایاں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نشاندہی کے بعد حکومتوں کو متاثرین کے حقوق اور ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تحفظ کے اقدامات کو اس انداز میں یقینی بنایا جا سکے کہ جس میں متاثرین سے باوقار سلوک ممکن ہو اور انہیں اپنی مرضی کی زندگی کی جانب واپس لوٹنے کا موقع مل سکے۔ ٹی آئی پی کا دفتر دنیا بھر کے ممالک میں متاثرین کے تحفظ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے حکومتوں اور این جی اوز کی اہلیت میں اضافے کے لیے کام کرتا ہے۔

انسانی بیوپار سے متاثرہ غیرملکیوں کے موثر تحفظ کے لیے حکومتوں کو انہیں ملک میں  رہنے، کام کرنے اور گرفتاری یا قانونی حیثیت کی عدم موجودگی یا انسانی بیوپاریوں کے مجبور کرنے پر کیے گئے جرائم کے ارتکاب پر ملک بدر ہونے کے خوف سے بے نیاز ہو کر خدمات کے حصول کے قابل بنانا چاہیے۔ مزید برآں حکومتوں کو متاثرین کے لیے امیگریشن کے حصول کے عمل کو آسان بنانا چاہیے۔ متاثرین اور انسانی بیوپاریوں کے خوف اور انتقامی کارروائی کے خدشے کے شکار ان کے اہلخانہ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اگر انسانی بیوپار سے متاثرہ بالغوں یا بچوں سے ایسے حالات میں جرائم سرزد ہوئے ہوں تو اس قسم کے مجرمانہ ریکارڈوں کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔

مناسب تحفظ ناصرف نشاندہی کے فوراً بعد نفاذ قانون کے ذمہ داروں اور خدمات مہیا کرنے والوں کے مابین موثر شراکت کا تقاضا کرتا ہے بلکہ تعزیری انصاف یا مقدمے کی کارروائی میں متاثرہ فرد کی شرکت کے دوران بھی ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

متاثرین کی جامع خدمات میں ہنگامی اور طویل مدتی خدمات، شدید نوعیت کی صورتحال سے نمٹنا، رہائش، خوراک، طبی و دندانی نگہداشت، قانونی معاونت نیز تعلیمی، پیشہ وارانہ اور معاشی مواقع تک رسائیاں شامل ہیں۔ انسانی بیوپار کے غیرملکی متاثرین کو زندگیوں کی تعمیرنو کی کوششوں میں مدد دینی چاہیے جن میں ان کی رضاکارانہ وطن واپسی اور ان کے اپنے علاقوں میں دی جانے والی معاونتیں بھی شامل ہیں۔

روک تھام

انسانی بیوپار کے خلاف عالمگیر مہم میں اس جرم کی روک تھام کی کوششوں کو بھی اتنے ہی اہم عنصر کی حیثیت حاصل ہے جتنی کہ دیگر عوامل کو حاصل ہے۔ روک تھام کی موثر کوششوں سے انسانی بیوپاریوں کی چالوں کا سامنا کیا جاتا ہے۔ درست اور مخصوص معلومات پھیلانے سے لوگ انسانی بیوپار کے خطرے کا جواب دینے کے لیے بہتر طور سے تیار ہوتے ہیں۔ خطرات کی زد میں آنے والے علاقوں میں ‘تزویراتی مداخلتی پروگراموں’ کے ذریعے ایسے لوگوں کا پیشگی تحفظ ممکن ہوتا ہے جنہیں جبری مشقت یا تجارتی بنیادوں پر جنسی سرگرمیوں کے لیے استحصال کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں سرکاری و نجی شعبوں اور سول سوسائٹی کے درمیان بامعنی شراکتیں، آگاہی، مہارتوں اور مسئلے کے اختراعی حل پیش کرنے کے ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

روک تھام کی کوششوں میں متبادل کاوشیں بھی شامل ہونی چاہئیں جیسا کہ محنت سے متعلق قوانین میں تبدیلی تاکہ ان سے کارکنوں کے مخصوص طبقات شامل ہونے سے رہ نہ جائیں؛ محنت کشوں کے قوانین کا مضبوط نفاذ خصوصاً ایسے شعبوں میں جن میں انسانی بیوپار کا نشانہ بننے کے زیادہ خدشات پائے جاتے ہیں؛ عملی اقدامات جیسا کہ پیدائش کا اندراج جس سے انسانی بیوپار کا شکار بننے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے؛ کارکنوں کو استحصال سے بچانے کے لیے محنت کشوں کی بھرتی کے پروگرام کی تیاری اور ان کی نگرانی؛ نفاذِ قانون کے اداروں، حکومت اور این جی اوز کے مابین شراکتداریوں کی مضبوطی؛ کڑے نفاذ، بہتر رپورٹنگ، اور حکومت کی جانب سے توثیق شدہ کاروباری معیارات کے ذریعے موثر پالیسیوں پر عمل درآمد پر زور؛ حکومت کی جانب سے کی جانے والی خریداریوں سمیت جبری مشقت سے نمٹنے کے ترسیلی نظام اور تجارتی بنیادوں پر جنسی سرگرمیوں کی طلب میں کمی لانے کے اقدامات ہیں۔

علاوہ ازیں انسانی خریدوفروخت سے نمٹنے کے لیے حال ہی میں نجی شعبے میں متعارف کرائے گئے جدید طریقہائے کار سے روک تھام کی کاوشوں کے فروغ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ کاروباری شعبے میں اس حوالے سے احتساب کے نئے طریقہائے کار میں اِن اداروں سے فصلوں کی کٹائی، اناج جمع کرنے یا کان کنی کے خام مال کے حصول کا کام کرنے والے لوگوں سمیت اپنے ترسیلی ذرائع پر اضافی توجہ دینے، اپنے کارکنوں کی بھرتی اور کارکن فراہم کرنے والوں کا جائزہ لینے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔

وقت کے ساتھ  جوں جوں حکومتوں اور انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے کام کرنے والوں کا تجربہ بڑھتا چلا جائے گا اور اگر وہ اپنے سیکھے گئے نئے طریقوں کا آپس میں تبادلہ کرتے رہیں گے تو اس کے نتیجے میں نئے اقدامات اور طریقہائے کار سامنے آتے چلے جائیں گے۔ گو کر اِن کاوشوں کی کامیابی کو ناپنا ایک مشکل ترین کام ہے، مگر خاطرخواہ وسائل اور سیاسی ارادے کے ساتھ انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مزید جدید، قابل پیمائش اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔

قانونی کارروائی، تحفظ اور روک تھام کی کوششوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ درحقیقت "3پی” اپنی باہمی معاونت اور تکمیلی رابطے کی صورت میں ہی موثر ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر قانونی کارروائی سزا کے خوف پر مبنی رکاوٹ کا کام کرتی ہے اور انسانی بیوپار کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی طرح تحفظ کی بدولت استحصال کے شکار لوگ بااختیار بن سکتے ہیں تاکہ سماج کا حصہ بننے کے بعد انہیں دوبارہ نشانہ نہ بنایا جا سکے۔ متاثرہ فرد کو ذہن میں رکھ کرکی گئی قانونی کارروائی ایسے لوگوں کو قانونی عمل میں شرکت کرنے کے قابل بناتی ہے جو کہ تحفظ کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں کا اہم جزو ہے۔

‘3 پی’ نمونے کو استعمال میں لاتے ہوئے ٹی آئی پی کا دفتر دنیا بھر میں انسانی بیوپار کے خلاف حکومتی کوششوں کا جائزہ لینے، مزید موثر کارروائیوں کو آگے بڑھانے اور عالمی تنظیموں اور این جی اوز کی مدد کے لیے سال بھر کام کرتا ہے۔

# # #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں