rss

انسداد دہشت گردی کے لیے مقامی حکومتوں کی کوششوں میں اضافہ

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
امریکی دفتر خارجہ کا سرکاری بلاگ
انسداد دہشت گردی کے لیے مقامی حکومتوں کی کوششوں میں اضافہ
مائیکل ڈفن

 
 

ممباسا کاؤنٹی کے گورنر حسن جوہو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ‘مضبوط شہری نیٹ ورک کی عالمگیر کانفرنس’ سے خطاب کر رہے ہیں۔

عالمگیر سطح پر انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون کے لیے دفتر خارجہ کے شریک کار ادارے ‘دی انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ’ نے حال ہی میں 10 تا 12 جولائی آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ‘مضبوط شہری نیٹ ورک کی عالمگیر کانفرنس’ کا اہتمام کیا۔ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام (سی وی ای) سماج کے تمام حصوں کی شمولیت پر مبنی طریق کار کا تقاضا کرتی ہے جو مقامی سطح پر ایسے عوامل سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے جن کے ذریعے دہشت گرد لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔ اگرچہ ان کوششوں کے لیے سماجی فریقین کو متحرک کرنے کے لیے مقامی رہنما بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم ان میں سے چند ایک کو ہی عالمی سطح پر جانے مانے بہترین طریقہ ہائے کار کی تربیت حاصل ہے یا اپنے تجربات کے تبادلے کا کوئی پلیٹ فارم میسر ہے۔ مضبوط شہری نیٹ ورک کے قیام کے پیچھے یہی محرک تھا۔ تین سال قبل دفتر خارجہ نے غیرسرکاری ادارے ‘انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ’ کی شراکت سے اس کے آغاز میں معاونت کی۔ مضبوط شہری نیٹ ورک چھ براعظموں میں 120 ذیلی قومی حکومتوں کو پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے بہتر طریقہ ہائے کار اختیار کرنے اور ان کے تبادلے نیز انسداد دہشت گردی کے تناظر میں آسان اہداف کے تحفظ کے لیے فورم مہیا کرتا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں منعقدہ ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کی تیسری عالمی کانفرنس کے موقع پر مقامی رہنما اپنے علاقوں میں پرتشدد انتہاپسندی کے انسداد کی کوششوں پر بات کر رہے ہیں۔

‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کے ارکان نے میلبورن میں اپنے انتہائی دلچسپ کام کا خاکہ پیش کیا:

کینیا میں ممباسا کاؤنٹی کی حکومت نے حالیہ برسوں میں دہشت گردی کا بری طرح نشانہ بننے والے شہر میں مقامی سطح پر صلاحیت بہتر بنانے اور رابطہ کاری میں اضافے کے لیے ‘سی وی ای’ ڈائریکٹوریٹ قائم کر کے اس میں عملے کا تقرر کیا ہے۔ ممباسا کاؤنٹی نے ‘سی وی ای ایکشن پلان’ تیار کیا ہے جو ‘سی وی ای’ کے عمومی مقاصد کو فوقیت دیتا اور ملک بھر میں ایک نمونے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس میں پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں خواتین، نوجوانوں، کاروباری طبقے اور میڈیا کے کردار کو وسعت دینا بھی شامل ہے۔ مضبوط شہری نیٹ ورک کے تعاون سے 2018 کے اوائل میں ناروے کے شہر کرسٹین اینڈ کے دورے میں ممباسا نے کمیونٹی کی سطح پر روک تھام کے حوالے سے بعض اچھے طریقہ ہائے کار بھی اختیار کیے۔

میسیڈونیا کے دارالحکومت سکوپئے میں کیر میونسپلٹی ‘ویمن ودآؤٹ بارڈرز’ کے اشتراک سے ماؤں کو دہشت گردوں کی جانب سے بھرتیوں اور بنیاد پرستی کی علامت سے روشناس کرا رہی ہے۔ کیر میں ایسے نوجوانوں کی تربیت پر کام ہو رہا ہے جو انتہاپسندی کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔

اردن اور لبنان میں ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کے ارکان اردن کی الکرک، اربد اور زرقہ جبکہ لبنان کی مجدالانجار، سیدہ اور طرابلس میونسپلٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے چھ مقامی نیٹ ورک قائم کر رہے ہیں۔ ان میں ہر نیٹ ورک اساتذہ، نوجوان کارکنوں، مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں کے نمائندوں، این جی اوز کے نمائندوں اور سماجی نفسیاتی معاونت فراہم کرنے والوں سمیت درجن بھر مقامی فریقین کو اکٹھا کرے گا۔

کینیڈا میں مانٹریال اور کیوبک کی حکومتوں نے 2015 میں ‘تشدد پر منتج ہونے والی بنیادی پرستی کی روک تھام کا مرکز’ قائم کیا تھا۔ یہ مرکز ایک خودمختار غیرمنافع بخش ادارہ ہے اور جس کا مقصد بنیاد پرست یا بنیاد پرستی کا نشانہ بنتے افراد پر کام کر کے تشدد کی روک تھام کرنا ہے۔ یہ مرکز نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام کے لیے بھی کام کرتا ہے اور متاثرین کو مشاورت فراہم کرتا ہے۔ اس نے ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کے رکن شہر بورڈاؤ کو ‘کیپری پروگرام’ (مرکز برائے انسداد بنیاد پرستی) کے قیام میں مدد دی ہے جو انتہاپسندی کی روک تھام اور انتہاپسندانہ اقدامات میں مداخلت کے حوالے سے کثیر رخی طریقہ کار اختیار کرتا ہے۔

پاکستان میں ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ نے گزشتہ ستمبر میں ایک غیرسرکاری تنظیم ‘انڈیویجوئل لینڈ’ کے اشتراک سے نوشہرہ، پشاور اور کوئٹہ کے میئر حضرات اور ضلعی حکام کو پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے اساتذہ، طبی عملے اور نفاذ قانون سے متعلق اہلکاروں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کی تربیت دی۔ اس سے بنیادی پرستی کی پہچان اور اس کا آسان شکار بننے والے نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے مزید تربیت کی راہ ہموار ہوئی۔

بیلجیم کے شہر ولورڈ سے دوسرے ممالک کو غیرملکی دہشت گردوں کی روانگی کی شرح کبھی یورپ بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ تب ولورڈ نے اپنا ‘دوسری لہر کا منصوبہ’ شروع کیا جو سماجی شمولیت کا پروگرام ہے جس میں نفاذ قانون پر متعین عملے اور انتہاپسندی کا ممکنہ نشانے بننے والے نوجوانوں کا باہم رابطہ کرایا جاتا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت ولورڈ سے عراق اور شام جانے والوںکی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ کسی حد تک یہ پروگرام امریکی دفتر خارجہ کے تعاون سے اوہائیو کے شہر کولمبس کے ساتھ دوطرفہ تبادلے کے پروگرام سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا جس میں ولورڈ کے میئر، پولیس چیف اور سول سوسائٹی کے رہنما بھی شامل تھے۔

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر نے ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کے ساتھ شمولیت کے نتیجے میں ‘سی وی ای’ کے حوالے سے اپنے اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر انسداد دہشت گردی سکواڈ نے دہشت گردوں کی بھرتی اور بنیاد پرستی کی روک تھام کے لیے ویڈیوز کی سیریز تیار کی ہے۔ یہ ویڈیوز پورے علاقے کے سینما گھروں میں دکھائی جاتی ہیں جبکہ ریاست میں انتہاپسندی کی روک تھام کے پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ ممبئی میں بین المذاہب مکالمے کی بدولت ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں بہت سے عقائد کے پیروکاروں کے مابین خلیج پاٹنے میں مدد ملی ہے۔ فروری میں ان عقائد کے بہت سے رہنماؤں نے اینہیم کے میئر ٹام ٹیٹ اور لوزویل کے میئر گریگ فشر کا خیرمقدم کیا۔ اس سال کے آغاز میں کولکتہ میں ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ نے مقامی پالیسی سازوں اور بنگلہ دیش، انڈیا، مالدیپ اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والوں کے لیے علاقائی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

کولمبیا کے شہر میڈیلین میں ‘مضبوط میڈیلین’ نامی تین سالہ جامع ترقیاتی منصوبے کے ذریعے شہر کے 17 لاکھ باسیوں میں نامساعد حالت میں خود کو قائم رکھنے کے جذبے کو فروغ دیا جاتا ہے۔ میڈیلین ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کے مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کے بارے میں ورکنگ گروپ کا متحرک رکن ہے۔ اس کردار میں میڈیلین کے پیشہ وروں نے کئی عشروں تک قومی سطح پر جاری رہنے والی مسلح لڑائی کے نتیجے میں شہری و دیہی علاقوں میں بے گھری کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کیے نیز منظم جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے تشدد کے خطرات پر روشنی ڈالی۔

امریکی شہر سان ڈیگو نے محکمہ داخلی سلامتی سے ملنے والی امداد سے کام لینے کے لیے یونیورسٹی آف سان ڈیگو کے اشتراک سے عمل کیا تاکہ ایسی غیرسرکاری تنظیموں کی اہلیت میں اضافہ کیا جائے جو نوجوانوں کو دہشت گردوں کی بھرتی اور انتہاپسندی کا نشانہ بننے سے بچاتی ہیں۔ میئر کیون فاکنر کے دفتر نے گزشتہ نومبر میں مقامی لوگوں اور امریکہ آنے والے ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کے ‘انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام’ کے مندوبین کےلیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ مضبوط شہری نیٹ ورک کو دیگر امریکی ارکان کےساتھ بھی متحرک طور سے کام کا موقع ملا۔ میئر برک نے ‘میئرز کی سرمائی کانفرنس’ کے موقع پر کینیڈا، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، برطانیہ اور امریکہ کے میئروں اور شہری رہنماؤں کے لیے ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ کی ورکشاپ کی صدارت بھی کی۔

تین سال سے کم عرصے میں ‘مضبوط شہری نیٹ ورک’ نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے بہتر طریقہ ہائے کار اختیار کرنے کی غرض سے دنیا بھر میں ہزاروں مقامی فریقین کو متحرک کیا اور تربیت دی ہے۔ ورکشاپوں کے ذریعے مقامی تناظر میں بہترین مہارتیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ عالمگیر کانفرنسوں، تبادلوں اور آن لائن مرکز کے ذریعے مقامی سطح پر پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے پالیسی سازوں اور پیشہ وروں کو جمع کیا ہے۔ مضبوط شہری نیٹ ورک کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس لنک پر جائیں: http://strongcitiesnetwork.org/

مصنف کے بارے میں: مائیکل ڈفن امریکی دفتر خارجہ میں’ انسداد دہشت گردی کے بیورو میں قائم پرُتشدد دہشت گردی کی روک تھام کے دفتر’ میں پالیسی مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں ۔

ایڈیٹر کا نوٹ: یہ مضمون ‘امریکی دفتر خارجہ کی اشاعت’ میں بھی شامل ہو چکا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں