rss

امریکہ انڈیا ‘2+2’ مذاکرات کے موقع پر وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو، وزیر دفاع جیمز این ماٹس، انڈین وزیر برائے خارجہ امور سشما سواراج اور وزیر دفاع نرملا سیتھارامن کے افتتاحی کلمات

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 ستمبر 2018

 

وزیر خارجہ پومپئو: جناب وزیر، شکریہ۔ ہم دونوں کی میزبانی کا شکریہ۔ اس اہم ملاقات کی میزبانی پر ہم آپ کے مشکور ہیں۔ مجھے وزیرخارجہ کے طور پر عہدہ سنبھالنے سے 16 ہفتے بعد انڈیا کا پہلا دورہ کرتے ہوئے خوشی ہے اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ میں دونوں ممالک کے مابین اہمیت کے حامل پہلے ‘2+2’ تزویراتی مذاکرات کے لیے یہاں موجود ہوں۔ یہ موقع اس امر کا واضح اظہار ہے کہ امریکہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو ترجیحی اہمیت دیتا ہے۔

گزشتہ برس جون میں وزیراعظم مودی کے وائٹ ہاؤس آنے کے بعد ہماری شراکت باقاعدگی سے ترقی پا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ اسے جاری رکھنے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے ہماری روانگی سے قبل وزیر ماٹس اور مجھے یہ بات بتائی تھی۔ ہم انڈیا کے نمایاں عالمی طاقت کے طور پر ظہور کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ہمارے شراکت کے حوالے سے انڈیا کے مساوی عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

دونوں ممالک جمہوریت، انفرادی حقوق کے احترام اور آزادی کے لیے مشترکہ عزم سے متعلق مشترکہ اقدار کے ذریعے باہم جڑے ہیں۔ ان اقدار کی موجودگی میں انڈیا اور امریکہ کے پاس آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کو فروغ دینے کا فطری نکتہ آغاز موجود ہے۔ ہمیں سمندروں اور فضاؤں کی آزادی یقینی بنانے، علاقائی سمندری تنازعات کے پرامن حل، منڈی کی بنیاد پر معیشتوں کی ترقی، اچھی حکمرانی، بنیادی حقوق اور آزادیوں کی حمایت اور خارجی  معاشی دباؤ کی روک تھام جاری رکھنا ہو گی۔

ہم خطے میں استحکام کو لاحق خطرات سے آگاہ ہیں اور امریکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے امن و آزادی یقینی بنانا چاہتا ہے۔ سالہا سال تک دہشت گردوں کی نامزدگیوں اور معلومات کے تبادلے میں پیش رفت سے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں ہمارا تعاون مضبوط ہو چکا ہے اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ورکنگ گروپس کی باقاعدہ دوطرفہ ملاقاتوں سے اسے مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آج ہم انسداد دہشت گردی کے معاملے پر پیش رفت جاری رکھ سکتے ہیں۔

ہمیں اس بات چیت کی امید بھی ہے کہ شمالی کوریا کو حتمی اور مکمل قابل تصدیق طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لیے انڈیا کیسے امریکہ کے ساتھ مزید کام کر سکتا ہے اور ہمیں ایران کی مجرم حکومت کو اس کی تمام ضرررساں سرگرمیوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کی غرض سے مل کر کام کرنے کی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔

دونوں ممالک مل کر خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ تصور کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں کہ ہم نے ایسا تعلق قائم کیا ہے جو 21 ویں صدی کی تشکیل میں مدد دے گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں