rss

آئندہ امریکہ انڈیا ‘2+2’ مذاکرات کا جائزہ

English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کی خصوصی بریفنگ
بذریعہ ٹیلی کانفرنس

 

نگران: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ آئندہ امریکہ انڈیا ‘2+2’ مذاکرات کے بارے میں آج کی بریفنگ میں شمولیت کا شکریہ۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ یہ پس منظر بریفنگ ہے۔ صورتحال کے مطابق آپ کی اپنی آگاہی کے لیے یاد رہے کہ آج (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول) ہمارے ساتھ ہیں جنہیں انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول کہا جائے گا۔ ان کے ساتھ (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم) ہوں گے جنہیں انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم کہا جائے گا۔

اب میں انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کو گفتگو کی دعوت دوں گا جو مختصر کلمات کے ساتھ ہماری بریفنگ کا آغاز کریں گے۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول۔ شکریہ۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: شکریہ۔ میرے ساتھ موجودگی پر آپ کا شکریہ۔ مجھے آئندہ امریکہ انڈیا ‘2+2’ مذاکرات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے خوشی ہےجو 6 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوں گے۔ ہمیں ان مذاکرات میں امریکی شرکت کے اہتمام میں دفتر خارجہ و دفاع کے مابین قریبی تعاون کا پیشگی اعتراف کرتے ہوئے خوشی ہو گی۔

یہ ‘2+2’ مذاکرات سفارتی معاملات اور سلامتی کے شعبے میں اہم ترجیحات کے حوالے سے انڈیا کے ساتھ ہمارے تعاون میں اضافے کا ایک اہم موقع ہیں۔ مجھے علم ہے کہ وزیر پومپئو اور وزیر ماٹس کو اعزاز حاصل ہوا ہے، معاف کیجیے، وزیر پومپئو کو ایسے اہم موقع پر وزیر خارجہ کی حیثیت سے انڈیا کے پہلے دورے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ یہاں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اس کوشش میں شراکت پر انڈیا کی وزیر برائے خارجہ امور سواراج، وزیر دفاع سیتھارامن اور انڈین حکومت کے مشکور ہیں۔

وزیر خارجہ اور وزیر ماٹس کا آگے پیچھے دورہ امریکہ اور انڈیا میں گہری ہوتی تزویراتی شراکت کا بین ثبوت ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا خطے میں سلامتی کے حوالے سے ایک اہم فراہم کنندہ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی میں انڈیا کے مرکزی کردار کو قومی سلامتی کی صدارتی حکمت عملی اور امریکی انتظامیہ کی جنوبی ایشیا اور خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے حکمت عملی میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

چنانچہ یہ میرا پہلا پیغام ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلق امریکہ کی اہم ترجیح ہے اور یہ ہماری قومی سلامتی کا جزو لازم ہے۔

دوسری بات جس پر میں زور دینا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ ‘2+2’ مذاکرات کے حوالے سے ہمارے پاس نہایت مکمل اور پرعزم ایجنڈا ہے جس میں خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے ہمارے مشترکہ تصور کو ترقی دینا بھی شامل ہے۔ ہندوالکاہل میں ایک جیسی جمہوریتوں کے طور پر امریکہ اور انڈیا اس خطے میں سلامتی و خوشحالی کے فروغ میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں۔ باہم مل کر اور دوسرے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ ہم سمندروں اور فضاؤں کی آزادی یقینی بنانے، منڈی کی معیشتوں کے فروغ، اچھی حکمرانی کی حمایت اور خودمختار ممالک کو بیرونی دباؤ سے آزاد رکھنے کے خواہاں ہیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں انڈیا ۔۔۔ امریکہ، معاف کیجیے، امریکہ نے 2016 میں انڈیا کو اپنا بڑا دفاعی شراکت دار قرار دیا تھا۔ یہ درجہ انڈیا سے ہی مخصوص ہے اور اس درجے کو عملی صورت دینا بھی ‘2+2’ مذاکرات کا اہم حصہ ہو گا۔ ہم دونوں ممالک کی افواج کے باہمی تعلقات میں پیش رفت اور انہیں مزید مضبوط بنائے جانے نیز مزید بڑے پیمانے پر معلومات کے تبادلے اور باہم تعامل کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم دفاعی تجارت کو وسعت دینے کے خواہاں بھی ہیں جو 2008 میں وجود نہیں رکھتی تھی جبکہ 2019 میں اس کا حجم اندازاً 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی حکومت نے حال ہی میں انڈیا کو ‘سٹریٹیجی ٹریڈ اتھارٹی’ کا پہلا درجہ دیا ہے جس سے امریکی کمپنیوں کے لیے مزید درست اور لائسنس یافتہ طریقہ کار کے تحت دہرے استعمال کی اشیا برآمد کرنا ممکن ہو جائے گا۔

ہم ‘2+2’ مذاکرات سے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں اپنے بڑھتے تعاون کو مزید وسعت دینے کا کام بھی لیں گے۔

میں انڈیا کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات پر بھی مختصراً بات کرنا چاہوں گا کیونکہ یہ ہماری شراکت کا ایک اہم ستون ہے۔ امریکہ اور انڈیا کے مابین دوطرفہ تجارت میں گزشتہ برس 12 بلین کا اضافہ ہوا جو 2017 میں 126 بلین تک پہنچ گئی تھی۔ ہم اپنے باہمی مفاد میں تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں مگر یہ امر یقینی بنانے کے خواہاں ہیں کہ یہ تجارت شفاف اور دوطرفہ ہو۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ باہمی تجارت میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں ایک دیرینہ مسئلہ ہیں اور امریکی حکومت انڈین حکومت کے ساتھ مل کر منڈی تک رسائی کی راہ میں حائل مشکلات پر قابو پانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

میں آخر میں امریکہ اور انڈیا کو باہم جوڑنے والے مضبوط عوامی تعلقات کی اہمیت کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ایک لاکھ 86 ہزار انڈین طلبہ سے لے کر ہماری کمپنیوں، سائنس دانوں اور ماہرین تعلیم کے مابین گہرے روابط اور ہمارے ملک میں اہم کردار ادا کرنے والے تین ملین سے زیادہ انڈین امریکیوں تک یہ عوامی تعلقات اعتماد اور باہمی سمجھ بوجھ کی ایسی بنیاد تخلیق کرتے ہیں جو ‘2+2’ جیسے مذاکرات کو اس قدر ثمرآور بناتی ہے۔

یہاں میں اپنی بات ختم کر کے آپ کے سوالات کی جانب آؤں گا۔

آپریٹر: خواتین و حضرات اگر آپ سوال پوچھنا چاہیں تو ٭ اور 1 بٹن دبائیں۔ آپ # بٹن دبا کر کسی بھی وقت سوالات کی قطار سے الگ ہو سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر بتاتے چلیں کہ سوالات کے لیے ٭ اور 1 بٹن دبائیں۔ پہلے سوال کے لیے ہم ایک لحظہ انتظار کریں گے۔ پہلا سوال اے پی کی سوسانا جارج کی جانب سے ہے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: بریفنگ کا بے حد شکریہ۔ کیا ثانوی پابندیاں بالخصوص انڈیا کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری بھی اس دورے میں بات چیت کا موضوع ہو گی؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: ہم نے سفارتی، سلامتی اور عسکری شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے کے متعدد مختلف طریقوں پر بات چیت کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ فوری نوعیت کے علاقائی و عالمی خدشات سے نمٹا جا سکے مگر میں مذاکرات میں زیربحث آنے والے موضوعات کی تفصیلات پر ابھی کوئی اندازہ یا پیش گوئی قائم نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم میں کہوں گا کہ ہم انڈیا کے ساتھ ایران اور ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ سے متعلق مسائل پر باقاعدگی سے بات چیت کرتے چلے آئے ہیں اور دیگر شراکت داروں کی طرح انڈیا کے ساتھ بھی ایسی راہیں تلاش کریں گے تاکہ ان مسائل کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے اہداف تک پہنچا جا سکے۔

نگران: جی، اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال نیویارک ٹائمز کے گارڈنر ہیرس کریں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: بریفنگ کا شکریہ۔ انڈین میڈیا میں ہرطرف یہ خبر چل رہی ہے کہ نومبر میں مودی اور ٹرمپ کی ملاقات بہت بری رہی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم مودی کے لہجے کا مذاق اڑایا اور ٹی وی پر انہوں نے انڈین لہجے کی نقالی بھی کی۔ کیا یہ بات باہمی تعلقات پر منفی طور سے اثرانداز ہو گی یا نہیں؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: میں اس معاملے پر بنیادی تمہید کے ساتھ بات کروں گا۔ گزشتہ برس جون میں دونوں رہنماؤں میں ذبردست ملاقات ہوئی اور درحقیقت اسی دوران ‘2+2’ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ ہوا جس کا مقصد سلامتی اور دفاع کے شعبے میں ہمارے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ صدر ٹرمپ انڈیا کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر مضبوطی سے قائم ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وزیراعظم صدر کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے مابین مضبوط ربط کی بدولت ہی دونوں ممالک کی افسر شاہی کو یہ امر یقینی بنانے میں مدد ملی ہے کہ ہم ‘2+2’ مذاکرات سمیت مضبوط پیش رفت جاری رکھیں۔ میں یہ بھی ۔۔۔۔

سوال: مگر (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول) وہ نومبر میں آسیان کے اجلاس میں دوبارہ ملے تھے، کیا ایسا نہیں ہوا؟ مودی صرف جون میں ہی ان سے نہیں ملے۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: جی ہاں، یہ درست ہے۔ وہ دوبارہ ملے تھے، میں نے پہلی ملاقات کا حوالہ اسی لیے دیا کہ یہ ‘2+2’ سے متعلق تھی۔ وہیں وہ یہ نیا طریقہ کار اختیار کرنے پر متفق ہوئے تھے۔ درحقیقت وہ متعدد مواقع پر مل چکے ہیں اور ان میں فون پر بھی بات چیت ہو چکی ہے۔ یہاں میں یہ حقیقت بھی بیان کرنا چاہوں گا کہ وزیراعظم نومبر میں ایوانکا ٹرمپ کو انڈیا میں خوش آمدید کہنے کے مشتاق اور ان کے دورے پر بے حڈ خوش تھے جب امریکہ اور انڈیا نے مشترکہ طور پر کاروباری نظامت کی عالمگیر کانفرنس کی میزبانی کی تھی۔
نگران: جی اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال اے ایف پی کے تھامس واٹکنز کریں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: ہیلو۔ بریفنگ کا شکریہ۔ میں پہلے سوال کو ہی آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ کیا آپ ہمیں اس بارے تازہ ترین معلومات سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ انڈیا کی جانب سے ایس 400 میزائلوں کی خریداری کے معاملے پر کیا ہو رہا ہے اور کیا آپ ہمیں یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ انڈیا کی جانب سے روس کے ساتھ اسلحے کی خریداری کا کوئی اور متوقع سودا بھی ہے جس پر آپ کو خدشات ہوں۔ مزید یہ کہ انڈیا کے سامنے ایسے خدشات کیسے اٹھائے جائیں گے اور ‘2+2’ مذاکرات میں کس سطح پر اس حوالے سے بات چیت کی جائے گی؟ شکریہ۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: مجھے ایک مرتبہ پھر کہنا ہے کہ میں ایسے موضوعات پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں جو ان مذاکرات میں زیربحث آ سکتے ہیں مگر میں ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے موضوع پر صرف اتنا کہوں گا کہ ٹرمپ انتظامیہ ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ بشمول سیکشن 231 پر عملدرآمد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ہم نے انڈین حکومت اور دوسرے شراکت داروں کے ساتھ ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ پر بات چیت کی ہے اور ہم انڈیا و دیگر ممالک کے ساتھ ایسی راہیں تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے ممکنہ پابندیوں کا سبب بننے والی سرگرمیوں کی نشاندہی اور پرہیز ممکن ہو سکے۔

سوال: مگر کیا آپ ہمیں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ یہ عمل کہاں تک پہنچا ہے؟ میں اپنی لاعلمی پر معذرت چاہتا ہوں مگر ایس 400 کی خریداری کے حوالے سے انڈیا اس وقت کہاں کھڑا ہے؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: ایسی کسی خریداری کی بابت سوال کا جواب لینے کے لیے میں آپ کو انڈین حکومت سے رجوع کرنے کو کہوں گا۔

نگران: براہ مہربانی اگلا سوال۔
آپریٹر: اگلا سوال انڈین ایبراڈ کے عزیز حنیفہ کریں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول) اس بریفنگ کے لیے شکریہ۔ یہاں کیے گئے چند ابتدائی سوالات کے حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ آیا کانگریس کی جانب سے ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے ضمن میں چھوٹ دی جا چکی ہے؟ کیا اس محاذ پر انڈیا کے روس سے معاہدے کے سلسلے میں آپ مستقبل میں کوئی مسائل دیکھتے ہیں؟ مزید یہ کہ پابندیوں کے تناظر میں آپ انڈیا کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کو کیسے دیکھتے ہیں؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: سوال کے لیے شکریہ۔ جہاں تک چھوٹ کا تعلق ہے تو نئی قانون سازی میں کسی ملک کے حوالے سے خاص طور پر کوئی چھوٹ نہیں ہے۔ کسی ملک کو مخصوص رعایات نہیں دی جائیں گی اور روس کے حوالے سے نمایاں لین دین کی بابت ہم جس طرح کی بھی چھوٹ کا تصور کر سکتے ہیں اس کا اندازہ ہر معاملے میں الگ طور سے لگایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دیگر چیزوں کے علاوہ ممالک کو روسی اسلحے پر انحصار نمایاں طور سے محدود کرنا ہو گا۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو میں کہوں گا، جیسا کہ میں نے ماضی میں بھی بتایا، ہم اپنے انڈین ہم منصبوں کے ساتھ ایران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور ماضی میں ‘جے سی پی او اے’ کے تحت ایران سے اٹھائی جانے والی پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کے اثرات کی بابت ہماری ان سے گفت و شنید ہوئی ہے۔ جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں صدر نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ امریکہ تمام پابندیوں کے نفاذ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور 5 نومبر سے ایران کے توانائی کے شعبے، مرکزی بینک اور ایرانی جہازرانی کے شعبہ جات پر یہ پابندیاں لاگو ہو جائیں گی۔

ہم جانتے ہیں کہ انڈیا اور دنیا بھر میں دیگر ممالک بھی ایران کے مجموعی مضرت رساں طرزعمل سے نمٹنے کی فوری ضرورت بارے ہمارے خدشات سے متفق ہیں اور ہم انڈیا کے قریبی تعاون سے ایران کے تخریبی طرزعمل کو روکنے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ ہم دوسری حکومتوں کو واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے حوالے سے انہیں کون سے خدشات درپیش ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہماری پیغام رسانی کا ایک اہم حصہ ہے۔

نگران: جی اگلا سوال۔

آپریٹر: اب انڈیا میں اکنامک ٹائمز کی سیما سروہی سوال کریں گی۔

سوال: ہیلو (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر) مجھے طالبان کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پوچھنا تھا۔ کیا انڈیا کو اس ضمن میں اعتماد میں لیا گیا ہے اور کیا ‘2+2’ مذاکرات میں یہ معاملہ بھی زیربحث آئے گا؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: مجھے ایک مرتبہ پھر کہنا ہے کہ میں ‘2+2’ مذاکرات میں سفارتی بات چیت کی بابت کوئی اندازہ قائم نہیں کروں گا۔ تاہم میں یہ کہوں گا کہ ہم افغانستان کے معاملے پر انڈیا سے قریبی مشاورت کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا سے متعلق ہماری حکمت عملی میں اس حوالے سے انڈیا کے اہم کردار کا نمایاں تذکرہ موجود ہے۔ یقیناً ہم افغانستان کے لیے انڈیا کی نمایاں معاشی و ترقیاتی معاونت کا خیرمقدم کریں گے اور اس کے مشکور ہیں۔ اس ضمن میں انڈیا نے تین ارب ڈالر سے زیادہ امداد کا وعدہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے افغانستان میں مشترکہ اہداف ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم ان مشترکہ اہداف پر قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

نگران: براہ مہربانی اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال وی او اے کی نائیکے چنگ کریں گی۔

سوال: (مائیک کے بغیر)

آپریٹر: آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: (مائیک کے بغیر)

آپریٹر: ہم اگلا سوال بزفیڈ کی ایمیلی ٹیمکن سے لیں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: بریفنگ کے لیے شکریہ۔ آپ نے امریکہ اور انڈیا میں عوامی سطح پر باہمی تعلقات کا تذکرہ کیا۔ تارکین وطن کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کی بابت کچھ مایوسی پائی جاتی ہے خصوصاً ایچ ون بی ویزوں کے حوالے سے انڈین شہریوں پر یہ معاملہ بھاری پڑا ہے۔ کیا آپ کو یہ معاملہ حل ہونے کی توقع ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا کیا طریقہ کار ہو گا۔ مجھے علم ہے کہ آپ مستقبل میں ہونے والی بات چیت پر پیشگی تبصرہ نہیں کرتے مگر آپ اس معاملے سے کیسے نمٹیں گے؟ اس بات چیت یا اس ملاقات میں امیگریشن کے معاملے پر کیا بات ہو گی؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: اس معاملے پر میں یہ کہوں گا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے انتظامی حکم میں ایچ ون بی کے نام سے معروف امریکی ورکر ویزا پروگرام کے وسیع جائزے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ویزے اس انداز میں جاری کیے جا رہے ہیں جس سے امریکی کارکنوں یا ان کی اجرتوں پر منفی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم ایچ ون بی ویزوں کے اجرا سے متعلق طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی، چنانچہ میرے لیے اس کے نتائج اور نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کی بابت کوئی اندازہ قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یقیناً یہ مسئلہ انڈیا کے لیے اہم ہے۔ ایچ ون بی پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ انڈیا کو پہنچا ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر وہ ہمیشہ ہم سے بات کرتے ہیں اور ہم باقاعدگی سے ان کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ اب تک اس پروگرام میں کوئی تبدیلیاں نہیں لائی گئیں۔

نگران: اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال ہندوستان ٹائمز کے یشونت راج کریں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: چند روز قبل وزیر ماٹس نے پینٹاگون میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ ‘2+2’ مذاکرات میں امریکہ اور انڈیا کے مابین بعض معاہدے طے ہو سکتے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کون سے اور کتنے معاہدے ہوں گے اور کیا ‘سی او ایم سی اے ایس اے’ بھی ان میں شامل ہے؟ شکریہ۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم: شاید میں ان میں سے بعض معاہدوں کے بارے میں کچھ بتا سکتا ہوں۔ ہم نے اپنے بنیادی معاہدوں کے حوالے سے کچھ حوصلہ افزا پیش رفت کی ہے جن میں مواصلاتی موافقت اور سلامتی کامعاہدہ شامل ہیں۔ ہمارے مابین بات چیت کے متعدد ادوار ہو چکے ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ ‘2+2’ مذاکرات میں بھی اس پر بات ہو گی اور ہم دیکھیں گے کہ اس میں کتنی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم خاص طور پر بنیادی معاہدوں پر ہونے والی پیش رفت ہمارے لیے بے حد حوصلہ افزا ہے جس سے ہمیں امریکہ اور انڈیا کے باہمی تعامل میں اضافے میں مدد ملے گی اور انڈیا کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے وسیع تر امکانات کھلیں گے۔

سوال: وزیر نے جن دیگر معاہدوں کا حوالہ دیا ان کے بارے میں خاص طور پر آپ کیا بتا سکتے ہیں؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم: میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ رسمی معاہدہ ہے۔ ہم سمندری دائرہ عمل بارے آگاہی بڑھانے اور دفاعی اختراع سے متعلق تجاویز پر بات کریں گے ۔ ہم امریکہ میں دفاعی شعبے میں اختراعات سے متعلق بعض کوششوں میں ممکنہ تعاون کے منتظر ہیں۔ ہمارا دفاعی اختراع کا یونٹ اس کی مثال ہے۔ ہم دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کی تجاویز پر بات چیت کریں گے۔ چنانچہ یہ ان تجاویز کی ایک مثال ہے جو اس ملاقات میں زیربحث آئیں گی۔

سوال: شکریہ۔

نگران: براہ مہربانی اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال اے این آئی سے رینا بھردواج کریں گی۔ جی بات کیجیے۔

سوال: بریفنگ کے لیے شکریہ۔ میرا سوال مالدیپ کے بارے میں ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ‘2+2’ مذاکرات میں مالدیپ اور وہاں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھی کوئی بات چیت ہو گی؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: معذرت سے مجھے یہ بات دہرانا پڑ رہی ہے کہ میں اس نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔

نگران: جی اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال وی او اے کی نائیکے چنگ کریں گی۔ جی بات کیجیے۔

سوال: بریفنگ کے لیے بے حد شکریہ۔ مجھے جلدی سے سوسانا کے سوال کو آگے بڑھانا ہے۔ کیا انڈیا نے ایران سے تیل کی خریداری بند کرنے کےلیے کوئی خاص وعدہ کیا ہے اور کیا امریکہ ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے والی کمپنیوں کو چھوٹ دینے پر غور کر سکتا ہے؟ شکریہ۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول: میں اس بارے میں صرف یہ کہوں گا کہ میں نے کہا ہے 5 نومبر کو ہم ایسی متعدد پابندیاں ازسرنو نافذ کر دیں گے۔ جہاں تک تیل کی درآمدات کا تعلق ہے تو ہمارا ہدف بدستور یہی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو ایران سے تیل کی درآمدات صفر پر لائی جائیں۔ اگر 4 نومبر تک ایسا ہو جائے تو بہت اچھا ہو گا۔ ہم ایسے ممالک کے ساتھ مل کر کام کے لیے تیار ہیں جو ایران سے اپنی درآمدات کم کر رہے ہیں۔

نگران:ٹھیک ہے۔ یہ ہمارا آخری سوال ہے۔ شکریہ۔

آپریٹر: یہ سوال انڈیا میں اکنامک ٹائمز کی سیما سروہی کریں گی۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: مجھے (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم) سے ایک سوال پوچھنا تھا۔ گزشتہ روز رینڈی شرائیور نے بنیادی طور پر یہ کہا تھا کہ امریکہ انڈیا کو روسی دفاعی نظام بالخصوص ایس 400 سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ کیا امریکہ انڈیا کو کوئی ایسی چیز دینے پر تیار ہے جو ایس 400 سے ملتی جلتی ہو اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ معاملہ بھی ان مذاکرات میں زیربحث آئے گا؟

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم: جیسا کہ (انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول) نے کہا، میں خاص طور پر ایس 400 کے معاملے پر بات نہیں کر سکتا مگر میں عمومی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے بڑے دفاعی شراکت دار کی حیثیت سے ایسے حالات پیدا کرنے کےلیے انڈیا کے ساتھ ذبرست پیش رفت کی ہے جہاں ہم اسے کہیں زیادہ جدید ٹیکنالوجی کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ میں نے گزشتہ سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ ہم نے مواصلاتی موافقت اور دفاعی معاہدے ‘سی او ایم سی اے ایس اے’ پر پیش رفت کی ہے۔ یہ ایسے معاہدوں کی صرف ایک مثال ہے جن کی بدولت ہم انڈیا کو اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی مہیا یا اس کی پیشکش کر سکیں گے۔ یقیناً اب انڈیا اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرے گا مگر یہ دیکھ کر ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ امریکہ کی زیادہ بہتر ٹیکنالوجی ان کے انتخاب میں شامل ہے۔

نگران: ٹھیک ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ سبھی کا شکریہ۔ اس کے ساتھ ہی آج کی بریفنگ کا اختتام ہوتا ہے۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ یہ پس منظر بریفنگ تھی۔ آپ آج کے دونوں مقررین کو انتظامیہ کے اعلیٰ افسر اول اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسر دوم کہہ سکتے ہیں۔ ہمارے ساتھ موجودگی پر آپ سبھی کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں