rss

سفیر ہیلی کی جانب سے برما کی راخائن ریاست میں بحران سے متاثرہ لوگوں کے لیے اضافی امداد کا اعلان

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری
برائے فوری اجرا
24 ستمبر 2018

 

آج برما کے بارے میں وزارتی سطح کے اجلاس میں سفیر نکی ہیلی نے برما اور بنگلہ دیش میں موجود راخائن ریاست کے بحران سے متاثرہ لوگوں کے لیے 185 ملین ڈالر سے زیادہ اضافی امداد دینے کا اعلان کیا۔ نئی امداد میں روہنگیا پناہ گزینوں اور بنگلہ دیش میں ان کے میزبانوں کے لیے 156 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس سے اہم ہنگامی خدمات کی فراہمی بشمول تحفظ، ہنگامی پناہ، خوراک، پانی، نکاسی آب، صحت عامہ اور نفسیاتی معاونت میں مدد ملے گی۔

اس موقع پر سفیر ہیلی کا کہنا تھا کہ ”امریکہ کو برما اور بنگلہ دیش میں بے گھر افراد، پناہ گزینوں اور ان کے میزبانوں کے لیے تحفظ زندگی میں معاونت فراہم کرنے والا سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہونے پر فخر ہے۔ ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس لیے دوسرے ممالک کو بھی اس میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ ہم برما کی حکومت سے کہتے رہیں گے کہ وہ نسلی صفائی کے مرتکبین کو اپنے مظالم پر جوابدہ بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے، تشدد کا خاتمہ کیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں امداد اور میڈیا کو مکمل رسائی دی جائے۔ ہم پناہ گزینوں کی میزبانی اور نگہداشت کے ضمن میں ثابت قدمی سے فیاضی کا مظاہرہ کرنے پر بنگلہ دیش کی بھرپور ستائش کرتے ہیں”

اس اضافی امداد سے راخائن ریاست کے بحران میں امریکی مالی معاونت کا حجم قریباً 389 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بحران اگست 2017 میں شروع ہوا تھا جب برما کی سکیورٹی فورسز نے شمالی راخائن میں روہنگیا دیہاتیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظالم ڈھانا شروع کیے تھے۔ اس وقت بنگلہ دیش قریباً دس لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جن میں بیشتر روہنگیا خواتین اور بچے ہیں جنہوں نے تشدد کے آغاز سے وہاں پناہ لے رکھی ہے۔


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8633
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں