rss

وزیرخارجہ مائیکل آر پومپئو اور افغان صدر اشرف غنی کی پریس کانفرنس

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
9 جولائی 2018

 
 

وزیرخارجہ مائیکل آر پومپئو اور افغان صدر اشرف غنی کی پریس کانفرنس

کابل، افغانستان

وزیر خارجہ پومپئو: شکریہ۔ شکریہ، سہ پہر بخیر۔ صدر غنی، میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں آج اپنی میزبانی پر ڈاکٹر عبداللہ اور پوری افغان قومی سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ محل میں آپ سے ملاقات میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔

امریکہ کی زمینی، فضائی اور سمندری فوج کے اہلکاروں کے لیے میں امریکی عوام کی جانب سے قدرشناسی کے بھرپور جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو یہاں نیٹو فورسز کے ساتھ مل کر خدمات انجام دے رہے ہیں اور قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ میں آج یہاں سے جانے کے بعد ان میں سے بعض لوگوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا متمنی ہوں۔

میں بہادر افغان جنگجوؤں، سپاہیوں، فضائیہ کے اہلکاروں اور پولیس کو بھی سراہنا چاہتا ہوں جو افغانوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے روزانہ اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔

اب امریکہ پہلے سے کہیں بڑھ کر افغانستان کے شراکت دار کے طور پر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان ہوئے اب قریباً ایک سال ہونے کو ہے۔ اس حکمت عملی میں حالات کی بنیاد پر طے کردہ طریقہ ہائے کار اختیار کرنے کی بات کی گئی ہے جبکہ اس میں اہداف کی تکمیل کے لیے مصنوعی تاریخیں دینے اور من چاہے طور سے فوجی دستوں کی تعداد مقرر کرنے کی روش ختم کر دی گئی ہے۔ ہم افغانوں کے زیرقیادت اور ان کے لیے قابل قبول طور سے ایک محفوظ و مامون افغانستان کی خاطر افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز سے مل کر حالات ترتیب دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

آپ کو علم ہونا چاہیے کہ امن عمل پہلے جیسا ہی ہے۔ امریکہ امن بات چیت کی حمایت، معاونت اور اس میں شرکت کرے گا مگر امن کا فیصلہ افغانوں کو ہی کرنا ہے اور انہوں نے ہی باہم کسی تصفیے تک پہنچنا ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس امن بات چیت میں عالمی کرداروں اور افواج کے کردار پر گفت و شنید بھی شامل ہو گی۔

آج میں یہاں تمام پہلوؤں پر ہماری پیش رفت کی بابت جاننے کے لیے آیا ہوں۔ اس دورے سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صدر کی حکمت عملی واقعتاً کام کر رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کے بارے میں ہماری حکمت عملی سے افغان عوام اور اس کی سکیورٹی فورسز کو واضح پیغام گیا ہے کہ اپنے ملک اور عوام کے دفاع کی جنگ میں ہم ان کی مدد کریں گے۔

اس حکمت عملی سے طالبان کو بھی واضح پیغام گیا ہے کہ ہمارے جانے کا انتظار بے سود ہے اور ہم ناصرف میدان جنگ میں اس حکمت عملی کے نتائج دیکھ رہے ہیں جہاں طالبان کی رفتار سست پڑ گئی ہے بلکہ ان کے ساتھ امن کے امکانات میں بھی یہ نتائج واضح ہیں۔

آج ہمیں انتخابات کی تیاری کے سلسلے میں افغانستان کی پیشرفت پر بات کرنے کا موقع بھی میسر آیا جو اس سال کے آخر میں ہو رہے ہیں۔ ہم افغان عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتے محفوظ، قابل اعتبار اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کے کام کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اپنے تمام شراکت داروں سے کہتے ہیں کہ وہ یہ حمایت جاری رکھیں۔

آخر میں مجھے اصلاحاتی عمل میں پیشرفت پر افغان حکومت کو مبارکباد دینی ہے۔ افغان حکومت کو بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور ملکی معیشت کے لیے راہ متعین کرتے دیکھ کر میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اس میں کان کنی کے شعبے میں مستحکم ترقی کے لیے واضح سوچ بھی شامل ہے۔

میں ایک مرتبہ پھر صدر غنی کا بے حد مشکور ہوں۔ میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ بے حد فیاض میزبان ہیں ۔ امریکہ سلامتی، سیاسی استحکام اور احتساب اور افغان عوام کے لیے جمہوری حکمرانی کو فروغ دینے کی خاطر افغان حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ شکریہ۔

چاہ خان سوری: شکریہ جناب صدر، شکریہ جناب وزیر، اب ہم چند سوالات لیں گے۔ شمشاد سے ہوشیدی (فون)

سوال: (دری زبان میں)

وزیر خارجہ پومپئو: میں معذرت چاہتا ہوں، میں ۔۔۔۔

صدر غنی: کیا اس کا ترجمہ ہوا؟

وزیر خارجہ پومپئو: نہیں، مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی۔ میرا ۔۔۔۔

چاہ خان سوری: سوال یہ ہے کہ طالبان نے امن بات چیت اور مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے اور اب خطے میں انہیں کچھ شراکت داروں کا ساتھ بھی میسر ہے جن میں بعض دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ اقدامات کیا ہوں گے اور کیا امن عمل آگے بڑھانا ممکن ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: امن عمل کی قیادت افغان خود کریں گے۔ یہ عمل افغانوں کے مابین ہونا ہے۔ جنگ بندی اور اس پر افغان عوام کا ردعمل دیکھ کر ہماری بے حد حوصلہ افزائی ہوئی۔ ہماری رائے میں امن عمل کے لیے یہ اچھا شگون ہے۔ ہم امن عمل میں شرکت کرنے، اس میں سہولت مہیا کرنے اور افغان عوام کو اپنے اختلافات کے خاتمے میں مدد دینے اور ایسے مقام تک پہنچنے میں معاونت کے لیے تیار ہیں جہاں تمام افغان عوام کی آواز سنی جا سکے اور وہ پرامن اور محفوظ طور سے ایسے معاشرے میں رہ سکیں جہاں ہر افغان سے وہی باوقار سلوک ہو جس کے وہ سبھی مستحق ہیں۔

مس نوئرٹ: اگلا سوال سی بی ایس نیوز کی کائل ایٹوڈ کریں گی۔ براہ مہربانی صرف ایک سوال کیجیے۔

سوال: شکریہ۔ وزیر پومپئو، امریکہ کو افغانستان میں اب قریباً 17 برس ہو چکے ہیں، آپ اچھی طرح جانتے ہیں اور جیسا کہ آپ نے کہا ٹرمپ انتظامیہ کو یہ حکمت عملی متعارف کرائے قریباً ایک سال ہونے کو ہے، یہ حکمت عملی حالات کی بنیاد پر آگے بڑھے گی مگر اس حوالے سے کامیابی کے کچھ زیادہ اشارے نہیں مل رہے۔ طالبان کے زیرقبضہ علاقے میں اضافہ ہوا ہے۔ جیسا کہ آپ نے کہا حال ہی میں یہاں امریکی فوج کے ایک رکن کی جان گئی ہے۔ اس برس امریکی فوج کا یہ تیسرا جانی نقصان ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس حکمت عملی سے فائدہ ہو رہا ہے مگر ایسی کون سی شہادت ہے جس سے ہم یہ اندازہ قائم کر سکیں کہ یہاں ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی حکمت عملی واقعتاً کارگر ہے؟

امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین بات چیت میں سہولت مہیا کرے گا۔ کیا آپ اس موقع پر طالبان کے ساتھ امریکی رابطے کی وضاحت کر سکتے ہیں؟ شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: تو دراصل یہ دو سوالات تھے۔

سوال: دونوں افغانستان کے بارے میں ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: دلچسپ طور سے ان کا باہم ربط ہے۔ افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کا ایک عنصر یہ ہے کہ اب ہم یقین رکھتے ہیں کہ بہت سے طالبان کو نظر آ رہا ہے کہ وہ ہم پر عسکری اعتبار سے فتحیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ بات صدر ٹرمپ کی حکمت عملی سے اچھی طرح جڑی ہوئی ہے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے۔ ہم نے یہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ طالبان نے صدر غنی کی جانب سے جنگ بندی پر ردعمل دیا۔ یہ ان تمام باتوں کا باہم ربط ہے۔ جنوبی ایشیا کے حوالے سے حکمت عملی میں ہم نے یہ پیشرفت کی ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کے حجم اور اہلیت میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان حکومت میں اصلاحاتی عمل مضبوط ہوا ہے۔ ہم نے طالبان کو یہ باور کرایا ہے کہ جنگ جاری رہی تو ان کے لیے اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے اور یہ سب کچھ خطے میں ان ممالک کے مفاد میں بھی نہیں ہے جہاں سے وہ اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس سے حقیقی پیشرفت کا ثبوت ملتا ہے۔

یاد رہے کہ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ واقعتاً ایسا ہی ہے اور اس میں امریکہ کا کردار اہم ہو گا۔ مگر ہم امن بات چیت نہیں چلا سکتے۔ ہم باہر سے کوئی تصفیہ نہیں کرا سکتے۔ یہ تصفیہ افغان عوام نے مل کر ہی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا یہ مجموعی احساس اہم ہو گا کہ انہیں امن و ہم آہنگی سے مل کر رہنا ہے اور ایک دوسرے سے باوقار برتاؤ کرنا ہے۔ ہم جنگ بندی کے دوران یہ دیکھ چکے ہیں۔ ہمیں بھرپور امید ہے کہ یہ عمل انتخابات کے موقع پر تشدد میں کامیاب طور سے کمی کا باعث بنے گا۔

ہم امن عمل کی حمایت کے لیے خطے کے تمام ممالک پر انحصار کر رہے ہیں۔ پاکستانیوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں پرامن انتخابات درکار ہیں۔ ہم اس عمل کی حمایت اور ان انتخابات میں افغان عوام کی رائے کا احترام یقینی بنانے کے لیے خطے کے تمام کرداروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب سے قریباً 12 ماہ پہلے صدر ٹرمپ نے جو حکمت عملی پیش کی تھی اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے اہداف کے حوالے سے زبردست پیشرفت دیکھنے کو ملی ہے۔

چاہ خان سوری: (دری زبان میں)

سوال: (دری زبان میں)

چاہ خان سوری: (دری زبان میں)

سوال: (دری زبان میں)

صدر غنی: (دری زبان میں)

مس نوئرٹ: اگلا سوال دی واشنگٹن پوسٹ سے جان ہڈسن کریں گے۔

سوال: شکریہ، شکریہ جناب وزیر، شمالی کوریا کے معاملے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ روز آپ نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ جب شمالی کوریا جوہری اسلحے کا خاتمہ شروع کر دے گا تو اسے سلامتی کی ضمانتیں دی جائیں گی۔ یہ ضمانتیں کیا ہوں گی؟ کیا اس میں جنگ کوریا کے رسمی طور پر خاتمے کا معاہدہ بھی شامل ہو گا؟ کیا آپ امریکی دستوں یا ہتھیاروں کو جزیرہ نما کوریا سے ہٹانے پر بھی غور کریں گے؟

پیانگ یانگ میں آپ کے دورے کے بعد شمالی کوریا نے جارحانہ بیان دیا تھا۔ آپ نے اس تعلق کو آگے بڑھانے میں خاصا وقت صرف کیا ہے، ایسے میں کیا آپ کو اندازہ ہوا کہ وہ کون سا مسئلہ تھا جس کی بنا پر شمالی کوریا نے اس بات چیت میں یہ رویہ اختیار کیا؟ شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: ہم جہاں موجود ہیں اس کی مناسبت سے میں افغانستان کے بارے میں بات چیت کو ہی ترجیح دوں گا۔ کیا آپ نے افغانستان کے حوالے سے کچھ پوچھنا ہے؟

سوال: اوہ، افغانستان کے بارے میں بھی میرے پاس ایک سوال ہے۔ میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ افغانستان میں روس کی موجودگی کے حوالے سے آپ کے خیالات کیا ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے؟ کیا آپ فیاضانہ برتاؤ کرتے ہوئے شمالی کوریا کے حوالے سے سوال کا جواب بھی دیں گے؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی، یہاں افغانستان میں علاقائی کرداروں کی سرگرمیوں کی بابت مجھے زیادہ کھل کر بات کرنی ہے جن کا کردار روس سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے بہت سے علاقائی کرداروں کی جانب سے بہت اچھی علامات دیکھی ہیں جن چین اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں جو آگے آ رہے ہیں۔ ہم نے نیٹو اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے بھی یہی رویہ دیکھا ہے۔ صدر کی جانب سے جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی حکمت عملی کے اعلان کے بعد 39 اتحادیوں میں سے 29 ممالک نے اپنے وسائل کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بہت سے کردار اسی مقصد کے حصول کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جس کی صدر غنی نے آج نہایت عمدگی سے وضاحت کی ہے۔ ہم واقعتاً پرامید ہیں کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے یہ خطہ اور دنیا اسی طرح تھک چکی ہے جس طرح افغان عوام کی اکثریت اس سے بیزار ہے اور وہ تشدد اور جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم حقیقی پیش رفت، تشدد میں حقیقی طور سے کمی اور افغان حکومت میں موثر اصلاحات کا مشاہدہ کریں گے جو آنے والے انتخابات میں افغان عوام کی آواز سنے جانے کا نتیجہ ہوں گی۔ اگر ہم اس راہ پر سفر کا آغاز کر سکتے ہیں تو پھر یہ ایک تاریخی کردار ہو گا اور افغانستان میں ایک تاریخی تبدیلی جنم لے گی جس سے افغان عوام کو ان کا ملک اس انداز میں واپس مل جائے گا جس کی بیشتر افغان عوام خواہش کرتے ہیں۔

یہاں میں اپنی بات ختم کروں گا۔ شمالی کوریا کے حوالے سے میں آپ کو جلدی سے ایک جواب دوں گا۔ ابھی ہمیں بہت سا سفر طے کرنا ہے، مگر شمالی کوریا والوں نے جو وعدہ کیا، جو وعدہ چیئرمین کم نے صدر ٹرمپ سے کیا وہ موثر و مستحکم ہے۔ میں نے بعض بیانات دیکھے ہیں۔ یہ ملے جلے ہیں، آپ نے ملے جلے بیانات پر رپورٹنگ نہیں کی، مگر شاید اب آپ ایسا کریں گے۔ ہماری بات چیت کے بعد چیئرمین کم کا بیان جوہری اسلحے کے مکمل خاتمے کے لیے ان کی خواہش کا اظہار ہے اور وہ اس بارے پوری طرح پرعزم ہیں۔

مس نوئرٹ :جان، شکریہ۔ جان، شکریہ۔

چاہ خان سوری: پریس بریفنگ کا اختتام ہوتا ہے۔ آج یہاں آنے پر آپ سبھی کا شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں