rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی کی صحافیوں سے گفتگو

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, العربية العربية, Español Español, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
20 جولائی 2018

 

ہیڈکوارٹر اقوام متحدہ
نیویارک

وزیر خارجہ پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ سب سے پہلے میں اپنی بہترین دوست سفیر ہیلی اور یہاں اقوام متحدہ میں ان کی شاندار ٹیم کی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔ شمالی کوریا اور متعدد دیگر امور پر امریکی مفادات کی تکمیل میں ان کی قیادت یہاں آج صبح واضح ہو کر سامنے آئی ہے اور بہت زبردست ٹیم ان کی معاونت کر رہی ہے۔ لہٰذا نکی آپ کا شکریہ۔

آج میرے یہاں آنے کی بڑی وجہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان جنوبی کوریا اور جاپان کے نمائندوں سے ملاقات تھی جس کا مقصد انہیں اس ماہ کے اوائل میں شمالی کوریا کے دورے میں میرے کام کی بابت تفصیلات اور اس ضمن میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کرنا ہے۔ مجھے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتیخش سے مل کر اس موضوع اور دیگر موضوعات پر بات چیت کا موقع بھی ملا۔

سلامتی کونسل کے ممالک شمالی کوریا کو حتمی اور مکمل مصدقہ طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنے کی ضرورت کے معاملے پر متحد ہیں۔ شمالی کوریا کے چیئرمین کم بھی ایسا کرنے پر متفق ہیں۔ ہمارے اس مقصد کی تکمیل کے لیے پابندیوں کا کڑے طور سے اطلاق خاص طور پر اہم ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اور وسیع طور سے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک شمالی کوریا پر پابندیوں کے مکمل اطلاق پر متفقہ طور سے رضامند ہیں اور ہمیں ان سے توقع ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس کریں گے۔ پابندیوں کا نفاذ نہ ہونے کی صورت میں شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے کامیاب طور پر پاک کرنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ اس وقت شمالی کوریا غیرقانونی طور پر جتنی پٹرولیم مصنوعات اندرون ملک سمگل کر رہا ہے ان کی مقدار اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ کوٹے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک سے دوسرے بحری جہاز تک تیل کی منتقلی اس سمگلنگ کا سب سے نمایاں ذریعہ ہے۔

اس سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں کم از کم 89 مرتبہ ایسی منتقلی عمل میں آئی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک کو اس کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے کہ وہ جہاز سے جہاز پر یہ غیرقانونی منتقلی روک دیں اور ہم ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ شمالی کوریا پر پابندیوں کے نفاذ کے ضمن میں اپنی کوششیں مزید بہتر بنائیں۔

ہمیں پابندیوں کی خلاف ورزی کے دیگر طریقوں کی روک تھام بھی کرنا ہے جن میں سمندر کے ذریعے کوئلے کی سمگلنگ، زمینی سرحدوں کے ذریعے سمگلنگ اور مخصوص ممالک میں شمالی کوریا کے کارکنوں کی موجودگی بھی شامل ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے سائبر چوریاں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں بھی اس کی حکومت کے لیے نمایاں آمدنی پیدا کر رہی ہیں اور یہ سرگرمیاں بند ہونی چاہئیں۔

صدر ٹرمپ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے حوالے سے بدستور پرامید ہیں۔ اس معاملے میں پیشرفت کے ہوتے ہوئے میں بھی پرامید ہوں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ ایک دن شمالی کوریا یہاں اقوام متحدہ میں اچھوت کے بجائے ایک دوست کی حیثیت سے ہمارے درمیان موجود ہو سکتا ہے۔ ذرا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایسے اجلاسوں کا تصور کیجیے جہاں شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام بار بار ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ایسے میں ہم اپنی توانائی دنیا کو درپیش بہت سے دیگر فوری نوعیت کے مسائل پر مرکوز کر سکیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ یہ حقیقت ممکن ہے اور صدر ٹرمپ کی بھی یہی سوچ ہے۔ تاہم اس کے لیے ہمیں پابندیوں کا مکمل طور سے نفاذ یقینی بنانا ہو گا۔ اس سلسلے میں چیئرمین کم کو بھی صدر ٹرمپ سے سنگاپور میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ مستقبل کا راستہ آسان نہیں ہے۔ اس میں وقت درکار ہو گا۔ مگر ہم سب کے لیے محفوظ دنیا اور شمالی کوریا کے روشن مستقبل کے حوالے سے ہماری امیدیں ہی ہمارے اہداف ہیں اور یہ امید قائم رہے گی۔ شکریہ۔ سفیر ہیلی۔

سفیر ہیلی: آپ کا بے حد شکریہ۔ میں اپنے دوست، وزیر خارجہ پومپئو کی بے حد مشکور ہوں کہ وہ آج یہاں آئے اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اٹھارہ ماہ پہلے جب میں یہاں آئی تو شمالی کوریا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ ہر کوئی یہ سوچتا تھا کہ کب وہ نیا تجربہ کرے گا اور ہر ایک کے ذہن میں یہی بات ہوتی تھی کہ کب نیا خطرہ سامنے آئے گا۔ پوری عالمی برادری جانتی تھی کہ کچھ نہ کچھ ہونے کو ہے۔ سلامتی کونسل کے لیے شمالی کوریا کے لیے خلاف سخت پابندیوں کے تین پیکیج منظور کرنا، اس کی تمام برآمدات بند کرنا، اس کی 90 فیصد تجارت پر روک لگانا، اس کا 30 فیصد تیل بند کرنا، دوسرے ممالک سے اس کے تمام کارکنوں کو نکال باہر کرنا اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ اس کی تمام مشترکہ اقتصادی سرگرمیوں کو روکنا بہت بڑا کام تھا۔ ایسے میں عالمی برادری کی جانب سے متحد ہو کر شمالی کوریا کے سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے، اس سے بات چیت بند کرنے اور صدر کے کڑے موقف کی بدولت ہی شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر آیا۔

اب شمالی کوریا اور امریکہ نے بات چیت شروع کر دی ہے۔ اس دوران ہمیں، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو ان مذاکرات کی معاونت کرنا ہے۔ اس معاونت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ شمالی کوریا پر پابندیاں نرم نہ ہونے پائیں۔ ہم یہ
دیکھ رہے ہیں کہ بعض ممالک اسے پابندیوں میں چھوٹ دینا چاہتے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ ‘پابندیاں اٹھا لیں’۔ ہم جس پر زور دے رہے ہیں وہ یہ کہ جب تک ہم شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار ختم کرنے کا وعدہ پورا کرتا نہیں دیکھ لیتے اس وقت تک پابندیاں نہیں ہٹا سکتے۔ ہمیں اس کی جانب سے کوئی عملی کارروائی دیکھنا ہے۔ چنانچہ جب تک شمالی کوریا اس حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا اس وقت تک سلامتی کونسل اس پر کڑی پابندیاں برقرار رکھے گی۔ ہم عالمی برادری سے کہتے ہیں کہ ہماری بات چیت کے دوران پابندیوں کا موثر نفاذ یقینی بنایا جائے۔

ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ہمارے بعض دوستوں نے اصولوں سے ہٹ کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ شمالی کوریا کو تیل کی ترسیل پر پابندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ جیسا کہ وزیر پومپئو نے بتایا ہے ایسا 89 مرتبہ ہوا۔ ہمارے پاس ایک سے دوسرے بحری جہاز میں تیل کی منتقلی کے تصویری ثبوت موجود ہیں۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ سب مل کر یہ بات یقینی بنائیں کہ ایسا نہ ہونے پائے۔ چنانچہ کل امریکہ نے شمالی کوریا کو صاف تیل کی تمام اضافی ترسیل روک دی ہے۔

اب چین اور روس ہمیں کیا بتا رہے ہیں؟ کیا وہ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ وہ اس تیل کی ترسیل جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ انہیں مزید معلومات درکار ہیں۔ ہمیں مزید معلومات نہیں چاہئیں۔ پابندیاں لگانے والی کمیٹی کو جو کچھ درکار ہے وہ اس کے پاس موجود ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ ہم نے آج چین اور روس پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ پابندیوں کے فیصلے پر عمل کریں، اس صورتحال میں ہمارے اچھے مددگار ثابت ہوں اور جوہری اسلحے کے خاتمے میں ہماری مدد کریں۔

لہٰذا میں سمجھتی ہوں کہ آج وزیر خارجہ نے جنوبی کوریا کے اپنے ہم منصب، جاپانی دوستوں اور سلامتی کونسل کے ساتھ کھل کر بات چیت کی اور کہا کہ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں چیئرمین کم کی جانب سے ردعمل دیکھنا ہے اور ایسا ہونے تک اپنی حکمت عملی پر کاربند رہنا ہے۔ تو یہ بہت کامیاب دن رہا اور امید ہے کہ سلامتی کونسل متحد رہنے کے ساتھ ساتھ ارکان پر زور دیتی رہے گی کہ اس عمل سے پیچھے مت ہٹیں۔ شکریہ۔

سوال: جناب وزیر ۔۔۔

مس نوئرٹ: جلدی سے تین سوالات۔ فاکس نیوز سے رچ ایڈسن۔

سوال: شکریہ۔ جناب وزیر، اقوام متحدہ میں سفیر ہیلی نے بتایا ہے کہ روس پابندیوں کے اطلاق میں مدد نہیں دے رہا۔ صدر نے روسی صدر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے معاملے میں مدد دیں گے۔ کیا روس صدر کے ساتھ کیے معاہدے سے پھر رہا ہے؟ اس ملاقات میں دونوں صدور میں مزید کون سی باتوں پر اتفاق پایا گیا؟

وزیر خارجہ پومپئو: پابندیوں کا اطلاق ایک مسلسل عمل ہے۔ بہت سی جگہوں پر روسیوں نے مدد کی ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے آغاز سے روسیوں نے پابندیوں کے نفاذ کے ضمن میں بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں اور ہم ان کی بھرپور ستائش کرتے ہیں۔ تاہم اس وقت ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ ہمیں یہ امر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ دنیا یاد رکھے شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنا امریکی مطالبہ نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کا مطالبہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کام کے لیے پوری دنیا اپنا کردار ادا کرے۔ لہٰذا جہاں ہم مسائل دیکھتے ہیں کہ روس یا کوئی اور ملک پابندیوں کے نفاذ میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا تو ہم یہ امر یقینی بناتے ہیں کہ ایسے ممالک کو معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ صورتحال کا اندازہ کر سکیں۔ ہم دنیا میں ہر ملک سے یہی مطالبہ کریں گے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔

مس نوئرٹ: سی بی ایس نیوز سے کائلی۔

سوال: جناب وزیر، مجھے روس کے بارے میں ہی ایک سوال پوچھنا ہے کیونکہ آج واشنگٹن میں یہ بات ہو رہی ہے۔ ولاڈیمیر پوٹن کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنا کیونکر اچھی بات ہو سکتی ہے؟ امریکہ کو اس دورے سے کیا ملے گا؟

وزیر خارجہ پومپئو: مجھے خوشی ہے کہ دو انتہائی اہم ملکوں کے رہنما ایک دوسرے سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اگر یہ ملاقات واشنگٹن میں ہوتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اچھی بات ہو گی۔ ایسی بات چیت بے حد اہم ہے۔ ہمارے اعلیٰ سطحی رہنماؤں کو دنیا بھر میں ہر اس جگہ دوسروں سے ملنا چاہیے جہاں ہمارے دوسروں سے گہرے اختلافات ہیں۔ امریکی عوام کے لیے یہ نہایت قابل قدر بات ہو گی کہ صدر پوٹن اور صر ٹرمپ دونوں ممالک کے مابین مشکل مسائل حل کرنے کے لیے بات چیت کریں۔ میرا خیال ہے کہ یہ خاصی معقول بات ہے اور میں پرامید ہوں کہ یہ ملاقات اس سال کے اواخر میں ہو جائے گی۔

مس نوئرٹ: اب آخری سوال، رائٹرز سے مشیل۔

سوال: شکریہ۔ جناب وزیر، آپ کو شمالی کوریا کی جوہری اسلحے کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدگی دیکھنے کے لیے کون سے ٹھوس اقدامات درکار ہیں؟ آج روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ انہوں نے لاکھوں شامی مہاجرین کی واپسی کے لیے واشنگٹن کو تجاویز بھیجی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد ایک معاہدے پر ہے جو صدر پوٹن اور صدر ٹرمپ میں طے پایا تھا۔ کیا آپ نے وہ تجاویز دیکھی ہیں، مزید یہ کہ دونوں میں کون سا معاہدہ طے پایا ہے؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں دوسرے سوال کا جواب پہلے دوں گا۔ بہت سی بات چیت ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن میں شامی مسئلے کے حل پر بات ہوئی جس میں یہ بھی زیربحث آیا کہ ہم مہاجرین کو کیسے واپس لا سکتے ہیں۔ صدر نے اس بات چیت سے مجھے آگاہ کیا تھا۔ دنیا کے لیے اہم ہے کہ درست وقت پر رضاکارانہ طریقہ کار کے تحت یہ مہاجرین اپنے وطن واپس آئیں۔ ہم سب اسی پر کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ سٹیفن ڈی مسٹورا کے ذریعے اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ چنانچہ صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن میں یہ معاملہ زیرغور آیا۔ اس پر عملدرآمد کا طریق کار طے کرنے کے لیے بہت سا کام باقی ہے مگر یاد رہے کہ امریکہ شامی مسئلے کے حل میں مدد دینا چاہتا ہے۔

آپ کا پہلا سوال یہ تھا کہ ہمیں کیا دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعی بالکل سیدھی بات ہے، ٹھیک؟ یہ میرا بیان نہیں ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ چیئرمین کم نے وعدہ کیا تھا۔ چیئرمین کم نے ناصرف صدر ٹرمپ بلکہ صدر مون کو بھی بتایا کہ وہ جوہری اسلحے کے خاتمے کے لیے تیار ہیں۔ اس عمل کی وسعت اور حجم پر بھی اتفاق پایا گیا۔ شمالی کوریا والوں کو علم ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ جوہری اسلحے کے خاتمے کا عمل کیسا ہو گا یہ بالکل واضح ہے۔ چنانچہ ہمیں کیا دیکھنے کی ضرورت ہے؟ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا چیئرمین کم وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہوں نے دنیا سے وعدہ کیا تھا۔ یہ بہت تصوراتی بات نہیں ہے مگر یہ سچ ہے۔

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے، شکریہ، شکریہ۔

سوال: ایک اور، جناب وزیر ایک اور سوال۔

مس نوئرٹ: سبھی کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں