rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی آئرلینڈ جاتے ہوئے میڈیا سے گفتگو

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
5 ستمبر 2018

وزیر خارجہ پومپئو: مجھے چند باتیں کہنا ہیں۔ میرا پہلا پڑاؤ پاکستان میں ہو گا جہاں ایک نئے رہنما نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔ میں ابتدا میں ہی ان سے ملنا چاہتا تھا تاکہ دونوں ممالک میں تعلق کو ازسرنو استوار کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب میں سی آئی اے کا ڈائریکٹر تھا تو ہم نے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ ہماری ٹیمیں طویل عرصہ سے اکٹھے کام کرتی چلی آئی ہیں۔ یقیناً دونوں ممالک کے مابین بہت سے مسائل ہیں مگر ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے بعض مشترکہ مسائل پر اکٹھے کام کرنے کی راہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے نیک نیتی پر مبنی ارادے کا اظہار کیا۔

چیئرمین ڈنفرڈ اور میں اس بات چیت کے لیے اکٹھے وہاں جا رہے ہیں۔ ہم جنرل باجوہ سے بھی ملیں گے جنہیں ہم دونوں جانتے ہیں اور جن سے میں متعدد مواقع پر مل چکا ہوں۔ اسی طرح اپنے ہم منصب وزیر خارجہ قریشی سے بھی میری ملاقات ہو گی۔ لہٰذا ہمارے پاس اس تعلق کی پیچیدگی سے نمٹنے کے لیے تین مواقع ہوں گے اور ہمیں اس سلسلے میں پیش رفت کی امید ہے تاکہ ہم اتفاق رائے پر پہنچ سکیں۔ چنانچہ یہ واقعتاً نہایت بے لاگ مقصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئے وزیراعظم، وزیراعظم خان سے ان کے عہدے کی ابتدائی مدت میں ملنا اہم ہے۔

اس کے بعد ہمیں انڈیا جانا ہے جہاں ہمیں دو مرتبہ یہ انتہائی اہم ملاقات ملتوی کرنا پڑی۔ مجھے افسوس ہے کہ دوسری مرتبہ یہ میری غلطی تھی۔ مجھے پیانگ یانگ جانا تھا۔ مگر وزیر میٹس اور میں دونوں اس دورے کے منتظر تھے۔ انڈیا کی صورت میں ہمارے پاس ایک حقیقی تزویراتی شریک کار ہے جو ہمارا واحد بڑا دفاعی شراکت دار ہے۔ یہ واحد نامزد بڑا دفاعی شراکت دار ہے جس کے ساتھ ہمارے زبردست تعلقات ہیں اور ہندوالکاہل سے متعلق ہماری حکمت عملی کی کامیابی میں اس کا اہم کردار ہے۔ یہ بے پایاں مواقع اور دولت تخلیق کرنے کی اہلیت کا حامل بہت بڑا ملک ہے۔ امید ہے کہ ہم ناصرف سفارتی و عسکری مراسم بلکہ کاروباری تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مواقع بھی تلاش کر سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: جی۔ دیکھیے۔ یہ پاکستانیوں کے لیے نئی بات نہیں تھی۔ رسمی وجوہ کی بنا پر گزشتہ چند روز میں اس پر بہت سی خبریں آئیں (ناقابل سماعت) مگر گزشتہ گرما میں انہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں رقم ملنے کا امکان نہیں ہے۔ انہیں رقم نہ ملنے کی وجہ بالکل واضح ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی جانب سے مطلوبہ پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ اس دورے کا مقصد واضح انداز میں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری توقع کیا ہے، وہ کیا کر سکتے ہیں، وہ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں اور کیا ہم اکھٹے آگے بڑھنے کی راہ ڈھونڈ سکتے ہیں یا نہیں۔

دیکھیے میں سمجھتا ہوں کہ وہاں نئی حکومت آئی ہے۔ اس میں بہت سا کام وزیراعظم کے عہدہ سنبھالنے سے بہت پہلے ہو گیا تھا اور مجھے امید ہے کہ ہم باہمی تعلقات کے نئے دور اور پیش رفت کا آغاز کر سکتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں حقیقی توقعات ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں ہمیں مطلوب مفاہمت تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ طور سے ہماری مدد کرے۔ ان کی معاونت اور ان کی مدد کے بغیر، آپ نے آنے اور جانے والے کمانڈر جنرل نکلسن اور جنرل ملر سے سنا ہو گا ۔۔۔ ان دونوں نے اس پر بات کی ہے۔ پاکستان کے اپنی سلامتی کے حوالے سے افغانستان میں اہم مفادات ہیں اور وہ اپنی سرحد پر معاملات درست کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں ان کی مدد درکار ہے۔

اسی لیے مجھے امید ہے کہ ہمیں انہیں اس معاونت کی فراہمی پر قائل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ تسلیم کریں گے کہ ۔۔۔ درحقیقت وزیراعظم کے ساتھ میری بات چیت میں انہوں نے افغانستان میں امن کی اہمیت تسلیم کی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا تھا وہ افغانستان میں مفاہمت کے پہلے یا دوسرے حامی ہیں۔ میں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں ہمارا تیسرا نمبر ہے اور ہم سب یہی چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس معاملے میں ہمارا مفاد مشترک ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم باہم مل کر اس مقصد کے حصول کی راہ تلاش کر سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: جی، دو نئے لوگ ہمارے ساتھ ہیں، ان میں ایک نئے پی ہیں جو وہاں واپس آ رہے ہیں جہاں انہوں نے چند روز قبل سفیر کی حیثیت سے کام کیا اور سفیر خلیل زاد ہیں۔ سفیر خلیل زاد مفاہمتی کوشش میں ہماری معاونت کے لیے دفتر خارجہ کی ٹیم میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے وہ دفتر خارجہ کی کوششوں کی قیادت کریں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں