rss

مذہبی آزادی کے فروغ پر وزارتی اجلاس

Português Português, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 
 

چین کی صورتحال پر بیان

عالمی برادری کے نمائندوں کی حیثیت سے ہمیں چین میں مذہبی آزادی پر نمایاں پابندیوں کے حوالے سے گہری تشویش ہے اور ہم چینی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام افراد کے انسانی حقوق کا تحفظ کرے۔ چین میں یغور، ہوئی اور قازق مسلمانوں، تبتی بدھوں، کیتھولک و پروٹسٹنٹ عیسائیوں اور فالن گانگ کے پیروکاروں سمیت مذہبی اقلیتی گروہوں کے بہت سے ارکان کو اپنے اعتقادات کی بنا پر شدید جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان لوگوں کی جانب سے متواتر ایسی اطلاعات سامنے آتی ہیں جن سے رجسٹرڈ اور غیررجسٹرڈ مذہبی گروہوں کے خلاف اپنے مذہبی اعتقاد سے متعلق پرامن سرگرمیوں کی پاداش میں حکام کے مبینہ تشدد، جسمانی بدسلوکی، من مانی گرفتاریوں، قید کی سزا یا ہراساں کیے جانے کا اندازہ ہوتا ہے۔ حکام ان لوگوں پر سفری پابندیاں بھی عائد کرتے ہیں اور بہت سے مذہبی گروہوں کے رہنماؤں کے چناؤ، تعلیم اور تکریم کے عمل میں بھی مداخلت کی جاتی ہے۔ ہمیں یغور مسلمانوں اور تبتی بدھوں کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت دبانے کے لیے حکومت کی طویل عرصہ سے جاری کوششوں پر تشویش ہے۔

خاص طور پر ہمیں چینی حکومت کی جانب سے یغور آبادی اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں کے خلاف شدید ہوتی کارروائیوں پر تشویش ہے۔ ان میں مذہبی آزادی پر ناجائز پابندیاں، مساجد کی تباہی، کڑی نگرانی، یغور باشندوں کو جبراً چین منتقل کرنے کے لیے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں یا سنکیانگ میں موجود ان لوگوں کے اہلخانہ کو اپنے عزیزوں کو واپس بلانے پر مجبور کرنا اور بظاہر سنکیانگ یغور خودمختار علاقے میں ‘سیاسی تعلیم نو’ کے نام پر ہزاروں اور ممکنہ طور پر لاکھوں یغور باشندوں نیز دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں کے ارکان کو عارضی حراستی مراکز اور جیل خانوں میں ڈالنا شامل ہے۔ ایسے مراکز میں قیدیوں کی اموات کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ہم چینی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ناجائز طور سے گرفتار ان تمام لوگوں کو فوری رہا کرے۔

ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ حکومت عبادت گاہوں کو تباہ کر رہی ہے یا ان تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔ ان میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک گرجا گھر اور کمیونٹی کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ 2016 سے اب تک حکام نے لارنگ گر اور یاشن گر میں تبتی بدھ اداروں سے کم از کم 11500 بھکشوؤں اور راہباؤں کو بے دخل کیا ہے۔ حکام انجیل، قرآن اور دوسری مذہبی کتب تک رسائی محدود کرنے، مذہبی مواد کی ضبطی اور تلفی میں بھی ملوث ہیں۔ ہمیں تمام مذہبی گروہوں کی سرگرمیاں حکومتی ہاتھوں میں دینے سے متعلق ترمیمی ضوابط کے اثرات اور چین میں غیرملکیوں کی مذہبی سرگرمیوں سے متعلق بنائے گئے قوانین پر بھی تشویش ہے۔

ہم چینی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام افراد کی مذہبی آزادی کا تحفظ کرے اور چین کی جانب سے مذہبی آزادی کے احترام سے متعلق عالمی برادری سے کیے وعدوں کی مطابقت سے تمام مذہبی گروہوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔ ایسا ہونے کی صورت میں چین اور اس کے ہمسایوں میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں