rss

امریکہ انڈیا ‘2+2’ مذاکرات کے موقع پر وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو، وزیر دفاع جیمز این ماٹس، انڈین وزیر برائے خارجہ امور سشما سواراج اور وزیر دفاع نرملا سیتھارامن کے اختتامی کلمات

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 ستمبر 2018

 

وزیر خارجہ پومپئو: سہ پہر بخیر۔ میں امریکہ کی جانب سے وزیر برائے خارجہ امور سواراج اور وزیر دفاع سیتھارامن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں  نے امریکہ اور انڈیا کے مابین پہلے ‘2+2’ مذاکرات کے لیے وزیر ماٹس اور میری میزبانی کی۔ یہ واقعتاً تاریخی اور اہم لمحہ ہے۔ شکریہ۔

یہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے میرا انڈیا کا پہلا دورہ ہے اور اس قدر اہم و کامیاب موقع پر یہاں آنا اعزاز کی بات ہے۔ آج بعدازاں وزیر ماٹس اور میں وزیراعظم مودی سے ملیں گے۔ ہم اس بات چیت کے منتظر ہیں کہ امریکہ انڈیا تعلقات کو بہترین طور سے کیسے آگے بڑھایا جائے۔ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں یہ تعلقات ترقی کے نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔

آج ‘2+2’ ملاقات ہماری  بڑھتی ہوئی قریبی شراکت کی علامت ہے۔ ہم نے اپنے دوطرفہ تعلق، اپنے مشترکہ مستقبل اور آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کو فروغ دینے کے لیے تعاون کے سلسلے میں بہت سی مفید اور دوررس سوچ کی حامل بات چیت کی ہے۔

دنیا میں دو بہت بڑی جمہوریتوں کی حیثیت سے امریکہ اور انڈیا اپنی مشترکہ اقدار کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہیں۔ ایک آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے جس سے ان اقدار کا اظہار ہوتا ہے جن میں قانون کی حکمرانی، قومی سلامتی، اچھی حکمرانی، بنیادی آزادیوں اور حقوق کا تحفظ، آزادانہ، منصفانہ اور دوطرفہ تجارتی تعلقات نیز زمینی و سمندری تنازعات کا پرامن حل شامل ہیں۔

ہم مضبوط و مستحکم سلامتی کے ماحول میں اپنے لوگوں کی معاشی و نجی آزادیوں پر عمل کی اہلیت سے آگاہ ہیں۔ اس مقصد کے لیے آج دونوں ممالک نے متعدد شعبہ جات میں سلامتی کے سلسلے میں باہمی تعاون بڑھانے کا پرعزم منصوبہ بنایا ہے۔ مواصلاتی مطابقت اور سلامتی کا معاہدہ ہمارے دفاعی تعاون و اشتراک کے سلسلے میں ایک بڑا قدم ہے۔ اس سے ہمیں خطہ ہندوالکاہل کی آزادی و خوشحالی کے بہتر تحفظ میں مدد ملے گی۔

ہمارے مابین انڈیا کے ساتھ عسکری شعبے میں تعاون کی گنجائش اور حجم پر بھی اتفاق پایا گیا۔ انڈیا ہمارا بڑا دفاعی شراکت دار ہے اور امریکہ نے یہ خاص درجہ انڈیا کو ہی دے رکھا ہے۔ میں وزیر ماٹس سے کہوں گا کہ وہ اس پر مزید تفصیل سے بات کریں۔

آج ہم نے متعدد اہم علاقائی و عالمگیر مسائل بشمول افغانستان اور شمالی کوریا پر بھی بات کی اور جائزہ لیا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے سے مزید تعاون کیسے ممکن بنا سکتے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنے گہرے تعاون کو مزید بہتر بنانے کا عزم بھی کیا۔

معاشی معاملات پر صدر ٹرمپ کو انڈیا کی معیشت کی طویل مدتی تزویراتی اہمیت کا اندازہ ہے جو دنیا کے انتہائی متحرک اور تیزتر ترقی پاتے خطے میں مفید کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ اس امر کی ضمانت دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ، انڈیا اور تمام ممالک کھلے اور منصفانہ تجارت و سرمایہ کاری کے لیے آزاد خطہ ہندوالکاہل سے ذمہ دارانہ طور سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس عزم کی ایک مثال یہ ہے کہ وزیر تجارت نے چند ہفتے قبل ہی انڈیا کے لیے ‘تزویراتی تجارتی اختیار’ کے اول درجے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی بدولت امریکہ سے انڈیا کو اعلیٰ ٹیکنالوجی کی برآمدات میں مزید سہولت ملے گی۔ امریکہ انڈیا اور خطے کے دیگر تمام ممالک کے ساتھ معاشی شراکت جاری رکھے گا۔ ہم خطے میں ترقیاتی عمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ضروریات سے نمٹنے کے لیے اپنے نجی شعبے کی غیرمتوازی اہلیت سامنے لانے کےخواہاں ہیں اور ایسا ماحول تخلیق کرنا چاہتے ہیں جس میں قانون کے مطابق  عمل کرتے ہوئے کاروبار اور ملک پھلیں پھولیں۔

آج ہم اپنے باہمی تعلقات میں ایک اور سنگ میل تک بھی پہنچے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے کڑی حمایت کی بدولت آج سے 10 سال پہلے اسی دن ‘نیوکلیئر سپلائرز گروپ’ نے انڈیا کو سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کی تجارت میں شمولیت کی اجازت دینے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ ووٹ اور سول جوہری معاہدے کے سیکشن 123 نے ہمارے تزویراتی تعلقات کی ترقی، دفاعی و تجارتی تعاون بڑھانے اور عوامی سطح پر تعلقات کو وسعت دینے کی راہ کھول دی۔ اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ آئندہ 10 برس میں ہمیں کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ہم ویسٹنگ ہاؤس کے سول جوہری منصوبے کو حتمی شکل دیے جانے کے منتظر ہیں جس سے کروڑوں انڈین لوگوں کو صاف اور قابل اعتماد توانائی میسر آئے گی۔

میں اپنے اور ساتھیوں کے لیے انڈین میزبانوں کی فیاضی کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا۔ امریکہ دونوں ممالک، خطہ ہندوالکاہل اور درحقیقت پوری دنیا کے لیے سلامتی اور خوشحالی کو ترقی دینے کے لیے انڈیا کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ اس کے ساتھ ہی میں وزیر دفاع کو گفتگو کی دعوت دوں گا۔

وزیر ماٹس: خواتین و حضرات سہ پہر بخیر، گرمجوش میزبانی اور آج ہونے والی پیشہ وارانہ بات چیت پر وزیر سواراج اور وزیر سیتھارامن کا شکریہ۔ دہلی میں اپنے دوستوں سے دوبارہ ملاقات اور وزیر خارجہ پومپئو کے ہمراہ امریکہ کی نمائندگی کرنا خوشی کی بات ہے۔ وزیر سیتھارامن، میں صرف یہ کہوں گا کہ آپ نے ابھی اپنے بیان میں دفاعی تعلقات کے بارے میں جو کہا میں اس سے پوری طرح متفق ہوں۔ آج کی مفید بات چیت سے دونوں مساوی جمہوریتوں کے مابین جاری تعاون کی قدروقیمت کا اظہار ہوا۔ یہ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے مابین مضبوط تعلق ہے اور یہ آپ کے سامنے بیٹھے ہم لوگوں نے شروع نہیں کیا۔ یہ ہمیں ورثے میں ملا ہے اور اب ہم یہ امر یقینی بنا رہے ہیں کہ جب ہم اسے اپنے جانشینوں کے حوالے کریں تو یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو۔

1947 میں انڈیا کی آزادی کے بعد سے دونوں ممالک میں آزادی کے لیے احترام اور محبت کے مشترکہ  جذبات پائے جاتے ہیں۔ انڈیا کی آزادی سے صرف تین برس بعد وزیراعظم نہرو نے امریکہ کا دورہ کیا اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا ”وہ امریکی قلب و ذہن کی دریافت کے سفر پر آئے ہیں” آج وزیر پومپئو اور میں اسی جذبے سے یہاں آئے ہیں جسے لے کر وزیراعظم نہرو قریباً 70 برس پہلے واشنگٹن آئے تھے۔ یہ باہمی تعاون بڑھانے کا جذبہ ہے جس کی دونوں ممالک کو خواہش ہے۔ دونوں ممالک کے مابین آج وزارتی سطح پر ہونے والے  پہلے ‘2+2’ مذاکرات نے ہمارے مضبوط دفاعی تعلق کو مزید طاقت بخشی ہے جیسا کہ آپ ابھی سن چکے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کی خودمختاری کے لیے بھرپور احترام کا اعادہ کیا اور محفوظ و مامون، خوشحال اور آزاد خطہ ہندوالکاہل کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔

ہم خطے میں جغرافیائی سطح پر استحکام بخش قوت کے طور پر انڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں۔ آپ کا ملک بہت سے دیگر ممالک کی نسبت بہتر طور سے یہ بات سمجھتا ہے کہ امن و خوشحالی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریقین زمینی سالمیت، سفری آزادی اور دباؤ سے نجات  کے اصولوں کا احترام کریں۔ قانون کی بنیاد پر نظام کے لیے یہ تمام باتیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ وزیراعظم مودی کے الفاظ میں ‘اسی صورت چھوٹے بڑے ممالک آزاد اور بے خوف انداز میں ترقی کر سکتے ہیں۔ ہم ابتدائی بڑے دفاعی شراکت دار کے طور پر انڈیا کے کردار کو بڑھانے اور اسے وسعت دینے کے لیے باہم مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ ان تعلقات کو اس درجے پر لے جایا جائے جو ہمارے قریب ترین اتحادیوں اور شراکت داروں کے لیے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج ہم نے مواصلاتی مطابقت اور سلامتی کے معاہدے پر دستخط کر کے اس مقصد کی جانب ایک اہم قدم بڑھایا ہے۔ باہمی تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت کا حامل یہ معاہدہ ہماری افواج کے باہمی تعاون اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے کی اہلیت کو مزید بہتر بناتے ہوئے دونوں ممالک کو پہلے سے زیادہ مضبوطی بخشتا ہے۔

علاوہ ازیں ہمارے مابین ایک نئی سہ جہتی فوجی مشق کے ذریعے سمندر میں اپنے ربط کو بڑھانے اور اسے وسعت دینے پر اتفاق پایا گیا۔ وزیر پومپئو اور مجھے شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کے نفاذ سے لے کر انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون تک بہت سے مسائل پر جاننے کا موقع ملا اور ہمیں اندازہ ہوا  کہ دونوں ممالک بے رحمانہ دہشت گرد حملوں کے اثرات جھیل چکے ہیں جن میں 10 سال قبل ممبئی میں ہونے والے حملوں جیسے واقعات شامل ہیں جن میں درجن سے زیادہ ممالک کے معصوم شہری مارے گئے تھے۔ اس نومبر میں ان حملوں کی 10ویں برسی آ رہی ہے اور اس موقع پر ہم کھوئے ہوؤں کو یاد کر رہے ہیں۔ آج ہم جو قدم اٹھا رہے ہیں وہ قریب تر عسکری تعلقات کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ ہماری ملاقات دونوں ممالک کے سامنے روشن مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہے جو تزویراتی شراکت داروں کی حیثیت سے دونوں ممالک میں موجود ہے۔ ہم آج دوپہر وزیراعظم مودی کے ساتھ ملاقات کے منتظر ہیں اور مضبوط قیادت پر ان کا شکریہ ادا کرنے نیز مستقبل کی بابت بات چیت کے مواقع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ آپ کا بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں