rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ کی میڈیا سے گفتگو

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
5 ستمبر 2018

پی اے ایف بیس نور خان
اسلام آباد، پاکستان

 

وزیر خارجہ پومپئو: (جاری)جیسا کہ    جنرل باجوہ نے بھی کئی مواقع پر۔ ہم نے ان کی نئی حکومت، مجموعی تناظر میں دونوں ممالک کے مابین معاشی، کاروباری اور تجارتی تعلق ازسرنو استوار کرنے کے موقع اور افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل نکالنے پر بات چیت کی جس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں اس سلسلے میں کوشش اور عملی اقدامات کرنا چاہئیں جس سے افغانستان کو یقیناً فائدہ ہو گا تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس سے امریکہ اور پاکستان بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ آج ہم نے جو بنیاد رکھی ہے وہ مستقبل کی راہ پر ہماری مسلسل کامیابیوں کے لیے حالات طے کرے گی۔

جنرل ڈنفرڈ: میرا کام ازسرنو تعلقات استوار کرنے کے سلسلے میں وزیر خارجہ کی معاونت تھا۔ جب ہم نے عسکری سطح پر جنرل باجوہ سے بات چیت کی تو ہمارے مابین اتفاق پایا گیا کہ ۔۔۔ ہم نے وزیراعظم کی بات نہایت غور سےسنی، ہم نے وزیر کی بات بھی بہت غور سے سماعت کی۔ وزیر اور وزیراعظم کے مقاصد باہم موافقت پر مبنی تھے۔ جنرل باجوہ اور میرے درمیان اتفاق پایا گیا کہ ہم وزیر خارجہ اور وزیراعظم کی مدد اور اس سے بھی بڑھ کر صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کی معاونت کے لیے دونوں ممالک کے مابین عسکری تعلقات سے کام لیں گے۔

مس نوئرٹ: اب ہم چند سوالات لیں گے۔

سوال: کیا پاکستانیوں نے آپ سے کوئی ایسے ٹھوس وعدے کیے ہیں جو ممکنہ طور پر عسکری و سلامتی کے شعبے میں معاونت کی بحالی کا سبب بن سکتے ہوں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ مستقبل میں قابل اعتبار شراکت دار ثابت ہو سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: ابھی ہم نے بہت سا کام کرنا ہے، بہت سی بات چیت ہونا ہے، مگر کھل کر کہا جائے تو دونوں ممالک کی افواج کے باہمی تعلقات اس وقت بھی برقرار رہے جب بعض دیگر تعلقات کی صورت اچھی نہیں تھی۔ دونوں ممالک کی افواج  میں باہمی تعلقات تاحال قائم ہیں، دونوں نے بہت سے منصوبوں پر مل کر کام کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم اسے ایک بنیادی عنصر کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

سوال: کیا ‘جی ایل او سی’ کھلی رہیں گی؟ کیا پاکستانیوں نے ‘جی ایل او سی’ تک رسائی کا مسئلہ اٹھایا؟

جنرل ڈنفرڈ: نہیں، ہمارے پاس یہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ‘جی ایل او سی’ کھلی رکھنے کے سلسلے میں ہمارے باہمی تعاون کی صورتحال میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ ۔۔۔۔

مس نوئرٹ: اب آخری سوال

سوال: کیا اس بات چیت کے دوران امریکہ کی جانب سے بڑی تعزیری کارروائی کا کوئی انتباہ بھی جاری کیا گیا جس کی رو سے مخصوص پاکستانی افراد کے خلاف مالیاتی پابندیاں لگ سکتی ہوں ۔۔۔ کہ اگر وہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتے تو مزید اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: ہم نے ان پر واضح کر دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مشترکہ وعدوں کی تکمیل کریں اور انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا۔ ہم نے بات چیت اور معاہدوں پر بہت سا وقت صرف کیا ہے مگر ابھی تک ہم ان پر عملدرآمد کے قابل نہیں ہو سکے۔ اسی لیے میرے اور وزیر خارجہ قریشی نیز وزیراعظم کے مابین وسیع تر اتفاق پایا گیا کہ ہمیں ایسے عملی اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے جن سے ایسے نتائج سامنے آئیں جو دونوں ممالک کے مابین اعتماد کو جنم دیں۔ ملاقاتوں میں اسی بات پر زور دیا گیا۔

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے۔ سبھی کا شکریہ۔ شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپئو: شکریہ۔

سوال: گفتگو کا شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپو: سبھی کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں