rss

وزیر خارجہ مائیک پومپئو کا مذہبی آزادی کے فروغ پر وزارتی اجلاس سے خطاب

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 جولائی 2018
لوئے ہینڈرسن آڈیٹوریم
واشنگٹن ڈی سی

 

وزیر خارجہ پومپئو: سبھی کو صبح بخیر اور یہاں آنے پر آپ تمام لوگوں کا شکریہ۔ مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے پہلا وزارتی اجلاس بلانا دفتر خارجہ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ یہ اجلاس اس اہم آزادی کے تحفظ کی خاطر صدر ٹرمپ کے آہنی عزم کا اظہار ہے۔

میں یہاں آنے پر نائب صدر پنس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ اپنے عقیدے پر پورا یقین رکھنے والے آدمی ہیں اور مذہبی آزادی کے تحفظ میں ان کا عزم بے مثل ہے۔ میں کنساس جیسی عظیم ریاست سے تعلق رکھنے والے سفیر براؤن بیک اور عالمگیر مذہبی آزادیوں سے متعلق ٹیم کا بھی مشکور ہوں جس نے اس اہم مشن کا انعقاد ممکن بنایا اور اپنی نوعیت کا یہ منفرد اجلاس بلایا۔

چونکہ یہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا اجلاس ہے اس لیے ہم درست طور سے نہیں جانتے تھے کہ اس کا کیا ردعمل آئے گا۔ اپنے اردگرد دیکھیے، کتنا زبردست منظر ہے۔ تاہم ردعمل انتہائی مثبت ہے۔ میں اس وقت یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم آئندہ سال ایک مرتبہ پھر یہ اجلاس بلائیں گے (تالیاں)

اس برس 80 سے زیادہ مندوبین  بشمول دنیا بھر سے وزارتی درجے کے درجنوں نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ اس مقصد کو اپنے ملک میں ترجیحی حیثیت دینے اور ہمارے ساتھ کام کرنے کا شکریہ۔

میرا اپنا عقیدہ میرے لیے ذاتی طور پر بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی ہونے کے ناطے مجھے کسی خوف، ایذارسانی یا حکومت کی جانب سے کسی انتقامی کارروائی کے خدشے سے بے نیاز ہو کر اپنی عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع میسر آیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ دوسرے لوگوں کو بھی یہی کچھ ملے۔ مذہبی آزادی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے غیرمتزلزل عزم اور مذہبی آزادی پر اس پہلے اجلاس کے انعقاد کا محرک میری اپنی ذاتی داستان نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں امریکی داستان میں پیوست ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ جانتی ہے کہ مذہبی آزادی امریکی آزادی کا بنیادی حصہ ہے اور موجودہ انتظامیہ کے ابتدائی ایام بلکہ ہمارے ملک کی ابتدا ہی سے ہی یہ بات واضح ہے۔

امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں مذہبی آزادی کو فروغ دیتا ہے کیونکہ یہ خاص طور پر امریکی حق نہیں ہے۔ یہ خدا کی جانب سے تمام انسانوں کو دیا گیا حق ہے۔ 70 سال پہلے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے نے اس کی توثیق کی تھی جب 48 ممالک نے قرار دیا تھا کہ ”ہر فرد کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے”

چند ہی لمحوں میں نائب صدر اس پر مزید تفصیل سے بات کریں گے۔ یہاں مجھے یہ بات دہرانا ہے کہ تمام عقائد سے تعلق رکھنے والے کروڑوں لوگوں کو روزانہ مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس پر خاموش نہیں رہے گی۔ جہاں تک دفتر خارجہ کا تعلق ہے تو یہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی یقینی بنانے کے لیے اپنا وہ اچھا کام جاری رکھے گا جو وہ کئی سال سے کرتا چلا آیا ہے۔

اس وقت ہم پاسٹر اینڈریو برنسن کو وطن واپس لانے کے لیے ترکی کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ نائب صدر اس پر مزید بات کریں گے۔

آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ دفتر خارجہ عراق کے علاقے نینوا میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے اضافی 17 ملین ڈالر مہیا کر رہا ہے (تالیاں) یہ ان 90 ملین ڈالر کے علاوہ ہیں جو جو ہم نے اسی برس فراہم کیے ہیں۔ اضافی امداد سے ایسے علاقوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے میں مزید پیش رفت ہو گی جہاں مذہبی اقلیتوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور جو داعش کی نسل کشی کا نشانہ بن چکی ہیں۔

اس موقع پر میں مذہبی ایذارسانی کا نشانہ بننے والے ان لوگوں کو خراج تحسین چاہتا ہوں جو آج یہاں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ہم آپ کے ذاتی حوصلے اور عقیدے پر استقامت کی قدر کرتے ہیں۔ آپ نے اپنے اور اپنے اہلخانہ کے خلاف انتہائی برے سلوک کے باوجود قابل قدر کام کیا۔ خدا آپ پر رحمت کرے (تالیاں)

جب مذہبی آزادی کو فروغ ملتا ہے تو ملک ترقی پاتا ہے۔ آج اس حوالے سے ازبکستان کی مثال پیش کرتے ہوئے ہم مزید آزاد معاشرے کے لے وہاں اٹھائے جانے والے اقدامات کی ستائش کرتے ہیں۔ ہمیں بھرپور یقین ہے کہ پہلے سے زیادہ مذہبی آزادی سے اس ملک، وہاں کے معاشرے اور پورے خطے میں مزید مثبت تبدیلی جنم لے گی۔

ہم نے متعدد خلیجی ممالک میں بھی یہی کچھ دیکھا ہے۔ جب یہ خطہ اقتصادی مرکز میں تبدیل ہوا اور بہت سے عقائد سے تعلق رکھنے والے غیرملکیوں نے وہاں کا رخ کیا تو خطے کی متعدد حکومتوں نے مذہبی آزادی کے سلسلے میں بہت سے اہم اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں گرجا گھروں اور عبادت گاہوں جیسی جگہیں تعمیر کرائیں اور یوں عالمگیر سرمایہ کاری کےلیے خود کو مزید پرکشش جگہ بنا لیا۔

دفتر خارجہ اور امریکی حکومت نے اس حوالے سے چند دیگر اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ ہم نے ایک نیا ‘انٹرنیشنل ویزیٹر لیڈرشپ پروگرام’ تخلیق کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلق امور پر بڑھ چڑھ کر کام کرنے والوں کو امریکہ لایا جائے۔ یہ دس روزہ منصوبہ ہے جس میں مذہبی تکثیریت کے فروغ اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

دوسری بات یہ کہ اکتوبر میں دفتر خارجہ ‘بولڈ لائن’ کے عنوان سے ایک سہ روزہ ورکشاپ منعقد کرے گا جس کا مقصد سرکاری و نجی شعبے کی ایسی شراکتوں کو فروغ دینا ہے جن سے دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے فروغ اور تحفظ میں مدد مل سکتی ہو۔

تیسری بات یہ کہ آج ہم اپنے اس اہم کام کو دنیا بھر میں جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم بہت سے ممالک کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو مذہبی آزادی کے موضوع پر علاقائی سطح پر ایسی مزید کانفرنسوں کے انعقاد پر آمادہ ہیں۔ میں اس سلسلے میں اپنی مدد کرنے والے ہر ملک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج دن کے اختتام پر ہم  پوٹومیک اعلامیے اور پوٹومیک عملی منصوبے کا اجرا کریں گے۔ یہ دستاویزات مذہبی آزادی کے فروغ اور دفاع کے لیے امریکہ کے اٹل عزم کا اظہار ہیں۔ یہ ایسے ٹھوس طریقہ ہائے کار سامنے لاتی ہیں جن کے ذریعے عالمی برادری اور حکومتیں مذہبی آزادی اور کمزور مذہبی طبقات کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔ ہم برما، چین، اور ایران جیسے خاص ممالک اور آج ہماری دنیا میں مذہبی آزادی کو درپیش بعض بڑے مسائل کے حوالے سے متعدد بیانات بھی جاری کریں گے۔

مجھے آج اپنے نمایاں مقرر کا تعارف کراتے ہوئے اپنی بات ختم کر کے خوشی ہو گی۔ عوامی خدمت کے تمام ماہ و سال میں انہوں نے بے آوازوں کے لیے آواز بلند کرنا ہی اپنی ترجیح رکھی ہے۔ مذہبی آزادی کے حوالے سے ان کا عزم تمام عقائد سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین کو یقین دلاتا ہے کہ نائب صدر مائیک پنس کی صورت میں ان کے پاس ایک زبردست دوست اور ان کے حقوق کا حامی موجود ہے۔ ان کے استقبال میں میرا ساتھ دیجیے (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں