rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی میڈیا سے گفتگو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
17 ستمبر 2018

 

وزیر خارجہ پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ امریکہ مالی سال 2019 میں متوقع طور پر 310000 مہاجرین اور پناہ کے خواہش مندوں کی درخواستوں پر کارروائی کرے گا۔ ہم نے مہاجرین کی تعداد کے حوالے سے مقرر کردہ نئی حد کے تحت 30000 مہاجرین کی آباد کاری کی تجویز دی ہے جبکہ پناہ کے خواہش مند 280000 سے زیادہ لوگوں کی درخواستوں پر کام ہو گا۔ یہ لوگ پہلے سے ہی امریکہ میں موجود 800000 سے زیادہ ایسے لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جو یہاں پناہ لینے کے خواہش مند اور اپنے دعووں پر فیصلے کے منتظر ہیں۔ ان بھاری بھرکم اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفظ کی بنیاد پر مہاجرت و معاونت کے معاملے میں دنیا کے فیاض ترین ملک کی حیثیت سے امریکہ کا طویل ریکارڈ بدستور برقرار ہے۔

2000 سے اب تک پندرہ لاکھ لوگوں کو مہاجرین کی حیثیت سے امریکہ میں داخلہ دیا گیا یا پناہ فراہم کی گئی۔ 2001 سے اب تک امریکہ ایسے ممالک سے آنے والے مجموعی طور پر 41 لاکھ حق دار افراد کو ملک میں مستقل آباد کر چکا ہے جہاں سے لوگوں کو مہاجرت اختیار کرنا پڑتی ہے۔ امریکہ کہ جانب سے تحفظ کی بنیاد پر مہاجرت کے حوالے سے کی جانے والی مجموعی کوششوں میں ایسے لاکھوں لوگوں کی مدد بھی شامل ہے جنہوں نے انسانی خریدوفروخت کے متاثرین، انسانی بنیادوں پر پیرول، عارضی تحفظ اور خصوصی نوعمر مہاجرین جیسے دیگر درجوں کے تحت یہاں  عارضی اور مستقل تحفظ حاصل کر رکھا ہے  ہے۔

ایسی کوششوں کے علاوہ مالی سال 2017 میں دنیا بھر میں امریکہ کی جانب سے دی جانے والی مجموعی امداد کا حجم 8 ارب ڈالر سے زیادہ رہا جو کسی بھی دوسرے ملک سے بڑھ کر ہے۔ اس برس ملک میں مہاجرین کے داخلے کی مجوزہ حد کو امریکہ کی جانب سے پیش کردہ دیگر متعدد طرح کے  تحفظ اور معاونت  کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

مزید براں مہاجرین کی تعداد کو دیگر وسیع تر امدادی پروگراموں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بعض لوگ مہاجرین کی تعداد کو دنیا بھر میں برے حالات کا شکار لوگوں کے لیے امریکی اقدامات کے واحد پیمانے کے طور پر دیکھیں گے۔ ایسا کرنا درست نہیں ہو گا۔

دیگر ممالک انسانی تحفظ کے سلسلے میں اپنی کوششوں میں مہاجرین اور پناہ کے خواہش مند دونوں طرح کے لوگوں کو دی گئی معاونت شمار کرتے ہیں۔ امریکہ کو بھی یہی کچھ کرنا چاہیے۔ اس برس مہاجرین کی تعداد ہمارے ملک میں پناہ کے خواہش مند افراد کی تعداد میں بڑے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے جس کے نتیجے میں پناہ کے بقیہ کیسز اور عوامی اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پناہ کے خواہش مند 800000 سے زیادہ افراد کے زیرالتوا کیسز سے نمٹنے کی ڈراؤنی حقیقت ازسرنو توجہ اور ترجیح کی متقاضی ہے۔ اس مسئلے کا حجم کسی بھی دوسرے ملک کو درپیش ایسے ہی مسئلے سے بہت بڑا ہے۔

امریکی سلامتی کے مفاد اور بھاری بوجھ تلے دبے  پناہ کے نظام کی کلیت بحال کرنے کی فوری ضرورت کے پیش نظر امریکہ پہلے سے ملک میں موجود لوگوں کو تحفظ دینے کے معاملات پر توجہ مرکوز کرے گا۔

اس برس مہاجرین کی تعداد صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکی عوام کے تحفظ اور بہتری  کو ترجیح دیتے ہوئے دنیا بھر میں انتہائی برے حالات کا شکر لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے ہمارے عزم کا اظہار ہے۔ ہمیں امریکہ میں داخلے کی درخواستوں کا ذمہ دارانہ جائزہ لیتے رہنا ہے تاکہ ایسے لوگوں کا داخلہ  روکا جا سکے جو ہمارے ملک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس برس پہلے ہی ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ سابقہ نظام ناقص تھا۔ اس نے ایک ایسے غیرملکی کو بھی ملک میں داخلہ دے دیا جو بعدازاں داعش کا رکن نکلا جبکہ مجرمانہ پس منظر کے حامل دیگر لوگ بھی امریکہ آنے  میں کامیاب رہے۔ امریکی عوام کو مکمل اعتماد ہونا چاہیے کہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی غیرملکی لوگوں کو ہمارے ملک میں رہنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سکیورٹی کے حوالے سے جانچ پڑتال میں وقت لگتا ہے مگر ایسا کرنا ضروری ہے۔

دنیا بھر میں 68 ملین سے زیادہ جبری بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے جسے ہر سال میزبان ممالک میں آباد کیا جا سکتا ہے یا پناہ دی جا سکتی ہے۔ اسی لیے یہ واضح کرنا بہت اہم ہے کہ انتہائی برے حالات کا شکار لوگوں کے لیے ہماری معاونت مہاجرت کے امریکی نظام کی گنجائش سے کہیں بڑھ کر ہے۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کی حکمت عملی میں طے کیا اور گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا ہم مہاجرین اور دیگر بے گھر لوگوں کو ہر ممکن  طور سے ان کے اپنے  ممالک کے قریب مدد دے کر انسانی امداد کے حوالے سے اپنے پائیدار عہد کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح بڑی تعداد میں بے گھر لوگوں کو امداد اور تحفظ مل رہا ہے۔

امریکہ ایسی راہ عمل کو فوقیت دینے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہے جس کی بدولت حالات سازگار ہونے پر مہاجرین کی ان کے اپنے  ممالک کو محفوظ اور رضاکارانہ واپسی ممکن ہو سکے۔ بیشتر مہاجرین بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ یہ حکمت عملی نہایت موافق نتائج کے حصول کے لیے ہمارے مضبوط  عزم کا اظہار ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ بوجھ بانٹا جائے، لوگوں کی بے گھری کا باعث بننے والے تنازعات اور جنگوں کو ختم کرنے کے لیے کام کیا جائے اور بیرون ملک امداد سے متعلق درخواست پر مزید بہتر طور سے اور دیکھ بھال کر کام کیا جائے۔

سمندر پار پناہ گزینوں کی مدد پر توجہ دینے سے ہمیں اپنی وسائل بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اگر مہاجرین اپنے آبائی علاقے سے قریب موجود ہوں تو پھر لاکھوں لوگوں کو رہائش، خوراک اور طبی نگہداشت مہیا کی جا سکتی ہے اور یہ کام اس سے کہیں زیادہ تیزرفتاری سے ہو سکتا ہے جتنا ہم امریکہ میں رہ کر ممکنہ طور پر کر سکتے ہیں۔ اس معاونت کا حتمی مقصد ان ضرورت مند لوگوں کی ہر ممکن طور سے بہترین نگہداشت اور تحفظ ممکن بنانا ہے اور ہم نے اپنا طریق کار اسی ارفع مقصد کے حصول کے لیے ترتیب دیا ہے۔

اس انتظامیہ کی مہاجرین سے متعلق بہتر بنائی گئی حکمت عملی امریکہ کے قومی مفادات کو پورا کرتی ہے اور اس سے دنیا بھر میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہماری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم دنیا میں انتہائی برے حالات کا شکار لوگوں کی معاونت جاری رکھیں گے اور اس سلسلے میں اپنے پہلے فریضے یعنی امریکی عوام کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں برتیں گے۔ ہم دنیا میں سب سے زیادہ فیاض قوم ہیں اور رہیں گے۔ آپ سب کی توجہ کا شکریہ۔

سوال: جناب وزیر (ناقابل سماعت) ۔۔۔

سوال: کیا امریکہ ۔۔۔ کیا امریکہ ہمت ہار چکا ہے؟

سوال: (ناقابل سماعت) کیا واقعی امریکہ محفوظ ہو گا؟

سوال: جناب وزیر، کیوں نہیں ۔۔۔

سوال: اب امریکہ اس قدر خسیس کیوں ہو چکا ہے؟


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں