rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس کانفرنس

Facebooktwittergoogle_plusmail
Español Español, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
14 ستمبر 2018
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی
غیرمدون/ مسودہ

 

وزیر خارجہ پومپئو:
سبھی کو سہ پہر بخیر۔

سوال: سہ پہر بخیر۔

وزیر خارجہ پومپئو: بات شروع کرنے سے پہلے میں فلورنس طوفان سے متاثرہ اپنے ہموطن امریکیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے اس طوفان میں ممکنہ جانی نقصان کا بھی اندازہ ہے۔ ہماری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچنے والوں، فوج، سویلین اور اچھا کام کرنے والے دیگر لوگوں کا شکریہ۔ وفاقی حکومت کی مدد پہنچ چکی ہے اور ہم خطرے کی زد میں آئے تمام امریکیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ سرکاری حکام کی بات سنیں اور اس پر دھیان دیں۔

ہم اس وقت بحرالکاہل میں طوفان کی موجودگی سے بھی آگاہ ہیں جو فلپائن میں ہمارے دوستوں کو نقصان پہنچائے گا۔ ہم ان کے لیے بھی دعا گو ہیں۔ دفتر خارجہ کی ٹیمیں وقت آنے پر خطے میں مناسب مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔

جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں بدھ کو صدر ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ہماری انتظامیہ اپنے جمہوری عمل میں غیرملکی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔ انتخابات ہماری جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان کا تحفظ ہماری خودمختاری اور امریکی قومی سلامتی کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

غیرملکی دشمن ہماری جمہوریت اور ہمارے بنیادی اداروں کو کمزور کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں نئے محاذ کھولنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے کام لے رہے ہیں۔ ایسے عناصر امریکیوں کو ایک دوسرے کے خلاف لانا چاہتے ہیں اور ہمیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے اور ہمارے تصورات ناقص ہیں۔ مگر ہم ایسی کوششوں کو شکست دینے اور یہ واضح کرنے کے لیے پرعزم ہیں کہ ہماری آزادیوں میں مداخلت کرنے والوں کو قیمت چکانا پڑے گی۔

گزشتہ چند برس میں خاص طور پر روس نے امریکہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش میں جارحانہ طور سے اپنی سائبر صلاحیتوں سے کام لیا، غلط معلومات پھیلائیں اور دیگر خفیہ طریقے استعمال کیے ہیں۔ جیسا کہ اس انتظامی حکم میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر روس یا کسی دوسری غیرملکی حکومت یا ان کے لیے کام کرنے والے افراد نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی تو اس کے فوری اور کڑے نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ حکم ایسے غیرملکی افراد کے خلاف پابندیوں کی تاکید کرتا ہے جن کے بارے میں یہ ثابت ہو کہ وہ ہمارے انتخابات میں مداخلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ ایسے اضافی اقدامات بھی ممکن بناتا ہے جن کی مدد سے ہمارے ملک کی معیشت پر تباہ کن اثرات یا اس میں مداخلت کو روکا جا سکے گا۔ اگر کسی ملک کی حکومت نے ہمارے انتخابی عمل میں مداخلت کے لیے کسی کو اختیار یا ہدایت دی یا اس کے لیے معاونت یا مدد کی تو ہم اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

دفتر خارجہ امریکی انتخابات میں غیرملکی مداخلت کی نشاندہی اور اسے سامنے لانے کے لیے دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا خواہ یہ کام کسی بھی ادارے نے شروع کیا ہو۔ ہم جمہوریت کو لاحق ایسے خطرات کے خلاف دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں سے مل کر کام کریں گے خواہ یہ خطرات کہیں سے بھی سامنے کیوں نہ آئیں۔

میں یہاں دفتر خارجہ کی ٹیم کے بارے میں اظہار خیال کے لیے چند منٹ صرف کرنا چاہوں گا۔ کل بہت زبردست دن تھا۔ یہ ہمارے لیے فخر کا حامل دن تھا۔ سینیٹ کی توثیق کے بعد صدر ٹرمپ نے ہمارے چار افسروں کا کیریئر سفیر کے عہدے پر تقرر کیا۔ ان کا شمار دفتر خارجہ کے بہترین افسروں میں ہوتا ہے جن میں فلپ گولڈ برگ، ڈیوڈ ہیل، سیاسی امور کے لیے میری نائب وزیر مشیل سیسن اور ڈین سمتھ شامل ہیں۔

یہ خارجہ امور کی ملازمت میں سب سے بڑا اور انتہائی پروقار عہدہ ہے۔ ان سب کو اس پر بے حد فخر ہونا چاہیے۔ مجھے بھی ان پر فخر ہے۔ امریکی عوام کو بھی فل، ڈیوڈ، مشیل اور ڈین پر فخر ہونا چاہیے جو ہمارے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان سب نے سالہا سال تک ملازمت کے دوران ثابت کیا ہے کہ ان کی غیرمعمولی سفارتی صلاحیتوں اور قائدانہ اوصاف کی بے حد ضرورت ہے اور وہ اپنی ان اہلیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کے لیے بھی مثال ہیں۔ یہ بہت بڑے رہنما ہیں۔ میں دفتر خارجہ کے اپنے تمام ساتھیوں کی جانب سے انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

یہ دفتر خارجہ کی قیادت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اچھا قدم ہے اور یہ ایسا کام ہے جسے میں نے یہاں اپنے ابتدائی مہینوں میں اپنی اولین ترجیح کے طور پر رکھا ہے۔ مجھے علم ہے کہ جب ہر جگہ لوگ موجود ہوں تو امریکی سفارت کاری زیادہ مستعد اور موثر ہو جاتی ہے۔ ہمیں اعلیٰ قیادت کی اس ٹیم کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے ہمارے نئے رہنما پہلے ہی موثر کام کر رہے ہیں۔ میں نے ڈیوڈ ہیل کا تذکرہ کیا۔ وہ سیاسی امور کے لیے میرے نائب وزیر ہیں۔ حکمت عملی کی منصوبہ بندی سے متعلق ڈائریکٹر کیرن سکینر بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں جن کا میں نے ابتدا میں تذکرہ نہیں کیا۔ وہ بہت سے امور پر انتہائی ممتاز علمی صلاحیتوں کی حامل ہیں اور وہ یہ امر یقینی بنائیں گی کہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے بہترین تصورات سامنے لائے جائیں۔

جب میں سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے پیش ہوا تو میں نے اس موقع پر متعدد وعدے کیے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں دفتر خارجہ کی ٹیم کو میدان عمل میں لاؤں گا۔ مجھے علم تھا کہ دنیا میں بہترین سفارتی عملے کو مضبوط بنانے کے لیے ایسا کرنا بے حد اہم ہے اور یہی بات میں نے اس دن کہی تھی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنا کردار ادا کروں گا اور ان عہدوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ میں ان عہدوں پر نامزدگیوں کے لیے صدر کے ساتھ کام کروں گا ۔ ہم نے قابل توثیق عہدوں پر بھرتیوں کے لیے اہم پیش رفت کی اور ہمیں اسے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

مغربی ہمپشائر جیسی جگہوں پر اب بھی خلا موجود ہیں، وینزویلا، نکاراگوا، میکسیکو اور شمالی تکون میں ہمیں مسائل کا سامنا ہے اور ان اہم علاقوں کے لیے بھی ہمیں رہنمائی کرنے والوں کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ سے یہاں انتظامی امور کے لیے نائب وزیر نہیں ہے اور ہمیں ایک توثیق شدہ فرد درکار ہے۔ میں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ابتدائی عرصہ میں بہت سا وقت مشرق قریب کے امور پر صرف کیا جہاں ہمیں اب بھی اپنے معاون وزیر کی توثیق کا انتظار ہے۔

یہ ایک طویل فہرست ہے اور میں اس پر مزید بات بھی کر سکتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ہم اپنا کام مکمل کر سکتے ہیں تاکہ انتظامی اور قانونی امور سے متعلق محکموں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو ہم سب چاہتے ہیں یعنی ہر جگہ امریکی خارجہ پالیسی سے کام لینے کی اہل ٹیم۔ اس کے ساتھ ہی مجھے آپ سے چند سوالات لے کر خوشی ہو گی۔

مس نوئرٹ: میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے میٹ لی سے کہوں گی کہ وہ آغاز کریں۔ براہ مہربانی ہر شخص ایک سوال کرے۔

وزیر خارجہ پومپئو: ہیلو میٹ۔

سوال: یقیناً، جناب سہ پہر بخیر۔ مجھے آپ سے آپ کے نئے گھر کی اندرونی آرائش سے متعلق پوچھنا تھا مگر پھر میں نے سوچا اس کے بجائے حکمت عملی کے اعتبار سے قدرے مزید ارضی قسم کے معاملے پر سوال کروں۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ گزشتہ شب صدر ٹرمپ نے آپ کے ایک پیشرو وزیر کیری کے بارے میں ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کچھ ایسی بات کہی کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ‘غیرقانونی طور سے ملتے رہے ہیں” اور یہ ایران سے متعلق آپ کی کوششوں کو کمزور کرنے ان میں خلل ڈالنے یا ایرانیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ آپ کی کڑی پالیسی سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا آپ صدر کے اس نکتہ نظر کی حمایت کرتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں غیرقانونی ہیں۔ مزید یہ کہ آیا آپ نے دیکھا ہے کہ نئی امریکی حکمت عملی کے بارے میں یورپی اور دوسرے ممالک کو ساتھ لینے کے لیے آپ کی کوششیں وزیر کیری یا سابقہ انتظامیہ کے کسی اور عہدیدار کی کوششوں کے نتیجے میں کمزور پڑ رہی ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں اس حوالے سے قانونی معاملات دوسروں پر چھوڑتا ہوں۔ مگر وزیر کیری نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا اور اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ سابق وزیر خارجہ ایسے ملک کے لوگوں سے مل رہے ہیں جو دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون ہے اور وہ ان سے بات کر رہے ہیں۔ وہ انہیں کہہ رہے تھے کہ وہ موجودہ امریکی حکومت کے خاتمے تک انتظار کریں۔

آپ کو امریکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور وزیر کیری کو ایسا طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ امریکی خارجہ پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا اور ان کے لیے ایسا کرنا بے حد غیرمناسب ہے۔ مجھے یاد ہے میں نے انہیں میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس میں دیکھا تھا۔ اگر میرے حقائق درست ہیں تو میں نے انہیں وزیر مونیز اور وینڈی شرمین کے ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ تین لوگ تھے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنے تینوں ہم منصبوں سے ملاقات کی تھی۔ وزیر سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا اس حوالے سے میری یادداشت ٹھیک ہے یا نہیں۔

میں اس ملاقات میں شامل نہیں تھا مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کی حمایت میں وہاں موجود نہیں تھے جس نے اس ہفتے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ برسائے ہیں اور بصرہ میں ہمارے قونصل خانے کے خلاف کارروائی کی ہے۔

مس نوئرٹ: اگلا سوال۔

سوال: کیا اس سے کوئی فرق پڑا؟ کیا اس سے آپ کی کوششیں متاثر ہوئیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں نے ۔۔۔

سوال: ٹھیک ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ سابق وزرائے خارجہ کو امریکی خارجہ پالیسی کمزور کرنے کی کوششوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو جیسا کہ سابق وزیر خارجہ نے کیا۔

مس نوئرٹ: رائٹرز سے لیزلی راٹن

سوال: جناب وزیر، سہ پہر بخیر۔ مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ روس اور چین سلامتی کونسل سے کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کو شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں میں نرمی لانی چاہیے کیونکہ اس کی جانب سے جوہری اسلحے کے خاتمے کے سلسلے میں پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔ آپ کیسے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دونوں ممالک پابندیوں پر عمل نہیں کر رہے اور اس سے شمالی کوریا کو مکمل طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے سلسلے میں آپ کی کوششیں کیسے متاثر ہو رہی ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: مجھے اس حوالے سے دو باتیں کہنا ہیں۔ پہلی یہ کہ میں نے آج صبح سفیر ہیلی سے اس بارے میں بات کی تھی۔ روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، 1718 کمیٹی کے کام کو کمزور کرنے اور اس کی زبان میں تبدیلی کے لیے متحرک طور سے کوشش کی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی وہ کمیٹی ہے جو پابندیوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ 1718 کمیٹی وہی کچھ کرے گی جو وہ کرتی چلی آئی ہے اور غیرجانبدار رہتے ہوئے حقائق بیان کرے گی اور کسی ایک ملک کو اس کی زبان میں کوئی تبدیلیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ مجھے امید ہے کہ وہ اصل دستاویز ہی شائع کرے گی جو وہ کرنا چاہتی تھی اور اس دستاویز سے پابندیوں کے نفاذ سے متعلق خلاف ورزیوں کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ یہ ایک اہم معاملہ ہے، یہ امریکی پابندیاں نہیں بلکہ سلامتی کونسل کی جانب سے پوری دنیا کی عائد کردہ پابندیاں ہیں۔

آپ کا سوال اس سے زیادہ وسیع تھا۔ امریکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے اطلاق کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے چیئرمین کم کو اس بات پر راضی کرنے میں ان پابندیوں کا مرکزی کردار ہے کہ جزیرہ نما کوریا کو مکمل اور حتمی طور پر جوہری اسلحے سے پاک کیا جانا ضروری ہے اور یہ کام اس انداز میں ہونا چاہیے کہ دنیا کو نظر آ سکے کہ شمالی کوریا کے لوگوں کو اچھا مستقبل دینے کے سلسلے میں چیئرمین کم کے نقطہ نظر میں تزویراتی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں یہی بات کہی تھی اور اس موقع پر کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے ہماری شمالی کوریا سے بات چیت جاری ہے۔

مس نوئرٹ: سی این این سے ایلس۔

سوال: شکریہ، جناب وزیر، سہ پہر بخیر۔

وزیر خارجہ پومپئو: جی محترمہ۔

سوال: 30 ستمبر تک انتظامیہ نے کانگریس کو بتانا ہے کہ آئندہ مالی سال میں کتنے مہاجرین کو امریکہ میں داخلہ دیا جائے گا۔ یوں لگتا ہے ان لوگوں میں اس حوالے سے بحث مباحثہ ہو رہا ہے جو اسے قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور مہاجرین کی تعداد کو 45000 تک رکھنا چاہتے ہیں اور جو اس تعداد کو مزید کم کر کے 20 ہزار تک لانا چاہتے ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ آیا آپ اس حوالے سے کسی مخصوص تعداد کے بارے میں بتا سکتے ہیں یا نہیں، مگر کیا آپ ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے خیال میں مستقبل قریب میں کتنے مہاجرین کو امریکہ میں داخلہ دیا جانا چاہیے؟

وزیر خارجہ پومپئو: اس بارے میں جلد ایک اعلان کیا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ قومی سلامتی کی ٹیم صدر کی سفارشات کے مطابق عمل کرے گی۔ وہی مہاجرین کی مناسب تعداد کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔ یہ مطلقاً قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ ہے اور یہ بات اہم ہے کہ یہاں ہر کوئی جانتا ہے کہ غیرملکیوں کو قبول کرنے کے اعتبار سے امریکہ دنیا کا انتہائی فیاض ملک ہے۔ مجھے اس حوالے سے ناصرف امریکہ کے تاریخی کردار بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے سے نمٹنے کے انداز پربھی فخر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس معاملے پر لیے گئے فیصلے کے بعد بھی امریکہ بیرون ملک سے لوگوں کو قبول کرنے کے معاملے میں دنیا کا فیاض ترین ملک ہی رہے گا۔ مجھے پوری توقع ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

مس نوئرٹ: آخری سوال۔

سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ مہاجرین کی تعداد کے حوالے سے آپ کا کیا خیال ہے؟

وزیر خارجہ پومپئو: نہیں، میں ایسے خیالات کی بابت صرف صدر سے بات کرتا ہوں اور جب وہ کوئی فیصلہ کر لیں گے تو پھر اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مس نوئرٹ: آخری سوال، فاکس نیوز سے رچ ایڈسن۔

سوال: شکریہ ہیدا، جناب وزیر، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے وزیر کیری اور وینڈی شرمین کے علاوہ بھی کچھ لوگ ایسی کوششوں میں مصروف ہیں جن کا آپ نے تذکرہ کیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سابق امریکی انتظامیہ کے دیگر لوگ بھی یورپیوں اور ایرانیوں کو مشورے دے رہے ہیں؟ مزید یہ کہ اگر ‘سوئفٹ’ کے ارکان یا بورڈ ارکان ایران سے لین دین جاری رکھتے ہیں تو کیا انتظامیہ ان کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دوں گا۔ میں خاص طور پر ‘سوئفٹ’ کے حوالے سے لیے گئے کسی فیصلے سے آگاہ نہیں ہوں۔ یکم نومبر کی حتمی تاریخ سے پہلے بہت سے فیصلے ہونا ہیں، معاف کیجیے 4 نومبر کی حتمی تاریخ جس کے آنے تک ہم نے ممالک کو ممکنہ چھوٹ دینے کی بابت فیصلے کرنا ہیں۔ ہم ان تمام معاملات پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ 4 نومبر کے بعد ایران کے ساتھ کسی طرح کی معاشی سرگرمی کے حوالے سے ضوابط بالکل مختلف ہوں گے۔

یہ ایک بڑا اور اہم دن ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بہت سے ممالک پہلے ہی ایران سے لین دین ختم کرنے کے اقدامات اٹھا رہے ہیں اور 4 نومبر کی حتمی تاریخ سے قبل اس کے ساتھ اپنے کاروبار ختم کر رہے ہیں۔ میری رائے میں وہ ناصرف یہ بات سمجھتے ہیں کہ امریکہ پابندیوں کی بابت کس قدر سنجیدہ ہے بلکہ انہیں یہ بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمی اس کی ان ضرررساں سرگرمیوں کو تقویت پہنچاتی ہے جن کا تذکرہ صدر ٹرمپ عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد کرتے چلے آئے ہیں۔ ان میں خلیجی ریاستوں کے ہوائی اڈوں پر داغنے کے لیے حوثیوں کو میزائلوں کی فراہمی، امریکی مفادات کے خلاف شیعہ ملیشیاؤں کی سرگرمیاں اور یورپ کے قلب میں قاتلانہ کوششیں شامل ہیں۔

میں سمجھتا ہوں دنیا کو نظر آنا شروع ہو گیا ہے کہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے جتنا ایرانی جوہرے معاہدے کے وقت ظاہر کیا گیا تھا۔ میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ دنیا بھر کے ممالک اس پر بات کر رہے ہیں اور ایسے بیانات ان کے سامنے ہیں جیسا ایرانیوں نے اس ہفتے دیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم معاہدے سے دستبردار ہوئے تو پھر پہلے سے کہیں بڑے پیمانے پر جوہری پروگرام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس سے ملتی جلتی ہی بات کہی ہے۔ ارے واہ، اس سے معاہدے کی موجودگی کے بارے میں کیا سامنے آتا ہے؟ وہ پہلے سے کہیں بڑی سطح سے شروع کرنے والے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جوہری معاہدہ ایرانی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اس انداز میں نہیں روک پایا جو امریکی عوام کو بتایا گیا تھا۔ کیا آپ کو اپنے سوال کا جواب مل گیا؟ آپ اپنا پہلا سوال دوبارہ پوچھ سکتے ہیں جو میں ۔۔۔

سوال: پہلا سوال یہ تھا کہ آپ نے امریکی اتحادیوں اور ایران پر اثرانداز ہونے والے جن سابقہ امریکی عہدیداروں کا تذکرہ کیا، آیا ان کے علاوہ بھی کوئی سابقہ حکام ایسا کر رہے ہیں؟ وزیر کیری نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں موجودہ انتظامیہ ایرانی حکومت کی تبدیلی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ کیا آپ کی یہی حکمت عملی ہے؟

وزیر خارجہ پومپئو: نہیں، ہماری یہ حکمت عملی نہیں ہے۔ سفیر بولٹن اور میں نے متعدد مرتبہ واضح کیا ہے کہ یہ امریکی پالیسی نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران میں وہی قیادت ہونی چاہیے جو وہاں کے عوام چاہتے ہیں۔ جہاں تک سابق انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں بارے سوال کا تعلق ہے تو میں اس بارے میں آج کچھ نہیں کہوں گا۔ مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ میں نے سابق وزیر کیری کے بارے میں جو نصیحت کی ہے وہ دیگر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

مس نوئرٹ: سبھی کا شکریہ۔

وزیر پومپئو: آپ سب کا شکریہ۔

مس نوئرٹ: اب ہمیں جانا ہے۔ شکریہ۔

وزیر پومپئو: میں آپ سبھی کے لیے اچھے اختتام ہفتہ کی خواہش کرتا ہوں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں