rss

داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے وزرائے خارجہ کا نیٹو ہیڈکوارٹر میں اجلاس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
12 جولائی 2018

 

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نے 12 جولائی کو نیٹو کانفرنس کے موقع پر داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے منتخب ارکان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس مدعو کیا۔

اتحاد نے داعش کو شکست دینے نیز آزاد کرائے گئے علاقوں اور مقامی آبادیوں کو اس ظالم دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کی غیرمعمولی کوششوں کا اعتراف کیا۔ فروری میں اتحاد کی جانب سے متفقہ طور پر توثیق شدہ رہنما اصولوں کی روشنی میں اتحاد نے عراق اور شام میں داعش کی پائیدار شکست اور اتحاد کی جانب سے داعش کے عالمی عزائم کی مجموعی نفی کی اہمیت پر بات چیت کی۔ اس موقع پر وزرا نے آزاد کرائے گئے علاقوں میں وزیراعظم عبادی اور عراقی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی معاونت سے استحکامی سرگرمیوں کے لیے 500 ملین ڈالر وقف کرنے کا خیرمقدم کیا۔ ارکان نے عراق کے لیے غیرحربی تربیتی مشن کے رسمی آغاز کو بھی متفقہ طور پر سراہا۔

وزرا نے شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کی جانب سے مشرقی شام میں داعش کے زیرقبضہ بقیہ علاقوں کو آزاد کرانے کی کوششوں اور اس سلسلے میں پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا۔ ایس ڈی ایف داعش کے زیرقبضہ آخری جگہوں کو آزاد کرانے اور شام عراق سرحد محفوظ بنانے کے لیے اتحاد اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مصروف عمل ہے۔ داعش عراق شام سرحد کے ساتھ گزرگاہوں کو دونوں ممالک پر حملوں اور انہیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال کرتی چلی آئی ہے۔ داعش کی پائیدار شکست یقینی بنانے کے لیے ہمیں یہ اور ان جیسے دیگر سرحد پار نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

یہ اجلاس وزرا کے لیے شام میں اتحاد کی معاونت سے کی گئی کارروائیوں کے ذریعے آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام کی غرض سے فوری معاونت کے وعدے کا موقع بھی تھا۔ اتحاد کی مالی معاونت سے چلنے والے استحکامی پروگرام داعش کی شکست کے بعد حاصل شدہ عسکری فوائد برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لانے اور اور انتہاپسندی کے محرکات سے نمٹنے میں ان کی اہمیت بدستور قائم رہے گی۔ داعش نے اتحاد کی معاونت سے کی گئی کارروائیوں میں کھوئے کسی علاقے پر دوبارہ قبضہ نہیں کیا اور وزیرخارجہ پومپئو نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ اس صورتحال کو قائم رکھنے کے لے استحکامی معاونت اہم ہے۔ رقہ جیسے انتہائی مشکل حالات میں بھی اتحاد کی معاونت سے شراکت دار جنگ کی دھماکا خیز باقیات کے خاتمے، انسانی امداد کی فراہمی، ملبہ ہٹانے، بجلی، صحت عامہ اور پانی جیسی ضروری خدمات کی بحالی اور بے گھر لوگوں کی رضاکارانہ واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے میں مصروف ہیں۔ رقہ میں اس معاونت کے ذریعے ایک لاکھ 38 ہزار رہائشیوں کو مدد مل رہی ہے جو گزشتہ اکتوبر میں شہر آزاد ہونے کے بعد یہاں واپس آ چکے ہیں۔ طبقہ میں اتحاد کی معاونت سے ہسپتال کو دوبارہ اصل حالت میں واپس لایا گیا ہے جسے داعش شمال مشرقی شام میں اپنے کمانڈ سنٹر کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ اتحاد کی اس معاونت کے نتیجے میں آج طبقہ میں قریباً پانچ لاکھ لوگوں کو ہنگامی اور مادرانہ نگہداشت تک رسائی حاصل ہے۔

اتحاد باہم رابطہ کاری اور داعش کو شکست دینے کی مشترکہ کوششوں میں اضافے کے لیے اعلیٰ رہنماؤں اور ورکنگ گروپ کی سطح پر باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتا ہے۔ اتحاد کے وزرائے خارجہ کا گزشتہ اجلاس 13 فروری کو کویت میں ہوا تھا۔ جون میں اتحاد کے سیاسی ڈائریکٹروں نے مراکش میں ملاقاتیں کیں اور اس دوران شمال مشرقی شام میں استحکامی پروگراموں کے لیے 90 ملین ڈالر جمع کیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں