rss

انسانی بیوپار سے نمٹنے کے لیے مشتبہ مالیاتی سرگرمی کا سراغ لگانا

中文 (中国) 中文 (中国), English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

پی ڈی ایف – ڈاؤن لوڈ کریں

امریکی محکمہ خارجہ
انسانی سمگلنگ کی نگرانی اور خاتمے کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی
جون 2018

انسانی  بیوپار سے نمٹنے کے لیے مشتبہ مالیاتی سرگرمی کا سراغ لگانا

سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے اشتراک سے، حکومتیں فارنزک اکاؤنٹنگ کی حکمت عملی سے کام لے سکتی ہیں جس کی بدولت مالیاتی اداروں کے لیے کسی ایسی سرگرمی کی نشان دہی کرنا اور اِس کے بارے میں خبردار کرنا ممکن ہو جاتا ہے جو انسانی سمگلنگ کے دھندوں سے مماثلت رکھتی ہو۔

انسانی بیوپار کے منصوبوں کے متعدد قابل شناخت مراحل ہوتے ہیں جن کے دوران اس جرم  میں ملوث عناصر کے مالیاتی نظام کو استعمال کرنے کا امکانات ہو سکتے ہیں۔ کسی مشتبہ مالیاتی سرگرمی کا کھوج لگانے کے لیے مالیاتی نظام کو مخصوص رہنمائی مہیا کرنے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر حکام کو انسانی بیوپار کی نشاندہی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے بہت مدد مل سکتی ہے۔

مالیاتی لین دین کو استعمال کرتے ہوئے انسانی بیوپار کا سراغ لگانا

حالیہ برسوں میں دنیا بھر کی حکومتوں نے مالیاتی امور سے متعلق مخففاً ایف آئی یو کہلانے والے معلومات کے حصول کے یونٹ  قائم کیے ہیں۔ اِن یونٹوں کے ذریعے ایسی مشتبہ مالیاتی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاعات حاصل کر کے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے جو غبن، منی لانڈرنگ اور روزافزوں انسانی بیوپار کی علامت ہو سکتی ہیں۔

ایف آئی یوز کے ذریعے لین دین کا پتا چلانے، رقم کے بہاؤ کا کھوج لگانے اور انسانی بیوپار سے منسلکہ جرائم سے متعلق شہادتیں جمع کی جاتی ہیں۔ ان یونٹوں کے ذریعے جانچ پڑتال کرکے مشتبہ سرگرمیوں میں انسانی بیوپار کے حوالے سے خبردار کرنے کے لیے بھی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہر معاملے کی نوعیت الگ ہوتی ہے تاہم ‘ایگمونٹ گروپ’ جیسے ادارے ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے عالمگیر تعاون میں معاون ثابت ہوتے ہیں جن میں  مالیاتی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ حالیہ پیش رفتوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دیگر جرائم کے علاوہ انسانی بیوپار کو بھی اس کا ہدف ہونا چاہئیے۔ اس گروپ کے رکن ایف آئی یوز کی تعداد 155 ہے۔

حکومتیں انسانی سمگلروں کو پکڑنے کے لیے مشتبہ مالیاتی لین دین سے حاصل کردہ معلومات سے کام لینے کی غرض سے طریقہائے کار اور مثالیں قائم کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر 2017 میں تھائی لینڈ کی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی سرکاری عہدیدار کو انسانی بیوپار کا مجرم قرار دیا۔ اس معاملے میں حکومت نے اس کے مشتبہ مالیاتی لین دین کی بدولت اس منصوبے میں اس کے کردار کا پتہ چلایا۔

امریکہ میں محکمہ خزانہ اپنے اختیارات، نفاذ قانون کے اداروں سے اشتراک اور اہدافی پابندیوں کے ذریعے انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے عالمگیر رابطہ کاری سے کام لیتا ہے۔ انسانی بیوپار میں ملوث عناصر کے اثاثہ جات پر پابندی لگانے سمیت، محکمہ خزانہ بے شمار بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں سے امریکی اور عالمی مالیاتی نظاموں کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ جنوری 2018 میں امریکہ نے ژاؤ وی نامی بین الاقوامی جرائم پیشہ  تنظیم پر پابندی لگائی۔ لاؤس سے تعلق رکھنے والا یہ گروہ جنسی مقاصد کے لیے بچوں کے بیوپار سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

اکتوبر 2017 میں امریکی محکمہ خزانہ میں مالیاتی جرائم سے متعلق انفورسمنٹ نیٹ ورک نے، ایف آئی یو کے ایگمونٹ گروپ کے ذریعے ایک ٹیم تیار کی جس کا کام انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے کام کرنا تھا۔ اس منصوبے کے اہم مقاصد میں انسانی بیوپار سے متعلق مالیاتی بہاؤ کی بابت معلومات کو بہتر بنانا اور اس طرح کے غیرقانونی بہاؤ کی نشاندہی اور اسے منتشر کرنا شامل ہیں۔ انسانی بیوپار کی روک تھام کے اس منصوبے کی ٹیم ایسے غیرقانونی مالیاتی بہاؤ کو منتشر کرنے اور انسانی بیوپار کے حوالے سے قانونی کارروائی کے لیے قابل عمل اطلاعات  حاصل کرنے کی غرض سے معلومات کے دوطرفہ تبادلے کو بہتر بنائے گی۔

بین الحکومتی اداروں کے تیار کردہ ذرائع

  • انسانی بیوپار اور مہاجرین کی بیوپار سے ابھرنے والے منی لانڈرنگ کے خدشات: اس حوالے سے ‘فنانشل ایکشن ٹاسک فورس’ (ایف اے ٹی ایف) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا مقصد انسانی بیوپار کی کارروائیوں کے لیے ہونے والی منی لانڈرنگ کی نشاندہی اور مشتبہ مالیاتی لین دین کی رپورٹنگ کو بہتر بنانا ہے۔ ایف اے ٹی ایف ایک نئے جائزے کی روشنی میں اپنی اس رپورٹ کو بہتر بنا رہا ہے جس میں انسانی بیوپار سے جنم لینے والے مالیاتی بہاؤ کی بدلتی نوعیت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
  • انسانی بیوپار اور جدید غلامی کی مالیاتی کڑیاں کھولنے کی 25 چابیاں: مارچ 2017 میں اقوام متحدہ میں لیخٹن شٹائن کے مستقل وفد کے تعاون سے یو این یونیورسٹی نے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا موضوع انسانی بیوپار سے متعلقہ منی لانڈرنگ کا قلع قمع کرنا تھا۔ اس ورکشاپ کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ میں اس معاملے کے متعدد فریقین سے متعلق اُن نمایاں قابل عمل اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں انتہائی خدشات کی حامل صنعتوں (پام آئل، کوکا، ماہی گیری، ہوٹل کی صنعت اور بڑی بڑی تقریبات کے لیے تعمیر کی جانے والی عمارات) میں انسانی بیوپار سے متعلق سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینا بھی شامل ہے۔
  • انسانی بیوپار میں استعمال ہونے والی رقم کا کھوج لگانے کے لیے رہنمائی: انسانی بیوپار، انسانی بیوپار اور متعلقہ بین الاقوامی جرائم سے متعلق ‘بالی پراسیس’ کے تحت علاقائی سطح پر استعمال ہونے والے ایسے طریقہائے کار کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں جن کی بدولت نفاذ قانون کے ادارے، مقدمات چلانے والے سرکاری وکیل اور مالیاتی معلومات فراہم کرنے والے یونٹ انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے انسدادِ منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات کی بازیابی کے ذرائع سے کام لیتے ہیں۔
  • انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے انسداد منی لانڈرنگ کے اداروں کا استعمال: یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں شریک ممالک میں ایسے امید افزا طریقہائے کار کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کی بدولت مشتبہ مالیاتی سرگرمیوں کی نشاندہی، انجماد اور ضبطگی جیسے طریقوں سے انسانی بیوپار کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے ۔

شراکتداریوں کی اہمیت

غیرقانونی سرگرمیوں کا پتہ چلانے کے لیے مقامی اور عالمی صنعتوں کی روزمرہ کی بنیاد پر نگرانی کرنا ایک ایسا انتہائی دشوار کام ہے جو حکومتیں اکیلے نہیں کر سکتیں۔ نجی مالیاتی ادارے اپنے گاہکوں کی ممکنہ مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے اپنے اندرونی نظاموں کو بروئے کار لاتے ہوئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  خطرات میں کمی لانے کے لیے مالیتی ادارے، برانڈ، اور ترسیل کنندگان اُن کمپمنیوں سے متعلق جن کے ساتھ وہ کاروبار کرتے ہیں اور اُن اداروں سے متعلق جن کے بارے میں مالی جرائم کا ارتکاب کرنے کا خطرہ ہوتا ہے، اعداد و شمار اکٹھا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اکثر اندرونی اور تیسرے فریق کی طرف سے لیے جانے والے  خطرات کے جائزوں، غوروخوض، قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے میں مدد دینے والی کمپنیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کمپنیاں جو انتہائی اہم خدمات مہیا کرتی ہیں انہیں عموماً "اپنے گاہکوں کے بارے میں جانیں” یا ”سیاسی اعتبار سے بے نقاب افراد” کے بارے میں خدمات کہا جاتا ہے۔ اِن خدمات کا بنیادی مقصد مالیاتی اور کاروباری اداروں کو ان کے گاہکوں اور کاروباری شراکت داروں کی جانچ پڑتال میں مدد کرنا ہوتا ہے تاکہ انجانے میں منی لانڈرنگ اور دیگر مالیاتی جرائم میں ملوث ہونے سے بچا جا سکے۔ نفاذ قانون اور قوانین و ضوابط سے متعلق حکومتی ادارے بھی تفتیشی مقاصد اور دوسرے اداروں سے رابطہ کاری کے لیے ان اداروں اور ان کی مہیا کردہ معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسرے کردار بھی مسئلے کے اس حل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹا سا غیر سرکاری ادارہ انسانی بیوپار میں ممکنہ طور پر ملوث لوگوں کے بارے میں معیاری ڈیٹا میں اضافے کے لیے مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ یہ ادارہ میڈیا پر آنے والی اطلاعات اور دیگر معلومات جمع کر کے (براہ راست اور این جی او کے شراکت کاروں کے ذریعے) ان کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور پھر انتہائی معتبر ڈیٹا مزید جائزے کے لیے کاروباری اداروں کو بھجواتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں اس تنظیم نے 5000 سے زیادہ مشتبہ افراد اور کمپنیوں کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا ہے اور 20 سے زیادہ ملکوں میں پھیلے روزافزوں عالمگیر تحقیقی شراکت کاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہر ماہ اوسطاً 300 سے زیادہ نام کاروباری اداروں کو بھجوا رہا ہے۔ اس طرح موجودہ اور موثر ادارہ جاتی فریم ورک میں معلومات کی مقدار بڑھانے سے انسانی بیوپار سے متعلق مالیاتی بہاؤ اور ترسیلی سلسلے کا قلع قمع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یوں یہ انسانی خریدوفروخت کی روک تھام اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا موثر ذریعہ بن گیا ہے۔

شراکت کاری، ڈیٹا کے اکٹھا کرنے اور موجودہ ادارہ جاتی فریم ورک میں معلومات کے تبادلے کو انسانی بیوپار سے متعلق مالیاتی بہاؤ کے قلع قمع میں موثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی خریدوفروخت کی روک تھام اور اس کام میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے موثر ذرائع میسر آ سکتے ہیں۔

انسانی بیوپار سے متعلق مشتبہ سرگرمیوں کی مثالیں*

  • کوریئر اور پیسے بھجوانے والوں کے ذریعے نقد رقم کا استعمال، باربار نقد رقم نکلوانا اور نشاندہی نیز رپورٹنگ کے تقاضوں سے بچنے کے چھوٹی مقدار میں پیسوں کی منتقلی کرنا؛
  • متعدد بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈوں نیز متعدد عرفیتی شناختوں اور پتوں کا استعمال؛
  • فرضی کمپنیوں، جعلی نمائندوں یا جعلی شناختی دستاویزات کا استعمال؛
  • گاہک کی ظاہری معلومات کے برعکس اس کا نہ سمجھ میں آنے والا طرز زندگی؛
  • مشتبہ یا معلوم مجرمانہ ریکارڈ کے حامل لوگوں سے تعلقات؛
  • زمینی جائیداد یا قیمتی اشیا میں سرمایہ کاری کے لیے نقد رقم کا استعمال؛
  • کسی ظاہری کاروباری ذریعے کے بغیر تسلسل سے رقومات جمع کرانا یا نکلوانا؛
  • بینک سے متعلق امور کے پیچھے کسی جائز کاروبار کا نہ ہونا؛
  • عمومی کاروباری اوقات سے ہٹ کر اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈوں کا استعمال؛
  • مشتبہ ممالک میں تسلسل سے رقومات کی منتقلی؛
  • بینک کی متعدد برانچوں اور اے ٹی ایم کے ذریعے تیسرے فریق کا نقد رقومات جمع کرانا؛
  • جوا خانوں اور تجارتی درآمدات و برآمدات کے ذریعے نقد رقم کی منی لانڈرنگ کرنا؛
  • حوالہ یا دوسرے غیررسمی بینکاری نظام کا استعمال؛

* یہ تصوراتی اشاریوں کی ایک فہرست ہے جسے حتمی  قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی مالیاتی لین دین یا بظاہر مشتبہ دکھائی دینے والی سرگرمی کو انسانی بیوپارکا واضح اشارہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مالیاتی ادارے گاہک کی ظاہری معلومات اور متوقع  لین دین کی سرگرمیوں جیسے دیگر معاملات کو دیکھ کر کسی مالیاتی سرگرمی کے مشتبہ ہونے کا فیصلہ کی جا سکتا ہے۔ مشتبہ اشاریوں کی مزید جامع فہرست کے لیے ‘ایف اے ٹی ایف’ کی ” انسانی بیوپار اور مہاجرین کی بیوپار سے ابھرنے والے منی لانڈرنگ کے خدشات” کے بارے میں رپورٹ (جولائی 2011) کا منسلکہ ‘بی حصہ’ دیکھیے۔ ممکنہ طور پر انسانی بیوپار اور انسانی بیوپار سے متعلقہ سرگرمی کا اندازہ لگانے کے لیے FinCEN کے رہنمایانہ مواد سے بھی رجوع کیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں