rss

مذہبی آزادی کے فروغ پر اجلاس سے امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کے منتظم مارک گرین کا خطاب

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی
دفتر تعلقات عامہ

 

منتظم گرین: شکریہ سیم۔ سبھی کو سہ پہر بخیر۔ آپ سب کے ساتھ موجودگی میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور آج کی دنیا میں عبادت کی آزادی کی اہمیت پر کچھ کہنے کا موقع ملنا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے۔ اگلے دن میں اسی بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے یہاں واشنگٹن میں ایک عمارت پر موجود نشان کے بارے میں ایک زبردست کہانی سنی ہے۔ اس عمارت پر لکھا ہے ‘جوہری حملے کی صورت میں اس عمارت میں عبادت سے متعلق وفاقی پابندیاں عارضی طور پر معطل کر دی جائیں’

میں یہ امر یقینی بنانے پر وزیر خارجہ پومپئو اور سفیر براؤن بیک کا مشکور ہوں کہ ہم اس اہم موضوع پر بات چیت کے لیے کسی ایسے ناخوشگوار موقع کے منتظر نہیں ہیں۔ بعض مندوبین اس بات پر حیران ہوں گے امریکہ نے ایسا اجلاس کیوں بلایا ہے اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہمارے وقت اور توجہ کا مستحق کیوں ہے۔ میرے نکتہ نظر سے اور یوایس ایڈ کے رہنما کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔

امریکہ میں ہمارے لیے اپنے انفرادی عقیدے اور روایات کی بنیاد پر اپنے خالق کی عبادت کرنے کی آزادی ہماری قومی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔

یورپ میں جبر سے بھاگنے والے لوگوں کی بڑی تعداد امریکہ اسی لیے آئی تھی کہ یہاں مذہبی آزادی موجود تھی۔ جب وہ لوگ آ گئے تو جلد انہیں احساس ہوا کہ عقیدے کی آزادی آسان زندگی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ انہوں نے تکالیف برداشت کیں، خطرات کا سامنا کیا مگر اپنی بقا کے عمل میں کامیاب رہے۔ نقصانات اور گراوٹوں کے باجود ایک نئی اور آزاد سرزمین پر زندگی سے انہیں وہ کچھ ملا کہ اس کے بدلے میں ان لوگوں نے ہمیں ‘یوم تشکر’ جیسا تہوار دیا۔

کئی سال بعد ہمارے ایک عظیم صدر اور کئی انداز میں جدید دور کے نمائندہ امریکی رونلڈ ریگن اکثر اپنے اس اعتقاد کا اظہار کرتے تھے کہ امریکہ کو پہاڑی پر واقعی کسی روشن شہر کی طرح ہونا چاہیے اور اسے پوری دنیا کے لیے آزادی کی مثال بننا چاہیے۔ یقیناً وہ وہ امریکہ آنے والے انہی لوگوں میں شامل جان ونتھروپ کی بات دہرا رہے تھے جنہوں نے یہ خیال انجیل مقدس سے لیا تھا۔

ونتھروپ نے پہاڑی پر واقع ایک شہر کا تصور پیش کیا تھا۔ جب زائر میساچوسیٹس پہنچے تو ونتھروپ  کے اولین خطبے کا مرکزی خیال یہی تھا جس میں عبادت کی آزادی کی بات کی گئی تھی۔ ونتھروپ سے ڈیڑھ سو سال بعد مذہبی آزادی سے متعلق یہی عقیدت نوجوان امریکہ کے کردار کا مرکزی حصہ بن گئی اور ہمارے بانیوں نے ہمارے آئین میں موجود حقوق میں اسے اولین جگہ دی۔ آئین کی پہلی سطر کچھ اس طرح ہے کہ ‘کانگریس ایسا کوئی قانون نہیں بنائے گی جس میں مذہب پر آزادانہ طور سے عمل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہو’ عام طور پر اسے ‘پہلی امریکی آزادی’ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کی محض یہ وجہ نہیں کہ اس کا تذکرہ سب سے پہلے آیا ہے بلکہ یہ ہمیں عزیز ہماری دیگر تمام آزادیوں کی شرط اول ہے۔

عبادت کے انفرادی حق پر پابندی کے لیے حکومتی اختیار کو محدود کرنا امریکہ کی جانب سے انسانی تہذیب کو دیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا تحفہ ہے۔

اس اجلاس کے اہم ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم مذہبی آزادی کے حوالے سے جو بات چیت کر رہے ہیں وہ امریکی حدود سے بہت آگے دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ آسان الفاظ میں آج دنیا بھر میں اربوں لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے روحانی اعتقادات ان کی زندگیوں کو بامقصد اور بامعنی بناتے ہیں۔ ہر عقیدے کے ماننے والے اس حقیقت کو قبول کر کے انسانیت کو ایک دوسرے سے قریب لا سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے عبادت کے حق کا تحفظ دراصل ایک دوسرے کی انسانیت کا تحفظ ہے۔

یوایس ایڈ کے لیے کام کرتے ہوئے ہم عبادت کی آزادی کو عوامی فلاحی حکومت کے جزو لازم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ اظہار، اجتماع، میل جول اور عدم امتیاز کی آزادیوں کا جزولاینفک ہے۔ یو ایس ایڈ اس موضوع کو اس قدر بروقت اور اہم کیوں سمجھتا ہے، اس کی ایک تیسری اور کہیں زیادہ عملی وجہ بھی ہے۔ ترقیاتی کاموں میں معاونت ہو یا امدادی سرگرمیاں، ہمیں ادارے کے طور پر اپنے بنیادی مقصد کی تکمیل کے لیے دنیا کے کونے کونے میں ایسے لوگوں تک پہنچنا پڑتا ہے جہاں حکومتیں موثر نہیں ہوتیں یا وہاں نہیں جانا چاہتیں۔ ہمیں بھلائے گئے اور پسماندہ لوگوں سے رابطے  کے قابل ہونا چاہیے۔ کئی حالات میں کسی خاص عقیدے سے وابستہ تنظیموں کے ساتھ اشتراک سے ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی ملتی ہے۔

مدد کے مستحق نظرانداز کردہ لوگ عموماً مذہبی بنیاد پر کام کرنے والے ان شراکت کاروں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ یہ ایسے نیٹ ورکس اور وسائل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن سے ہمیں وہاں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے جہاں ہم اکیلے نہیں جا سکتے۔ مذہبی آزادی اہم ہے کیونکہ یہ عقیدے کی بنا پر کام کرنے والے گروہوں کا اپنی مذہبی وابستگی ترک کیے بغیر یوایس ایڈ کے ساتھ چلنا ممکن بنا دیتی ہے۔

میں اس سلسلے میں ایک چوتھی وجہ کا بھی تذکرہ کرنا چاہوں گا جس پر شاید آج سب سے زیادہ بات ہوئی ہے۔ یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ عموماً مذہبی عدم رواداری ہی تشدد اور جبر کا سبب بنتی  ہے اور یہاں اس خوبصورت شہر میں جمع ہم لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی ہے۔ سائرس اعظم سے تھامس جیفرسن تک انسانی تاریخ میں بہت سے رہنماؤں نے ہمیں بارہا خبردار کیا ہے کہ آزادی کی بقا کے لیے مذہبی عدم  رواداری کو روکنے کے لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے دور میں جب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا بطور ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں، ایسی عدم رواداری سے لاحق خطرات کبھی اتنے بڑے نہیں تھے جتنے آج دکھائی دیتے ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ میں نے اپنے حالیہ دوروں میں اسی خطرے کو وسیع پیمانے پر پھیلتے دیکھا ہے۔ جیسا کہ سفیر براؤن بیک نے نشاندہی کی، نائب صدر پنس کی ہدایت پر وہ اور میں ایک وفد کے ساتھ شمالی عراق گئے تھے۔ ہمارا مقصد بدترین تشدد سے متاثرہ لوگوں کے حالات کا بہتر طور سے جائزہ لینا تھا۔ اس دوران ہم داعش کے مظالم کا شکار عیسائیوں، یزیدیوں اور دوسرے اقلیتی گروہوں سے ملے۔ وہاں ہم نے دل دہلا دینے والی داستانیں سنیں۔

چار سال قبل جب داعش نے عراقی شہر تل سقف پر قبضہ کیا تو دہشت گردوں نے وہاں کیتھولک گرجا گھر کو منہدم کر دیا اور وہیں مذہبی رہنماؤں کے سر قلم کر دیے۔ یہ داعش کی نام نہاد خلافت میں عیسائیوں اور ایسے دوسرے کمزور مذہبی گروہوں کے خلاف اس کے قتل عام کی صرف ایک مثال ہے۔ ان کے خوفناک اور غیرانسانی حملوں نے اس علاقے میں بعض قدیم ترین مذہبی گروہوں کو قریباً ختم کر دیا تھا۔ گزشتہ 15 برس میں قریباً 90 فیصد عیسائی اپنے 1000 سالہ قدیم دیہات خالی چھوڑ کر عراق سے جا چکے ہیں۔

ایک اور قدیم مذہب کی پیروکار یزیدی آبادی کو بھی اسی طرح محدود کر دیا گیا اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے وفد نے کریملاش میں ایک گرجا گھر کا دورہ کیا جو حملے میں بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ وہاں ہم نے مذہبی رہنماؤں کی ٹوٹی پھوٹی قبریں دیکھیں۔ گرجا گھر کا مینار بھی بری طرح تباہ ہو چکا تھا مگر اس کی گھنٹی کسی نہ کسی طرح بچ رہی تھی۔ جب ہم وہاں گئے تو یہ گھنٹی بج اٹھی جیسے کہہ رہی ہو کہ مذہبی آزادی کو آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے داعش کے مظالم کا شکار رہنے والے یزیدیوں سے بھی ملاقات کی۔ ہم مہاجر کیمپ میں موجود ایک ماں کی آنکھیں کبھی نہیں  بھول پائیں گے۔ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اپنی زبان سے نہیں بتا پائی تھی۔ اس نے ہمیں ان لوگوں کی تصویریں دکھائیں جیسے ہم ان کی تلاش میں مدد دے سکتے ہوں۔ جہاں مذہبی عدم رواداری کو روکا نہیں جاتا وہاں کچھ ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔

یہاں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی سے ہماری وابستگی کا سچا ترین ثبوت یہ ہے کہ ہم دوسرے عقائد کے ماننے والوں کی آزادی کا بھی یکساں  تحفظ کرتے ہیں۔ یوں اس اصول کی توثیق ہوتی ہے کہ کسی ایک عقیدے پر حملہ تمام عقائد پر حملہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں بہت سے لوگ برما کی روہنگیا کمیونٹی کی حالت زار پر اس قدر پریشان ہیں۔

چند ماہ پہلے میں نے برما اور بنگلہ دیش کا دورہ کیا جس کا مقصد اس سات لاکھ مسلمان روہنگیا آبادی کے حالات کا مشاہدہ کرنا تھا جو برما کی راخائن ریاست سے جان بچا کر بنگلہ دیش میں مقابلتاً محفوظ علاقے کاکس بازار میں پناہ لیے ہوئے ہے ۔ جیسا کہ ہمارے دفتر خارجہ اور دیگر ذرائع نے دیکھا، روہنگیا لوگوں کو نسلی صفائی کا نشانہ بنایا گیا جس میں ماورائے عدالت ہلاکتیں، جنسی زیادتیاں، تشدد، مار پیٹ، گرفتاریاں، گھروں سے نکالا جانا اور گھربار کی تباہی شامل ہیں۔ یہ سب کچھ عدم رواداری اور فرقہ وارانہ نفرت کے سبب ہوا۔

میں نے برما میں سٹوی نامی مہاجر کیمپ  کا دورہ کیا جہاں میری ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی جو چھ سال سے وہاں موجود تھے۔ وہ مخصوص اور تحریری حکومتی اجازت کے بغیر اپنے گھروں کو جا سکتے تھے اور نہی ہی  کسی اور جگہ سفر کے مجاز تھے۔ ان کا گزربسر مخیر لوگوں کی جانب سے فراہم کردہ خوراک پر تھا اور انہیں صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔ اس کیمپ میں میری ملاقات ایک نوجوان مسلمان باپ سے ہوئی جس کی آنکھوں میں جھانکنا میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن لمحہ تھا۔ اس نے تکلیف دہ لہجے میں مجھے بتایا کہ اس کے بیٹے کی زندگی اسی کیمپ تک محدود ہے۔ اسے تعلیم تک رسائی نہیں ہے اور صرف وہی خوراک میسر ہے جو اجنبی لوگ یہاں دے جاتے ہیں۔ اس کا مستقبل تاریک ہے۔ میں نے کبھی کسی کی آنکھوں میں اس قدر مایوسی نہیں دیکھی تھی۔ اسے اپنے عقیدے اور نسل کی بنا پر یہ سب کچھ سہنا پڑ رہا تھا۔

مذہبی آزادی پر حملوں کی نوعیت بین المذہبی ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات آمرانہ حکومتیں لوگوں یا کسی مذہب کو اپنے مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنا چاہتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی میں نے میامی  میں نکارا گوا کے مقامی لوگوں سے خود سنا کہ وہاں حکومت لوگوں کے خلاف مذہبی بنیاد پر جبر کے ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے۔ وہاں اب تک 350 لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور اس تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ چرچ اور کلیسا کو امن اور مفاہمت کی بات کرنے پر حملوں کا سامنا ہے۔ چونکہ مذہبی پیشواؤں نے حکومتی مظالم کی تائید سے انکار کیا تھا اس لیے وہ حملوں کی زد میں ہیں اور ڈینیئل اورٹیگا کیتھولک چرچ پر اس کا الزام دھرتے ہیں۔

میامی میں رہنے والے نکارا گوا کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ کیسے اورٹیگا کی نیم عسکری فورسز نے ریورنڈ گوٹیریز کے گرجاگھر کو تباہ کیا۔ چلتی گولیوں میں پادری گوٹریز نے ایک مقامی ریڈیو سٹیشن سے بات کی اور رندھی ہوئی آواز میں بولے کہ ‘وہ گرجاگھروں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ حکومت ہمیں ہلاک کر رہی ہے’ نکارا گوا کے بشپ بائز نے حالیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘نکارا گوا کی حکومت اپنی حدود پار کر کے غیرانسانی اور غیراخلاقی  سلوک پر اتر آئی ہے۔ عام شہریوں خصوصاً طلبہ کے خلاف مجرمانہ نوعیت کا جبر ہر نکتہ نگاہ سے لائق مذمت ہے۔ ایسے میں عالمی برادری غیرمتعلق نہیں رہ سکتی’۔ وہ درست کہتے ہیں۔ ہم خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے اور اگر ہم مذہبی آزادی پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں اس صورتحال میں غیرمتعلق نہیں رہنا۔

اسی لیے آج ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ ہم مذہبی بنیاد پر جبر کا شکار لوگوں کو کیسے امید دلا سکتے ہیں؟ ہم ان کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ یقیناً یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے۔ آپ میں بہت سے لوگ دور دراز علاقوں اور بہت سے عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دنیا کے لیے ایک موثر اشارہ ہے۔ مذہبی آزادی اہم ہے۔ مذہبی آزادی عالمگیر خواہش ہے اور اس کے حامی جاگ رہے ہیں۔ اس اجلاس میں جاری ہونے والے بیانات، اعلامیے اور ہم اپنے ساتھ جو پیغامات لے کر واپس جائیں گے ان سے مصائب کاشکار لوگوں کو امید دکھائی دے گی۔ یقیناً صرف امید کافی نہیں ہوتی اور اگر اس کے ساتھ عملی اقدامات نہ ہوں تو یہ نامکمل رہتی ہے۔

یوایس ایڈ میں کام کرتے ہوئے ہم عبادت کی آزادی کو بنیادی انسانی حق سمجھتے ہیں۔ ہم ایسے پروگراموں کی مدد کر رہے ہیں جن کے ذریعے مذہبی نفرت پر مبنی بیانیے اور بین المذہبی تنازعات کی روک تھام، مذہبی آزادی کو تقویت دینے والے قوانین کے نفاذ اور اس مقصد کی حمایت میں سول سوسائٹی کی اہلیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ مدد تکنیکی معاونت اور سول سوسائٹی کی مالی معاونت کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ ہم اپنے شراکتی اور حصولی عمل  کو چھوٹی این جی اوز اور سول سوسائٹی کے گروہوں کے لیے آسان بنانے کی خاطر اصلاحات لا رہے ہیں۔ آپ میں موجود بہت سے لوگ اس میں ہمارے شریک کار ہوں گے۔ ہم پہلے آپ سے مشاورت کریں گے، آپ کے نکتہ ہائے نظر کو موثر طور سے دیکھیں گے اور کاغذی کارروائی کو محدود کیا جائے گا۔ ہم ایسے طریقے ڈھونڈیں گے جن کی بدولت آپ کی قوت اور اہلیت سے کام لیا جا سکے۔ مختصر یہ کہ ہمارا دروازہ ناصرف کھلا ہے بلکہ اس پر خوش آمدید بھی لکھا ہے۔

اس حوالے سے چوتھی اہم بات یہ ہے کہ ہمیں مذہبی عدم رواداری کو بدترین صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی اس کی روک تھام کرنا ہے اور اسے ہمیں نقصان پہنچانے سے پہلے تباہ کرنا ہے۔ جب اس نے نقصان پہنچا دیا تو پھر بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ چنانچہ ہم جن ممالک میں کام کر رہے ہیں وہاں صلاحیت اور عزم کو جانچنے کے لیے معیارات طے کر رہے ہیں۔ لبرل جمہوریت، سول سوسائٹی کی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کی تکثریت ایسے ہی چند معیار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب عدم رواداری بڑھ جائے تو یہ علامات اور انتباہ کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ جہاں تک آمرانہ کارروائیوں کا تعلق ہے تو ان کا اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے بلکہ ان کی روک تھام بھی مشکل نہیں ہوتی، تاہم یہاں بھی ہمیں چوکس رہنا ہو گا۔

جہاں تک یوایس ایڈ کی شراکت کا تعلق ہے تو ہم ایسی جگہوں پر نسلی و مذہبی تکثیریت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں جہاں ماضی میں اس کا وجود رہا ہو۔ یہ کسی مذہبی مواد کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بہت سی مذہبی روایات کے حوالے سے سماج کی رواداری کا معاملہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہبی تکثیریت ترقی کے لیے ضروری عنصر ہے اور اس سے ہماری اقدار کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

اس کی ایک واضح مثال شمالی عراق میں ملتی ہے۔ اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بیشتر عراقیوں کو ‘جزوی گروہ’ کہا جاتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں ایسا کیوں کہا جاتا ہے۔ میں اس کی اہمیت نہیں سمجھ سکا۔ کسی نے مجھے بتایا کہ عربی میں اس کا نہایت خاص مطلب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عراقی معاشرہ عیسائیوں اور یزیدیوں کے بغیر نامکمل ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراقی رہنماؤں کو صورتحال کا ادراک ہے۔ ہمیں انہیں ان کے ملک کی بابت سوچنے میں مدد دینی چاہیے۔ بہرحال خطے میں داعش کے ظہور سے پہلے یہ لوگ اسی طرح مل جل کر رہ رہے تھے۔ یو ایس ایڈ شمالی عراق میں عیسائیوں، یزیدیوں اور دیگر اقلیتوں کو درپیش مسائل کے فوری حل میں مدد دے رہی ہے اور انہیں گھروں کو واپسی اور اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کرنے میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

اکتوبر 2017 سے امریکی حکومت نے انسانی امداد اور استحکامی سرگرمیوں کی مد میں قریباً 118 ملین ڈالر دیے ہیں تاکہ داعش سے خالی کرائے گئے علاقوں میں انفراسٹرکچر اور زندگی تحفظ میں مدد دینے والی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں وہاں تعلیمی ادارے، طبی مراکز، بجلی گھر اور کنویں بنائے گئے ہیں۔ اس امداد سے عقیدے  کو دوبارہ کھڑا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس سے براہ راست مساجد، مقابر اور گرجا گھر بنائے جا سکتے ہیں۔ تاہم آپ اور میں باہم مل کر اس سے کچھ امید ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں ابھی مزید بہت کچھ ہونا ہے۔ ہم نے صرف شمالی عراق نہیں بلکہ ہر جگہ کام کرنا ہے۔ ہم مذہبی آزادی پر حملے کا جواب دیں گے۔ اس معاملے میں عقائد کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ شراکت لازم ہے۔ یہ کام اسی صورت موثر طور سے انجام دیا جا سکتا ہے۔

اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے میں اس واقعتاً تاریخی اجلاس کے انعقاد پر وزیر پومپئو اور سفیر براؤن بیک کا مشکور ہوں۔ میں اس مقصد اور کام کی پختہ حمایت پر نائب صدر پنس کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ رونلڈ ریگن نے کہا تھا کہ ‘جب مذہب پھلتا پھولتا ہے تو آزادی فروغ پاتی ہے’ آج ہم اسی سوچ کی توثیق کر رہے ہیں۔ آج ہم اس کے تحفظ میں اپنے کردار کی توثیق کر رہے ہیں۔

میں یہاں آنے پر آپ سبھی کا مشکور ہوں۔ آپ نے جو بھی کام کیا اس کے لیے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مزید اہم بات یہ کہ آپ جو کچھ کریں گے اس کے لیے بھی میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ یہ اس سفر کی جانب ہمارا ایک اور قدم ہے جو ہم نے سب نے شروع کرنا ہے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو تھامس جیفرسن اور سائرس اعظم کا انتباہ ہمارے سامنے ہے یعنی پھر ہماری آزادی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ شکریہ۔

 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں