rss

‘ایرانی عوام کے اظہار کی حمایت’ وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا رونلڈ ریگن صدارتی فاؤنڈیشن و لائبریری میں خطاب

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
22 جولائی 2018

 

سیمی ویلی، کیلی فورنیا

وزیر خارجہ پومپئو: آپ سب کا شکریہ (تالیاں) بے حد شکریہ۔ فریڈ، اس قدر مشفقانہ تعارف پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ اس سے مجھے وہ وقت یاد آ گیا جب میں وزیر خارجہ کے طور پر تعیناتی سے قبل توثیقی عمل سے گزر رہا تھا اور وہ لوگ ان تمام افراد سے رابطہ رہے تھے جن سے میں زندگی میں مل چکا تھا۔ انہوں نے ایک ایسے نوجوان کو ڈھونڈ نکالا جس نے میرے ساتھ لاس اینجلس میں باسکٹ بال کھیلی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے میرے کھیل کے بارے میں پوچھا تو اس کا جواب تھا ‘جتنا اس کے بس میں تھا اتنا ہی اس نے کیا’ (قہقہہ)

میرے تعارف اور یہاں رونلڈ ریگن صدارتی فاؤنڈیشن و لائبریری میں میزبانی پر شکریہ۔ یہ بہت خاص جگہ ہے اور یہاں آنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں یہاں موجودگی پر اپنے دوست ٹام کا بھی مشکور ہوں۔ انہوں نے اور میں نے بہت سے کام اکٹھے انجام دیے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں، ہفتوں اور برسوں میں بھی ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

گورنر ولسن کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ میں نے طویل عرصہ قبل چند مرتبہ آپ کو ووٹ دیا تھا (قہقہہ)

میں جانتا ہوں کہ آج شام ایرانی امریکی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ بھی ہمارے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ یہ جنوبی کیلی فورنیا میں رہنے والے ڈھائی لاکھ ایرانی امریکیوں کا محض ایک حصہ ہے۔ امریکہ بھر سے متعدد ایرانی امریکی مہمان بھی یہاں موجود ہیں۔ شکریہ۔ آج میں آپ کی باتیں سننا، ایران کی صورتحال کے بارے میں مزید جاننا اور یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ وہاں آپ کے عزیز اور دوست کیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔

مجھے ایرانی آبادی کی متنوع حیثیت کا اندازہ ہے۔ یہ لوگ بہت سے عقائد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ اچھی بات ہے اور تمام ایرانی امریکیوں کا نکتہ نظر ایک جیسا نہیں ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایرانی حکومت ایرانی عوام کے لیے ڈراؤنے خواب کی مانند ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نکتے پر آپ سبھی میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

آج میں اپنے ایرانی امریکی دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی عوام کے لیے وہی کچھ سوچتی ہے جو آپ سوچتے ہیں اور ہماری محنت اور خدا کی رحمت سے ہماری خواہشات بر آئیں گی (تالیاں)

آئندہ برس ایران میں اسلامی انقلاب کو 40 برس مکمل ہو جائیں گے۔ انقلاب کے 40 سال کا ثمر تلخ رہا ہے جس کے بارے میں آگے چل کر میں تفصیل سے بتاؤں گا۔ چالیس سال سے لوٹ مار ہوتی رہی ہے۔ چالیس سال سے لوگوں کی دولت دہشت گردی کی معاونت کے لیے لوٹی جاتی رہی ہے۔ چالیس سال سے عام ایرانیوں کو اپنے حقوق کے پرامن اظہار پر جیلوں میں ڈالا جاتا رہا ہے۔ ایرانی حکومت نے چالیس سال سے ایسا نفرت انگیز طرزعمل کیوں اختیار کیا اور اپنے عوام کو ایسے حالات سے دوچار کیوں کیا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

اس کا جواب ایرانی حکومت کی انقلابی فطرت میں پنہاں ہے (تالیاں)

1979 میں بزور طاقت اقتدار میں آنے اور بدستور حکومت کرنے والے نظریہ پرست پورے ایرانی سماج کو اسلامی انقلاب سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی حکومت جہاں ضروری ہو طاقت کے ذریعے اپنا انقلاب دوسرے ممالک میں پھیلانا چاہتی ہے۔ اندرون اور بیرون ملک انقلاب کی تکمیل ایرانی حکومت کا حتمی مقصد ہے۔ ایرانی طرزعمل کے پیچھے یہی نظریہ کارفرما ہے۔ اسی لیے وہاں کی حکومت نے چار دہائیوں تک ایرانی معیشت، خارجہ پالیسی اور سیاسی زندگی کے تمام عناصر کو اسی مقصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس حکومت کے لیے انقلاب کی تکمیل کے سامنے ایرانی عوام کی خوشحالی، سلامتی اور آزادی کی کوئی اہمیت نہیں۔

معاشی طور پر دیکھا جائے تو ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے نظریاتی ایجنڈے کو ایرانی عوام کی بہبود پر ترجیح دینے کے فیصلے نے ایران کو طویل مدتی معاشی زوال کا شکار بنا دیا ہے۔ جوہری معاہدے سے ایران میں تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہو گیا تھا اور یہ رقم ایرانی عوام کا طرز زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہو سکتی تھی۔ اس کے بجائے انہوں نے یہ رقم دہشت گردوں، آمروں اور اپنی آلہ کار ملیشیاؤں پر خرچ کی۔ ایرانی حکومت کی مالی معاونت کے باعث آج حزب اللہ کا اوسط درجے کا جنگجو ایران میں آگ بجھانے والوں سے دو تین گنا زیادہ آمدنی پاتا ہے۔ ایرانی حکومت کی بدانتظامی کے باعث ریال کی قدر گر رہی ہے۔ ایران میں ایک تہائی نوجوان بیروزگار ہیں اور اب ایک تہائی لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ایران میں معاشی حالات کے حوالے سے ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپنی جیبیں بھر رہی ہے جبکہ اس کے لوگ نوکریوں، اصلاحات اور مواقع کے لیے رو رہے ہیں۔ اگر آپ سیاسی روابط رکھنے والے اشرافیہ کے رکن ہیں تو پھر آپ کے لیے ایرانی معیشت بے حد فروغ پا رہی ہے۔ دو سال پہلے جب بھاری رقومات اعلیٰ حکومتی حکام کے بینک اکاؤنٹس میں بھیجے جانے کے حوالےسے دستاویزات سامنے آئیں تو ایرانیوں نے جائز طور سے غصے کا اظہار کیا۔ ملک میں وسیع پیمانے پر پھیلی بدعنوانی کی بہت سی دیگر مثالیں بھی ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق لاریجانی کی مثال ہی لے لیجیے۔ اس کی دولت کا تخمینہ کم از کم 300 ملین ڈالر ہے۔ اس نے یہ رقم سرکاری فنڈ میں غبن کر کے اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لاریجانی پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ ہم ایرانی حکومت سے اعلیٰ ترین سطح پر نمٹنے سے خوفزدہ نہیں ہیں (تالیاں) آپ مجھے پاگل کہیں، دیگر بھی کہتے ہوں گے مگر مجھے اس میں شبہ نہیں ہے کہ عالمی پابندیوں کا شکار چور بدمعاش ایران میں اعلیٰ ترین عدالتی عہدے کے لیے موزوں آدمی ہے (قہقہہ اور تالیاں)

پاسداران انقلاب کا سابق افسر اور وزیر داخلہ صادق محصولی ‘ارب پتی جرنیل’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایران عراق جنگ کے اختتام پر وہ پاسداران انقلاب کا غریب سا افسر تھی جو اب اربوں ڈالر کا مالک بن چکا ہے۔ ایسا کیسے ہوا؟ کسی طرح اس نے پاسداران انقلاب سے منسلکہ کاروبار سے تعمیرات اور تیل کی تجارت کے ٹھیکے حاصل کر لیے تھے۔ کالج میں محمود احمدی نجاد کے اس ساتھی نے اس سلسلے میں بھی کچھ نہ کچھ کیا ہو گا (قہقہہ)

آیت اللہ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ ان کی وسیع دولت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں مذہب سے زیادہ دولت سے دلچسپی ہے۔ ان منافق مقدس شخصیات نے روئے زمیں پر امیر ترین آدمی بننے کے لیے ہر طرح کا ہتھکنڈہ استعمال کیا ہے جبکہ ان کے لوگ مصائب کا شکار ہیں۔

گرینڈ آیت اللہ مکرم شیرازی ‘چینی کے سلطان’ کے نام سے معروف ہے جس نے چینی کی غیرقانونی تجارت سے 100 ملین سے زیادہ دولت کمائی ہے۔ اس نے ایرانی حکومت پر چینی کے مقامی پیداکاروں کے لیے امدادی قیمتیں کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جبکہ اس نے منڈی میں اپنی مہنگی درآمدی چینی پھیلا دی۔ ایسی سرگرمی سے عام ایرانی بےروزگار ہو جاتے ہیں۔

ایک اور آیت اللہ جو گزشتہ 30 برس سے تہران میں جمعے کی نماز پڑھا رہا ہے، اس نے بہت سی بیش قیمت سرکاری کانیں اپنی فاؤنڈیشن کو منتقل کرا دیں۔ وہ بھی اب کروڑوں ڈالر کے مساوی دولت کا مالک ہے۔

بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے مگر آیت اللہ خامنائی کے پاس 95 ارب ڈالر مالیت کا سیتاد نامی ذاتی فنڈ ہے۔ یہ ٹیکس سے مستثنیٰ اور ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت ہے جسے پاسداران انقلاب کے لیے ناجائز طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔

آیت اللہ حریصانہ طور سے جو کچھ چاہتا ہے اس سے اپنا خزانہ بھر لیتا ہے۔ 2013 میں سیتاد کے ایجنٹوں نے ایک 82 سالہ بہائی عورت کو طویل عرصہ تک ہراساں کرنے کے بعد اس کے اپارٹمنٹ سے نکال باہر کیا اور اس کی جائیداد قبضے میں لے لی۔

مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کی زمین پر قبضہ اس طاقتور گروہ کا معمول ہے جو ریئل اسٹیٹ سے ٹیلی کام اور شترمرغ پالنے تک ہر شے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اسے آیت اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔
یہ فہرست بہت طویل ہے مگر ہم نے چند چیدہ چیزوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ایرانی رہنماؤں کی بدعنوانی اور دولت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ایران کو حکومت کے بجائے کوئی مافیا چلا رہی ہو۔

خارجہ پالیسی کے معاملے میں حکومت اپنا انقلاب برآمد کرنے کے مشن پر کاربند ہے جس کے نتیجے میں عشروں تک نظریے کے نام پر بیرون ملک تشدد اور عدم استحکام کا کھیل کھیلا گیا۔ اسد، لبنانی حزب اللہ، حماس، عراق میں شیعہ ملیشیا گروہ اور یمن میں حوثی ایرانی حکومت کو دی گئی اربوں کی دولت پر پل رہے ہیں جبکہ ایرانی عوام ‘شام کو چھوڑو، ہمارے بارے میں سوچو’ جیسے نعرے لگاتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ہمارے شراکت دار ممالک کو ایرانی سائبر حملوں اور خلیج فارس کے پانیوں میں دھمکی اور خطرات پر مبنی طرز عمل کا سامنا ہے۔ ایرانی حکومت اور دہشت میں اس کے اتحادیوں نے یورپ اور مشرق وسطیٰ بھر میں اپنے مخالفین کو قتل کیا۔ درحقیقت ہمارے یورپی اتحادی بھی ایرانی حکومت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی کے خطرے سے مامون نہیں ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں ہی ویانا میں ایک ایرانی ‘سفارت کار’ کو فرانس میں سیاسی ریلی میں بم حملے کے لیے دھماکہ خیز مواد کی ترسیل کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ اس سے آپ کو ایرانی حکومت کے بارے میں تمام اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یورپ کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں کہ وہ جوہری معاہدہ ترک نہ کرے، دوسری جانب وہ خفیہ طور سے یورپ کے قلب میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

چونکہ امریکہ سے لڑائی اور اسرائیل کی تباہی ایرانی حکومت کے نظریے کی بنیاد ہے اسی لیے اس نے دونوں ممالک اور ہمارے شہریوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کے بہت سے واقعات کا ارتکاب اور ان کی معاونت کی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایرانی ساختہ دھماکہ خیز مواد کے باعث عراق میں ہزار سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

آج بہت سے امریکی ایران میں قید اور لاپتہ ہیں۔ باقر نمازی، سیامک نمازی اور ژیو وانگ کو ایرانی حکومت نے ناجائز طور سے قید میں رکھا ہے اور باب لیونسن 11 سال سے ایران میں لاپتہ ہیں۔ ایسے مزید کئی لوگ ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ میں ہم لوگ ان تمام امریکیوں کو واپس لانے کے لیے تندہی سے کام کر رہے ہیں جنہیں طویل عرصہ سے ناجائز قید میں رکھا گیا ہے (تالیاں)

سامع: (چلاتے ہوئے) صدر ٹرمپ نے بچوں کو قید کیا ہے۔ ٹرمپ اور پنس کی حکومت بچوں کو اغوا کر رہی ہے۔ ٹرمپ اور پنس ۔۔۔

وزیر خارجہ پومپئو: باوجود اس کے کہ ایرانی حکومت ۔۔۔

سامعین: (ناپسندیدگی کا اظہار)

سامع: (مائیک کے بغیر چیخ و پکار)

سامعین: (ناپسندیدگی کا اظہار)

سامع: (مائیک کے بغیر چیخ و پکار)

سامعین: یوایس اے، یو ایس اے، یو ایس اے، یو ایس اے، یو ایس اے۔

وزیر خارجہ پومپئو: شکریہ

سامع: (مائیک کے بغیر چیخ و پکار)

وزیر خارجہ پومپئو: اگر ایران میں اظہار رائے کی آزادی ہی ہوتی (خوشی کا اظہار اور تالیاں)

آپ جانتے ہیں کہ ایرانی حکومت کے جبر کے واضح ریکار ڈ کے باوجود امریکہ اور دیگر ممالک نے وہاں سیاسی اعتدال کو کھوجنے میں کئی سال لگائے۔ ایران کی پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی انقلابی خواہش اور مقاصدنے کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہونے دیاجسے اعتدال پسند یا قومی نمائندہ کہا جا سکے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صدر روحانی اور وزیر خارجہ ظریف اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں آیت اللہ کی بین الاقوامی اداکاری کے لیے نفاست سے تراشے ہوئے قدامت پسند چہرے ہیں۔ان کے جوہری معاہدے نے انہیں اعتدال پسند نہیں بنایا۔ اس نے انہیں بھیڑ کے روپ میں بھیڑیا بنا دیا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اس بات سے پریشان ہیں کہ اسلامی جمہوریہ سے ٹکراؤ اعتدال پسندوں کے مقاصد کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن ایرانی حکومت میں یہ نام نہاد اعتدال پسند اب بھی امریکہ مخالف اور مغرب مخالف ایجنڈے کے حامل پر تشدد اسلامی انتہا پسند ہیں ۔ اس کے لیے ان کے اپنے بیانات ہی کافی ہیں۔ اور اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ایجنڈا بھی اتنا ہی ایران مخالف ایجنڈا ہے۔

ایرانی حکومت کا اسلامی انقلاب سے گہرا لگاؤ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایرانی معاشرے میں کسی ایسی سوچ کو برداشت نہیں کر سکتی جو اس کی نفی کرے یا اسے نقصان پہنچائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومت کئی دہائیوں سے اپنے ہی لوگوں کے انسانی حقوق ، حرمت اور بنیادی آزادیوں کو دبا رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایرانی پولیس نے ایک نوجوان ایرانی کھلاڑی کو انسٹاگرام پر اپنے رقص کی تصویر لوڈ کرنے پر گرفتار کر لیا۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ایرانی عرب کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں اہوازیوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ اپنی زبان اور بنیادی عقائد کو عزت دینے کے لیے آوازبلند کر رہے تھے۔ حکومت کی اخلاقی پولیس نے خواتین کو سڑکوں پر مارا اور انھیں گرفتار کر لیا جو حجاب نہیں پہننا چاہتی تھیں۔

‘سفید بدھ ‘ کے دن ایکک کارکن کو اس لیے 20سال قیدکی سزا سنائی گئی کیونکہ وہ حجاب کی پابندی کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔

اسلامی انقلاب لانے کی خواہش کا نتیجہ ایران میں مذہبی آزادی کو دبانے کی صورت میں نکلا ہے اور اکثر اس ضمن میں بربریت کی انتہا کر دی گئی۔

گزشتہ ماہ ایرانی گونابادی درویش برادری سے تعلق رکھنے والے ایک عام بس ڈرائیور اور دو بچوں کے باپ پر مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا دے دی گئی۔ اس کی سزا کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز اور درویشوں کے درمیان پر تشدد ہنگامے شروع ہو گئے اور سزا پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے۔اسے مقدمے سے پہلے اور دوران وکیل تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔ سالاس نامی اس شخص اور اس کے حامیوں نے مسلسل اپنی بے گناہی کا یقین دلایا اور مبینہ طور پر بتایا کہ اسے تشدد کر کے اقبال جرم پر مجبور کیا گیا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 18جون کو ایرانی عدالت نے سالاس کو قید میں ہی پھانسی دے دی۔

اس کی موت ایک بڑے کریک ڈاؤن کا حصہ تھی جو فروری میں شروع ہوا تھاجب کم از کم 300صوفیوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں ناجائز طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت ایران میں سینکڑوں صوفی مسلمان اپنے عقائد کی بنا پر گرفتار ہیں جن میں سے بعض کے حکومت کی وحشیانہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اسیر افراد میں 91سالہ رہنما ڈاکٹر نور علی تابندہ بھی شامل ہیں جو کم از کم چار ماہ سے نظر بند ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

ایرانی حکومت کی مذہبی عدم برداشت کا دائرہ صرف صوفی مسلمانوں تک محدود نہیں۔ حکومت کا عیسائیوں، یہودیوں، سنیوں، زرتشتوں اور دوسرے بہت سے مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ ہے جنہیں ہر لمحہ یہی خوف دامن گیر رہتا ہے کہ شاید ان کی اگلی نماز آخری ہو۔

ایران میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ اقلیتیں موجودہ حکومت سے بہت پہلے سے ایران میں موجود ہیں۔ یہ اقلیتیں قدیم اور توانا ایرانی تہذیب کے جاندار ڈھانچے کا تاریخی حصہ ہیں۔ اس ڈھانچے کو برداشت سے عاری سیاہ پوش حکومت نے تباہ کر دیا ہے۔ جب دوسرے مذاہب کو دبایا جاتا ہے تو ایران کا چہرہ آیت اللہ اور پاسداران انقلاب کی ایک ذاتی تصویر بن جاتا ہے۔حکومت کی مسلسل ناکامیوں ، بد عنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایرانی قوم گزشتہ سال دسمبر سے سڑکوں پر ہے اور 1979کے بعد سب سے طاقتور احتجاج کر رہی ہے۔ کچھ لوگ نعرے لگا رہے ہیں کہ’لوگوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے جبکہ ملا دیوتاؤں جیسی زندگی گزار رہے ہیں’۔ بعض لوگوں نے تہران کے بڑے بازار کو بند کر دیا ہے۔ ہر کسی کو درپیش ذاتی تکلیف مختلف ہو سکتی ہے لیکن جتنے لوگ بھی عدم اطمینان کی آواز بلند کر رہے ہیں ان میں ایک بات مشترک ہے کہ ان سب کے ساتھ انقلابی حکومت نے برا سلوک کیا ہے۔ ایرانی چاہتے ہیں کہ ان کے وقار، احتسا ب اور احترام کو مد نظر رکھ کر ان پر حکومت کی جائے۔ (تالیاں)

حکومت کا ان پر امن مظاہروں کے حوالے سے رد عمل عدم تشدد کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے دنیا کے حوالے سے انقلابی نکتہ نظر نے پیدا کیا ہے۔ گزشتہ جنوری میں حکومت نے نئے سال کا استقبال اپنے ہی 5ہزار لوگوں کو گرفتار کر کے کیا تھا۔ وہ سب پر امن طریقے سے ایک بہتر زندگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سینکڑوں افراد اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور سینکڑوں اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ایرانی رہنما بے رحمی سے اسے خود کشی قرار دے رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ واضح ہے کہ حکومت کے نظریئے نے ایرانیوں کو اس قدر مشتعل کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو ایک نارمل ملک نہیں کہہ سکتے۔

وہ جانتے ہیں کہ ایک ایسا آئین جو اسلامی انقلاب برآمد کرنے پر مبنی اور اپنے ہمسائیوں کی تباہی اور اپنے شہریوں کی آزادیاں سلب کرنا چاہتا ہوں نارمل نہیں ہے۔

عام ایرانی جانتے ہیں کہ ان کی حکومت کا اپنے ہی شہریوں پر تشدد معمول کی بات نہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بہت سی پابندیاں لگوانا نارمل نہیں ہے۔

مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل جیسے نعرے لگانا نارمل نہیں ہے۔

دہشت گردی کی معاونت کرنے والا اولین ملک بن جانا بھی غیر معمولی بات ہے۔

بعض دفعہ تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھی ایرانی حکومت کی اپنے ملک میں مطلق العنانی اور ملک سے باہر تشدد کی مہم کے حوالے سے غیر حساس ہو چکی ہے لیکن ایران کے پر فخر لوگ اپنی حکومت کی بہت سی غلطیوں پر خاموش نہیں ہیں۔

امریکہ بھی صدر ٹرمپ کے زیر قیادت اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔ (تالیاں)

ان مظاہروں اور حکومت کی چالیس سالہ آمریت کی روشنی میں میرا ایران کے لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ امریکہ آپ کو سن رہا ہے۔ امریکہ آپ کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ آپ کے ساتھ ہے۔

جب امریکہ دیکھتا ہے کہ سخت پتھریلی زمین میں سے آزادی کی فصل اگ رہی ہے تو ہم اس کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ہم نے بھی چند سال قبل ایک آزاد ملک بننے کے لیے بہت مشکل سے پہلا قدم اٹھایا تھا۔

اس وقت امریکہ اس ایرانی امداد رکوانے کے لیے سفارتی اور مالیاتی د باؤ ڈال رہا ہے جسے ایران کی حکومت خود کو مضبوط کرنے اور موت و تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ (تالیاں)

ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم حکومت کی پیسہ اکٹھا کرنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت پر بھر پور دباؤ ڈالیں اور ہم ایسا کریں گے۔

اس مہم کا مرکزی نقطہ ایران کے بینکاری اور توانائی کے شعبوں پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔

جیسا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہم وضاحت کر چکے ہیں ہماری توجہ ان ملکوں پر مرکوز ہے جو ایران سے خام تیل خریدتے ہیں تاکہ ان کی درآمدات کو 4نومبر تک صفر کی سطح پر لے آئیں۔ (تالیاں)۔ حال ہی میں اس مہم کے سلسلے میں ہم نے بحرینی شیعہ ملیشیا سرائع الاشتر کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر ہم نے ایک کرنسی ایکسچینج نیٹ ورک کو تباہ کیا ہے جو پاسداران انقلاب کو لاکھوں ڈالر مہیا کر رہا تھا۔

ابھی اس سلسلے میں مزید کام ہونا ہے۔حکومتی رہنما خاص طور پر وہ جو پاسداران انقلاب یا قدس فورس کے اعلی عہدوں پر فائز ہیں مثال کے طور پر قاسم سلیمانی کو اپنی بری فیصلہ سازی کے تکلیف دہ نتائج کا احساس دلایا جانا ہے ۔ ہم ہر اس قوم سے جو اسلامی جمہوریہ کے تباہ کن رویئے سے تنگ ہے ، مطالبہ کر رہے ہیں کہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں ہمارا ساتھ دیں۔ خاص طور پر مشرق وسطی اور یورپ میں ہمارے اتحادی اور وہ وہ لوگ جو پر تشدد حکومت کی کئی دہائیوں سے جاری سرگرمیوں سے خائف ہیں ۔

آپ کو علم ہونا چاہیے کہ امریکہ اپنا پیغام میڈیا یا انٹرنیٹ کے ذریعے ایران کے اندر پہنچانے سے بھی خوف زدہ نہیں۔ (تالیاں)۔ گزشتہ چالیس سال سے ایرانی قوم اپنے رہنماؤں سے سنتی چلی آ رہی ہے کہ امریکہ ایک بہت بڑا شیطان ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ لوگ اب مزید اس قسم کی جعلی خبریں سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ (قہقہہ اور تالیاں)

آج ہر چار میں سے ایک ایرانی یعنی ایک کروڑ چالیس لاکھ ایرانی ہر ہفتے امریکی حکومت کی نشریات دیکھتے یا سنتے ہیں۔ اب یہ ہمیشہ سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ حکومت کے جھوٹ عیاں کیے جائیں اور ایرانی عوام کے ساتھ اپنی دوستی کی خواہش کا اعادہ کیا جائے۔ اس وقت ہمارا امریکی نشریاتی بورڈ آف گورنرز ایسے اقدامات کر رہا ہے جس سے ایرانی عوام کو انٹرنیٹ سنسر شپ سے بھی بچایا جا سکے۔ بی بی جی چوبیس گھنٹے چلنے والے فارسی زبان کے ٹی وی چینل کا بھی آغاز کر رہا ہے۔ اس میں نہ صرف ٹیلی ویژن اور ریڈیو شامل ہوں گے بلکہ یہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا فارمیٹس میں بھی دست یاب ہو گاتاکہ ایران کے اندراور دنیا بھر میں موجود عام ایرانی یہ جان سکے کہ امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو دکھانے اور جن لوگوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے ان کی حمایت کرنے سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں۔

ہم جب بھی اقوام متحدہ میں یا اپنے ان اتحادیوں سے بات کرتے ہیں جن کے ایران سے تعلقات ہیں توہمیشہ اسلامی جمہوریہ کے انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین ریکارڈ کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں ۔ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ دنیا دیکھ رہی ہے اور جب تک ایرانی حکومت اپنے عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھے گی ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔(تالیاں)

اب ہم اپنے حاضرین میں اور اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالنے اور ایرانی عوام کی مدد کرنے میں ہماری معاونت کریں ۔

ہماری ان کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ ایک روز ہم ایرانیوں کو ایران میں بھی اسی معیار زندگی سے لطف اندوز ہوتا دیکھیں جو ایرانیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔ (تالیاں)

امریکہ میں ایرانی ہر اس آزادی سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو ان کی حکومت انہیں مہیا کرتی ہے نہ کہ سلب کرتی ہے۔ یہاں وہ تمام اقتصادی مواقع حاصل کرنے کے لیے آزاد ہیں جنہیں وہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے ملک پر فخر کر سکتے ہیں اور اپنے عقیدے پر اپنی مرضی کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔

میں یہاں آج کچھ لوگوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو مجسم ویسے ہیں جیسے ہم ایرانی لوگوں سے امید رکھتے ہیں۔

گولی امیری امریکہ میں بالکل خالی ہاتھ آئے تھے اور سٹینفورڈ میں مقیم ہوئے ۔ یہاں انہوں نے کامیاب کمپنیاں بنائیں اور محکمہ خارجہ اور اقوام متحدہ میں بھی خدمات انجام دیں۔

سوسن عزیز زادہ کو ہر چیز چھوڑ کر ایران سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ وہ 1979میں یہاں آئیں۔ آج وہ ایرانی امریکی یہودی فیڈریشن کی سربراہ ہیں۔ (تالیاں)

میکن دل رحیم کو تو شاید میں نے دیکھ بھی رکھا ہے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس وقت امریکہ آئے جب ابھی وہ صرف 10سال کے تھے۔ اس وقت وہ محکمہ انصاف میں معاون اٹارنی جنرل ہیں۔یہ حیران کن بات ہے ۔ (تالیاں)

ہمیں امید ہے کہ گولی، میکن اور سوسن کی کامیابی اور بہت سے دوسرے ایرانی امریکیوں کی کامیابی ایرانیوں کو یہ احساس دلانے کے لیے کافی ہے کہ جو حکومت اپنے شہریوں کا احترام کرے اور احتساب اور انصاف کے ساتھ حکومت کرے اس کے زیر نگیں رہتے ہوئے کیا کچھ ممکن ہے۔ ایرانیوں کو ایک بہتر زندگی کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ کر فرار ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ (تالیاں)

اگرچہ اس کا انحصار ایرانی لوگوں پر ہے کہ وہ اپنے ملک کی سمت کا تعین کریں تاہم امریکہ اپنی آزادیوں کے جذبے کے تحت ایرانی لوگوں کی دیرینہ نظر انداز شدہ آواز کو بلند کرنے میں ان کا ساتھ دے گا۔ ہمیں امید ہے کہ ایرانی حکومت اپنے رویئے میں داخلی اور خارجی دونوں سطح پر بامعنی تبدیلیاں لائے گی۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کی حکومت کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں لیکن امریکی دباؤ سے ریلیف اسی صورت میں ملے گا جب ہم ایران کی پالیسیوں میں ٹھوس، واضح اورپائیدار تبدیلی دیکھیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں آج کی تقریر کا اختتام ایک ایسے شخص کے الفاظ کے ساتھ کرتا ہوں جس نے آزادی اور احترام کا مقدمہ اس سے کہیں زیادہ توانا آواز کے ساتھ لڑا جتنا کہ میں لڑ سکتا ہوں اور ان کا نام ہے صدر رونلڈ ریگن (تالیاں)۔ 1982میں انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کی تھی جوویسٹ منسٹر خطاب کے نام سے مشہور ہوئی۔ انہوں نے دیگر یورپی حکومتوں پر زور دیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں ان لوگوں کی مدد کریں جو اپنے ملک کو جبر اور ناانصافی سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ ان کی دلیل سادہ اور طاقتور تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی صرف چند خوش قسمت لوگوں کا صوابدیدی اختیار نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی اور آفاقی حق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم تمام حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک انقلابی حکومت کے ساتھ راز و نیاز ختم کریں اور فوری طور پر ایرانی لوگوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں (تالیاں)۔ اسی تقریر کے دوران صدر ریگن نے کہا تھا کہ آئیے ہم خود سے پوچھیں کہ ہمارے خیال میں ہم کس طرح کے لوگ ہیں، اور آئیے جواب دیں کہ ہم آزاد لوگ ہیں۔ آزادی کے مستحق اور نہ صرف آزاد رہنے کے لیے پر عزم بلکہ دوسروں کو ان کی آزادی دلانے میں مدد دینے کے لیے بھی پر عزم ہے۔

آج امریکہ ایرانی لوگوں پر ان کے حکمرانوں کی طرف سے روا رکھے جانے والے ظلم کی مذمت کرتا ہے اور ہم بہت فخر سے ایران کے ان لوگوں کی آواز کو بلند کرتے ہیں جو عالمگیر انسانی حقوق نظر انداز کیے جانے کا سلسلہ بند کرنے اور ان حقوق کا احترام یقینی بنائے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ہم یہ جانتے ہوئے ایسا کرتے ہیں کہ ایران سڑکوں اور بازاروں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ان کے لیے اپنی آواز بلند کرتے ہیں جنہیں حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران مستقل طور پر خاموش کرا دیا ہے اور ہوسکتا ہے جن کے پیارے آج میرے تقریر سننے والوں میں بھی شامل ہوں۔

امریکہ یہ امید رکھتا ہے کہ ایرانی تاریخ کے آئندہ 40سال ظلم اور خوف کے بجائے ایرانی عوام کیلئے آزادی اور اطمینان سے عبارت ہوں۔

شکریہ (تالیاں)

گورنر ولسن : آپ نے تو تمام سوالوں کا جواب دے دیا۔

وزیر خارجہ پومپئو :ہم مزید سوالات بھی لیں گے۔ شکریہ۔

گورنر ولسن: جناب وزیر ، میرے پاس کچھ سوال ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ نے ان میں سے بہت سے سوالوں کا پہلے ہی بہت خوبی سے جواب دے دیا ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو :چلیے دیکھتے ہیں کہ آیا میں دوبارہ بھی وہی جواب دے پاؤں گا جبکہ میری باتیں میرے سامنے موجود نہیں ہیں (قہقہہ)

گورنر ولسن :پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات حقیقت پسندی پر مبنی ہے کہ ایرانی عوام مستقبل قریب میں کبھی اپنے ملکی کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے سکیں گے۔

وزیر خارجہ پومپئو:یقیناً (تالیاں)۔ یقیناً، یقیناً، میں ان سب سے کہتا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں یا سمجھتے ہیں کہ وقت کی رفتار گھنٹوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ماپی جائے گی، میں ہمیشہ انہیں یاد دہانی کراتا ہوں کہ چیزیں تبدیل ہوں گی۔کچھ لمحے معجزاتی بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لمحات بھی ہوتے ہیں جن کی توقع یا امید نہیں ہوتی۔ ہمارا عزم انہی میں سے ایک ہے۔ ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔

ہم نہیں جانتے کہ درست لمحہ کونسا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کس دن ایرانی حکومت کا رویہ تبدیل ہوگا۔ لیکن ہم ان چیزوں کے بارے میں تو جانتے ہیں جو اس وقت کرنا دنیا کی ذمہ داری ہے جب درست لمحہ آجائے۔

گورنر ولسن: کیا آپ چند لفظوں میں اپنی خوبصورت تقریر کا احاطہ کرتے ہوئے بتا سکتے ہیں کہ ایرانی حکومت میں تبدیلی لانے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ ایرانی عوام کی موجودہ آمرانہ حکومت سے آزاد ی حاصل کرنے کی جدو جہد میں کیسے مدد کرے گی۔

وزیر خارجہ پومپئو : صدر ٹرمپ اس حوالے سے بہت واضح ہیں ۔ نا صرف اپنے پیغام میں بلکہ حقیقت میں بھی کہ ان کی انتظامیہ کی یہی حقیقی ترجیح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اہم ہے۔ آدمی کا ایک مقصد ہونا چاہیے لیکن اگر آدمی اس کو اعلی درجے پر نہیں رکھتا تو پھر وقت محدود ہو جاتا ہے اور وسائل مختصر۔صدر نے اسے ناقابل یقین حد تک اپنی اولین ترجیح بنا کر رکھا ہے۔

ہماری ٹیم کے لیے تعین کردہ مشن بہت واضح ہے۔ ہمیں ایرانی قیادت کی وسائل ، دولت، پیسے تک رسائی، دنیا میں دہشت گردی کی مدد کی صلاحیت اور ایران کے لوگوں کو ان کی آزادیوں سے محروم کرنے سے روکنا ہے۔ تیس سیکنڈ میں اتنی بات ٹھیک ہے ناں۔ تیس سیکنڈ میں اتنا ٹھیک ہے ؟ (قہقہہ)

گورنر ولسن: بہت اچھا (تالیاں) ایک تصور یہ بھی ہے کہ ایرانی طلبا اور عام لوگ سفری پابندیوں کی وجہ سے امریکی ویزا حاصل نہیں کر سکتے۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ ایران کے سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہماری کیا پالیسی ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو :یقیناًمجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے متعدد ملکوں کے حوالے سے واضح کیا ہے جو ہمیں مکمل معلومات فراہم نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے ہمیں سلامتی کاخطرہ درپیش تھا ۔ ہم ان ملکوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ کوئی ایسا طریقہ وضع کر سکیں کہ ہم تک وہ معلومات پہنچ جائیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ایران ہمیں تسلسل کے ساتھ بنیادی معلومات کی فراہمی سے انکار کر رہا ہے جو کہ باقی درجنوں ملک پہلے ہی مہیا کر چکے ہیں۔ ہم چاہیں گے کہ ایران بھی ہمیں معلومات مہیا کرے۔

ہم اب بھی طلبا کو امریکہ آنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے طالب علم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں بھی اس وقت ایسے طلبا موجود ہیں جو ایرانی ہیں۔ ہم سبھی کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ہماری حکومت کی بنیادی پالیسی ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو لوگ بھی ہمارے ملک میں آتے ہیں ہمارے پاس ان کے حوالے سے مکمل آگاہی موجود ہو تاکہ ہم اپنے ملک کو محفوظ رکھ سکیں۔ بس یہی ہمارا منصوبہ ہے اور یہی پالیسی ہے (تالیاں)

گورنر ولسن :ایک غیر متوقع مثبت سوال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کی بنیادکیا ہو سکتی ہے؟

وزیر خارجہ پومپئو :ایسا ہمیشہ ممکن ہے (قہقہہ) اور صدر نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی پیش رفت کا خیر مقدم کریں گے۔ میں نے اب تک پیانگ یانگ کے تین دورے کیے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ اپنے شہریوں کو آزادیاں دینے سے انکار کیا ۔

صدر نے کہا کہ اگر ہم تبدیلی لا سکیں، اگر ہم قیادت کو ایک تزویراتی تبدیلی لانے کے لیے قائل کر سکیں کہ کیسے اپنی اور اپنے عوام کی بہتری کو یقینی بنانا ہے تو پھر ہم ان کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ صدر نے شاید ایک سے زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے ساتھ بھی ایسے ہی معاہدے کے لیے تیار ہیں لیکن اس وقت تک نہیں جب تک کہ وہاں کی حکومت میں نمایاں، ٹھوس اور پائیدار تبدیلی نظر نہ آئے اور مجھے ابھی تک ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی لیکن میں امید پر زندہ ہوں(تالیاں)

گورنر ولسن: طلبا کے لیے آپ کی ہدایت کیا ہو گی، امید ہے کہ سامعین میں بھی بہت سے موجود ہوں گے۔ ان میں سے کون اس کوشش کا حصہ بننا اور امریکی محکمہ خارجہ میں کیرئیر تلاش کرنا پسند کرے گا۔ وہ کیسے اس کی تیاری کر سکتے ہیں اور انہیں کس قسم کے چیلنج درپیش ہو سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو :ہم تمام محنتی، باصلاحیت اور محب وطن لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور امریکہ کی عظیم سفارتی ٹیم کا حصہ بنیں۔ یہ ایک ناقابل یقین اعزاز ہے۔ مجھے وزیر خارجہ بنے ہوئے 12ہفتے ہونے والے ہیں۔میری ٹیم زبردست ہے۔ میری ان کے لیے رہنمائی ویسی ہی ہے جیسی میں اپنے بیٹے کو فراہم کرتا رہا۔ اگر وہ یہاں ہوتا تو وہ بھی اپنی آنکھیں گھما رہا ہوتا (قہقہہ)

محنت کریں اور ہر جگہ سچ بولیں۔ ہمارے یہاں بہت سارے لوگ ہیں جو مختلف زبانیں بولتے ہیں جنہوں نے دوسرے ملکوں میں وقت صرف کیا ہے اور جو دوسری ثقافتوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم محکمہ خارجہ سے ملنے والی مہارتیں حاصل کریں۔ وہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں ایسے نوجوانوں کو ضرور سیکھنا چاہیے جو امریکی سفارت کار کے طور پر ایک شاندار، پرجوش ، کامیاب اور اہم کیرئیر اپنانا چاہتے ہیں۔ ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ ہماری ویب سائٹ پر جائیں، وہاں آپ کو باصلاحیت نوجوان امریکیوں کے لیے بہت سی اسامیاں ملیں گی جن کے ذریعے آپ ہماری شاندار ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں (تالیاں)

گورنر ولسن: جناب وزیر بہت شکریہ ۔ آپ نے بہت واضح گفتگو کی ۔ میرا خیال ہے یہاں موجود سب لوگوں کو آپ کی باتیں سمجھ میں آ گئیں جواس ہال میں موجود ہیں جسے رونلڈ ریگن کی وراثت قائم رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے اور میں جن لوگوں سے مل چکا ہوں میں آپ اس وراثت کو سب سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں (تالیاں)

میرا خیال ہے کہ ہم دونوں کو اس ملک کی تاریخ میں ایک اہم موقع یاد ہے جب انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اعتماد کرو، مگر تصدیق کر لو’ (قہقہہ) مجھے یوں لگتا ہے کہ یہی آپ کا واضح پیغام ہے اور ہم اس نمایاں خدمت پر آپ کے مشکور ہیں جو آپ نے اس وقت سے شروع کر رکھی ہے جب آپ نے اپنی جماعت میں پوائنٹ نمبر ون کو خیرباد کہا تھا۔ میرے لیے یہ سب کچھ بے حد متاثرکن ہے (تالیاں) لاس اینجلس میں باسکٹ بال کھیلتے ہوئے آپ کے مقابل جو شخص بھی تھا میرا خیال ہے اسے یہ کہنا تھا کہ ‘وہ جو کچھ کر سکتے تھے اس میں بیشتر کر دکھایا’ آپ نے اپنی شخصیت میں پائی جانے والی ہمت، حوصلے اور استقامت سے بہترین کام لیا ہے۔ آپ کی موجودگی ہماری خوش قسمتی ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: شکریہ پیٹ۔ آپ نے میرے بارے میں بے حد مشفقانہ بات کی (تالیاں) شکریہ، شکریہ۔ بہت مہربانی۔

گورنر ولسن: یہ مخلصانہ جذبات تھے۔

وزیرخارجہ پومپئو: بہت مہربانی جناب (تالیاں) ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں