rss

ممنوعہ علاقے کی جانب سفر

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر خارجہ کا سرکاری بلاگ
ممنوعی علاقے کی جانب سفر
مارک گرین

 
 

‘ممنوعہ علاقے کا منظر’ جہاں ہزاروں لوگ برما کی سرحدی باڑ اور بنگلہ دیش کے درمیان بے یارومددگار رہ رہے ہیں۔ (اینا سلیٹری، یوایس ایڈ)

امریکہ اور بنگلہ دیش میں شراکت، تعاون اور دوستی کی طویل تاریخ ہے۔ خاص طور پر یوایس ایڈ کی بنگلہ دیش میں جڑیں خاصی گہری ہیں۔ گزشتہ ماہ جب میں ڈھاکہ میں تھا تو بہت سے بنگلہ دیشیوں نے مجھے بتایا کہ انہیں 1971 میں آزادی کے بعد وہ دن یاد ہیں جب انہوں نے یوایس ایڈ سے خوراک وصول کی تھی جس پر اس کا نشان بھی بنا ہوا تھا۔

اس کے بعد حالات تبدیل ہو گئے ۔ اس دوران بنگلہ دیش نے غیرمعمولی ترقی کی اور وہ 2021 تک متوسط آمدنی والا ملک بننے کے لیے پرعزم ہے۔ ترقی کے سفر میں امریکہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم عالمگیر صحت و تحفظ خوراک نیز معاشی ترقی اور جمہوری حکمرانی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

یقیناً ہم ایک جاری المیے سے نمٹنے کے لیے بھی ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں جس کا میں نے مئی میں بنگلہ دیش کے دورے میں براہ راست مشاہدہ کیاتھا ۔ 25 اگست 2017 سے اب تک 7 لاکھ سے زیادہ لوگ برما میں نسلی تشدد سے جان بچا کر پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش آ چکے ہیں۔ وسیع پیمانے پر یہ ہجرت اب دنیا میں سب سے بڑے انسانی بحران کا روپ اختیار کر چکی ہے۔

سرحد پر موجود روہنگیا بچے (اینا سلیٹری، یوایس ایڈ)

اس بحران سے متاثرہ تمام لوگوں کے لیے ہماری مدد ہی حقیقی شراکت ہے۔ بنگلہ دیش نے مشکلات میں گھرے ان لوگوں کا فیاضی سے خیرمقدم کیا جس پر دنیا اس کی مقروض ہے۔ یقیناً اس کی قیمت بھی ادا کی گئی، خاص طور پر کاکس بازار کے قریب رہنے والے بنگلہ دیش کے مقامی لوگوں پر یہ بار پڑا جہاں اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ قائم ہے۔

ہم سب سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا طویل مدتی حل فوری سامنے آنا چاہیے مگر فی الوقت ان لوگوں کی بقا کا دارومدار عالمی برادری کی مدد اور معاونت پر ہے۔

میرے حالیہ دورے کی ایک گہری یاد کوٹوپالونگ مہاجر کیمپ سے متعلق ہے۔ میری ٹیم اور میں نے ایک سرحدی مقام عبور کیا جہاں ہزاروں لوگ نوتعمیر شدہ برمی سرحدی باڑ سے پار ‘ممنوعہ علاقہ’ متصور ہونے والی جگہ پر بنے عارضی کیمپ میں رہائش پذیر ہیں، تاہم سرکاری طور پر یہ لوگ بنگلہ دیش میں نہیں ہیں۔

یوایس ایڈ کے منتظم مارک گرین (بائیں سے تیسرے) نے سرحد پر بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں سے راخائن میں تشدد کے نتیجے میں تحفظ کے لیے بنگلہ دیش کا رخ کرنے والے لوگوں کی بابت معلومات حاصل کیں۔ اچھا ہوا کہ انہوں نے سرحد کھولی اور تحفظ کے متلاشی لوگوں کو بنگلہ دیش آنے کی اجازت دی (اینا سلیٹری، یوایس ایڈ)

ہم بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں (بی جی بی) سے ملے۔ یہ ایک متاثر کن ٹیم ہے جو مشکل کام سے نبردآزما ہے۔ میں نے مقامی کرنل سے تفصیلی بات چیت کی جو گزشتہ برس اگست میں مہاجرین کے برما سے اخراج سے چند ہی ہفتے پہلے اس پوسٹ پر آیا تھا۔

اس نے مجھے بتایا کہ اس دن بندوقوں کی آواز اور دھماکے سن کر اس کی آنکھ کھلی تھی۔ جب اس نے باہر دیکھا تو سینکڑوں لوگ بھاگے چلے آ رہے تھے۔ افسران بالا کی جانب سے ہدایات کی عدم موجودگی میں اس نے ہرممکن حد تک ان سے انسانی سلوک کیا۔ اس نے ان بے آسرا لوگوں کو بنگلہ دیشی حدود میں داخلے کی اجازت دے دی۔

اسے علم تھا کہ ایسا کرنے سے اس کی نوکری خطرے میں پڑ سکتی ہے مگر جب اس نے بارودی سرنگوں کے دھماکے سنے اور رات کے وقت نذرآتش کیے گئے دیہات سے دھواں اٹھتا دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کی ہمدردی بہت سے لوگوں کے لیے زندگی اور موت میں فرق ثابت ہو گی۔

امریکہ اس کرنل، سرحد پر انتھک طور سے کام کرنے والے بی جی بی کے افسروں اور بحران میں بڑھ چڑھ کر مدد دینے والے بہت سے نامعلوم بنگلہ دیشی ہیروز کو سراہتا ہے جن کی فیاضی اور فراخدلی کے باعث روزانہ بہت سی جانیں بچائی جا رہی ہیں۔

مصنف کے بارے میں: مارک گرین ‘یوایس ایڈ’ کے منتظم ہیں۔ انہیں @USAIDMarkGreen پر فالو کیجیے۔ ہماری ترقیاتی کوششیں عالمگیر سلامتی، خوشحالی اور خودانحصاری میں اضافہ کر کے امریکی مفادات کو فروغ دیتی ہیں۔

ایڈیٹر کا نوٹ: یہ مضمون قبل ازیں یوایس ایڈ کی اشاعت ‘2030: موجودہ عہد میں انتہائی غربت کا خاتمہ’ میں سامنے آ چکا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں