rss

2017 میں ہونے والی عالمگیر دہشت گردی پر رپورٹس کا اجرا

English English, العربية العربية, Français Français

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
19 ستمبر 2018

 
 

دفتر خارجہ کے رابطہ کار برائے انسداد دہشت گردی نیتھن سیلز کی بریفنگ
بذریعہ ٹیلی کانفرنس
غیرمدون/ مسودہ

رابرٹ پیلاڈینو: شکریہ۔ سبھی کو سلام۔ میں رابرٹ پیلاڈینو ہوں۔ آج اس کال میں شمولیت پر آپ کا بے حد شکریہ۔ آج کی کال آن ریکارڈ ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بات چیت کے اختتام تک اس کال اور رپورٹ کی نشرواشاعت پر پابندی رہے گی۔

آج دفتر خارجہ دنیا بھر کے ممالک میں ہونے والی دہشت گردی پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر رہا ہے جس میں 2017 کے دوران انسداد دہشت گردی کا عالمگیر منظرنامہ بیان کیا گیا ہے اور یہ کانگریس کے مینڈیٹ کی تکمیل کرتی ہے۔ اس رپورٹ سے ہمیں یہ جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے نمایاں رحجانات سامنے لانے اور ان خطرات کے سدباب کے لیے امریکہ اور عالمی برادری کی کاوشیں کس قدر موثر رہیں۔ یہ رپورٹ ہمیں مزید آگاہی کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور اپنی حکمت عملی، ترجیحات اور درست جگہ پر وسائل کے استعمال کی بابت منصوبہ بندی میں بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔

یہاں میں سفیر نیتھن اے سیلز کو گفتگو کی دعوت دوں گا جنہوں نے اگست 2017 میں انسداد دہشت گردی سے متعلق رابطہ کار کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ نیتھن، یہاں تشریف آوری کا بے حد شکریہ۔

سفیر سیلز: رابرٹ، تعارف کا بے حد شکریہ۔ آج کی کال میں لائن پر موجود سبھی لوگوں کا بھی شکریہ۔ دہشت گردی کے موضوع پر دنیا کے تمام ممالک کے بارے میں یہ رپورٹ ایک اہم دستاویز ہے جو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے موجودہ رحجانات سے متعلق امریکی حکومت کے حالیہ اندازوں کا خاکہ پیش کرتی ہے اور بعض ایسی کوششوں پر روشنی ڈالتی ہے جو ہم اور ہمارے اتحادی داعش، القاعدہ، ایران کی پشت پناہی سے جنم لینے والے خطرات اور عالمی سطح پر سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انجام دے رہے ہیں۔

میں چند اعدادوشمار سے آغاز کروں گا۔ اس رپورٹ کے ساتھ ایک شماریاتی ملحقہ بھی موجود ہے جسے دہشت گردی کے مطالعے اور ردعمل سے متعلق قومی کنسورشیم نے تیار کیا تھا جو کہ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے قریب واقع ہے۔ ملحقہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں کی مجموعی تعداد میں 23 فیصد تک کمی آئی۔ اسی طرح دہشت گرد حملوں کے باعث مجموعی اموات میں 27 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ یہ دونوں اعدادوشمار 2016 کے ساتھ موازنے کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

اگرچہ 2016 اور 2017 کے درمیان متعدد ممالک میں دہشت گردانہ تشدد میں کمی دیکھنے کو ملی تاہم یہ مجموعی رحجان بڑی حد تک عراق میں ہونے والے حملوں اور اموات میں ڈرامائی کمی کے باعث سامنے آیا۔ اگرچہ 2017 میں 100 ممالک میں دہشت گرد حملے ہوئے تاہم جغرافیائی طور پر یہ ایک جگہ مرتکز تھے۔ انسٹھ فیصد حملے پانچ ممالک میں ہوئے۔ ان میں افغانستان، انڈیا، عراق، پاکستان اور فلپائن شامل ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 70 فیصد اموات پانچ ممالک میں ہوئیں جن میں افغانستان، عراق، نائیجیریا، صومالیہ اور شام شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں متعدد اہم اقدامات پر بات کی گئی ہے جو 2017 میں امریکہ اور ہمارے عالمی شراکت داروں نے دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے اور ان کی ساکھ ختم کرنے کے لیے اٹھائے۔ ہم نے معلومات کے تبادلے کو وسعت دینے، فضائی سکیورٹی بہتر بنانے، نفاذ قانون اور قانون کی حکمرانی کی اہلیتوں کو ترقی دینے اور جنگجوؤں کی بھرتی و تکرار جرم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دہشت گردانہ بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ کام کیا۔

دسمبر 2017 میں امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد 2396 پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس موقع پر 66 معاون ممالک بھی امریکہ کے ساتھ تھے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2396 میں رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ مسافروں کے نام پر مشتمل ریکارڈ سمیت بائیو میٹرک اور سفری معلومات جمع کریں اور انہیں استعمال میں لائیں تاکہ دہشت گردوں کی نقل وحرکت کی نشاندہی ہو سکے اور اسے روکا جا سکے جبکہ معلوم و مشتبہ دہشت گردوں سے متعلق نگرانی کی فہرستیں یا ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے۔

ہم معلوم و مشتبہ دہشتگردوں کی نشاندہی سے متعلق معلومات کے تبادلے کی خاطر دوطرفہ اہتمام کے لیے غیرملکی شراکت داروں کے ساتھ روبہ عمل ہیں۔ یہ کام داخلی سلامتی سے متعلق چھٹے صدارتی حکم نامے یا ‘ایچ ایس پی ڈی 6’ سے مطابقت رکھتا ہے۔ 2007 سے اب تک انسداد دہشت گردی کے دفتر اور دہشت گردوں کی جانچ پڑتال سے متعلق ایف بی آئی کے مرکز نے غیرملکی شراکت داروں کے ساتھ 71 انتظامات پر دستخط کیے اور وہ معلوم و مشتبہ دہشت گردوں کی نشاندہی، ان کا پیچھا کرنے اور ان کے سفر میں رکاوٹ پیدا کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

2017 میں امریکہ اور عالمی اتحاد نے داعش کے خلاف اہم کوششیں کیں۔ عراق اور شام میں کبھی داعش کے زیرقبضہ ننانوے فیصد علاقہ اب آزاد کرایا جا چکا ہے۔ ان میں قریباً 50 فیصد فوائد جنوری 2017 کے بعد حاصل ہوئے۔ اسی طرح 7.7 ملین لوگوں نے داعش کے وحشیانہ کردار سے نجات پائی جن میں قریباً 4.5 ملین کا تعلق عراق اور 3.2 ملین کا شام سے ہے۔ ان 7.7 ملین لوگوں میں سے اندازاً 5 ملین 2017 کے بعد آزاد ہوئے۔

ہم نے القاعدہ کا دوبارہ ظہور روکنے کے لیے اس پر دباؤ بڑھایا۔ ہم القاعدہ کی بھرتیوں، رقم اکٹھی کرنے، سفر اور منصوبہ بندی کی اہلیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس برس مئی میں دفتر خارجہ نے شام میں القاعدہ سے الحاق رکھنے والوں کی بطور دہشت گرد نامزدگیوں کو وسعت دی۔ اس ماہ کے اوائل میں 5 ستمبر کو ہم نے القاعدہ کی مالی شاخ کو بھی دہشت گرد نامزد کیا اور ہم نے القاعدہ سے ملحق متعدد تنظیموں اور افراد کو نامزد کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں ہونے والی کوششوں کی قیادت کی۔

ان بہت سی کامیابیوں کے باوجود 2017 میں دہشت گردی کے منظرنامے میں مزید پیچیدگی پیدا ہوئی۔ داعش، القاعدہ اور ان سے ملحقہ گروہوں نے ثابت کیا کہ وہ دوبارہ ابھرنے کے اہل، ثابت قدم اور خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے عراق، شام، صومالیہ اور دیگر جگہوں پرانسداد دہشت گردی کے حوالے سے بڑھتے دباؤ کے ساتھ خود کو ڈھال لیا۔ غیرملکی دہشت گرد عراق اور شام کے جنگی علاقوں سے اپنے آبائی ممالک کو واپس جا رہے ہیں یا داعش کی شاخوں میں شمولیت کے لیے تیسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ ہمیں اندرون ملک پروان چڑھنے والے دہشت گردوں کے حملوں میں اضافے کا تجربہ بھی ہو رہا ہے۔ یہ حملے کرنے والے لوگ داعش سے متاثر ہیں مگر کبھی شام یا عراق میں نہیں گئے۔ ہم نے جنگ زدہ علاقوں سے باہر آسان اہداف اور ہوٹلوں، سیاحتی مقامات اور ثقافتی جگہوں پر داعش کی ہدایت پر یا اس سے متاثر ہو کر کیے جانے والے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہم نےایک دوسرے سے بہت دور بماکو، بارسلونا، برلن، لندن، ماراوی، نیویارک سٹی، اواگاڈوگو اور بہت سی دیگر جگہوں پر یہ رحجان دیکھا ہے۔

ایران بدستور دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون اور بہت سے تنازعات کو ہوا دینے نیز شام، یمن، عراق، بحرین، افغانستان اور لبنان میں امریکی مفادات کو زک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ ایران اپنے بہت سے آلہ کاروں اور دیگر ذرائع جیسا کہ لبنانی حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ذریعے اپنی کارروائیاں انجام دے رہا ہے۔ ایران کی دہشت گردی کے لیے حمایت سے جنم لینے والے خطرات مشرق وسطیٰ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔

2012 کے بعد حزب اللہ نے بلغاریہ میں کامیاب حملہ کیا جس میں چھ افراد مارے گئے۔ اس نے قبرص میں دہشت گردی کے دو علیحدہ منصوبے بنائے اور کویت، نائیجیریا اور بولیویا میں عسکری سازوسامان اور دھماکہ خیز مواد کے بڑے ذخائر جمع کیے جبکہ اپنے دہشت گرد آلہ کاروں کو پیرو اور تھائی لینڈ بھیج رہی ہے۔

اس برس 30 جون کو جرمن حکام نے ایک ایرانی عہدیدار کو پیرس میں ہونے والی سیاسی ریلی میں بم دھماکے کی منصوبہ بندی کے جرم میں گرفتار کیا۔ بیلجیم اور فرانس میں بھی حکام نے ایران کی معاونت سے دہشت گردی کے اس منصوبے سے تعلق کے الزام میں گرفتاریاں کیں۔

یہ چند ایسے نکات تھے جو ہم نے اس رپورٹ میں دیے ہیں۔ اس کال میں شمولیت کے لیے وقت نکالنے پر میں آپ کا مشکور ہوں اور مجھے شدت سے آپ کے سوالات کا انتظار ہے۔ شکریہ۔

رابرٹ پیلاڈینو: شکریہ سفیر سیلز۔ آئیے اب سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ میں سبھی سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ وہ اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں اور صرف ایک سوال تک محدود رہیں۔ شکریہ۔

آپریٹر: یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ ہم اپنی کانفرنس کال میں سوال و جواب کے دور تک پہنچ چکے ہیں۔ براہ مہربانی ٭ اور 1 کا بٹن دبائیے۔ پہلا سوال ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی کیرول موریلو کریں گی۔

سوال: ہیلو، بریفنگ کا شکریہ۔ کیا آپ رپورٹ میں درج ”ایران اور اس کے آلہ کاروں کی قریباً عالمگیر رسائی” کے بارے میں کچھ مزید بتا سکتے ہیں۔ آپ نے آخر میں تھوڑی سی بات کی۔ یوں لگتا ہے یہ ادھر ادھر ہونے والے کچھ واقعات ہیں جو ضروری نہیں کہ ایران کی جانب سے انجام دیے گئے ہوں بلکہ ہو سکتا ہے یہ اس سے تحرک پا کر عمل میں آئے ہوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی میں ”ایران اور اس کے آلہ کاروں کی قریباً عالمگیر رسائی” کی بات کرتے ہوئے آپ کچھ زیادہ ہی کہہ گئے ہیں؟

سفیر سیلز: بالکل نہیں۔ ایران دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کا نمایاں ترین معاون ہے اور وہ ریاستی وسائل سے دہشت گردی کی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ ہم نے دنیا بھر میں ایران اور اس کے آلہ کاروں کی دہشت گرد سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ افریقہ اور جنوبی امریکہ جیسے دور دراز مقامات پر بھی اس کے مالی وسائل جمع کرنے کے متحرک نیٹ ورک کام کر رہے ہیں۔ ہم نے دنیا بھر میں ہتھیاروں کے ذخیرے دیکھے ہیں۔ ہم نے صرف لبنان میں حزب اللہ کی صورت میں ہی اس کی عملی سرگرمیاں نہیں دیکھیں بلکہ یورپ کے قلب میں بھی ایران کی پشت پناہی سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ایران دہشت گردی کو ریاست کاری کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اسے کسی بھی براعظم میں اس ذریعے سے کام لینے میں کوئی عار نہیں ہے۔

رابرٹ پیلاڈینو: براہ مہربانی اگلا سوال

آپریٹر: اگلا ساول ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی سوسن جارج کریں گی۔

سوال: کیا آپ میری بات سن سکتے ہیں۔ کال کا شکریہ۔ کیا آپ القاعدہ کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ یہ گروہ اپنی رکنیت کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔ کیا آپ ہمیں قدرے مزید تفصیل سے اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟

سفیر سیلز: ہیلو سوسن، سوال کا شکریہ، القاعدہ ایک پرعزم اور متحمل دشمن ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ تنظیم نمایاں طور سے سامنے نہیں رہی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ عالمگیر ردعمل کا زور داعش پر رہے مگر ہمیں خاموشی کے اس وقفے کو دیکھ کر یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ القاعدہ نے ہم پر اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی صلاحیت یا ارادے ترک کر دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم القاعدہ، اس سے ملحقہ گروہوں اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں ایسی متعدد کوششوں بارے تفصیل سے بتایا گیا ہے جو ہم نے شام اور مالی میں القاعدہ سے ملحقہ گروہوں اور افراد کو بطور دہشت گرد نامزد کرنے کے لیے کی ہیں۔ میں اپنے ابتدائی کلمات میں بھی اس کا تذکرہ کر چکا ہوں۔

لہٰذا اگرچہ داعش اس دوران نمایاں ہو کر سامنے آئی مگر ہم ہر جگہ القاعدہ کا سامنا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

رابرٹ پیلاڈینو: براہ مہربانی اگلا سوال

آپریٹر: اب ‘کیراکول ریڈیو’ سے کرسٹوبل واسکیوز سوال کریں گے۔

سوال: جی، ہیلو، شکریہ۔ مجھے ‘ایف اے آر سی’ کے بارے میں پوچھنا ہے۔ امریکی اخبار ‘دی نیویارک ٹائمز’ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘ایف اے آر سی’ سے تعلق رکھنے والے قریباً 40 فیصد جنگجوؤں نے امن معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی یا دوسرے الفاظ میں وہ اب بھی غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہیں اور ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ مزید بتا سکتے ہیں کہ ان جنگجوؤں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے ‘ایف اے آر سی’ اور کولمبیا کی حکومت کے مابین امن معاہدے میں شرکت نہیں کی؟

سفیر سیلز: سوال کے لیے شکریہ۔ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ دفتر خارجہ اور پوری امریکی حکومت اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ہم نے منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے کولمبیا کی کوششوں میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیا ہے۔ کولمبیا کے لوگ اسی کے حق دار ہیں۔ ہم ‘ای ایل این’ جیسے ان دہشت گرد گروہوں اور ان کی باقیات کو کمزور کرنے کے لیے کولمبیا کے ساتھ تعاون کے لیے پرعزم ہیں جو ‘ایف اے آر سی’ سے الگ ہو کر ایسی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں۔

رابرٹ پیلاڈینو: جی اگلا سوال

آپریٹر: اب ‘ڈبلیو ٹی او پی’ سے جے جے گرین سوال کریں گے۔ جناب گرین، آپ کی لائن کھلی ہے۔

(وقفہ)

آپریٹر: اب ہمارے پاس ‘ڈبلیو ریڈیو کولمبیا’ کی میرین مولینا کی جانب سے ایک سوال ہے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: بریفنگ کا شکریہ۔ میں ‘ایف اے آر سی’ پر ہی سوال کرنا چاہتی ہوں کیونکہ کولمبیا میں ہماری کانگریس میں بھی ‘ایف اے آر سی’ کے ارکان موجود ہیں۔ جیسا کہ میرے ساتھی نے کہا انہوں نے امن معاہدہ کیا ہے مگر اس کے باوجود آپ نے انہیں غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اگر وہ اب دہشت گرد تنظیم نہیں رہے تو انہیں اس فہرست میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟

سفیر سیلز: سوال کے لیے شکریہ۔ میں اس سلسلے میں درون خانہ ہونے والے ممکنہ غوروخوض بارے کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ‘ایف ٹی او’ کی فہرست میں کسی کو شامل کرنے یا نکالے جانے کے حوالے سے قانونی معیارات بے حد واضح ہیں اور ہم کانگریس کی جانب سے دیے گئے معیارات کا اپنے سامنے موجود شہادت کے مطابق اطلاق کریں گے اور اس سلسلے میں کسی تنظیم یا ملک کے حوالے سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔

رابرٹ پیلاڈینو: شکریہ۔ اگلا سوال۔

آپریٹر: اب ‘ڈیلی بیسٹ’ سے کم ڈوزیئر سوال کریں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: کیا آپ میری بات سن سکتے ہیں۔ کال کا شکریہ۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ آپ امریکی سرزمین پر حملوں کے حوالے سے القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں میں سے کس کو زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکی سرزمین کو سب سے زیادہ خطرہ کہاں سے ہے۔ پہلے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ خطرہ کہیں اور منتقل ہو گیا ہے۔

سفیر سیلز: میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جن تین دہشت گرد دشمنوں کا تذکرہ کیا ان تمام میں امریکہ اور ہمارے اتحادیوں پر حملے کی صلاحیت بھی ہے اور وہ اس کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے تواتر سے القاعدہ ارکان اور اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ امریکہ میں حملے کریں۔ داعش سے متاثرہ گروہوں اور افراد نے بھی امریکہ میں حملے کیے ہیں جن میں گزشتہ اکتوبر میں نیویارک سٹی میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ جہاں تک ایران کی پشت پناہی سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا تعلق ہے تو ہم نے اس کے متعدد ایسے آلہ کاروں کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی پشت پناہی سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی معاونت سے اہداف کا تعین کر رہے تھے اور اب انہیں وفاقی عدالت میں اپنے خلاف فردجرم کا سامنا ہے۔

لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ان تینوں میں امریکہ پر حملے کی اہلیت اور ارادہ پایا جاتا ہے اور اسی لیے اہم سوال یہ ہو گا کہ ہم اس بارے میں کیا کر رہے ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے طریقہ ہائے کار موجود ہیں جو ان تینوں متنوع خطرات کے خلاف مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ کو ان تنظیموں تک مالی وسائل کی فراہمی روکنا ہو گی۔ اسی لیے ہم دہشت گردی میں ملوث افراد، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کی بطور دہشت گرد نامزدگی عمل میں لاتے ہیں۔ آپ کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت بھی روکنا ہے۔ اسی لیے ہم سرحدوں پر بائیومیٹرک جمع کرنے، معلوم و مشتبہ دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے اور پہلے سے نامعلوم خطرات کی نشاندہی کے لیے فضائی کمپنیوں کی ریزرویشن سے متعلق معلومات کا تجزیہ کرنے جیسے اقدامات میں مصروف ہیں۔ آپ کو ایک اور کام بھی کرنا ہے اور وہ یہ کہ دہشت گردوں کے خلاف قانونی کارروائی اور تحقیق و تفتیش کے لیے نفاذ قانون کے ذرائع استعمال کیے جائیں تاکہ مشتبہ دہشت گردوں کو قید میں ڈالا جا سکے۔

رابرٹ پیلاڈینو: یہاں میں انسداد دہشت گردی کے لیے دفتر خارجہ کے رابطہ کار سفیر سیلز کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے ہمیں اس رپورٹ کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کیا۔ اب اس کال کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ کال آن دی ریکارڈ تھی۔ اب اس کال، اس کے مواد اور رپورٹس کو نشروشائع کرنے پر عائد پابندی اٹھائی جا چکی ہے۔ ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں