rss

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر کا وزیرخارجہ پومپئو کے رونلڈ ریگن صدارتی لائبریری میں ایران سے متعلق خطاب کا جائزہ

English English, العربية العربية, Português Português, Русский Русский, Español Español, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
19 جولائی 2018

 
 

بذریعہ ٹیلی کانفرنس

نگران: شکریہ، سبھی کو سہ پہر بخیر۔ آج کی کال میں شمولیت پر آپ کا شکریہ۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج دفتر کارجہ کے اعلیٰ افسر اتوار کو رونلڈ ریگن صدارتی لائبریری میں وزیرخارجہ پومپئو کے ایران سے متعلق بیان کے جائزے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ رپورٹنگ کے بجائے صرف آپ کے حوالے کے لیے ہم (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب سے ہم انہیں دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر کہہ کر پکاریں گے۔ وہ ابتدا میں مختصراً بات کریں گے اور پھر ہم آپ کے سوالات لیں گے۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ کال کے اختتام تک یہاں ہونے والی بات چیت کی نشرواشاعت پر پابندی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہم آغاز کرتے ہیں۔ اب میں دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر کو بات کی دعوت دیتا ہوں۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: ہیلو، کال میں شمولیت پر آپ کا بے حد شکریہ۔ وزیر خارجہ 22 جولائی کو ریگن لائبریری میں تقریر کریں گے جس کا عنوان ‘ایرانی اظہار رائے کی حمایت’ ہو گا۔ اس موقع پر کانگریس کے بعض ارکان بشمول خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس اور سینیٹر ٹام کوٹن بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ ان کے علاوہ چند مزید ارکان کانگریس بھی وہاں موجود ہوں گے۔

وزیرخارجہ نے 22 مئی کو اپنی تقریر میں ایران کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں نے ایرانی عوام کے حوالے سے بھی کچھ باتیں کی تھیں۔ اب وہ امریکہ میں موجود ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بات چیت آگے بڑھائیں گے۔ جنوبی کیلی فورنیا میں قریباً ڈھائی لاکھ ایرانی امریکی رہتے ہیں۔

ان کے خطاب کے حوالے سے میں بس چند باتوں پر روشنی ڈالوں گا۔ اپنے خطاب میں وہ یہ بات کریں گے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کو 40 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد اب تک دنیا میں کوئی اور انقلابی حکومت نہیں آئی اور یہ اپنے انقلاب کو پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ گزشتہ 40 برس میں ایرانی عوام سے چھینے گئے وسائل، ایران کی جانب سے خطے میں کی گئی دہشت گردی اور اندرون ملک وحشیانہ جبر پر بات کریں گے۔ وہ ایرانی حکومت کی بدعنوانی سامنے لائیں گے اور وہاں مذہبی بنیاد پر ایذارسانی پر روشنی ڈالیں گے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں دفتر خارجہ مذہبی آزادی پر پہلے وزارتی اجلاس کا انعقاد کر رہا ہے، اس حوالے سے وہ ایران میں مذہبی گروہوں کے خلاف کارروائیوں پر بات کریں گے۔ وہ ایرانی عوام کے جائز مطالبات خصوصاً بہتر زندگی کے لیے معاشی مطالبات کی حمایت کریں گے۔ وہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ اور اسے سفارتی طور پر تنہا کرنے کی ہماری مہم کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کریں گے۔ جہاں تک امریکہ میں آباد ایرانیوں کا تعلق ہے تو وزیر خارجہ چاہتے ہیں کہ ایران میں عوام کو بھی وہی معیار زندگی میسر ہو جو ایرانیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔ تو یہ ان کے خطاب کے چنیدہ نکات تھے۔ اب مجھے آپ کے سوالات لے کر خوشی ہو گی۔

نگران: ٹھیک ہے، آپ کا بے حد شکریہ۔ اب ہم اپنے پہلے سوال کی جانب جائیں گے۔

آپریٹر: (ناقابل سماعت) بی بی سی سے باربرا اوشر سوال کریں گی ۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: ہیلو (دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار) مجھے دو سوال پوچھنا ہیں۔ پہلا قدرے مختصر ہے۔ کیا ‘ایم ای کے’ کو بھی تقریر کے موقع پر مدعو کیا گیا ہے؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: مجھے اس کا جواب معلوم نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ لوگ وہاں ہوں گے۔

نگران: ٹھیک ہے، جی اگلا سوال۔

آپریٹر: نیویارکر سے رابن رائٹ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: ہیلو (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) بریفنگ کا شکریہ۔ مجھے دو باتیں کرنا ہیں۔ پہلی یہ کہ جب آپ امریکہ کی جانب سے ایرانی احتجاج کی حمایت کی بات کرتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امریکہ وہاں حکومت میں تبدیلی چاہتا ہے؟ امریکی انتظامیہ یہی کہتی چلی آئی ہے کہ ایسا نہیں ہے اور وہ بس ایرانی حکومت کے طرزعمل میں تبدیلی کی خواہاں ہے، مگر ایران سے جو مطالبات کیے جا رہے ہیں انہیں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے جیسے وہاں حکومت میں تبدیلی کی بات ہو رہی ہو۔ دوسری بات یہ کہ کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں کہ ہیلسنکی میں شام کے حوالے سے ایران کے معاملے پر کیا بات ہوئی، صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن کے مابین اس حوالے سے کیا طے پایا جس سے یہ یقین دہانی مل سکے کہ ایران اسرائیلی سرحد کے قریب نہیں آئے گا۔ کیا اس بات چیت کا کوئی واضح نتیجہ نکلا؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: سوال کے لیے شکریہ، آپ کے دو سوال ہیں۔ میں پہلے سوال کے جواب میں یہ کہوں گا کہ اگر آپ وزیرخارجہ پومپئو کی جانب سے مئی میں ایران سے کیے گئے 12 مطالبات پر نظر ڈالیں تو ایرانی جوہری معاہدے سے قبل ان پر عالمگیر اتفاق پایا جاتا تھا اور اس وقت کسی کے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ یہ 12 مطالبات وہاں حکومت تبدیل کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ دراصل یہ نہایت بنیادی نوعیت کے مطالبات ہیں جن کی تکمیل کی ہم ہر ملک سے توقع رکھتے ہیں اور ان مطالبات کی فہرست کی طوالت ایران کے ضرررساں طرزعمل کی وسعت کے مطابق ہے۔

ان 12 مطالبات کی فہرست ہم نے تخلیق نہیں کی۔ یہ فہرست دراصل ایران کی تخلیق کردہ ہے۔ ہم اس پر صرف ردعمل دے رہے ہیں۔ ہم ایران سے لاحق وسیع تر خطرات کی فہرست کو باقاعدہ صورت دے رہے ہیں جن میں جوہری خطرہ، دہشت گردی، اس کے میزائل، اس کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور غیرملکیوں کو من مانے طور سے قید میں رکھنا دراصل ایسے مطالبات ہیں جن پر عملدرآمد کرانے کا مقصد ایران کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اچھا طرزعمل اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے، یہ مطالبات وہاں حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں کیے جا رہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آپ ان تمام 12 مطالبات پر ایک ایک کر کے نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ نہایت بنیادی نوعیت کے مطالبات ہیں اور ہر ملک کو ان باتوں پر پورا اترنا چاہیے۔ چنانچہ ہم ایرانی حکومت کے طرزعمل میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

جہاں تک ہیلسنکی کا تعلق ہے تو اس بارے میں مجھے ایک ہی بات کہنا ہے کہ امریکہ ایران کو شام میں اپنا اثرورسوخ پھیلانے اور وہاں جڑیں قائم کرنے سے روکنے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ ہم شام کو لبنان بنتا نہیں دیکھ سکتے۔ اسی لیے ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ ایران کو وہاں ایسا اثرورسوخ قائم کرنے سے روکا جائے۔

آپریٹر: اگلا سوال بلومبرگ کے نک ویڈہیم کریں گے۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: ہیلو (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) شکریہ۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: ہیلو نک

سوال: وزیرخارجہ خاص طور پر ایران کے حوالے سے ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرا مطلب ہے کہ ایسے بہت سے ملک ہیں جہاں لوگوں کو معاشی یا مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے یا جہاں امریکہ کو ان حکومتوں سے اختلاف ہے، تاہم وزیر خارجہ خاص طور پر ایران کے معاملے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

دوسری بات یہ کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آیا امریکی انتظامیہ ایران پر سفری پابندیاں اٹھانے پر غور کرے گی، کیونکہ بہت سے ایرانی امریکیوں نے اس حوالے سے احتجاج کیا ہے۔ شکریہ۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو امریکہ میں ایرانیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ ان میں بہت سے لوگ ایرانی انقلاب کے وقت سے یہاں موجود ہیں۔ وہ یہاں جو زندگی گزار رہے ہیں وہ ایران کے لوگوں کی زندگی سے بہت مختلف ہے، اگر آپ ایران کو دیکھیں تو وہاں شہریوں کو کئی دہائیوں سے وحشیانہ تشدد اور جبر کا سامنا ہے۔

میں نے بہت سی امریکی حکومتوں کو امریکہ میں رہنے والے ایرانیوں سے بات کرتے دیکھا ہے جو ایران میں موجود اپنے ہموطنوں کے لیے اچھی زندگی کی خواہش رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہماری بہت سی حکومتیں ایسا کرتی رہی ہیں۔ ہمارا ناصرف اپنے ہاں موجود ایرانیوں سے رابطے میں رہنا اہم ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر خارجہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ایرانی آبادی سے ملاقاتیں اور ان سے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے۔

میرے خیال میں آپ کا دوسرا سوال سفری پابندی سے متعلق تھا۔ ایرانی عوام اور آزادی اظہار نیز پرامن احتجاج کے لیے ان کے حق کی حمایت قرارداد 9645 پر عملدرآمد سے ہٹ کر ایک بنیادی معاملہ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس میں ایران اور چھ دیگر ممالک پر ویزے کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ایران سکیورٹی سے متعلق خدشات کی نشاندہی کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تعاون میں ہمیشہ ناکام رہا ہے۔ ایران دہشت گردی کے نمایاں خطرات کا منبع ہے اور وہاں سے ریاستی سطح پر دہشت گردی کی معاونت ہوتی ہے۔ وہ امریکہ سے بے دخل کیے گئے اپنے لوگوں کو واپس لینے میں ناکام رہا ہے ۔

اسی لیے ہم نے ویزے کے حوالے سے جو پابندیاں عائد کیں وہ ایرانی حکومت کی جانب سے ہمیں ایسی معلومات کی فراہمی میں ناکامی کا نتیجہ ہیں جن کا تعلق ہماری قومی سلامتی اور عوام کو لاحق خطرات سے ہے۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ سفری پابندیوں کا اطلاق طلبہ کے ویزوں پر نہیں ہوتا۔

آپ دیکھ چکے ہیں کہ ایرانی عوام افراط زر، بیروزگاری، ریاستی سطح پر شدید بدعنوانی اور حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم ان کی آواز سنے جانے کی خواہش کے حامی ہیں اور اس دن کے منتظر ہیں جب ایرانی حکومت ہماری قومی سلامتی اور تحفظ عامہ کے معیار پر پورا اترے گی۔ اس وقت ہم ان پابندیوں کا دوبارہ جائزہ لے سکیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ ایرانی لوگوں کا قانونی طور پر امریکہ کا سفر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وزیر خارجہ پومپئو نے مئی میں اپنی تقریر میں یہ بات واضح کر دی تھی کہ اس حوالے سے ہماری حکمت عملی صرف سختی پر مبنی نہیں ہے۔ ہم نے مستقبل میں ایران امریکہ تعلقات کی نہایت مثبت تصویر پیش کی ہے اور اب اس پر ایرانی حکومت کو کوئی فیصلہ کرنا ہے۔ اگر ایران اپنے طرزعمل میں تبدیلی لانے اور مثبت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم نے امریکہ کے ساتھ اس کے معاہداتی تعلق کا امکان بھی پیش کیا ہے۔

نگران: شکریہ: اب ہم اگلے سوال کی جانب جائیں گے۔

آپریٹر: واشنگٹن پوسٹ سے کیرول موریلو لائن پر موجود ہیں۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: شکریہ۔ ہیلو (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر)

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: ہیلو کیرول

سوال: آپ نے بتایا کہ وزیر خارجہ ایرانی حکومت کی بدعنوانی سامنے لائیں گے۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے آپ کے پاس کوئی ایسی معلومات ہیں جو پہلے کسی کے علم میں نہیں تھیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس پر کوئی بات کریں گے۔ مزید یہ کہ کیا آپ کو توقع ہے کہ وزیرخارجہ ان دستاویزات پر بھی بات کریں گے جو موساد نے ایران سے حاصل کی ہیں اور کیا وہ ان پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ مجھے یہ بھی پوچھنا ہےکہ آپ ان معلومات کو کس قدر قابل اعتبار سمجھتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں انہیں ہم کتنی اہمیت دیتے ہیں؟

سوال: جی ہاں

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: جہاں تک آپ کے پہلے سوال کا تعلق ہے تو ہم خود آگاہ ہیں اور ہم نے ایران میں احتجاج کرنے والوں سے بھی سنا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنے نظریاتی ایجنڈے کو عوامی بہبود پر ترجیح دے رکھی ہے۔ اسی باعث ایرانی معیشت زوال کا شکار ہے۔ ایرانی جوہری معاہدے کے دوران جب وہاں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہوا تو ایرانی عوام کی زندگیوں میں بہتری آ سکتی تھی مگر ہوا یہ کہ یہ دولت مشرق وسطیٰ بھر میں دہشت گردوں، آمروں اور ایرانی پشت پناہی سے سرگرم ملیشیاؤں کے پاس چلی گئی۔ ایران میں بے پناہ دولت ہے مگر ایرانی حکومت اپنی جیبیں بھر رہی ہے اور اس کے شہری بہتر نوکریوں، معاشی اصلاحات اور مزید مواقع کے مطالبات کر رہے ہیں۔ اسی لیے وزیر خارجہ ایرانی حکومتی اشرافیہ کی خاص مثالیں دے کر ان کی بدعنوانی پر بات کریں گے۔ میں ان سے پہلے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

آپ کے دوسرے سوال پر مجھے یہ کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں وہ قابل اعتبار ہیں اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان دستاویزات کا حجم قریباً نصف ٹن ہے۔

نگران: بہت شکریہ۔ اب ہم اگلے سوال کی جانب جائیں گے۔ جی

آپریٹر: اے ایف پی سے فرانسسکو فونٹیمیگی۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: ہیلو (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) بریفنگ کا شکریہ۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں متعدد مواقع پر کہا ہے کہ امریکہ کی ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران پہلے جیسا ملک نہیں رہا اور اب وہ بحیرہ روم کے خطے اور مشرق وسطیٰ کی جانب نہیں دیکھ رہا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ بات کی؟ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران افراتفری کا شکار ہے۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ایران میں اندرونی صورتحال پر امریکہ کا کیا اندازہ ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور کسی موقع پر حکومت الٹ بھی سکتی ہے؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: کیا آپ اپنا پہلا سوال دہرا سکتے ہیں؟ میں نے دوسرا سوال سمجھ لیا ہے مگر پہلا سوال سمجھ نہیں پایا۔

سوال: جی، صدر نے کہا ہے کہ اب ایرانی حکومت بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب نہیں دیکھ رہی۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ صدر نے کس بنیاد پر یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے یہ اندازہ کیسے لگایا کہ مشرق وسطیٰ میں ایرانی حکومت کا طرزعمل تبدیل ہو چکا ہے؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: میرے پاس صدر کا بیان موجود نہیں ہے اور میں ان کی بات کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ میں اسے دیکھوں گا جس کے بعد ہم آپ سے اس پر براہ راست بات کر سکتے ہیں۔

جہاں تک معاشی اشاریوں سے متعلق آپ کا دوسرا سوال ہے تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ایرانی حکومت نے دہشت گردی اور مشرق وسطیٰ میں پرائی جنگوں کی مالی معاونت کے لیے اپنی ہی معیشت پر ڈاکہ ڈالا جس سے اس کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ہم نے ایران میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں بتدریج اور مسلسل زوال دیکھا ہے۔ جون کے اواخر میں ایرانی ریال غیرسرکاری منڈی میں ایک ڈالر کے مقابلے میں 90 ہزار کی ریکارڈ سطح تک گر گیا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ ایرانی سٹاک ایکسچینج اب تک کی سب سے بلند سطح سے نیچے آئی اور پستی کی جانب سے یہ سفر مسلسل جاری ہے۔ جب آپ معاشی پیشگوئیوں پر نظر ڈالتے ہیں یعنی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے پیش گوئیوں اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی بارے اندازوں کا جائزہ لیتے ہیں تو سامنے آتا ہے کہ ایران کے حوالے سے یہ تمام چیزیں منفی سمت میں جا رہی ہیں۔ تاہم جیسا کہ میں نے کہا یہ ایران کی جانب سے معاشی بدانتظامی کا نتیجہ ہے کیونکہ انہوں نے وہاں خرچ نہیں کیا جہاں انہیں کرنا چاہیے تھا۔

جہاں تک ان کے بینکاری نظام کا تعلق ہے تو انہیں کرنسی کی سیالیت کے حوالے سے بحران کا سامنا ہے۔ وہ بینکاری کے عالمگیر معیارات پر عمل نہیں کرتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا معاشی نظام غیرشفاف ہے۔ یہ نظام براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو دھوکہ دینے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو علم نہ ہو سکے کہ آیا وہ تجارت میں پیسہ لگا رہے ہیں یا ان کا پیسہ دہشت گردی پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ایران اس معاملے میں جعلی کمپنیوں کو استعمال کرنے میں بے حد مشاق ہے۔ ایران غیرملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی اور بیرون ملک جنگوں پر خرچ کرتا ہے۔

چنانچہ جب آپ وہاں ڈالر کی شرح تبادلہ کو دیکھتے ہیں، جب آپ اشیائے صرف کی قیمتوں پر نظر ڈالتے ہیں، جب آپ سٹاک ایکسچینج، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری، سرمائے کی اڑان اور ایسے تمام معاشی اشاریوں کو دیکھتے ہیں تو یہ منفی سمت میں جاتے نظر آتے ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے وسائل کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔

نگران: ٹھیک ہے، اب ہم اگلا سوال لیں گے۔ جی

آپریٹر: رائٹرز سے وارن سٹروبل ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: شکریہ۔ مجھے پالیسی کے حوالے سے مجموعی ہدف کی بابت پوچھنا ہے۔ وزیر خارجہ پومپئو نے مئی میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ‘جب ہماری پابندیاں لاگو ہو جائیں گی تو ایران کو اپنی معیشت کے لالے پڑ جائیں گے’۔ جن ممالک کو اپنی معیشت برقرار رکھنے کی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے یا تو وہ غیرمستحکم ہیں یا وہاں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ نے ایران میں معاشی زوال کے ممکنہ غیرارادی نتائج پر غور کیا ہے؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: ہم اس معاملے کو یوں دیکھتے ہیں کہ ہمیں علم ہے ایران اپنے معاشی وسائل کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی اور ایسا ملک نہیں جو ایران کی طرح دہشت گردی کی معاونت کرتا ہو۔ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ہماری مہم کا مقصد یہ ہے کہ اسے اپنے مالیاتی وسائل دہشت گردی کی معاونت کے لیے استعمال کرنے سے روکا جائے۔ جو رقم دہشت گردی اور بیرون ملک جنگوں پر خرچ نہیں ہوتی وہ ایرانی حکومتی اشرافیہ کی جیبوں میں جاتی ہے۔ چنانچہ اگر معیشت کمزور ہو جائے گی تو حکومت کے پاس دہشت گردی کی معاونت کے لیے دولت موجود نہیں ہو گی۔

یہاں میں چند اعدادوشمار پیش کروں گا۔ ایران نے اسد حکومت اور عراق و یمن میں اپنے آلہ کاروں کی مدد کےلیے 16 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ یہ لبنانی حزب اللہ کو سالانہ 700 ملین ڈالر دیتا ہے۔ اس نے اسد حکومت کو 4 ارب ڈالر قرض دیا ہے۔ ایران دوسرے ممالک میں ایسی سرگرمیوں پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے جس سے شام، لبنان، عراق اور یمن جیسے مشرق وسطیٰ کے یہ اہم ممالک عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اس نے اسد حکومت کی امداد کے لیے جو رقم خرچ کی اس سے مہاجرین کے بحران میں اضافہ ہوا جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس نوعیت کی سب سے بڑی بحرانی کیفیت ہے۔ اسی لیے جب آپ مشرق وسطیٰ بھر میں تشدد، خونریزی اور افراتفری کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے ڈانڈے ایران سے جا ملتے ہیں۔ اسی لیے ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اپنی آمدنی کو ایسے انقلابی و نظریاتی عزائم پر خرچ نہ کرنے پائے۔

مسٹر گرینن: ٹھیک ہے، آپ سبھی کا شکریہ۔ میرا خیال ہے کہ اتوار کو وزیر خارجہ کی تقریر پر بات کے لیے آج ہمارے پاس یہی وقت تھا۔ میں اپنے مقرر (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) کا مشکور ہوں۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتا چلوں کہ یہ پس منظر بریفنگ تھی اور اس میں ہمارے مقرر کو دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر کہا جائے گا۔ بریفنگ کے اس حصے کی نشرواشاعت پر عائد پابندی اٹھائی جا چکی ہے۔ یہاں میں یاددلاتا چلوں کہ اگر آپ لائن پر رہنا چاہیں تو چند ہی لمحوں میں ہم ایک اور پس منظر بریفنگ کا اہتمام کر رہے ہیں جس میں وزیر خارجہ کی پالو آلٹو میں آسٹریلیا امریکہ وزارتی مشاورتی اجلاس میں شرکت پر بات ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی میں بریفنگ کا اختتام کرتا ہوں۔ میں اپنے مقرر اور آپ سبھی کا مشکور ہوں۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: بہت شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں