rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا بھیانک ایرانی معاہدے کے تحت اٹھائی گئی پابندیوں کا ازسرنو نفاذ

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 اگست 2018

 
 

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا بھیانک ایرانی معاہدے کے تحت اٹھائی گئی پابندیوں کا ازسرنو نفاذ

”ہماری حکمت عملی ایرانی آمریت، اس کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت اور مشرق وسطیٰ و دنیا بھر میں جاری اس کی جارحیت کے بارے میں واضح اندازے پر مبنی ہے” ۔۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

کڑی پابندیوں کا ازسرنو نفاذ: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی انتظامیہ مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) کے تحت اٹھائی گئی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے لیے قدم اٹھا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ‘جے سی پی او اے’ میں امریکی شرکت ختم کرتے وقت واضح کر دیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایرانی حکومت کے خلاف ازسرنو کڑی پابندیاں عائد کرے گی۔

‘جے سی پی او اے’ سے دستبرداری کے سلسلے میں انتظامیہ نے ایران میں یا اس کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں لپیٹنے کے لیے 90 اور 180 یوم کے دو دورانیے ترتیب دیے۔

صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مطابقت سے انتظامیہ 6 اگست کے بعد مخصوص پابندیوں کا ازسرنو نفاذ کرے گی جو کہ 90 روزہ دورانیے کا حتمی دن ہے۔

7 اگست کو درج ذیل معاملات میں پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔

ایرانی حکومت کی جانب سے امریکی بینک نوٹوں کی خریداری یا حصول۔

سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں میں ایران کی تجارت۔

صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی گریفائٹ، ایلومینیم، سٹیل، کوئلہ اور سافٹ ویئر۔

ایرانی ریال سے متعلق لین دین۔

ایران کی جانب سے خودمختارانہ قرضے کے اجرا سے متعلق سرگرمیاں۔

ایران کا گاڑیوں کی تیاری سے متعلق شعبہ۔

بقیہ پابندیاں 5 نومبر سے دوبارہ نافذ ہوں گی جن میں درج ذیل چیزوں پر پابندیاں بھی شامل ہیں:

ایرانی بندرگاہوں کے آپریٹر اور توانائی، جہازرانی و جہاز سازی کے شعبہ جات۔

ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے متعلقہ لین دین۔

غیرملکی مالیاتی اداروں کی جانب سے ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین۔

انتظامیہ سینکڑوں ایسے افراد، اداروں، بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرے گی جو قبل ازیں ایسی فہرستوں کا حصہ تھے۔

پابندیوں کے مکمل نفاذ کی ضمانت: صدر ٹرمپ ایرانی حکومت کی جارحیت کے سامنے کھڑے رہیں گے اور امریکہ ازسرنو پابندیوں کو پوری قوت سے نافذ کرے گا۔

ایرانی حکومت نے عالمگیر مالیاتی نظام کو اپنی ضرررساں سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا۔

ایرانی حکومت نے ان مالی وسائل کو دہشت گردی کی معاونت، ظالم حکومتوں کو تقویت پہنچانے، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اپنے ہی عوام کے انسانی حقوق کی پامالی کے لیے استعمال کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ازسرنو عائد کردہ پابندیوں کا پوری طرح اطلاق چاہتی ہے اور جو ممالک ایران کے ساتھ اپنی سرگرمیاں ختم کرنے میں ناکام رہیں گے انہیں سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔

8 مئی کو صدر کی جانب سے ‘جے سی پی او اے’ سے دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیے جانے کے بعد انتظامیہ اب تک 6 الگ الگ اقدامات میں ایران سے متعلقہ 38 اہداف پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

قومی سلامتی کا تحفظ: ‘جے سی پی او اے’ بنیادی طور پر ہی نقائص سے بھرپور تھا اور یہ امریکی عوام کے تحفظ کی ضمانت دینے میں ناکام رہا۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ اپنا اعلیٰ ترین فریضہ نبھانے کے لیے کیا جو کہ امریکی عوام کے تحفظ اور سلامتی کا دفاع ہے۔

‘جے سی پی او اے’ کی آڑ میں ایرانی حکومت نے مزید جارحانہ طرزعمل اختیار کیا اور اسے اپنی ضرررساں سرگرمیوں کے لیے مزید وسائل تک رسائی مل گئی۔

ایرانی حکومت کی جانب سے امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کو دھمکانے، عالمگیر مالیاتی نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور دہشت گردی و بیرون ملک آلہ کاروں کی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی انتظامیہ اپنے اتحادیوں سے مل کر ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ ایسے معاہدے پر پہنچا جا سکے جو ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں تک پہنچنے کی تمام راہیں مسدود کرے اور جس سے اس کی دوسری نقصان دہ سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں