rss

مذہبی آزادی کے فروغ پر وزارتی اجلاس

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 
 

مایران کی صورتحال پر بیان

عالمی برادری کے نمائندوں کی حیثیت سے ہم ایران میں مذہبی آزادی کی باقاعدہ، جاری اور سنگین خلاف ورزیوں کی مشترکہ طور پر مذمت کرتے ہیں اور حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام لوگوں کی مذہبی آزادی یقینی بنائیں۔ ایرانی مذہبی اقلیتوں کے بہت سے ارکان بشمول بہائیوں، یہودیوں، زرتشتوں، سنیوں اور صوفی مسلمانوں کو اپنے اعتقادات کی بنا پر امتیای سلوک، ہراساں کیے جانے اور ناجائز قیدوبند کا سامنا ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے گونابادی صوفیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں سینکڑوں لوگ ناجائز قید میں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران کی سفاک سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ان میں متعدد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ جون میں ایران نے ایک صوفی بس ڈرائیور کو پھانسی پر لٹکا کر سزائے موت دے دی۔ ان کے مقدمے کو عالمی مبصرین نے ‘شدید غیرمنصفانہ’ قرار دیا تھا جبکہ اس گروہ کے 91 سالہ مذہبی رہنما ڈاکٹر نور علی تابندہ کو گھر نظر بند رکھا گیا ہے اور انہیں انتہائی ضروری طبی نگہداشت بھی میسر نہیں۔ بہائیوں کو بھی خاص طور پر برے سلوک کا سامنا ہے۔ دیگر اقلیتی برادریوں کی طرح ایرانی حکام کی جانب سے بہائیوں کو بھی ان کے عقیدے کی بنا پر ہراساں کیے جانے، گرفتاریوں اور بدسلوکی کا سامنا ہے۔ مئی میں بہائی عالمی برادری نے ملک بھر میں ناجائز گرفتاریوں اور چھاپوں میں اضافے کی اطلاع دی تھی۔ ایک بہائی رہنما عفیف نعیمی کو اپنی مذہبی وابستگی کی بنا پر جیل جانا پڑا جو ناساز صحت کے باوجود 2008 سے 10 سال قید کاٹ رہے ہیں۔ ایرانی حکام تواتر سے بہائی مخالف بیانات دیتے ، بہائیوں کے کاروبار بند کرتے اور ان کی تعلیم تک رسائی روکتے ہیں۔

ایرانی حکومت نے مخالفین، سیاسی اصلاح کاروں اور پرامن مظاہرین کو ان کے پرامن مذہبی اعتقادات اور سرگرمیوں کی بنا پر سزائے موت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق ایران کی ذمہ داریوں سے برعکس وہاں توہین مذہب، اسلام سے ارتداد اور مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرنے کی سزا موت ہے۔ حکام عیسائیوں کی مذہبی رسومات کی کڑی نگرانی کرتے ہیں تاکہ تبدیلی مذہب کو روکا جا سکے، نتیجتاً پادریوں اور گرجا گھروں کے ارکان کو جیلوں میں بھیجا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں کی حمایت نہ کرنے والے شیعہ مسلمان رہنماؤں کو بھی قیدوبند کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایران میں سنی عربوں کو ان کے مذہبی اعتقادات کے باعث تواتر سے ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں حتیٰ کہ توہین مذہب جیسے جرائم پر سزائے موت بھی دے دی جاتی ہے جو انسانی حقوق سے متعلق ایران کی ذمہ داریوں کے تحت ‘انتہائی سنگین جرم’ کی ذیل میں بھی نہیں آتا۔ ایسے گروہوں کی مذہبی کتب اور تعلیمات پر بھی ملک بھر میں بڑی حد تک پابندی ہے۔

جو ممالک مذہبی آزادی اور دیگر انسانی حقوق کا احترام یقینی بناتے ہیں وہ دوسروں سے زیادہ محفوظ، مستحکم اور پرامن ہوتے ہیں۔ ہم ایرانی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں بند کرے اور یہ امر یقینی بنائے کہ عقائد سے قطع نظر تمام لوگوں سے مساوی سلوک ہو اور وہ امن وسلامتی سے زندگی گزاریں اور اپنے اعتقادات پر عمل کے لیے آزاد ہوں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں