rss

مذہبی آزادی کے فروغ پر وزارتی اجلاس

English English, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 
 

توہین مذہب اور ارتداد کے قوانین پر بیان

عالمی برادری کے نمائندوں کی حیثیت سے ہم مذہب اور اظہار کی باہم مربوط آزادیوں کی حمایت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ مشترکہ طور پر ہم ایسے قوانین کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو کسی عقیدے کو اختیار کرنے، اس پر عمل، اپنا مذہب تبدیل کرنے، کسی مذہب کو اختیار نہ کرنے، دوسروں کو اپنے اعتقادات کی بابت بتانے اور عمل کرنے نیز مذہب یا عقیدے کے پہلوؤں پر کھلے عام بات کرنے کے سلسلے میں افراد کی آزادی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ایسے قوانین انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے اور شہری و سیاسی حقوق کے بارے میں عالمگیر میثاق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

متعدد ممالک نے ایسے قوانین بنا رکھے ہیں جن کے تحت توہین مذہب، ارتداد یا مذہبی جذبات کی ‘بدنامی’ یا ‘توہین’ جرم قرار پاتی ہے۔ عموماً ایسے قوانین کو مذہب کے نام پر منفی سرگرمیوں اور اجتماعی تشدد کا جواز گھڑنے یا ذاتی رنجشوں کا بدلہ لینے کے لیے غلط بیانی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں حکومتیں ایسے لوگوں کو سزا دینے کے لیے ان قوانین کو استعمال کرتی ہیں جو مذہبی معاملات پر سرکاری بیانیے یا اکثریتی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ہم مل کر ایسے قوانین کی حامل حکومتوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ ایسی بنیادوں پر قید میں ڈالے گئے افراد کو رہا کر دیں اور دنیا بھر سے توہین مذہب، ارتداد اور ایسے دیگر قوانین کے خاتمے کے لیے کام کریں گے جو اظہار، مذہب یا عقیدے کی آزادیوں پر رکاوٹیں عائد کرتے ہیں۔ ہم مذہبی عدم رواداری سے جنم لینے والے امتیاز اور تشدد جیسے مسائل کے حل میں مدد دینے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ ایسے انداز میں کام کے لیے پرعزم ہیں جس سے بنیادی آزادیوں بشمول مذہب اور اظہار کی آزادی پر زد نہ پڑے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں