rss

‘انسانی حقوق کونسل سے امریکی دستبرداری: اثرات اور آئندہ اقدامات’

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی کا ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں خطاب
واشنگٹن ڈی سی
بہت شکریہ

 
 

بہت شکریہ کے۔ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کا بھی شکریہ۔مجھے یہاں واپس آکر خوشی ہوئی اور میں اس کام کے لیے آپ کی شکر گزار ہوں جو یہاں ہو رہا ہے۔

میں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی عمل پر زور دینے کے لیے اپنی آواز بلند کرتے اوراس مقصد کے لیے دوسروں کی مدد کرتے گزاری ہے۔ مجھے اوائل میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ میں خاموش بیٹھنے والی نہیں ہوں۔ اگر لوگوں کی زندگیاں بہتر کرنے کیلئے کچھ کہنے یا کرنے کی ضرورت ہے تو ہمیں اس کے لیے کھڑاہونا چاہیے۔ میں نے یہی کچھ کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری ہے۔

میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے اقوام متحدہ میں اپنی ایک پیش رو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی آوازکی طاقت کو استعمال کر رہی ہوں۔انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ آواز عمل ہے اور بہت اہم عمل ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنے ساتھی سفیروں سے کبھی محاذ آرائی نہیں کی لیکن جب کبھی امریکی اقدار اور مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو کبھی خاموش بھی نہ ہوئیں اور اپنی بات پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کئی مرتبہ وہ امریکہ کے لیے اپنے موقف میں بالکل تنہا بھی تھیں۔

اس ملازمت میں اٹھارہ ماہ گزارنے کے بعد میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ میں اب ان کا درد محسوس کرتی ہوں۔

اقوام متحدہ کو ایک نیک مقصد کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ انصاف، مساوی حقوق اور لوگوں کے حق خود ارادیت کی بنیاد پر امن اور سلامتی کو فروغ دیا جا سکے لیکن اس کے کئی رکن ممالک ایسے ہیں جن کے قائدین اس مقصد کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو بہت سے اچھے ممالک اقوام متحدہ کے ساتھ اتفاق کی امید پر غیر جانبدار موقف اپنا لیتے ہیں۔

اس طرح وہ مطلق العنان حکومت کو ایجنڈا کنٹرول کرنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ قرار دادیں کمزور بنا دی جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ معنی کھو بیٹھتی ہیں یا پھر غیر جمہوری رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔آمروں کے حق میں اخلاقی شفافیت دم توڑ جاتی ہے اور یہ سب اتفاق رائے کے نام پر کیا جاتا ہے۔

ایسی صورت حال میں یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری اقدار کے دفاع کیلئے ہماری آواز کی طاقت کو استعمال کرے۔یہ آج بھی اتنا ہی سچ ہے جتنا کہ سرد جنگ کے دنوں میں تھا بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ۔

ہم دنیا کے لیے ایک خاص پیغام کی حامل خاص قوم ہیں۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں جس کی بنیاد انسانی حرمت اور اس انقلابی فکر کی بنیاد پر رکھی گئی ہے کہ تمام انسان مساوی حقوق کے ساتھ تخلیق کیے گئے ہیں ۔ حقوق، جن میں زندگی، آزادی اور خوشی کا حصول شامل ہیں لیکن یہ حقوق یہیں تک محدود نہیں۔ اگر آپ اس سچ کو سنجیدگی سے لیں جیسا کہ سفیر کرکاپیٹرک نے کیا یا میں کر رہی ہوں تو ان میں کوئی ردو بدل نہیں ہو سکتا۔ آپ یہ حقوق انہیں خوش کرنے کے لیے فروخت نہیں کر سکتے جو ان سے انکار کرتے ہیں اور نہ ہی یہ کوئی سیاسی سودا ہے جو زیادہ قیمت کے لیے فروخت کر دیا جائے۔

اگر آپ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں تو پھراپنی آواز استعمال کرتے ہیں ۔ آپ اس کے لیے لڑتے ہیں چاہے آپ کو یہ لڑائی اکیلے لڑنا پڑے۔

اقوام متحدہ نے انسانی کمیشن حقوق تخلیق کیا ، صرف اس لیے کیونکہ ہم تمام مردوں اور عورتوں کی حرمت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد اس کی پہلی چیئرمین ایلینار روز ویلٹ کے لفظوں میں ’’ضمیر کی جگہ‘‘ تھا۔جب بھی انسانی حقوق کونسل نے یہ ذمہ داری ادا کی اس نے بے آوازوں کو آواز دی۔ اس نے سیاسی قیدیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو بین الاقوامی توجہ دلائی۔اس نے شام میں بشار الاسد کے جرائم اور شمالی کوریا کے کم کی آمریت کو آشکار کیا۔

اکثر اوقات ، انسانی حقوق کونسل نے انسانی حقوق پامال کرنے والی دنیا کی بیشترحکومتوں کی مذمت نہیں کی بلکہ ان کے افعال پر پردہ ہی ڈالا ہے۔یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کا آلہ کار رہی ہے ۔ انسانی حقوق کونسل ضمیر کی جگہ نہیں رہی بلکہ سیاست کی جگہ بن گئی۔اس نے اپنی توجہ ناجائز اور بے رحمانہ طور پر اسرائیل پر مرکوز کر لی۔ دریں اثنا اس نے وینزویلا، کیوبا، زمبابوے اور چین کی حکومتوں کی طرف سے لوگوں پر کیے جانے والے مظالم کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے عہد میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی حقوق کی کونسل اقوام متحدہ کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اس نے انسانی عظمت کے تصور کو لیا جو کہ ہمارے قومی عقیدے کا مرکزو محور اور ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور اسے عالمی سیاست کا ایک اور ہتھیار بنا ڈالا۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ میں اس نتیجے پر خوشی سے یاآسانی سے نہیں پہنچی۔

اوبامہ انتظامیہ نے 2009میں اصلاح شدہ انسانی حقوق کونسل کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے عہد کیا تھا کہ امریکہ کونسل کے اندر رہتے ہوئے اسے بہتر کرے گا۔ آٹھ سال بعد جب میں امریکی سفیر بنی تو یہ عیاں ہو چکا تھا کہ یہ حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کونسل کے بہت سے مسائل ہیں لیکن جب میں اقوام متحدہ میں آئی تو ان میں سے دو پر میرا دھیان ٹھہر گیا۔

ان میں پہلا کونسل کی رکنیت تھا۔ جب میں یہاں پہنچی اور اب تک ، اس کے ارکان میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک شامل ہیں۔ کیوبا، چین اور وینزویلا کی آمریتیں سب کی سب کونسل کی رکن ہیں۔ نہ صرف وینزویلا رکن تھا بلکہ 2015میں کونسل نے اس کے ڈکٹیٹرنکولس ماڈورو کو خصوصی اجلاس میں خطاب کے لیے مدعو بھی کیا۔ ان کا کھڑے ہو کر بھر پور طریقے سے استقبال کیا گیا جو اس حقیقت کے پیش نظر حیران کن نہیں تھا کہ کونسل کے 62فی صد ارکان جمہوری نہ تھے۔ امریکا کی کونسل کو بہتر بنانے میں ناکامی کی دوسری بڑی نشانی یہ تھی کہ کونسل بدنام ایجنڈا آئٹم نمبر سات کو برقرار رکھے ہوئے تھی۔

یہ انسانی حقو ق کونسل کے ایجنڈے کا مستقل حصہ ہے جو خاص طور پر اسرائیل سے متعلق ہے۔ کوئی اور ملک، نہ ایران، نہ شام، نہ ہی شمالی کوریااس طرح کسی ایک ایجنڈاآئٹم پر نہیں ہے۔ ایجنڈا آئٹم سات کسی ایسی چیز کے بارے میں نہیں جو اسرائیل کرتا ہے بلکہ یہ اسرائیل کے وجود کے بارے میں ہے۔ یہ انسانی حقوق کونسل کی سیاسی بدعنوانی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔

انہی وجوہ کی بنا پر امریکی کانگریس میں اس حوالے سے آوازیں بلندہوئیں اور ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھا کہ فوری طور پر انسانی حقوق کونسل سے دستبردار ہوا جائے۔ ہم آسانی سے ایسا کر سکتے تھے لیکن ہم نے پوری کوشش کی کہ ہم کسی طرح کونسل کے اس مسئلے کو حل کر سکیں۔

ہم نے ایک عوامی مہم شروع کی۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال جنرل اسمبلی کے سامنے اپنی تقریرمیں کونسل میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جبکہ پس پردہ ہم نے اس کے لیے ان تھک کام کیا۔ ہم نے اصلاحات کی تیاری میں پورا ایک سال صرف کیا اور 125سے زائد رکن ممالک سے ملاقاتیں کیں اوران میں اصلاحات کی قرار دادوں کے مسودے تقسیم کیے۔

جیسے جیسے سال گزرتا گیا ہمارا اصلاحات کا کیس مضبوط ہوتا چلا گیا۔ اکتوبر میں جمہوریہ کانگو کو کونسل کی نشست کیلیے منتخب کر لیا گیا۔ کانگو میں وہ مظالم ہو رہے ہیں جو دنیا بھر کے سخت دل امدادی کارکنوں کے لیے بھی خوفناک ہیں۔ انہیں کانگو میں اجتماعی قبریں ملیں جبکہ جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کونسل میں اس کی بولی کو قبول کر لیا۔

دسمبر میں اور رواں سال کے آغاز میں ایرانی عوام نے اپنی جابر حکومت کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کیا۔ حکومت نے انہیں پیٹا، گرفتار کیا اور بعض کو جان سے بھی مار دیا۔ انسانی حقوق کونسل خاموش رہی۔

پورا سال وینزویلا ظلم اور آمریت میں آگے سے آگے بڑھتا گیالیکن کونسل نے وینزویلا کے مسئلے پر خاموشی اختیار کیے رکھے اور اس کی وجہ یقیناًاب تک آپ جان چکے ہوں گے اور وہ یہ ہے کہ وینزویلا انسانی حقوق کی کونسل میں بیٹھا ہے۔

امریکہ بہت سے ممالک کو اس بات پر قائل نہیں کر سکا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اعلان کریں کہ انسانی حقوق کونسل اب اپنے نام سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ایسا کیوں ہوا یہ اہم بات ہے۔اس کی پہلی اور واضح ترین وجہ یہ ہے کہ مطلق العنان حکومتیں موجودہ صورت حال سے خوش ہیں۔

بہت سے ملک اس کونسل کی رکنیت اس لیے حاصل کرتے ہیں تاکہ اپنی اور اپنے اتحادیوں سے متعلق چھان بین کو روک سکیں۔ روس، چین، کیوبا اور مصر سب کے سب انسانی حقوق کونسل کا مذاق بنا کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس لیے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ انہوں نے ہماری اصلاحات کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کی۔

زیادہ تشویش ناک بات ان ملکوں کی مزاحمت تھی جو انسانی حقوق اور انسانی حرمت پر یقین رکھتے ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ کہ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں یا این جی اوز تھیں جو ہمیشہ انسانی حقوق کے حوالے سے اچھا کام کرتی ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کو کونسل سے باہر رکھنے پر اتفاق کیا۔ سو آپ اس بات پر بجا طور پر حیران ہو سکتے ہیں کہ جب کھلے عام بات کرنے کا وقت آیا تو وہ ہماری اصلاحات کے خلاف کھڑی ہو گئیں اور دوسرے ملکوں سے بھی ہمارے خلاف ووٹ مانگے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ جیسی تنظیمیں روس ، چین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والے دوسرے ملکوں کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ اس کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوا۔

این جی اوز اس بات سے خائف تھیں کہ انسانی حقوق کونسل میں تبدیلی لانا جنرل اسمبلی میں زیادہ ناسازگار ترامیم پر منتج ہوگا جو کونسل کو اورزیادہ برا بنا دیں گی۔

ذرا ایک لمحے کے لیے اس پر غور کریں کہ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ بری صورت حال کو اس لیے بہتر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ مزید بگڑ جائے گی۔

یہ ایک اور مثال ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرنے والی حکومتیں اقوام متحدہ میں حکم چلا رہی ہیں۔

ان این جی اوز کی موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے سے بیزاری ان کے ادارہ جاتی اطمینان کا نتیجہ ہے۔ ان کے بڑے بڑے عملے ہیں اوران کے اقوام متحدہ کی افسرشاہی سے گہرے مراسم ہیں۔ تبدیلی ان کے لیے خطرہ ہے۔ اگرہم ہر چیز کو انہی کے رویئے سے دیکھیں تو کبھی کوئی چیز بہتر نہیں ہو سکتی اور ہر جگہ بے پروائی کا دور دورہ ہو گا۔

اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ رویہ انسانی حقوق کا لحاظ رکھنے والے ملکوں کا تھا جنہوں نے آواز اٹھانے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ ملک ہیں جو خاموشی میں یا پس پردہ گفتگو میں ہماری طرح ہی کونسل کی بے عملی پر شرمندہ ہیں۔ انہوں نے ہمیں خفیہ طور پر بتایا ہے کہ وہ بھی وینزویلا، کیوبا، سعودی عرب اور کانگو جیسے ملکوں کی کونسل میں شمولیت اور اسرائیل پر مسلسل حملوں سے ناخوش ہیں۔

ہم نے انہیں موقع پر موقع دیا لیکن انسانی حقوق کونسل کی خامیوں پر مہینوں ہم سے اتفاق کرنے کے بعد بھی انہوں نے اس پر کھل کر ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ صرف پردے کے پیچھے ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

یہ ملک ہر انسان کی حرمت کے ہمارے نظریئے سے متفق ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں اختلاف کی جرات نہیں۔ ان کے پاس بھی آواز ہے لیکن انہوں نے اسے استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔

19جون کو وزیر خارجہ پومپئو اور میں نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ انسانی حقوق کونسل سے دست بردار ہو رہا ہے۔ ہمارے بہت سے دوستوں نے ادارے کی بقا کیلئے ہمارے اس میں رہنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی موجودگی سے ہی اسے اعتبار ملا ہوا ہے۔

لیکن اسی وجہ سے ہم اس سے دست بردار ہوئے۔

اظہار کی آزادی، عبادت کی آزادی،اپنے مستقبل کے تعین کی آزادی، قانون کی نظر میں یکساں ہونے کی آزادی ہی مقدس حقوق ہیں۔ ہم ان حقوق کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اتنا سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ کسی ادارے کو انہیں پامال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ خاص طور پر کسی ایسے ادارے کو جو خود کو انسانی حقوق کی کونسل کہتا ہو۔

کسی کو انسانی حقوق کونسل کی رکنیت کو انسانی حقوق کے تحفظ کے مساوی سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ آج امریکہ اقوام متحدہ کے اندر اور باہر انسانی حقوق کیلئے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ کام کر رہا ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔ ہم کسی ایسی کونسل میں رہتے ہوئے ایسا نہیں کریں گے جو انسانی حقوق کے حوالے سے مسلسل ناکام ہو رہی ہے۔

ہم نے پہلے ہی انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا مقدمہ شروع کر دیا ہے اور اسے نیویار ک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائیں گے۔

گزشتہ سال امریکی صدارت کے دوران ہم نے انسانی حقوق کے امن اور سلامتی کے ساتھ تعلق کے حوالے سے سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس بھی کیا تھا۔

شام اور برما جیسے ممالک میں جنگ اور عدم استحکام کا آغاز ان ملکوں کے عوام کے انسانی حقوق کی شدید اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں سے ہوا تھا۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکبین کی مذمت ہونی چاہیے، عموماً ایسے عناصر تنازعات کو اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں پورے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ جب ہم انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قدم اٹھاتے ہیں تو گویا ہم جنگ سے بچاؤ کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

اسی ماہ ہی ہم نے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ پر مامور اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں کمی کی روسی اور چینی کوششوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔

امریکہ نے وہ کچھ کرنے کا فیصلہ کیا جس سے انسانی حقوق کونسل پیچھے ہٹ گئی تھی۔ وینزویلا کی حکومت کی جانب سے احتجاج کے باوجود امریکہ نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے باہر وینزویلا کے بارے میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس سال جنوری میں ہم نے ایرانی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا۔ گزشتہ ہفتے ہی امریکہ نے جنوبی سوڈان میں متحارب عناصر کو اسلحے کی فراہمی روکنے اور دیگر پابندیوں کے لیے سلامتی کونسل میں ایک تاریخی کوشش کی قیادت کی۔ اس ملک کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور وہاں کے لوگوں کو بے پایاں مصائب اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا، انسانی حقوق کونسل سے ہماری دستبرداری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اصلاح کے لیے اپنی جدوجہد ترک کر دی ہے۔ اس سے برعکس کونسل کی تشکیل نو کے خواہش مند کسی بھی ملک کو ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے صرف ایک بار کہنا ہی پڑے گا۔ انسانی حقوق کونسل کی ادارہ جاتی خامیاں دور کرنا ہی اقوام متحدہ میں ہماری نمایاں ترین ترجیح تھی، ہے اور رہے گی۔

میں نے ایتھوپیا، کانگو، ترکی اور اردن میں مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا ہے۔وہاں میں ایسی ماؤں سے ملی جو صدمات کے باعث خوف کا شکار ہیں۔ میں نے پٹے ہوئے اور بے مقصدیت کا شکار بچے دیکھے ہیں جو جہالت اور انتہاپسندی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کی یادیں ہمیشہ میرا پیچھا کرتی رہیں گی۔ اگر ہمارے پاس آواز ہے تو ہمیں یہ ان ماؤں اور بچوں کے لیے بلند کرنا ہو گی۔ میں اپنی آواز اٹھاؤں گی۔ صرف اس لیے نہیں کہ میں ایک ماں ہوں۔ اس لیے بھی نہیں کہ میں سفیر ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں ایک امریکی ہوں اور امریکہ تحفظ انسانی حقوق کے مقصد کو ترک نہیں کرے گا۔ یہی ہماری شناخت ہے، اسی پر ہمیں فخر ہے اور ہم ایسے ہی رہیں گے۔

شکریہ، خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8519
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں