rss

امریکہ انڈیا ‘2+2’ افتتاحی مذاکرات پر مشترکہ بیان

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 ستمبر 2018

 

وزیر برائے خارجہ امور سشما سواراج اور وزیر دفاع نرملا سیتھارامن نے 6 ستمبر 2018 کو امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور وزیر دفاع جیمز این ماٹس کو امریکہ انڈیا ‘2+2’ افتتاحی مذاکرات کے لیے انڈیا آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے ‘2+2’ مذاکرات شروع کرنے کا خیرمقدم کیا جو کہ انڈیا امریکہ تزویراتی شراکت کے لیے مثبت اور ترقی پسندانہ سوچ مہیا کرنے اور سفارتی و سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے مشترکہ عزم کا اظہار ہیں۔ انہوں نے اس طرز اور سالانہ بنیادوں پر ملاقاتیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

دونوں ممالک کے مابین 70 سال سے زیادہ عرصہ پر مشتمل سفارتی تعاون مدنظر رکھتے ہوئے وزرا نے اپنے اس نکتہ نظر کی توثیق کی کہ آزادی، انصاف اور قانون کی حکمرانی سے وابستگی جیسی اقدار پر قائم خودمختار جمہوریتوں کے طور پر انڈیا اور امریکہ کو امن، خوشحالی اور سلامتی کے فروغ کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت جاری رکھنی چاہیے۔

دونوں ممالک کے تزویراتی شراکت دار اور عالمی امور میں بڑے اور غیرجانبدار فریق ہونے کے ناطے وزرا نے علاقائی اور عالمی امور پر دوطرفہ، سہ طرفہ اور چہار رخی انداز میں مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ دونوں فریقین نے انڈیا کی وزیر برائے خارجہ امور اور امریکی وزیر خارجہ نیز انڈین وزیر دفاع اور امریکی وزیر دفاع کے مابین محفوظ روابط ترتیب دینے کا فیصلہ کیا تاکہ ہر نئی پیش رفت پر باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی تبادلہ خیال ممکن بنایا جا سکے۔

دفاع و سلامتی کے شعبے میں شراکت کی مضبوطی

وزرا نے انڈیا کی امریکہ کے بڑے دفاعی شراکت دار (ایم ڈی پی) کے طور پر نامزدگی کی تزویراتی اہمیت کی ازسرنو توثیق کی۔ انہوں نے انڈیا کے ‘ایم ڈی پی’ درجے کی گنجائش مزید بڑھانے، دفاعی تعلقات میں مضبوطی لانے کے لیے باہمی متفقہ اقدامات اور دفاع و سلامتی کے شعبے میں بہتر ربط و تعاون کو فروغ دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے دوطرفہ دفاعی تجارت میں تیزتر ترقی نیز حالیہ برسوں میں امریکہ کی جانب سے انڈیا کو پیش کردہ ٹیکنالوجی اور سازوسامان کے درجوں میں معیاری بہتری کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے انڈیا کو لائسنس کے بغیر برآمدات، ازسرنو برآمدات نیز ‘بغیرلائسنس تزویراتی تجارتی اختیار’ (ایس ٹی اے۔1) کے تحت لین دین کے اہل اعلیٰ سطحی ممالک میں شامل کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور دفاعی سازوسامان نیز دفاعی صنعت سے متعلق ترسیلی سلسلے کے روابط میں دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دینے کے دیگر ذرائع کھوجنے کا عزم کیا۔ انہوں نے ‘مواصلاتی مطابقت اور سلامتی کے معاہدے’ (سی او ایم سی اے ایس اے) پر دستخط کا خیرمقدم بھی کیا جس سے جدید دفاعی نظام تک رسائی اور غیرمعمولی حالات میں انڈیا کو امریکہ میں واقع پلیٹ فارمز استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔ وزرا نے ‘انڈسٹریل سکیورٹی اینیکس’ (آئی ایس اے) پر بات چیت شروع کرنے پر آمادگی کا اعلان بھی کیا جس سے دفاعی صنعت میں قریبی تعاون و اشتراک میں مدد ملے گی۔

عسکری سطح پر تیزی سے بڑھتے تعلقات کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین نے ایک نئی سہ رخی فوجی مشق شروع کرنے اور دونوں ممالک کی افواج اور دفاعی اداروں کے اہلکاروں کے تبادلوں میں اضافے کا عزم کیا۔ وزرا نے سمندری سلامتی اور سمندری حدود بارے آگاہی کے حوالے سے باہمی تعاون میں حالیہ اضافے کا ازسرنو جائزہ لیا اور تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔ اس مقصد کے لیے وزرا نے امریکی بحری افواج کی مرکزی کمان (این اے وی سی ای این ٹی) اور انڈین بحریہ میں تبادلے شروع کرنے کا عزم کیا جس سے مغربی بحر ہند میں سمندری تعاون مزید بڑھانے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔

امریکہ انڈیا دفاعی شراکت میں ٹیکنالوجی کے خاص کردار کو تسلیم کرتے ہوئے وزرا نے ‘دفاعی ٹیکنالوجی و تجارت کے اقدام’ (ڈی ٹی ٹی آئی) کے ذریعے مشترکہ پیداوار اور مشترکہ ترقی کی حوصلہ افزائی جاری رکھنے اور دفاعی اختراع میں تعاون کی دیگر راہیں اختیار کرنے کے عزم کی ازسرنو توثیق کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے  امریکی  دفاعی اختراعی یونٹ (ڈی آئی یو) اور انڈین دفاعی اختراعی ادارے ‘اختراع برائے دفاعی فوقیت’ (ڈئی آئی او۔آئی ڈی ای ایکس) کے مابین  ارادی یادداشت کی تکمیل کا خیرمقدم کیا۔

انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے  وزرا نے معلوم و مشتبہ دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کی کوششیں بڑھانے اور غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی واپسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی یادداشت 2396 پر عملدرآمد کے ارادے کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے کثیرطرفی اداروں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے عالمی دہشت گردی پر اقوام متحدہ کے جامع کنونشن کے لیے اپنی حمایت کی ازسرنو توثیق کی جس سے عالمگیر تعاون کے لیے فریم ورک کو ترقی دینے اور مضبوط بنانے میں مدد ملے گی اور یہ پیغام جائے گا کہ کوئی مقصد یا محرومی دہشت گردی کا جواز نہیں ہے۔ وزرا نے خطے میں کہیں بھی دہشت گردوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیے جانے کی مذمت کی اور اس تناظر میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ یہ امر یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دوسرے ممالک میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ 26 نومبر کے ممبئی حملوں کو 10 سال مکمل ہونے پر انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ممبئی، پٹھان کوٹ، اڑی اور سرحد پار دیگر مقامات پر دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ وزرا نے 2017 میں دہشت گردوں کی نامزدگی پر دوطرفہ بات چیت شروع ہونے کا خیرمقدم کیا جس سے القاعدہ، داعش، لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، ڈی کمپنی اور ان سے ملحقہ تنظیموں کے خلاف تعاون و عملی اقدامات میں اضافہ ہو گا۔ دونوں فریقین نے سائبرسپیس کے حوالے سے مستحکم ماحول یقینی بنانے اور سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے حال اور مستقبل میں تعاون کے عزم کی ازسرنو توثیق کی۔

ہندوالکاہل اور پرے شراکت داری

وزرا نے خطہ ہندوالکاہل میں تعاون کا ازسرنو جائزہ لیا اور کہا کہ جون 2017 میں انڈیا امریکہ مشترکہ اعلامیے میں بیان کردہ خطے کے لیے مشترکہ اصولوں کو 10 نومبر 2017 کو ویت نام میں صدر ٹرمپ اور یکم جون 2018 کو سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ میں وزیراعظم مودی نے مزید ترقی دی۔ دونوں فریقین نے آزاد، کھلے اور جامع خطہ ہندوالکاہل کو فروغ  دینے کے لیے دوسرے شراکت داروں سے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ ایسے خطے کی بنیاد آسیان کی مرکزیت تسلیم کرنے اور ممالک کی خودمختاری، زمینی سالمیت، قانون کی حکمرانی، اچھی حکومت، آزاد اور منصفانہ تجارت نیز سمندری اور فضائی سفر کی آزادی کے احترام پر ہو گی۔ خطہ ہندوالکاہل کے لیے بنیادی ڈھانچے اور ربط کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں شفاف، ذمہ دارانہ اور مالیاتی قرضوں کے پائیدار طریقہ کار کی معاونت کے لیے دوسرے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزرا نے متحدہ، خودمختار، جمہوری، جامع، مستحکم، خوشحال اور پرامن افغانستان کے حوالے سے اپنے مشترکہ عزم کی ازسرنو توثیق کی۔ دونوں فریقین نے افغانوں کے زیرقیادت اور افغانوں کے لیے قابل قبول امن و مفاہمتی عمل میں معاونت  کی بات کی۔ امریکہ نے افغانستان کے لیے معاشی امداد کے سلسلے میں انڈیا کے دیرینہ کردار کا اعتراف کیا اور افغانستان کی ترقی و استحکام میں انڈیا کے افزودہ کردار کا خیرمقدم کیا۔

انڈیا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں میں حالیہ ملاقات کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقین نے شمالی کوریا کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگراموں کا خاتمہ کرنے اور ان کی معاونت کرنے والے ممالک کا احتساب کرنے کے لیے مل کر چلنے  کا عہد کیا۔

امریکہ نے آسٹریلیا گروپ، ویزینار ارینجمنٹ اور میزائل ٹیکنالوجی پر کنٹرول کے معاہدے تک انڈیا کی رسائی کا خیرمقدم کیا اور ‘نیوکلیئر سپلائرز گروپ’ تک انڈیا کی فوری رسائی ممکن بنانے کے لیے اس کی بھرپور مدد کا اعادہ کیا۔

خوشحالی اور عوامی سطح پر تعلقات کا فروغ

وزرا نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور دونوں ممالک میں نوکریاں پیدا کرنے کی اہمیت اور امکان پر بات کی۔ فریقین نے اپنے رہنماؤں کے 2017 کے مشترکہ بیان کی مطابقت سے تجارتی و معاشی شراکت کو مزید وسیع اور متوازن بنانے کا عزم کیا جس میں تجارتی سہولت، منڈی تک رسائی میں بہتری لانا اور دونوں فریقین کی دلچسپی کے امور پر کام کرنا شامل ہے۔ اس سلسلے میں فریقین نے انڈیا کی وزارت تجارت اور امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے درمیان  جاری تبادلہ خیال کا خیرمقدم کیا اور باہم قابل قبول نتائج کی امید ظاہر کی۔

دونوں فریقین نے سویلین مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی شراکت پر مکمل عملدرآمد اور انڈیا میں چھ بجلی گھر قائم کرنے کے لیے ‘نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ’ (این پی سی آئی ایل) اور ‘ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی’ کے مابین تعاون کی توقع ظاہر کی۔

وزرا نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط خاندانی، تعلیمی اور کاروباری تعلقات نیز لوگوں کو باہم متحد کرنے والے کاروباری نظامت اور اختراع کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ممالک کے مابین بے مثل عوامی تعلقات پر روشنی ڈالی اور ان تعلقات سے دونوں ممالک اور دنیا کو پہنچنے والے فوائد بشمول خیالات کے آزادانہ بہاؤ اور صحت، خلا، سمندروں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے دیگر شعبہ جات میں تعاون کا اعتراف کیا۔

آئندہ ‘2+2’ مذاکرات 2019 میں امریکہ میں منعقد ہونا ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں