rss

مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے وزارتی اجلاس پوٹومیک اعلامیہ

Français Français, English English, العربية العربية, Русский Русский, Español Español, Português Português, हिन्दी हिन्दी

24 تا 26 جولائی 2018

 

ابتدائیہ:
انسانی حقوق اعلامیے کے آرٹیکل 18 میں قرار دیا گیا ہے کہ ”ہر شخص کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنے کی آزادی اور انفرادی طور پر یا معاشرے میں دوسروں کے ساتھ کھلے عام یا نجی طور سے تعلیمات، عمل، عبادت اور رسومات میں اپنے مذہب یا عقیدے کے اظہار کی آزادی شامل ہیں۔ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی خدا کا عطا کردہ حق ہے جو ہر ایک کو حاصل ہے۔ خدا کی تلاش اور اس کے مطابق عمل کرنے بشمول اپنے ضمیر کے مطابق عمل کا انفرادی حق انسانوں کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومتیں کسی انسان سے جائز طور پر یہ حق واپس نہیں لے سکتیں۔ اس کے بجائے مذہبی آزادی کادفاع اور تحفظ ہر ملک کی ذمہ داری ہے۔

آج ہم 70 سال پہلے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے میں بیان کردہ مثالی تصور سے کہیں دور ہیں جس کے مطابق ‘ہر فرد کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی میسر ہے’۔ دنیا بھر میں اس حق پر حملے ہو رہے ہیں۔ قریباً 80 فیصد عالمی آبادی کا یہ حق سختی سے محدود کر دیا گیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو مذہب، عقیدے یا عقیدہ نہ رکھنے کی بنیاد پر روزانہ ایذارسانی، جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ اب ان مسائل کے خلاف براہ راست اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔

مذہب یا عقیدے کا دفاع عالمی برادری کی مجموعی ذمہ داری ہے۔ اندرون ملک اور ممالک کے مابین امن و استحکام کے لیے مذہبی آزادی لازمی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں مذہبی آزادی کا تحفظ ہوتا ہے وہاں اظہار، میل جول اور پر امن اجتماع جیسی آزادیاں بھی فروغ پاتی ہیں۔ مذہب پر آزادانہ عمل کو تحفظ دینے سے براہ راست مذہبی آزادی، معاشی ترقی اور قانون کی حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ہم جنگیں، عدم استحکام اور دہشت گردی دکھائی دیتی ہے۔

مذہبی آزادی عام ہونے سے ہی ہماری دنیا انسانوں کے رہنے کی بہتر جگہ بن سکتی ہے۔ انسانی تاریخ میں معاشروں کے پھلنے پھولنے میں انفرادی و اجتماعی مذہبی عقیدے اور اظہار کی آزادی کا اہم کردار رہا ہے۔ عقیدے کے حامل لوگ ہمارے معاشروں میں انمول کردار ادا کرتے ہیں۔ عقیدہ اور ضمیر لوگوں کو امن، رواداری اور انصاف کے فروغ کی ترغیب دیتا ہے، یہ غریب کی مدد، بیمار کی نگہداشت، بے خانماں کی حفاظت، عوامی مباحثوں میں شمولیت اور ملک و قوم کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔

مذہبی آزادی دور اثر، عالمگیر اور عمیق مذہبی حق ہے جس کا دنیا بھر میں تمام لوگوں اور نیک نیت حکومتوں کو دفاع کرنا چاہیے۔

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذہبی آزادی کے فروغ سے متعلق وزارتی اجلاس کے چیئرمین نے قرار دیا ہے کہ:

ہر جگہ ہر شخص کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ ہر فرد کو اپنی مرضی کے مذہب یا عقیدے پر عمل کرنے یا کوئی بھی عقیدہ اختیار نہ کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

مذہبی آزادی عالمگیر اور ناقابل انتقال ہے اور ممالک کو ہر صورت اس انسانی حق کا احترام اور تحفظ کرنا چاہیے۔

فرد کا ضمیر ناقابل فسخ ہے۔ انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کے مطابق ضمیر کی آزادی کا حق مذہبی آزادی کا بنیادی جزو ہے۔

تمام افراد انسانیت کا حصہ ہونے کے ناطے برابر ہیں۔ کسی فرد کے مذہب یا عقیدے کی بنا پر اس سے کسی طرح کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ ہر فرد مذہبی وابستگی یا کسی عقیدے سے وابستگی نہ ہونے سے قطع نظر قانون کے تحت مساوی تحفظ کا حق دار ہے۔ شہریت یا انسانی حقوق پر عمل اور بنیادی آزادیوں کا انحصار مذہبی شناخت یا وراثت پر نہیں ہونا چاہیے۔

کسی فرد پر دباؤ ڈال کر اسے کوئی مخصوص مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنا مذہبی آزادی سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس کی خلاف ورزی ہے۔ مذہب کے ماننے اور نہ ماننے والوں کو جسمانی طاقت یا قانونی سزاؤں کے ذریعے کوئی عقیدہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا، اپنے عقیدے کو چھوڑنے یا اپنا عقیدہ ظاہر کرنے کے لیے کہنا مذہبی آزادی سے برعکس ہے۔

حقوق کے حامل تمام افراد کو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد اکیلے یا دوسروں کے ساتھ اور کھلے عام یا نجی طور سے اپنے اس حق پر عمل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ مذاہب بذات خود انسانی حقوق کے حامل نہیں ہیں تاہم مذہبی طبقات اور ان کے اداروں کو اپنے انفرادی ارکان کو حاصل انسانی حقوق سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مختلف عقائد کے حامل طبقات اور مذہب پر یقین نہ رکھنے والے لوگوں کو اپنے معاشروں میں برابر حقوق حاصل ہیں۔ مذہب کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری مذہب یا روایتی عقیدے سے فرد کی مذہبی آزادی متاثر نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی طرح دیگر عقائد کے حامل اور مذہب کو نہ ماننے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے اجتناب برتا جانا چاہیے۔

مذہب یا عقیدے کی آزادی کا کئی طرح سے اظہار ہوتا ہے اور اس میں وسیع طریقہ ہائے عمل شامل ہیں۔ ان میں عبادت، رسومات، دعا، عمل، تعلیمات اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ والدین اور قانونی سرپرستوں کو یہ امر یقینی بنانے کی آزادی حاصل ہے کہ ان کے بچوں کی مذہبی اور اخلاقی تعلیم ان کے اپنے اعققادات سے مطابقت رکھتی ہے۔

انسانی تاریخ اور آج کے معاشروں میں مذہب کا اہم کردار ہے۔ ثقافتی ورثے کے مقامات اور ماضی، حال و مستقبل کے مذاہب کے حوالے سے اہمیت کی حامل اشیا کی حفاظت اور احترام کیا جانا چاہیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں