rss

صدر ٹرمپ اور روسی فیڈریشن کے صدر پوٹن کے مشترکہ پریس کانفرنس میں افتتاحی کلمات

Русский Русский, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Français Français

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
16 جولائی 2018

صدارتی محل
ہیلسنکی، فن لینڈ
5:10 سہ پہر

 

صدر پوٹن: (ترجمہ) عالی مقام جناب صدر، خواتین و حضرات، امریکی صدر کے ساتھ گفت و شنید دوستانہ اور سنجیدہ ماحول میں ہوئی۔ میرے خیال میں ہم اسے کامیابی اور بات چیت کا مفید دور کہہ سکتے ہیں۔

ہم نے روس امریکہ تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کا بالاحتیاط تجزیہ کیا جس میں عالمگیر ایجنڈے کے اہم امور زیرغور آئے۔ یہ بات سبھی پر اچھی طرح واضح ہے کہ دونوں ممالک میں باہمی تعلقات ایک پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں جبکہ ان رکاوٹوں ۔۔۔ حالیہ تناؤ اور کھچاؤ کے ماحول کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے۔

سرد جنگ  ماضی کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک میں شدید نظریاتی مخاصمت دور دراز ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ اب یہ ماضی کی نشانی ہے۔ دنیا کے حالات ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئے ہیں۔

آج روس اور امریکہ دونوں کو بالکل نئے مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں عالمگیر سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے طریقہ ہائے کار کی عدم مطابقت، علاقائی بحران اور دہشت گردی و بین الاقوامی جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات بھی شامل ہیں۔ بڑھتے معاشی مسائل اور ماحول کو لاحق خطرات بھی ان کا حصہ ہیں۔ ہم باہم اکٹھے ہو کر ہی ان مسائل سے نمٹ سکتے ہیں۔ امید ہے کہ ہم ان معاملات پر اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔

آج کی بات چیت سے ہماری مشترکہ خواہش کا اظہار ہوتا ہے ۔۔۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ ہماری مشترکہ خواہش ہے کہ اس منفی صورتحال کا ازالہ کیا جائے اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اقدامات طے کیے جائیں تاکہ دونوں جانب اعتماد کی قابل قبول سطح پر بحالی ممکن ہو سکے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر ماضی جیسا تعامل دوبارہ پیدا کیا جا سکے۔

بڑی جوہری طاقتوں کی حیثیت سے عالمگیر سلامتی برقرار رکھنا ہماری خاص ذمہ داری ہے۔ اس نے اسے ضروری بنا دیا ہے اور ہم نے بات چیت کے دوران اس کا تذکرہ کیا کہ ہم اپنی گفت و شنید میں تزویراتی استحکام، عالمگیر سلامتی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر توجہ دیں۔ ہم نے اپنے امریکی ساتھیوں کو اس ضمن میں متعدد خاص تجاویز دی ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اسلحے کے خاتمے کے ایجنڈے  نیز عسکری و تکنیکی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مل جل کر چلنا ضروری ہے۔ اس میں ‘تزویراتی جارحانہ ہتھیاروں کو محدود کرنے کے معاہدے’ میں توسیع بھی شامل ہے۔ امریکہ کے عالمگیر اینٹی میزائل دفاعی نظام کی موجودگی میں خطرناک صورتحال، آئی این ایف معاہدے پر عملدرآمد میں مسائل اور خلا میں اسلحے کی عدم تنصیب کا ایجنڈا بھی اس کا حصہ ہے۔

ہم انسداد دہشت گردی اور سائبر سکیورٹی کے معاملے میں تعاون جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ میں خاص طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ اس ضمن میں ہماری خصوصی فورسز کامیابی سے باہم تعاون کر رہی ہیں۔ حال ہی میں ختم ہونے والیے فٹ بال ورلڈ کپ میں ان کا عملی تعاون اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

عمومی طور پر ایسی خصوصی خدمات کے شعبہ جات میں روابط کو کسی باقاعدہ نظام کے تحت لایا جانا چاہیے۔ میں نے صدر ٹرمپ کو انسداد دہشت گردی پر ورکنگ گروپ دوبارہ قائم کرنے کی یاددہانی کرائی ۔

ہم نے علاقائی بحرانوں کی کثرت کا تذکرہ بھی کیا۔ اس حوالے سے ہمیشہ ہماری پوزیشن ایک جیسی نہیں ہوتی۔ تاہم ہمارے بہت سے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ اور باہمی نوعیت کے حامل ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ کہاں ہم ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں اور بہت سے عالمی معاملات پر  ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ  مل کر چلنا ہے۔

ہم نے علاقائی بحرانوں پر بھی بات کی۔ شام اس کی ایک مثال ہے۔ جہاں تک شام کا تعلق ہے تو اس ملک میں امن اور مفاہمت کے قیام کا ہدف اس کامیاب مشترکہ کام کی پہلی نمایاں مثال ہو سکتی ہے۔ بظاہر روس اور امریکہ اس معاملے میں پیش قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں اور انسانی بحران پر قابو پانے نیز شامی مہاجرین کی واپسی میں مدد دینے کے لیے باہمی تعامل کا طریقہ کار منظم کر سکتے ہیں۔

شام میں اس سطح کے کامیاب تعاون کے لیے ہمارے پاس تمام ضروری اجزا موجود ہیں۔ میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ روس اور امریکہ دونوں کی افواج نے اپنی کارروائیوں کے سلسلے میں رابطہ کاری کا مفید تجربہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں بات چیت کے ذرائع ترتیب دیے گئے ہیں جن کی بدولت دونوں افواج کو خطرناک واقعات اور فضا و زمین پر غیرارادی تصادم سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

جنوب مغربی شام میں دہشت گردوں کا خاتمہ بھی افواج کی علیحدگی سے متعلق 1974 کے معاہدے کے مطابق ہونا چاہیے، میری مراد اسرائیلی اور شامی افواج کی علیحدگی سے ہے۔ اس سے گولان کی پہاڑیوں پر امن قائم ہو گا اور شام و اسرائیل میں تعلقات مزید پرامن صورت اختیار کریں گے جبکہ اس سے اسرائیل کو تحفظ بھی ملے گا۔

جناب صدر نے آج کی بات چیت میں اس موضوع پر خاص توجہ دی اور میں یہ تصدیق کرنا چاہوں گا کہ روس اس ضمن میں پیش رفت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں، مثال کے طور پر قرارداد 338 کی مطابقت سے پائیدار امن کے لیے قدم اٹھائیں گے۔

ہمیں خوشی ہے کہ جزیرہ نما کوریا کا مسئلہ حل ہو رہا ہے۔ بڑی حد تک یہ صدر ٹرمپ کی ذاتی دلچسپی کے باعث ممکن ہوا جنہوں نے مخاصمت پر بات چیت کو ترجیح دی۔

ہم نے ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری پر اپنے خدشات بھی پیش کیے۔ ہمارے امریکی ہم منصب ہمارے موقف سے آگاہ ہیں۔ میں آپ کو یاد دلاؤں کہ ایرانی جوہری معاہدے کی بدولت ایران دنیا میں سب سے زیادہ پابند ملک بنا اور اس نے آئی اے ای اے سے تعاون کیا۔ میں موثر طور سے یقین دہانی کراتا ہوں کہ ایرانی جوہری پروگرام پرامن اور عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر پورا اترتا ہے۔

ہم نے یوکرائن کے اندرونی بحران پر بات چیت کرتے ہوئے منسک معاہدے پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد پر خاص توجہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ یوکرائنی قیادت سے بات منوانے اور اس ضمن میں متحرک کام کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کی غرض سے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم نے معاشی تعلقات اور معاشی تعاون پر زیادہ توجہ دی۔ یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک کا کاروباری شعبہ اس میں دلچسپی رکھتا ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ اقتصادی  فورم میں امریکی وفد سب سے بڑا تھا۔ اس میں 500 سے زیادہ امریکی کاروباری نمائندے شامل تھے۔ صدر ٹرمپ اور میں اس امر پر متفق ہیں کہ ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جانا چاہیے جو روسی اور امریکی کاروباری رہنماؤں کو ایک دوسرے سے قریب لائے گا۔ کاروباری طبقہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس شعبے میں کامیاب تعاون کیونکر ممکن ہے۔ ہمیں انہیں اس ضمن  میں تجاویز اور سفارشات تیار کرنے کے لیے سوچ بچار کا موقع دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر امریکی انتخابات میں روس کی نام نہاد مداخلت کا معاملہ چھیڑا جبکہ مجھے کئی مرتبہ کہی اپنی بات دہرانا پڑی کہ روسی ریاست کی جانب سے کبھی کوئی مداخلت نہیں ہوئی اور روس کبھی امریکی معاملات بشمول انتخابی عمل میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔

اگر اس ضمن میں کوئی خاص چیز سامنے آتی ہے تو ہم مل کر اس کے تجزیے کے لیے تیار ہیں۔ مثال کے طور پر ہم سائبر سکیورٹی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں جس کے قیام پر ہم نے اپنے گزشتہ رابطوں میں بات کی تھی۔

ماضی میں ہم نے ثقافتی اور انسانی شعبہ جات میں اپنے تعاون کو بحال کیا، میرا خیال ہے آپ جانتے ہیں کہ حال ہی میں ہم نے امریکی کانگریس کے وفد کی میزبانی کی اور اب یہ قریباً ایک تاریخی موقع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے حالانکہ یہ حالات حاضرہ سے متعلق معمول کی بات ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں ہم نے صدر سے اس تجویز کا تذکرہ بھی کیا۔

مگر ہمیں اپنے باہمی تعاون کے عملی پہلوؤں پر بھی سوچنا ہے اور ساتھ ساتھ اس سے وابستہ منطق پر بھی غور کرنا ہے۔ ہمیں باہمی تعلق کے حوالے سے ایسے ماہرین کی خدمات لینا ہیں جو تاریخ اور ہمارے تعلق کے پس منظرسے آگاہ ہوں۔ اس سلسلے میں ماہرین کی ایک کونسل قائم کی جانی چاہیے جس میں دونوں ممالک کے سیاسی ماہرین، ممتاز سفارت کار اور سابق عسکری ماہرین شامل ہوں گے جو دونوں ممالک میں رابطے کے نکات کا تعین کریں گے جس سے باہمی تعلق کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

عمومی طور پر ہمیں اپنی پہلی مکمل ملاقات کے نتائج پر خوشی ہے کیونکہ قبل ازیں ہمیں عالمی سطح پر بات چیت کا ایک مختصر سا موقع ہی ملا تھا۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی اور مجھے امید ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو مزید بہتر طور سے سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے لیے میں ڈونلڈ کا شکرگزار ہوں۔

اس بات چیت میں بعض مسائل پر وضاحتیں نہ ہو سکیں تاہم میرا خیال ہے ہم نے اس سمت میں پہلا اہم قدم اٹھا لیا ہے۔

اپنی بات ختم کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ باہمی تعاون کا یہ ماحول ممکن بنانے کے لیے ہم فن لینڈ کے اپنے میزبانوں کے خاص طور پر مشکور ہیں۔ ہم اس کے لیے فن لینڈ کے عوام اور فن لینڈ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس سے فن لینڈ کو قدرے زحمت ہوئی مگر ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

آپ کی توجہ کا شکریہ۔

صدر ٹرمپ: شکریہ۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

شکریہ۔ میں نے حال ہی میں صدر پوٹن کے ساتھ ملاقات کی ہے جس میں دونوں ممالک کے حوالے سے متعدد اہم مسائل زیربحث آئے۔ ہمارے مابین براہ راست، کھلی اور نہایت مفید بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔

اپنی بات شروع کرنے سے پہلے میں اس ملاقات کے لیے فن لینڈ کے صدر نینسٹو کی فیاضانہ میزبانی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ صدر پوٹن اور میں کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ کس قدر عمدہ میزبان ثابت ہوئے ہیں۔

میں اس قدر شاندار انداز میں عالمی کپ کے انعقاد پر بھی روس اور صدر پوٹن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ واقعتاً ایک بہترین مقابلہ تھا اور آپ کی ٹیم بھی بہت اچھا کھیلی۔ آپ نے زبردست کام کیا۔

آج میں یہاں دلیرانہ امریکی سفارت کاری کی پرفخر روایت آگے بڑھانے کے لیے موجود ہوں۔ ہماری جمہوریہ کے ابتدائی دنوں سے ہی امریکی رہنماؤں نے یہ جان لیا تھا کہ جنگ اور دشمنی پر سفارت کاری اور رابطے کو ترجیح دینی چاہیے۔ مفید بات چیت ناصرف امریکہ اور روس کے لیے بہتر ہے بلکہ اس سے پوری دنیا کو فائدہ ہو گا۔

ہمارے دونوں ملکوں کے مابین اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور صدر پوٹن اور میں نے آج ان پر تفصیل سے بات چیت کی۔ تاہم اگر ہم نے اپنی دنیا کو درپیش بہت سے مسائل حل کرنا ہیں تو پھر مشترکہ مفادات کے سلسلے میں باہم تعاون کی راہیں نکالنا ہوں گی۔

ماضی قریب اور بعید میں ہم نے دیکھا ہے کہ سفارت کاری ترک کرنے سے کیا نقصان ہوتا ہے۔ ہم نے تعاون کے فوائد بھی دیکھے ہیں۔ گزشتہ صدی میں دونوں  ممالک نے دوسری جنگ عظیم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑی۔ حتیٰ کہ سرد جنگ کے تناؤ میں بھی جب دنیا آج سے بہت مختلف دکھائی دیتی تھی تو امریکہ اور روس باہم موثر بات چیت کے قابل تھے۔

ہمارے باہمی تعلقات کبھی اتنے خراب نہیں رہے جتنے یہ آج ہیں۔ تاہم چار گھنٹے پہلے ان میں تبدیلی آ چکی ہے۔ مجھے اس کا یقین ہے۔ ملاقات سے انکار کرنا سیاسی طور پر بہت آسان ہوتا، تاہم اس سے کچھ حاصل نہیں ہونا تھا۔ صدر کی حیثیت سے میں جانبدار نقادوں، میڈیا یا محض مخالفت کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے والے ڈیموکریٹس کو خوش کرنے کی ناکام کوشش میں خارجہ پالیسی پر فیصلے نہیں لے سکتا۔

امریکہ اور روس میں تعمیری بات چیت سے ہماری دنیا کے لیے امن اور استحکام کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ میں سیاسی مقاصد کے لیے امن کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے امن کی خاطر سیاسی خطرہ مول لینے کو ترجیح دوں گا۔ صدر کی حیثیت سے میں امریکہ اور امریکی عوام کا بہترین مفاد مقدم رکھوں گا۔

میں نے آج کی ملاقات میں صدر پوٹن سے ہمارے انتخابات میں روسی مداخلت پر براہ راست بات کی۔ میرے خیال میں میں یہ پیغام ذاتی حیثیت میں دینا ہی بہتر تھا۔ ہم نے کچھ دیر اس پر بات چیت کی اور شاید صدر پوٹن بھی اس معاملے کو دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اسے اہمیت دیتے ہیں اور ان کے پاس اس کا ایک دلچسپ حل موجود ہے۔

ہم نے انسانیت کو درپیش ایک انتہائی اہم مسئلے یعنی ‘جوہری پھیلاؤ’ پر بات چیت بھی کی۔ میں نے انہیں گزشتہ ماہ چیئرمین کم کے ساتھ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق اپنی ملاقات کی بابت آگاہ کیا۔ آج کے بعد مجھے  یقین  ہے کہ صدر پوٹن اور روس اس مسئلے کے حل میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔ وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گے اور میں ان کے اس عزم کو سراہتا ہوں۔

صدر اور میں نے بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی پر بھی بات کی۔ روس اور امریکہ دونوں دہشت گردی کے ہولناک حملے سہہ چکے ہیں اور ہمارے مابین  اپنے شہریوں کو اس عالمگیر آفت سے تحفظ دینے کے لیے دونوں ممالک کے سکیورٹی اداروں کے مابین کھلے روابط قائم  کرنے پر اتفاق پایا گیا۔

گزشتہ برس ہم نے روس کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک حملے کی بابت پیشگی بتایا تھا اور وہ اس کا سدباب کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ انہوں نے دہشت گردوں کو تلاش کر کے ان کی کارروائی ناکام بنا دی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ اس کے بعد صدر پوٹن نے مجھے فون کر کے شکریہ ادا کیا جس کی میں قدر کرتا ہوں۔

میں نے حالیہ ملاقات میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ وہ اپنے جوہری ارادوں سے باز آ جائے اور مشرق وسطیٰ میں پرتشدد سرگرمیاں روک دے۔

ہم نے شام کے پیچیدہ بحران پر تفصیلی بات چیت بھی کی۔ ہمارے دونوں ممالک کے مابین تعاون سے کروڑوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ میں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ ایران کو داعش کے خلاف ہماری کامیاب مہم سے فائدہ اٹھانے نہیں دے گا۔ ہم نے حال ہی میں اس علاقے سے داعش کا خاتمہ کیا ہے۔

ہمارے مابین اس امر پر بھی اتفاق پایا گیا کہ ہماری قومی سلامتی کونسلوں کے نمائندے ان تمام امور کو آگے بڑھانے کے لیے ملاقات کریں گے جن پر ہم نے آج بات کی ہے اور یہاں ہیلسنکی میں ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

آج کی ملاقات ایک طویل عمل کا محض آغاز ہے۔ مگر ہم نے موثر بات چیت اور بہت سی سوچ بچار کے ساتھ روشن مستقبل کی جانب ابتدائی قدم بڑھا دیے ہیں۔ ہماری توقعات حقیقت پر مبنی ہیں مگر ہماری امیدوں کی بنیاد امریکہ کی جانب سے دوستی، تعاون اور امن کی خواہش پر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ روس کی بھی یہی سوچ ہے۔

صدر پوٹن، اس اہم بات چیت کے لیے ملاقات اور امریکہ و روس کے مابین کھلی بات چیت آگے بڑھانے پر میں ایک مرتبہ پھر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہماری یہ ملاقات سبھی کی بہتری کے لیے روس اور امریکہ میں سفارت کاری کی طویل روایت کا تسلسل ہے۔

یہ نہایت تعمیری دن تھا۔ یہ چند گھنٹے نہایت تعمیری نوعیت کے تھے جو ہم نے ایک ساتھ گزارے۔ بات چیت جاری رکھنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور ہم اس پر متفق ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں ہماری دوبارہ ملاقات ہو گی اور امید ہے کہ ہم نے آج جن مسائل کا تذکرہ کیا وہ تمام حل ہو جائیں گے۔

صدر پوٹن، آپ کا ایک مرتبہ پھر بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں