rss

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر کے ایجنڈے پر پریس بریفنگ

Русский Русский, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, العربية العربية, Español Español, Português Português

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات

 

نیویارک ہلٹن مڈ ٹاؤن
نیویارک

11:09 دن

وزیر خارجہ پومپئو: سبھی کو صبح بخیر۔ اقوام متحدہ کی 73ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے یہاں نیویارک میں موجودگی میرے لیے اعزاز ہے کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے میں پہلی مرتبہ اس اجلاس میں شریک ہوں۔ اسے ہم سفارت کاری کا سُپر بؤل بھی کہہ سکتے ہیں۔ امریکی عوام فخر کر سکتے ہیں کہ کیسے آج ہماری پوری ٹیم میدان میں روبہ عمل ہے۔ مجھے  اپنے دوستوں نکی اور جان کے ساتھ یہاں موجودگی پر بے حد خوشی ہے۔

امریکی عوام توقع رکھتے ہیں کہ امریکہ عالمی منظرنامے پر اپنی دلیرانہ قیادت منوائے گا جس سے ہماری اقدار کا اظہار ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم یقیناً آگے بڑھ کر قیادت کر رہے ہیں۔

یہ آج صبح پہلے ہی اجلاس سے واضح ہو گیا تھا جس میں ہم نے دنیا بھر میں منشیات  کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمگیر سطح پر عملی اقدامات کے لیے کہا۔ منشیات کا بیوپار، منشیات کی پیداوار اور اس مواد کا ناجائز  استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس مسئلے کے خلاف صدر ٹرمپ امریکہ میں بڑے پیمانے پر اور موثر جوابی کارروائی  کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر ملک ہماری پیروی کرے۔

صدر آج بعد میں جنوبی کوریا کے صدر مون، مصری صدر السیسی اور فرانس کے صدر میکخواں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ خواہ یہ سلامتی کے مسائل ہوں، معاشی مسائل ہوں، انسانی حقوق کا معاملہ ہو یا کچھ اور، صدر دنیا بھر کے ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسائل حل کرنے کے لیے اپنی خودمختارانہ طاقت سے کام لیں اور دیکھیں کہ امریکہ ان کی مدد کے لیے کیا کر سکتا ہے۔

خودمختاری پر یہ زور گزشتہ برس جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ کی تقریر کا بنیادی خیال تھا۔ کل بھی ان کے خطاب میں یہی خیال نمایاں ہو گا جس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ تمام ممالک سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ان کے مطالبے نے کیسے گزشتہ برس امریکہ اور دنیا کو فائدہ پہنچایا۔

مثال کے طور پر صدر ٹرمپ کی قیادت اور دباؤ ڈالنے کی مہم پر عملدرآمد کرنے والے ممالک کی کوششوں سے شمالی کوریا کے ساتھ تناؤ میں کمی آئی اور ہم اپنے حتمی مقصد سے قریب پہنچ گئے جو کہ شمالی کوریا کو حتمی اور مکمل قابل تصدیق طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنا ہے جس پر چیئرمین کم جانگ ان نے اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے صدر مون اور چیئرمین کم کے مابین ملاقات مستقبل کی جانب ایک اور مثبت قدم تھا مگر صدر اپنے عزم پر بدستور قائم ہیں کہ ابھی دباؤ کم کرنے کا وقت نہیں آیا۔

آپ نے بھی سنا ہو گا کہ صدر ٹرمپ بدھ کو سلامتی کونسل میں جوہری عدم پھیلاؤ کے خطرے پر بات کریں گے اور ذمہ دار ممالک پر ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ روکنے پر زور دیں گے۔

اس اجلاس میں شمالی کوریا، شام اور ایران پر بات ہو گی۔ آپ یقین کر سکتے ہیں کہ صدر ایرانی حکومت کے حوالے سے کڑی بات کریں گے جس طرح کرنی چاہیے۔ یہ حکومت دنیا میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بدترین خلاف ورزی کرنے والی واحد حکومت نہیں تو کم از کم ایسی ہی  حکومتوں میں اس کا شمار ضرور ہوتا ہے۔ صدر ہر ملک سے کہیں گے کہ وہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں ہمارا ساتھ دے  تاکہ دنیا بھر میں ایران کی تباہ کن سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

خواہ یہ وینزویلا ہو، جنوبی سوڈان، شام، برما یا چین، اندازاً 2.5 ملین متاثرین ۔۔۔ معاف کیجیے دنیا بھر میں جدید غلامی کے 25 ملین متاثرین بھی امریکی مدد پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ آج کا دن ایک زبرست آغاز کے طور پر تشکیل پا رہا ہے۔ اس ہفتے بہت سا مزید کام بھی ہونا ہے۔

صدر ٹرمپ اور ہمارا تمام سفارتی عملہ سبھی کے لیے مشترکہ فتوحات کے حصول کے لیے اپنے غیرملکی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

سفیر ہیلی: صبح بخیر۔ خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس اچھا ہو۔ آج ہم نے انسداد منشیات کے حوالے سے صدر کے اجلاس سے زبرست آغاز کیا۔

اس اجلاس کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت سمجھنا ہو گی کہ یہ ایک کمرے میں کچھ لوگوں کا محض اکٹھ نہیں تھا۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ہر ملک کو عملی اقدام کے لیے عالمگیر پکار پر دستخط کرنا تھے جس میں بنیادی طور پر کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں ایسے اقدامات کا نفاذ کریں گے جن کا تعلق اس امر سے ہو گا کہ وہ منشیات کی ترسیل اور طلب سے کیسے نمٹیں گے، غیرقانونی منشیات کو روکنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ کیسے تعاون کریں گے اور ان ممالک میں منشیات سے متاثرہ لوگوں کا علاج کیسے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ صدر 130 ممالک کو ایسے ذرائع پر دستخط کے لیے تیار کرنے میں کامیاب رہے اور اب ہم منشیات کے مسئلے پر ایسی عالمگیر گفت و شنید کر رہے ہیں جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 140 سے زیادہ وفود کے سربراہان موجود ہیں۔ یقیناً ہم کل صدر کی تقریر کے منتظر ہیں۔ جیسا کہ آپ بتا سکتے ہیں گزشتہ برس ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آغاز کیا اور یہاں امریکی موجودگی کے خدوخال واضح کرنے کی کوشش کی۔ اس برس یہاں ہماری دھماکے دار آمد ہوئی ہے۔ ناصرف صدر تقریر کر رہے ہیں بلکہ وہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ پومپئو بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ نائب صدر وینزویلا پر ایک اجلاس کریں گے۔ چنانچہ امریکہ کی جانب سے سبھی لوگ روبہ عمل ہیں۔

وہ سیکرٹری جنرل سے ملاقات کریں گے۔ گزشتہ برس سیکرٹری جنرل کی ملاقات کے بعد اب تک دلچسپ وقت گزرا ہے۔ ہم پیرس معاہدے سے الگ ہوئے۔ ہم نے عالمگیر معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ ہم ایرانی معاہدے سے دستبردار ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یقیناً امریکہ کثیرجہتی اداروں میں شامل رہنے کے لیے پرعزم ہے مگر اس انداز میں نہیں کہ جس سے امریکی عوام کے مفاد کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔

لہٰذا وہ آج رات وفود کے سربراہوں کے ساتھ استقبالیے کی میزبانی کریں گے۔ پھر کل رات وہ، نائب صدر اور وزیر خارجہ ہمارے سلامتی کونسل کے ارکان اور ان کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کریں گے۔

آپ جانتے ہیں کہ ہم جس بھی کام کی تکمیل  کے قابل ہوئے خواہ یہ جنوبی سوڈان کے ساتھ اسلحے کے پابندی ہو، خواہ یہ شمالی کوریا کے معاملے میں پابندیوں کے تین پیکیج کی منظوری ہو یا اقوام متحدہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی کوششیں ہوں، سلامتی کونسل کے بغیر ہم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے اور اسی لیے یہ اجلاس بہت اہم ہو گا۔

ہم ایک زبردست ہفتے کے منتظر ہیں۔ ہر کوئی پرجوش ہے۔ امریکہ کو اس میزبانی پر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ ہم اسے جنرل اسمبلی کا زبردست اجلاس بنائیں گے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

سفیر بولٹن: شکریہ، مجھے یہاں آ کر خوشی ہے۔ ہر ایک کے پاس نقل موجود ہے؟ میرے پاس اپنی نقل ہے۔ یہ قدرے بوسیدہ ہے مگر اسے پڑھ سکتا ہوں۔

میں کچھ دیر توقف کرنا  اور کل صدر کے خطاب میں شامل ایک موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا۔ میں ان کی کسی بات سے آگے نہیں جانا چاہتا تاہم اس موقع پر وہ خودمختاری کے حوالے سے بات کریں گے اور اپنے خیالات سامنے لائیں گے۔

میں صرف یہ وضاحت کرنا چاہتا تھا کہ امریکیوں کے لیے یہ اہم کیوں ہے، کیونکہ بہت سے لوگ خودمختاری کو مجرد نظریہ سمجھتے ہیں۔ یقیناً یہ لفظ ‘خودمختار’ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب مالک و مختار ہوتا ہے۔ تاہم یہی ایک وجہ ہے کہ امریکہ دوسروں سے ممتاز ہے۔ ہم خودمختاری کو کو سربراہ ریاست سے وابستہ نہیں سمجھتے۔ ہم اسے اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح آئین میں اس کے تخلیق کاروں نے لکھا ہے کہ   ”ہم عوام”۔ یعنی امریکہ میں ہم عوام ہی خودمختار ہیں۔ چنانچہ ہماری خودمختاری کی راہ میں رکاوٹیں ہماری حکومت کی راہ میں رکاوٹیں نہیں سمجھی جائیں گی بلکہ یہ بذات خود عوام پر عائد رکاوٹیں ہوں گی۔

ہم آئین اور اپنے سیاسی عمل کے ذریعے اپنی خودمختاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ اس قدر اہم ہے اور اسی وجہ سے ہم یہ یقین رکھتے ہیں اور یقیناً میں سیکولر انداز میں یہاں کہہ رہا ہوں کہ آئین وہ اعلیٰ ترین اختیار ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں۔

لہٰذا صدر متعدد انداز میں اس معاملے پر بات کریں گے۔ میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا جیسا کہ وزیر پومپئو نے کہا ان کی تقریر میں موضوع کا یہ تسلسل قائم رہے گا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی میں اپنے گزشتہ خطاب میں بھی اسی موضوع پر بات کی تھی اور جیسا کہ آپ دیکھیں گے اس برس بھی متعدد دیگر تناظرات میں ایسا ہی ہو گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں