rss

ارکان کانگریس کے ساتھ ملاقات میں صدر ٹرمپ کی بات چیت

Français Français, English English, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
17 جولائی 2018

 

روزویلٹ روم
2:22 سہ پہر

صدر ٹرمپ: آپ سب کا شکریہ۔ گزشتہ روز میں یورپ کے دورے سے واپس آیا ہوں جہاں میں نے امریکی مستقبل کو مزید پرامن بنانے کے لیے خطے بھر کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کڑی محنت کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں مصروف عمل ہیں۔ ہم امن کے لیے کام کریں گے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ میں طاقت کے ذریعے امن کے حصول کی بات کرتا ہوں۔

میں نے اپنے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے دفاعی بجٹ میں 44 ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ ممکن بنا کر اتحاد کی بڑی مدد کی ہے۔ سیکرٹری سٹولٹنبرگ نے بہت شاندار باتیں کیں۔ جیسا کہ آپ آگاہ ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ اپنی تاریخ میں انہوں نے اس بجٹ میں کبھی اتنا اضافہ نہیں دیکھا اور اس سے پہلے نیٹو ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار تھا۔ میں نے گزشتہ برس ملاقات میں یہ بجٹ 44 ارب ڈالر تک بڑھایا۔ یہ سال ختم ہو جائے گا ۔۔۔ آنے والے برسوں میں یہ سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ نیٹو میں زبردست اتحاد پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں بہت سی مثبت چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ نیٹو میں زبردست جذبہ پایا جاتا ہے جو ہم نے پہلے نہیں دیکھا اور وہ بہت سی رقم خرچ کر رہے ہیں۔ وہ اپنے واجبات بروقت ادا نہیں کر رہے تھے اور اب وہ کر رہے ہیں۔ میں سیکرٹری سٹولٹنبرگ کا بے حد شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ نہایت عمدہ شخصیت ہیں اور اسی لیے ہمیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔

میں نے وزیراعظم مے سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں برطانیہ اور امریکہ کے مابین خصوصی تعلقات کے حوالے سے متعدد امور زیربحث آئے۔ ہم ملکہ سے ملے جو بلاشبہ ایک شاندار شخصیت ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے 70 برس میں پہلی مرتبہ آنر گارڈ کا معائنہ کیا۔ ان لوگوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ ہم آنر گارڈ کے سامنے گزرے اور ان کے ساتھ

موجودگی بے حد متاثرکن تھی۔ میں حقیقتاً کہہ سکتا ہوں کہ دونوں ممالک میں تعلقات بہت اچھے ہیں۔ تاہم ملکہ سے ملنا بے حد متاثر کن تجربہ تھا۔

حالیہ دنوں میں فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی سے واپس آیا ہوں اور وہاں حاصل ہونے والی بے مثل کامیابی پر آئندہ چند روز میں پریس کانفرنس کروں گا۔ یہ ہمارا کامیاب ترین دورہ تھا اور آپ جانتے ہیں کہ روس کے ساتھ بات چیت بھی بہت اچھی رہی۔

میں نے روسی صدر ولاڈیمیر پوٹن سے ملاقات کی جس کا مقصد انسانیت کو درپیش چند انتہائی اہم مسائل کے حل کی کوشش کرنا ہے۔ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی اس قدر خراب نہیں رہے جتنے چند روز پہلے تک تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ بہت اچھے ہو گئے ہیں۔ میرے خیال میں ان تعلقات میں مزید بہتری کا امکان موجود ہے۔ میں اپنی صدارتی مہم میں بھی یہی بات کیا کرتا تھا۔ روس کے ساتھ چلنا اچھی بات ہو گی۔ چین کے ساتھ چلنا اچھا ہو گا۔ اس میں کوئی بری بات نہیں، یہ اچھی بات ہے اور درحقیقت اسے بہت ہی اچھی بات کہنا بے جا نہ ہو گا۔

ہم جوہری طاقتیں ہیں ۔۔۔ بہت بڑی جوہری طاقتیں۔ دنیا کے 90 فیصد جوہری ہتھیار روس اور ہمارے پاس ہیں۔ چنانچہ میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے ساتھ چلنا مثبت بات ہے اور اس کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔

میں نے اس کڑے عزم کے ساتھ یہ ملاقات کی کہ سفارت کاری اور روابط دشمنی اور جنگ سے بہتر ہیں۔ میں ہر ایک کے حوالے سے یہی محسوس کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر نیٹو میں ہمارے ارکان کی تعداد 29 ہے اور ان میں ہر ایک کے ساتھ میرے بہت زبردست یا کم از کم اچھے تعلقات ضرور ہیں۔

میڈیا نے اسے نہایت غلط طور سے دکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کی توہین کی ہے۔ ٹھیک ہے، اگر لوگوں سے ان کے ذمے واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے کہنا توہین ہے تو شاید میں نے ایسا ہی کیا ہے۔ مگر میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ جب میں وہاں سے واپس ہوا تو سبھی پرجوش تھے۔

صدر پوٹن کے ساتھ میری ملاقات کئی انداز میں دلچسپ رہی کیونکہ طویل عرصہ سے روس کے ساتھ ہمارے تعلقات نہیں تھے اور ہم نے اس کا آغاز ہی کیا تھا۔ میں ایک مرتبہ پھر یہاں سے شروع کرنا چاہوں گا کہ میرا اپنے انٹیلی جنس اداروں پر پورا اعتماد ہے۔

ارے توبہ، انہوں نے لائٹ بند کر دی۔ یہ انٹیلی جنس کے ایجنٹوں کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ (قہقہہ) حضرات، کیا آپ ٹھیک ہیں؟ اچھا (قہقہہ) حیران کن بات ہے، مگر ٹھیک ہے۔

چنانچہ میں یہاں سے آغاز کروں گا کہ میرا امریکہ کے زبردست انٹیلی جنس اداروں پر پورا بھروسہ ہے۔ مجھے ہمیشہ ان پر اعتماد رہا ہے۔ میں نے یہ بات شدت سے محسوس کی ہے کہ اگرچہ روسی اقدامات سے انتخابات کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا تاہم میں واضح طور پر کہنا چاہوں گا اور میں نے یہ بات کئی مرتبہ کہی ہے کہ میں اپنے انٹیلی جنس اداروں کی اس بات کو قبول کرتا ہوں کہ روس 2016 کے انتخابات میں دخل اندازی کر رہا تھا۔ اس میں دیگر لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ لوگ یہ دیکھ چکے ہیں۔ کانگریس نے بھی اس پر کڑا موقف پیش کیا۔ بہت سے لوگوں نے اس معاملے پر موثر طور سے بات کی۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں نے میڈیا میں آنے والی چیزوں کا جائزہ لے کر خود کو واضح کیا ہے، میں نے اس کاجائزہ لیا، میں نے ایک سوال پر اپنے جواب کے بارے میں کلپ کا جائزہ لیا تو مجھے احساس ہوا کہ یہاں وضاحت دینی چاہیے۔

میرے خیال میں یہ سیدھی سی بات ہونی چاہیے تاہم میں اس کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ میں نے اپنے بیان میں ‘نہیں ہو گا’ کی جگہ ‘ہو گا’ استعمال کیا تھا۔ یہ فقرہ اس طرح ہے۔ مجھے ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ روس کی جانب سے ایسا ہو گا۔ چنانچہ میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ میں نے ‘نہیں ہو گا’ کی جگہ ‘ہو گا’ استعمال کیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔

میں نے متعدد مواقع پر اپنے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کا تذکرہ کیا ہے جن میں روس کی جانب سے ہمارے انتخابات میں مداخلت بارے بتایا گیا ہے۔ گزشتہ امریکی حکومتوں سے برعکس میری حکومت امریکی انتخابات میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کو جارحانہ طور سے ناکام بنائے گی۔ ہم 2018 میں روسی مداخلت روکنے کے لیے ہرممکن کوششیں کر رہے ہیں۔

ہمارے پاس بہت سی طاقت ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں صدر اوبامہ کو 2016 میں انتخابات سے قبل معلومات دی گئی تھیں اور انہوں نے اس پر کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس فیصلے کی وجہ سیدھی سی ہے کہ ان کے خیال میں ہلیری کلنٹن انتخابات جیت رہی تھیں اور انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔

جب میں نے انتخاب جیت لیا تو انہوں نے سوچا کہ یہ تو بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔ پھر اچانک انہوں نے کارروائی کی مگر اب قدرے دیر ہو چکی تھی۔ صدر اوبامہ نے برینن، کلیپر اور پورے گروہ کے ساتھ، جسے اب آپ ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں اور غالباً انہیں آپ کے نیٹ ورکس سے بہت بڑی رقم دی جا رہی ہے، وہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں روس کی جانب سے دخل اندازی کی کوششوں سے آگاہ تھے اور انہوں نے اس کو پوری طرح نظرانداز کر دیا۔ جیسا کہ میں نے کہا، انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی کیونکہ ان کے خیال میں ہلیری کلنٹن جیت رہی تھیں ۔

اس سے برعکس میری حکومت نے اس پر چند کڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم اپنے انتخابی نظام اور طریقہ کار کو محفوظ بنانے کے لیے کڑے اقدامات اٹھائیں گے۔ مزید براں جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے اور ہم بہت سے مواقع پر کہہ چکے ہیں اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔

گزشتہ روز ہم نے زمین پر چند بدترین تنازعات کے حل کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی۔ چنانچہ جب میں نے صدر پوٹن سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کی تو اس دوران متعدد امور زیربحث آئے۔ ان میں مشرق وسطیٰ کے مسائل بھی شامل تھے جن میں ان کا بڑا کردار ہے اور ہمارا بھی بڑا کردار ہے۔ میں نے طاقتور حیثیت سے صدر پوٹن کے ساتھ بات چیت کی۔ ہماری معیشت فروغ پا رہی ہے اور ہم نے اس برس اپنی فوج کو 700 ارب ڈالر دیے ہیں جبکہ آئندہ برس 716 ارب ڈالر دیے جا رہے ہیں۔

اس سے ہماری فوج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو جائے گی۔ صدر پوٹن اور میں نے متعدد امور پر بات چیت کی۔ اس دوران ہم نے شام میں خانہ جنگی، انسانی امداد کی ضرورت اور شامی لوگوں کی مدد کے موضوع سے آغاز کیا۔

ہم نے ایران اور اس کے جوہری عزائم روکنے نیز وہاں جاری تخریبی سرگرمیوں پر بھی بات چیت کی۔ جیسا کہ آپ میں بیشتر لوگ جانتے ہیں ہم نے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے جو ایسا بدترین معاہدہ تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے اس اقدام کا ایران پر بہت بڑا اثر ہوا ہے اور اس نے ایران کو بے حد کمزور کر دیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ کسی موقع پر ایران ہماری جانب رجوع کرے گا اور شاید ہم ایک نیا معاہدہ کریں اور ہو سکتا ہے نہ کریں۔

تاہم میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اب ایران ویسا ملک نہیں ہے جیسا پانچ ماہ پہلے تھا۔ اب وہ بحیرہ روم اور پورے مشرق وسطیٰ کی جانب پہلے کی طرح نہیں دیکھ رہے۔ اب انہیں بعض بڑے مسائل درپیش ہیں جنہیں وہ غالباً ہمارے ساتھ معاملے طے کر کے ہی حل کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ تو ہم نے ایران پر بھی بات کی۔

ہم نے اسرائیل اور اسرائیل کی سلامتی پر بات کی۔ صدر پوٹن شام کے گردونواح سے متعلق معاملات پر بی بی نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت میں ہمارے ساتھ بھرپور طور سے شامل ہیں اور خاص طور پر اسرائیل کے طویل مدتی تحفظ کے معاملے پر ہونے والی بات چیت میں وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔

شمالی کوریا اور اس کے جوہری اسلحے کے خاتمے کی ضرورت بھی بات چیت کا اہم موضوع تھا۔ روس نے اس معاملے پر ہمیں اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ صدر پوٹن نے کہا کہ وہ مجھ سے 100 فیصد متفق ہیں اور وہ یہ سب کچھ ممکن بنانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں گے۔

بات چیت جاری ہے اور بہت اچھی طرح جاری ہے۔ ہمیں جلدی کی کوئی ضرورت نہیں۔ پابندیاں برقرار ہیں۔ یرغمالی واپس آ رہے ہیں۔ کوئی میزائل اور جوہری تجربات نہیں ہو رہے۔ نو ماہ کے عرصہ میں کوئی راکٹ نہیں داغا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہت اچھے جا رہے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھیں گے کہ یہ سب کچھ کیسے کرنا ہے۔

ہم نے اہداف کی تکمیل کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں کیا۔ ہم نے اپنی کوئی رفتار بھی مقرر نہیں کی۔ ہم کام کر رہے ہیں۔ تاہم ہمارے باہمی تعلقات بہت اچھے ہیں۔ صدر پوٹن اس انداز میں ساتھ شامل ہیں کہ وہ ہمارے اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا دیکھنا چاہیں گے۔
پریس کانفرنس سے قبل شاید ہم نے جس سب سے اہم موضوع پر بات کی وہ دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں میں تخفیف تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا دنیا میں 90 فیصد جوہری اسلحہ امریکہ اور روس کے پاس ہے۔ تاہم میرے خیال میں جوہری ہتھیار آج دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔

وہ بہت بڑی جوہری طاقت ہیں۔ ہم بہت بڑی جوہری طاقت ہیں۔ ہمیں جوہری اسلحے کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ اسی لیے ہم نے اس موضوع پر تفصیلی بات چیت کی اور صدر پوٹن نے مجھ سے اتفاق کیا۔

ہم نے جن امور پر بات کی وہ بے حد اہمیت کے حامل ہیں اور ان سے کروڑوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ میں دونوں ممالک کے مابین بہت سے اختلافات سے آگاہ ہوں مگر میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ روس یا دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت اہم ہے۔ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات طویل عرصہ سے خراب چلے آ رہے تھے اور ایسے میں بات چیت بہت اہمیت کی حامل ہے۔

چنانچہ اگر ہم ان کے ساتھ چلتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہو گی۔ اگر ہم ان کے ساتھ نہیں چلتے تو نہیں چلیں گے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس بعض نہایت مثبت اقدامات کا بہت اچھا موقع ہے۔

میرے خیال میں صدر پوٹن کے ساتھ میری ملاقات بہت زبردست رہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ ان اقدامات پر عمل کے لیے رضامند ہیں، میں کھل کر کہوں تو پہلے مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ آیا وہ رضامند ہوں گے یا نہیں۔ مستقبل میں بھی ہمارے مابین ملاقاتیں ہوں گی اور ہم دیکھیں گے کہ آیا یہ ثمرآور ہوتی ہیں یا نہیں۔ تاہم ہمارے مابین بہت اچھی ملاقات ہوئی۔

چنانچہ میں واضح کرنا چاہتا تھا کہ میرے دل میں ہمارے انٹیلی جنس اداروں کا بے حد احترام ہے۔ یہ بہت زبردست لوگ ہیں خواہ یہ جینا ہو یا ڈین کوٹس یا کوئی اور۔ میرا مطلب ہے کہ ہمارے پاس بہت شاندار لوگ ہیں، ہمارے اداروں میں بے حد صلاحیت پائی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں مناسب رہنمائی مل رہی ہے۔ ہم سب ایک ہی چیز یعنی اپنے ملک کے لیے کامیابی کے خواہش مند ہیں۔

چنانچہ اس کے ساتھ ہی ہم محصولات میں تخفیف کے حوالے سے اجلاس شروع کریں گے۔ ہم ایک بل پیش کریں گے۔ کیون بریڈی ہمارے ساتھ موجود ہیں اور میں کیون سے کہوں گا کہ وہ اس بارے میں مختصراً بات کریں، اس کے بعد ہم نجی اجلاس کی جانب واپس جائیں گے۔ مگر کیون، کیا آپ مختصراً بتا سکتے ہیں کہ ہم کس بارے میں بات کر رہے تھے؟

نمائندہ بریڈی: جی ہاں، جناب صدر، طریقہ ہائے کار اور ذرائع سے متعلق کمیٹی کے ارکان کو یہاں بلانے پر آپ کا شکریہ۔ آپ جانتے ہیں کہ طاقت کے ذریعے امن ہماری خارجہ پالیسی ہے۔ یہ پالیسی اس وقت بہترین طور سے کام کرتی ہے جب امریکہ کی معیشت اور فوج مضبوط ہو۔ آپ کی قیادت میں کانگریس اور سینیٹ میں ریپبلکن ارکان ان دونوں شعبہ جات میں اچھے نتائج دے رہے ہیں۔

آج ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ ہم امریکی معیشت کو مزید مضبوط کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں متوسط خاندانوں اور چھوٹے کاروباروں سے آغاز کرنا اس سمت میں بہترین قدم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ آج ہم آپ سے ٹیکس میں چھوٹ کی بابت بات کریں گے تاکہ یہ لوگ ترقی کا سفر جاری رکھ سکیں، تاکہ ہم 15 لاکھ نئی نوکریں پیدا کر سکیں اور ایسے اقدامات ممکن بنائے جا سکیں کہ آپ اور رییپبلکن کانگریس نے انہیں ان کی کڑی محنت کے عوض جو رقم دلائی ہے وہ دوبارہ نہ چھینی جا سکے۔ چنانچہ ہمیں یہاں بلانے پر آپ کا بے حد شکریہ۔

صدر: کیون، آپ کے خیال میں اسے جمع کرانے کا وقت کیا ہو گا؟

نمائندہ بریڈی: ہمارا اندازہ ہے کہ کانگریس اس پر ستمبر میں رائے دے گی اور اسی کے مطابق سینیٹ کے اوقات کار کا تعین ہو گا ۔

صدر: ٹھیک ہے، زبردست، آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔

سوال: کیا آپ نے صدر پوٹن کے ساتھ پابندیوں میں تخفیف کے معاملے پر بھی بات کی؟ کیا آپ نے پابندیاں واپس لینے پر بھی بات کی؟

صدر: ہم پابندیاں نہیں اٹھا رہے، کیا؟

سوال: روس پر پابندیاں برقرار رہیں گی، کیا آپ کا یہی مطلب ہے؟

صدر: جی، سب کچھ برقرار ہے۔ ہم پابندیاں نہیں اٹھا رہے۔

سوال: جناب کیا آپ روس پر پابندیوں میں اضافہ کریں گے؟

صدر: پابندیاں نہیں اٹھائی جا رہیں۔ نہیں۔

اختتام

2:28 سہ پہر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں