rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کے افتتاحی کلمات سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجراء
بیانات
25 جولائی 2018

 

واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ پومپئو: سہ پہر بخیر جناب چئیر مین کورکر، رینکنگ رکن مننڈیز اور معزز اراکین

میں پچھلے 12 ہفتوں کے دوران بالکل وہی کرتا رہا ہوں جس کا تقاضہ آپ نے میری تعیناتی کی توثیق کے وقت کیا تھا۔ آپ نے مجھے سے کئی ایک عالمی مشکلات پر کام کرنے کو کہا تھا۔ مجھے امید ہے کہ آج مجھے ان میں سے ہر ایک معاملے پر بات کرنے کاموقع ملے گا۔ پچھلے تین ہفتوں کے دوران میں انہیں معاملات میں مصروف رہا ہوں، یہ وہ معاملات ہیں جو اس کمیٹی کے دلچسپی کے امور ہیں۔ ان معاملات میں، شمالی کوریا، نیٹو اور روس شامل ہیں۔

روس کے متعلق میں آپ کی توجہ بالکل نئی چیز کی طرف دلانا چاہتا ہوں، آج ٹرمپ انتظامیہ کریمیا ڈیکلیریشن جاری کر رہی ہے۔ میں پورا مسودہ تو نہیں پڑھوں گا، لیکن میں اس ریکارڈ میں جمع کرواوں گا۔ یہ عوام کے لیے بھی دستیاب کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کا ایک حصہ یہ کہتا ہے کہ "امریکہ روس سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ روس ان تمام اصولوں کی پاسداری کرے جن اصولوں پر عمل کرنےکی اس نے یقین دہانی کرائی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کریمیا کا قبضہ ختم کیا جائے”۔ اختتام

میں اس کمیٹی کو یقین دلاتا ہوں کہ امریکہ کریملن کے کریمیا سے روس کے ساتھ مبینہ الحاق کو نہ تو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی کبھی تسلیم کرے گا۔ ہم اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ ملکر یوکرین اور اس کی علاقائی سالمیت کے لیے کھڑے ہیں۔ اس سلسلے میں کریمیا سے متعلق پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی جب تک کہ روس جزیرہ نما کریمیا کا قبضہ یوکرین کو واپس نہیں کرتا۔ کریمیا ڈیکلیریشن امریکہ کی غیر جانبدارنہ حکمت عملی کو رسمی طور پر دہراتا ہے۔

سفارتی تعلقات کی بابت ایک اور اشارہ یہ ہے کہ جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا۔ آج صبح پادری اینڈریو برنسن کو بوکا کی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، وہ تقریباً دو برس سے ترکی کی جیل میں قید تھے۔ وہ ابھی بھی اپنے گھر میں نظر بند ہیں، لہٰذا ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس سلسلے میں آپ احباب میں سے کئی ایک دفتر خارجہ کے ساتھ بہت تندہی اور محنت سے کام کرتے رہے ہیں۔ ہم ان جیسے تمام امریکیوں کی جلد از جلد وطن واپسی کے لیے کوشش کریں گے، ایسے تمام امریکیوں کی وطن واپسی کے لیے جو ملک سے باہر غیر قانونی قید میں ہیں۔ صدر ٹرمپ ہمارے اپنوں کے متعلق کبھی بھی نہیں بھولیں گے۔

صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی جو دسمبر میں پیش کی گئی تھی، جس میں امریکہ کے خارجہ تعلقات کے رہنما اصول وضع کیے گئےتھے، ہم اس سلسلے میں اپنی سفارتی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں میں نے آخر اپریل میں بطور وزیر خارجہ عمل کرنا شروع کیا ۔ اور آج، یکم جولائی، معاف کیجیے گا، اور آج میں آپ کو اس سلسلے میں ابھی تک کی گئی پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوٍں۔

قومی سلامتی کی پالیسی نے یہ طے کیا کہ "امریکیوں کی حفاظت، اپنی سرزمین کی حفاظت اور امریکی طرز زندگی کا تحفظ” ہماری قومی سلامتی کے ستون ہیں۔ جولائی کی 17 تاریخ کو صدر ٹرمپ نے اس بارے بہت ٹھوس الفاظ میں اعادہ کیا تھا کہ "سفارتکاری اور گفت وشنید، تنازعات اور دشمنی سے بہت بہتر ہے”۔ انہیں اصولوں کی بنیاد پر ہم نے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات قائم کیے ۔ صدر ٹرمپ کی سفارتکاری کی وجہ سے ہی ایک ایسا معاملہ ٹھنڈا ہوا جو روزانہ کی بنیاد پر ایک سنگین تنازعہ بنتا جا رہا تھا۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے امریکی محفوظ ہوئے ہیں۔

جہاں تک ٹرمپ انتظامیہ کے شمالی کوریا سے متعلقہ اہداف کا تعلق ہے، اس میں کچھ نہیں بدلا۔ ہمارا ارادہ بالکل پکا ہے، ہم اس سلسلے میں بہت شفاف ہیں کہ ہم شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کا مصدقہ اورقابل توثیق خاتمہ چاہتے ہیں۔ اور اسی بات پر چیئر مین کم جونگ انگ بھی متفق اور راضی ہیں۔

صدر ٹرمپ کی چیئرمین کم کے ساتھ کامیاب سربراہی ملاقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے میں نے 5 جولائی کو شمالی کوریا کا سفر کیا، تاکہ ہم سنگاپور میں طے پانے والے معاملات پر ہونے والی پیش رفت کو دیکھ سکیں۔ ہم بہت بردبار اور متحمل المزاج سفارت کاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لیکن ہم اسے اتنا طول نہیں دیں گے کہ جس کا کوئی انجام ہی نہ ہو۔ میں نے اس بات کا اعادہ وائس چئیر مین کم یونگ چول کے ساتھ اپنی سودمند ملاقات کے دوران بھی کیا۔

صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے مکمل خاتمے کے امکانات بارے بہت ہی پر امید اور پر جوش ہیں۔ اس سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ چئیر مین کم جونگ ان سنگاپور میں کئے گئے معاہدوں پر عمل کریں۔ جب تک شمالی کوریا وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ختم نہیں کر دیتا، امریکی پابندیاں لاگو رہیں گی اور

اقوام متحدہ کی پابندیاں اسی طرح قائم رہیں گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بہت سی ایسی قراردادیں ہیں جو شمالی کوریا کو اپنے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور میزائل پروگرام کو بالکل ختم کرنے کاکہتی ہیں۔ یہ تمام قراردادیں متفقہ طور سے پاس کی گئی تھیں، اور ان کی پاسداری ہم پر فرض ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ملک ان تمام پابندیوں پر عمل کرے جن قراردادوں پر عمل کرنے کا انہوں نے عزم ظاہر کیا ہوا ہے۔ آگے کا سفر آسان نہیں ہے، لیکن دنیا کو مزید محفوظ بنانے اور شمالی کوریا کے روشن مستقبل کی امیدیں قائم رہیں گی۔

قومی سلامتی کا لائحہ عملہ "امن بذریعہ مضبوطی”پر بھی زور دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی نیٹو کے ساتھ گفت و شنید کے نتیجے میں اب یہ اتحاد بے شمار روایتی و غیر روایتی خطرات کے خلاف مالیاتی بوجھ مل جل کر اٹھائے گا۔ سن 2016 سے ہمارے اتحادیوں نے اپنی دفاعی بجٹ میں 40 بلین ڈالرز سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ اور آنے والے سالوں میں لاکھوں، اربوں ڈالرز مزید آئیں گے۔

پچھلے برس 14.4 ارب ڈالر کا اضافہ 5.1 فیصد ہے، یہ موجودہ نسل کے دور میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ 8 اتحادی اس سال اس بجٹ میں 2 فیصد اضافہ کریں گے، باقی 18 ممالک سال 2024 تک ایسا کرنے پر عمل کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ بار بار تقاضہ کر رہی ہے کہ ہر ملک اپنا حصہ ڈالے۔

نیٹو امریکہ کی قومی سلامتی کا بنیادی ، ناگزیر اور لازمی ستون ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری کمزوریاں ہمارے دشمنوں کو اکساتی ہیں لیکن ہمیں مضبوط بھی کرتی ہیں اور ہمیں خود کو محفوظ کرنے کے لیے باہمی اتفاق کی قوت بھی فراہم کرتی ہے۔ جتنا زیادہ سرمایہ نیٹو کا ہر رکن ملک فراہم کرے گا، ہمارا یہ اتحاد ہمارے ہر ایک اتحادی کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھے گا۔ یہ ایک بڑھتی ہوئی یقین دہانی ہے جو صدر ٹرمپ چاہتے ہیں۔

اس انتظامیہ ک ابتدا سے ہی قومی سلامتی کی پالیسی اور روس کے متعلق بلا امتیاز لائحہ عمل ، ہمارا طریقہ کار یہی رہا ہے: جب تک ولادیمیر پوتن مخامصمانہ خارجہ پالیسی میں کمی نہیں کرتے تب تک انہیں تنازعے کی زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے، لیکن ہم اپنے قومی مفادات کے تحت بات چیت کا دروازہ کھلا رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور امریکہ مل کر دنیا کے ایٹمی اسلحہ میں 90 فیصدحصہ رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ 2 عظیم ایٹمی طاقتوں کے درمیان خراب، تنازعات پر مبنی اور جھگڑالو تعلقات نہیں ہونے چاہیں۔ یہ نہ صرف ہمارے مفاد میں ہے، بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ صدر ٹرمپ بہت پر عزم ہیں کہ اب ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم اپنے تعلقات کے متعلق براہ راست گفتگو کریں۔ تاکہ ہم صدر پوتن پر یہ بات واضح کر دیں کہ ابھی بھی تعلقات کو صحیح نہج پر لانے کی موہوم سی امید ہے، ورنہ ہماری انتظامیہ روس کی منفی کارروائیوں کی وجہ سے روس کے خلاف سخت پابندیاں لگاتی رہے گی، اور ہم مزید سخت اقدامات اٹھائیں گے۔

ہم باہمی مفادات پر مبنی امور پر کوئی پیش رفت نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کے متعلق بات نہ کریں۔ میں نے اس پینل پہ موجود آپ میں سے کئی ایک کو سالہاسال بار بار یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ میں ان اہم امور کی بات کر رہا ہوں، جیسا کہ دہشت گردی، یوکرین میں قیام امن، شام میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ اور وہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پرامداد کی فراہمی، اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا اور ایران کی تمام منفی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنا ۔

ایران کے متعلق صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ "ایران اب وہ ملک نہیں رہا جو وہ پانچ ماہ پہلے تھا”، ایسا ہماری ان کوششوں کی وجہ سے ہوا ہے جس سے ہم نے ایران پر مالیاتی دباو بڑھایا، ہم ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہوئے اور ایران کے لوگوں کی مدد کے لیے ہماری تیز ترین کوششیں شامل ہیں، اور ان اقدامات کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ میں نے ان کاوشوں کا ذکر گزشتہ اتوار کو اپنی ایک تقریر میں کیا تھا۔

ہیلسنکی میں ہم نے اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی کہ روس ہمارے ساتھ باہمی تعلقات بہتر کرنے میں خواہشمند بھی ہے کہ نہیں۔ لیکن ہم نے بات بہت شفاف طریقے سے بیان کردی کہ اب گیند روس کے کورٹ میں ہے اور اسے پہل کرنا پڑے گی۔ ہم نے امریکہ کے یوکرین اور شام میں تزویراتی مفادات کا ذکر کیا، اور میں نے ذاتی طور پر بہت واضح طریقے سے روسی حکام کو بتا دیا تھا کہ انہیں ہمارے جمہوری عمل میں مداخلت کے سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ صدر ٹرمپ روس کی جانب سے امریکہ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کو لاحق خطرات سے بخوبی واقف ہیں، وہ اس سلسلے میں مختلف محاذوں پر کام کر رہے ہیں جن سے ہمارے مفادات کا تحفظ ہو گا۔ چند ایک ثبوتوں کے طور پر، میں چند ایک باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا: روس سے تعلق رکھنے والے مختلف اداروں اور افراد پر ٹرمپ انتظامیہ 213 پابندیاں لگا چکی ہے۔ برطانیہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف احتجاج کے طور پرسیاٹل میں روسی سفارخانہ بند کر دیا گیا ہے، روس کے 60 سفارتکاروں کو امریکہ سے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ سان فرانسسکو میں روس کا قونصل خانہ بند کر دیا گیا ہے۔ روس میں موجود امریکہ کے سفارتی عملے میں 70 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے؛ اس سال صرف یورپ میں 150 فوجی مشقیں کی گئی ہیں، ان مشقوں میں امریکہ نے یا تو قائدانہ کردار ادا کیا یا ان میں شمولیت کی۔ یورپ کے دفاع کے لیے شروع کیے گئے اقدامات کے لیے 11 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔ [1] اور پچھلے ہی ہفتے ،ہم نے یوکرین اور جارجیا میں دفاعی ہتھیار فراہم کیے ہیں – یہ سب اقدامات ہیلسنکی میں ہونے والے اجلاس کے بعد کیے گئے ہیں – ہم نے یوکرین کو ملکی سلامتی کے لیے اضافی طورپر 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ سے قبل 8 برسوں میں ان میں سے ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا۔

اگر یہ کافی نہیں ہے تو ایک بہت طویل فہرست ہے، مجھے بہت خوشی ہو گی کہ میں ساری تفصیلات پڑھ کر سناوں، میرا خیال ہے کہ شاید آج ہی مجھے ایسا کرنے کاموقعہ ملے گا۔ میں اس کا منتظر ہوں۔

آخر میں، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ خفیہ اداروں کی اس بات سے متفق ہیں کہ روس نے ہمارے 2016 میں ہونے والے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔ انہیں اس بات کا بخوبی اور مکمل علم ہے کہ کیا ہوا تھا۔ میں جانتا ہوں، میں پچھلے ایک سال سے انہیں اس سے متعلق گاہے بگاہے آگاہ کرتا رہا ہوں۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو مجھے اس بارے میں کوئی ابہام نہیں۔ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس بات کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں جو کام ہمارے محب ہم وطن روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں، انہیں اس بات کا پورا ادراک ہے کہ ہمارے خفیہ اداروں کا یہ کام کس قدر مشکل اور خطرناک ہے اور مجھے یہ بھی علم ہے کہ وہ وزارت خارجہ میں کام کرنے والے زبردست اور قابل افراد کے متعلق بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔

بہت شکریہ، چیئرمین کورکر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں