rss

”ایران کی وعدہ شکنی” وزیر خارجہ مائیک پومپئو کا ‘جوہری ایران کے خلاف اتحاد’ سے خطاب

Español Español, English English, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 

سہ پہر بخیر

میں جانتا ہوں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر میں بھی نیویارک میں ٹریفک کے خوفناک مسئلے کا حصہ ہوں۔ اس لیے میں ان بہادر لوگوں کا شکریہ ادا کرتا اور معذرت چاہتا ہوں جنہوں نے بھیڑ میں جدوجہد کر کے مجھے یہاں پہنچایا۔ امید ہے کہ آپ اس کا برا نہیں منائیں گے۔ آئندہ میں سب وے سے آؤں گا۔

محب الوطن لوگوں کے اس گروہ سے خطاب میرے لیے اعزاز ہے۔ ‘یواے این آئی’ یہ امر یقینی بنانے کے لیے اہم کام کر رہا ہے کہ ایرانی حکومت جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پائے، اس کے لیے ریاستی معاونت سے دہشت کی مہمات چلانا ممکن نہ ہو اور وہ ناجائز مقاصد کے لیے دولت خرچ نہ کر سکے جبکہ ایرانی عوام کو مصائب کا سامنا ہے۔

میں خاص طور پر ‘یواے این آئی’ کے چیئرمین سینیٹر لائبرمین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی اور میرا تعارف کرایا۔

وہ قومی سلامتی کے حوالے سے ہوشمندی کی غیرمصالحانہ آواز ہیں جیسا وہ سینیٹ میں بہت سے عمدہ برسوں کے دوران تھے۔

سینیٹر، ہمیں کیپیٹل ہل میں آپ جیسے مزید لوگ درکار ہیں جو ایرانی حکومت سے لاحق خطرے کا حقیقی ادراک رکھتے ہوں۔

٭٭٭

یہ ایک ٹھیک مگر افسوسناک ستم ظریفی ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی 73ویں جنرل اسمبلی کے ہفتے میں ایران کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

سالہا سال تک ایرانی حکومتی رہنما اور سفارت کار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے دوسری حکومتوں کو فریب دے کر اپنا ہمنوا بنانے اور اندرون و بیرون ملک اپنے اصل مقاصد پر پردہ ڈالنے کا کام لیتے چلے آئے ہیں۔ ایرانی صدر روحانی، وزیر خارجہ ظریف اور دوسری ایرانی شخصیات اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو معتدل سیاست دان کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ مگر دنیا سچائی سے آگاہ ہے۔ ان کا بظاہر دلکش سفارتی طرزعمل ذمہ دار ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کرنے کی واضح کوشش ہے کہ ”شاید وہ اتنے برے نہیں ہیں”

درحقیقت یہ اس ایرانی حکومت کے وہ اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں جو اقوام متحدہ کے وژن، عالمی قوانین کے تقاضوں اور قومی خودمختاری کے اصولوں کی کھلے عام خلاف ورزی کرتی ہے۔ گزشتہ چالیس برس میں ایرانی حکومت کے ٹریک ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بدترین خلاف ورزی کرنے والا واحد ملک نہیں تو کم از کم ایسے ممالک میں شامل ضرور ہے۔ یہ واقعتاً ایک لاقانون  حکومت ہے۔

آئیے پہلے اقوام متحدہ کے چارٹر پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ دنیا بھر کے ممالک سے ”اچھے ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور سے مل کر رہنے” کی بات کرتا ہے۔ جہاں کہیں امن کو خطرہ ہو وہاں یہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس خطرے کے سدباب کے لیے سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل کریں۔

کیا ایران دوسرے ممالک کے ساتھ پرامن طور سے رہتا چلا آیا ہے؟ کیا یہ اچھا ہمسایہ ہے؟ کیا اس نے عالمی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سلامتی کونسل کے فیصلوں کی پاسداری کی ہے؟ آئیے دنیا بھر پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ ان سوالات کا جواب زور دار ‘نہیں’ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ آئیے یورپ سے شروع کرتے ہیں۔

چند ہی مہینے پہلے یورپ بھر میں حکام نے متعدد ایرانی آلہ کاروں کو گرفتار کیا جن میں آسٹریا میں مقیم ایرانی عہدیدار بھی شامل تھا۔ یہ افراد فرانس میں ایک سیاسی ریلی پر حملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ یہ اس وقت ہوا جب ایرانی حکومت یورپی ممالک پر جوہری معاہدے میں شامل رہنے کے لیے بھرپور دباؤ ڈال رہی ہے۔ ایران کی جانب سے دہشت  گردی کی اس معاونت کے جواب میں ہمارے اتحادی فرانس نے جائز طور سے ایران میں تمام غیرضروری سفارتی سفر غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے۔ یہ درست سمت میں پہلا قدم ہے اور ہمیں امید ہے کہ دوسرے ممالک کی جانب سے بھی ایسے مزید اقدامات سامنے آئیں گے۔ ہمیں ایرانی حکومت پر دباؤ ڈال کر اس کی جانب سے تباہ کن اقدامات  کو روکنا اور مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ دیگر ملکوں جیسا ذمہ دارانہ طرزعمل اختیار کرے۔

بدقسمتی سے گزشتہ شب امریکہ کو یہ سن کر پریشانی اور گہری مایوسی ہوئی کہ جوہری معاہدے میں شامل دیگر فریقین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ادائیگیوں کا خصوصی نظام قائم کر رہے  ہیں۔ یہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ اقدامات ہیں جن کا ہم تصور کر سکتے ہیں۔ ایرانی حکومت کو مالی وسائل کی فراہمی برقرار رکھنے سے آپ دہشت گردی کے نمبر ون معاون کی حیثیت سے اس کا مقام برقرار رکھنے میں مدد دے رہے ہیں، اس کی جانب سے انقلاب کی متشدد برآمد ممکن بنا رہے ہیں اور ایرانی حکومت کو مزید دولت مند بنانے میں لگے ہیں جبکہ ایرانی عوام برے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ بدعنوان آیت اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب آج ہنس رہے ہوں گے۔

یورپ میں ایرانی پشت پناہی سے دہشت گرد سرگرمی کو دیکھا جائے تو یہ فیصلہ انتہائی ناقابل قبول ہے۔ 2012 میں قدس فورس کے چار آلہ کار اسرائیلی اہداف پر حملوں کے لیے ترکی میں داخل ہوئے مگر ترک حکام کی جانب سے یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

اسی برس ایرانی حکومت کے انتہائی وفادار گروہوں میں شامل لبنانی حزب اللہ نے بلغاریہ میں اسرائیلی سیاحوں کی ایک بس پر بم حملہ کیا۔ اس حملے میں بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور سمیت چھ افراد ہلاک اور کم از کم 32 زخمی ہو گئے۔

1992 میں ایران نے لبنانی حزب اللہ کے آلہ کاروں کو لاجسٹک مدد فراہم کی جنہوں نے برلن کے ایک کیفے میں چار منحرف ایرانی کردوں کو قتل کیا۔ مگر ایران کی ریاستی معاونت سے پھیلائی گئی غیرقانونی دہشت یورپ تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ دنیا بھر میں پھیلی ہے۔ ہم یہ جائزہ جاری رکھتے ہوئے افریقہ کا رخ کرتے ہیں۔

2013 میں نائیجیریا میں ایک ایرانی کارندے کو گرفتار کیا گیا جو یوایس ایڈ کے دفاتر، ایک اسرائیلی کاروبار، ایک یہودی ثقافتی مرکز اور ایسے ہوٹلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جہاں اسرائیلی اور امریکی اکثر آتے رہتے ہیں۔

2002 میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں قدس فورس کے دو کارندوں کو گرفتار کیا گیا جو مغربی اہداف کے خلاف بم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس واقعے میں 33 پاؤنڈ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

آئیے دیکھتے ہیں  اس حوالے سے جنوبی امریکہ کی کیا صورتحال ہے۔ 2015 میں یوراگوئے میں اعلیٰ سطحی ایرانی سفارت کار کو اسرائیلی سفارت خانے کے قریب حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر ملک بدر کر دیا گیا۔ ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ایران نے گاڑیوں کے ذریعے دو خودکش حملوں میں لاجسٹک معاونت فراہم کی۔ ان میں ایک حملہ 1992 اور دوسرا 1994 میں ہوا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 114 افراد ہلاک اور قریباً 500 زخمی ہوئے۔ 1994 میں ہونے والا بم حملہ ارجنٹائن کی تاریخ کا مہلک ترین حملہ تھا۔

ایرانی حکومت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی کا جائزہ لیتے ہوئے اب ہم ایشیا کا رخ کریں گے۔ 2013 میں نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں اسرائیل کے جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے ایرانی کو اسرائیلی سفارت خانے کی جاسوسی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

2012 میں نئی دہلی میں ایک بم حملے کے پیچھے قدس فورس کا ہاتھ تھا جس میں  اسرائیلی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

2011 میں ایرانی آلہ کاروں نے سعودی سفارت کار حسن القہطانی کو قتل کیا۔ 2006 سے ایران نے طالبان کو بہت سا اسلحہ بشمول راکٹ سے داغے جانے والے گرنیڈ، مارٹر گولے، راکٹ اور پلاسٹک میں رکھا جانے والا دھماکا خیز مواد فراہم کیا ہے۔

ایران نے ہمارے اپنے براعظم میں بھی یہی کچھ کرنے کی کوشش کی۔ 2011 میں قدس فورس نے امریکہ میں سعودی سفیر کو قتل کرنے کے منصوبے میں مدد دی۔

گزشتہ سال اگست میں امریکہ نے ایران کے دو مبینہ ایجنٹوں کو اسرائیلی اور امریکی اہدافت کے خلاف جاسوسی اور معلومات حاصل کرنے کی سرگرمیوں کی پاداش میں گرفتار کیا۔

سائبر دنیا کی بات ہو تو ایران نے رائے عامہ کے اختلاف کو ابھارنے کے لیے انٹرنیٹ کا ناجائز استعمال کیا اور امریکیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی۔ گزشتہ ماہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام اور یوٹیوب نے مجموعی طور پر ہزاروں ایسے اکاؤنٹس ختم کیے جو ایران سے چلائے جا رہے تھے اور جن کا مقصد غلط معلومات پھیلانا تھا۔

ایرانی حکومت سے تعلق رکھنے والے ہیکر امریکی نظام کو ہدف بنانے اور اس میں نفوذ سے نہیں کتراتے ۔ اس سال مارچ میں ایران سے تعلق رکھنے والے نو ہیکروں کو سائبر دھمکیوں کی مہم چلانے کا مجرم ٹھہرایا گیا۔ اس مہم کے تحت امریکہ کی 144 یونیورسٹیوں، 30 امریکی کمپنیوں اور پانچ امریکی اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

جون 2013 میں ایرانی ہیکروں نے نیویارک سٹی سے 20 میل سے کم فاصلے پر واقع ایک ڈیم کے کنٹرول سسٹم میں سائبر مداخلت کی۔

آسٹریلیا میں ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ ہیکروں نے یونیورسٹیوں سے حساس تحقیق چرانے کی کوشش کی۔

یقیناً ایرانی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں اپنے ہمسایوں میں بھی بہت سی پرتشدد اور تباہ کن سرگرمیاں کی ہیں۔

یہ دہشت گرد تنظیم لبنانی حزب اللہ کو سالانہ 700 ملین ڈالر دیتی ہے۔

حزب اللہ مشرق وسطیٰ میں امریکیوں پر چند مہلک ترین دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار ہے۔ 1983 میں ایرانی حکومت کی منظوری اور مالی مدد سے اس نے بیروت میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا جس میں 17 امریکیوں سمیت 63 افراد ہلاک ہوئے۔

اس کے بعد 1996 میں حزب اللہ نے سعودی عرب میں خوبار ٹاورز  نامی رہائشی کمپلیکس پر بم حملہ کیا جس میں امریکی ایئر فورس کے 19 اہلکار مارے گئے۔

ایرانی حکومت حماس اور فلسطین اسلامی جہاد جیسے دہشت گرد گروہوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم دیتی ہے۔ اس کا انتہائی منافقانہ پہلو یہ ہے کہ آیت اللہ فلسطینیوں کا خیال رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر 2008 سے 2017 کے درمیانی عرصہ میں ایران نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کو صرف 20 ہزار ڈالر کی معمولی رقم دی ہے۔ اسی عرصہ میں امریکہ نے اس مد میں قریباً 3 ارب ڈالر دیے جو کہ ایرانی مدد سے 150000 گنا زیادہ ہے۔

ایرانی حکومت افغانستان، عراق اور پاکستان جیسی جگہوں سے نادار نوجوانوں کو بھرتی کرتی ہے، انہیں شہادت کے سبزباغ دکھاتی ہے اور پھر قاسم سلیمانی اور قدس فورس کی ہدایت پر انہیں لڑنے کے لیے شام بھیج دیتی ہے۔ ایرانی حکومت نے چودہ سال تک عمر کے بچوں کو بھی شام جا کر لڑنے کی ترغیب دی ہے۔

ایرانی کشتیاں عالمگیر سمندری گزرگاہوں پر جہازوں کو ہراساں کرتی ہیں۔ یہ متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی سمندری حدود کے دعووں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اگر ایرانی حکومت کا یہ خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی ملکیت صرف اسی کے پاس ہے تو آپ اپنے آخری ریال پر شرط لگا کر دیکھ لیں کہ امریکہ کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا۔

چند ہفتے قبل ہی ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کے احاطے اور بصرہ میں امریکی قونصل خانے پر راکٹ حملے کیے۔ ایران نے ان حملوں کو نہیں روکا جو اس کی مدد، مالی معاونت، تربیت اور ہتھیاروں سے کام لینے والی آلہ کاروں نے کیے تھے۔

امریکہ ایران کی جانب سے ایسے کسی بھی حملے پر بازپرس کرے گا جس میں ہمارے لوگ زخمی ہوئے ہوں یا ہماری املاک کو نقصان پہنچا ہو۔ امریکہ اپنے لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

٭٭٭

یہ تمام معاندانہ سرگرمیاں کم از کم اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کو ضرور پامال کرتی ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی قانون کے دیگر ذرائع کے حوالے سے کیا کہا جائے گا؟ یہاں پیش کی گئی شہادتوں سے بھی یہ تصدیق ہوتی ہے کہ ایران ایک غیرقانونی حکومت ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے ذریعے ایران کی جانب سے اسلحے کی برآمدات پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کی رو سے حوثیوں کو اسلحے کی فراہمی کی ممانعت ہے۔ مگر ایران نے اس سے برعکس طرزعمل اپنایا اور حوثیوں کو پوری طرح مسلح کیا۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 1373 تمام رکن ممالک سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے افعال میں ملوث اداروں کو کسی بھی طرح کی معاونت فراہم کرنے سے باز رہیں۔ قرارداد 1701 اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ چند استثنیات کے علاوہ اپنے شہریوں یا اپنی سرزمین سے لبنان کو براہ راست یا بالواسطہ طورپر  اسلحے کی ترسیل روکیں۔ ان میں کوئی بھی قرارداد ایرانی حکومت کو لبنانی حزب اللہ کو اسلحے کا سب سے بڑا ترسیل کار بننے سے نہیں روک پائی۔

2006 سے 2010 کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایرانی جوہری اور بلسٹک میزائل پروگراموں کی نگرانی کے حوالے سے چھ مختلف قراردادیں منظور کیں۔ تاہم 2007 سے 2015 تک عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے کم از کم 33 ایسی رپورٹس جاری کیں جن میں ہر قرارداد کے حوالے سے ایران کے عدم تعاون کا تذکرہ تھا۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 1929 میں کہا گیا ہے کہ ”ایران کو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل بلسٹک  میزائلوں سے متعلق کوئی سرگرمی نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں بلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلحے کا استعمال بھی شامل ہے” مگر ایران نے 2010 اور 2015 کے درمیانی عرصہ میں بہت سے بلسٹک میزائل داغے اور ایسی ہر کارروائی اس پابندی کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

حتیٰ کہ جب جوہری معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں سے چھٹکارا ملنے پر سلامتی کونسل نے قرارداد 2231 میں اس پابندی کی جگہ ایران سے ایسے میزائلوں سے متعلق کوئی سرگرمی نہ کرنے کو کہا تو ایران کی جانب سے میزائل تجربات میں مزید تیزی آ گئی۔ جنوربی 2016 میں اس معاہدے پر عملدرآمد کے بعد ایران نے متعدد میزائل تجربات کیے۔ آج مشرق وسطیٰ میں ایران سب سے بڑی میزائل قوت ہے۔ ایسے ہر بلسٹک میزائل کی تیاری پر 10 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ خرچ آتا ہے۔

میں یہ سوچ کر حیران ہوں کہ زندگی کی مشکلات سے نبرد آما ایرانی عوام ایسے میزائل پروگرام کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے جو ان کا خزانہ بہا لے جاتا ہے اور انہیں معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی خوشحالی پر زد پڑتی ہے۔

حال ہی میں من مانی حراستوں پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایرانی حکومت کے پاس امریکی گریجوایٹ طالب علم ژیو وانگ کو قید میں رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔

گزشتہ برس اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ  نے ایک اور امریکی سیامک نمازی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھاجسے 2015 میں ایران میں اپنے والدین سے ملاقات کے لیے جانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ 2016 میں ورکنگ گروپ نے یہ بھی کہا کہ 11 برس سے ایران میں لاپتہ باب لیونسن کو کسی قانونی بنیاد کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے اور اسے فوری رہا ہونا چاہیے۔

ہم ایران پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ باب کو ڈھونڈنے  میں امریکی کی مدد کا وعدہ پورا کرے تاکہ وہ اپنے اہلخانہ کے پاس جا سکیں۔ ان تمام امریکیوں اور ایران میں غلط طور سے قید میں رکھے گئے دیگر لوگوں کو گھر واپس آنا چاہیے۔

ان دنوں ایران امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے قانونی اور جائز فیصلے کو بدنام کرنے کی کوششوں میں بہت سا وقت صرف کر رہا ہے۔ تاہم عالمگیر قانون کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایران کا اپنا ٹریک ریکارڈ دنیا میں انتہائی بدترین نہیں تو بدتر ضرور ہے۔ ایران عالمگیر قوانین، سرحدوں یا زندگیوں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔

٭٭٭

میں نہیں جانتا کہ ابھی مجھے مزید کتنی شہادت پیش کرنا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران کی تباہ کن سرگرمیاں پوری دنیا میں جاری ہیں۔ اسی لیے ہر ملک پر لازم ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے غیرقانونی طرزعمل میں تبدیلی کی کوششوں میں ہمارا ساتھ دے۔ ایرانی مضرت رساں سرگرمیوں کی جاری، کثیر ملکی و کثیر براعظمی نوعیت نے بے عملی یا تذبذب کی  کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔

امریکہ دباؤ، ممانعت اور ایرانی عوام کی مدد کے ذریعے ایرانی طرزعمل میں تبدیلی لانے کی عالمگیر کوششوں کو یکجا کرتا رہے گا۔ اس سلسلے میں ہم ہر ملک کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کی اعلیٰ ترین سفارتی ترجیحات میں شامل ہے۔

ایران کی غیرجوہری سرگرمیوں کے حوالے سے اتفاق رائے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دیگر عالمی قوانین میں پہلے ہی ظاہر ہوتا ہے جن کا میں نے ابھی تذکرہ کیا ہے۔ مگر ایران کو جوابدہ بنانے کے لیے ہمیں کم از کم ان قراردادوں پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری کے فیصلے کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک کو یہ انتخاب کرنا ہے کہ آیا وہ ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گے یا نہیں۔ پابندیوں کے ازسرنو نفاذ اور ایران کے ساتھ عالمی کاروبار کی حوصلہ شکنی کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ یہ سلامتی کے لیے ایک ضروری اقدام ہے۔ ایرانی حکومت کو اربوں ڈالر سے استفادہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ پہلے ہی ثابت کر چکی ہے کہ وہ یہ رقم اپنی اتحادی ریاستوں، باغی گروہوں اور دہشت گردوں میں تقسیم کرے گی۔ ایران میں کاروبار کرنے سے ایسی حکومت کو رقم مہیا ہوتی ہے جو اسے متشدد مقاصد کے لیے کام میں لاتی ہے۔ ایرانی جوہری معاہدے کے موقع پر یہی کچھ ہوا اور اگر ہم نے مل کر کوئی قدم نہ اٹھایا تو یہی کچھ ہوتا رہے گا۔

کئی دہائیوں تک دنیا نے مستحکم مشرق وسطیٰ کے گریزانہ مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایسی حکومت کو وسائل کی فراہمی روکنے سے زیادہ اس مقصد کے حصول کا بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے جو خطے میں عدم استحکام کی سب سے بڑی ذمہ دار ہے۔ ہمیں پاسداران انقلاب اور انٹیلی جنس کی وزارت کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان کے آلہ کار ہر براعظم میں دہشت گردی اور تخریب کاری نہ کر پائیں۔ یاد رہے کہ یہ پابندیاں اور ہماری جانب سے معاشی دباؤ ایرانی عوام کے خلاف نہیں بلکہ ایران کی حکومت اور اس کے ضرررساں آلہ کاروں کے خلاف ہے۔

اسی وجہ سے ہم نے اپنی جانب سے ازسرنو نافذ کی گئی تمام قانونی پابندیوں میں انسانی بنیادوں پر چھوٹ بھی رکھی ہے اور ایسی سرگرمیوں کی اجازت دی ہے جن سے ایرانی عوام کو فائدہ پہنچتا ہو۔

اگر دنیا ایرانی حکومت کی ضرررساں سرگرمیوں سے اچھی طرح واقف ہونا چاہتی ہے تو امریکہ نے حال ہی میں ایک کتابچہ جاری کیا ہے جس میں اس مجرم حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں سالہا سال سے غیرقانونی سرگرمیوں کے ارتکاب کی تفصیل دی گئی ہے۔ جو لوگ اس حکومت کی انقلابی ترجیحات سے کماحقہ واقفیت حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے یہ معلومات کے حصول کا زبردست ذریعہ ہے۔ اسے آپ State.gov سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

٭٭٭

آج میں نے ایرانی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے ارکان سے کیے وعدے توڑے جانے کی بابت بہت کچھ کہا۔ تاہم ایک اور حلقہ بھی ہے جو ایرانی رہنماؤں کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتا۔ یہ ایرانی عوام ہیں۔

1978 میں جلاوطنی کے خاتمے سے پہلے آیت اللہ خمینی نے ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ میں ایرانی عوام کو کون کون سے فوائد حاصل ہوں گے۔ اس دوران انہوں نے دوسری باتوں کے علاوہ ”غربت کے خاتمے” اور ”متعدد انداز میں زیرجبر اکثریتی آبادی کے حالات زندگی میں بہتری لانے” کا وعدہ بھی کیا تھا۔ کیا ایسا ہو رہا ہے؟

ایرانی صدر حسن روحانی نے خود کہا ہے کہ ”بہت سے لوگ اسلامی جمہوریہ کے مستقبل پر یقین کھو چکے ہیں اور اس کی قوت کے بارے میں شبے میں مبتلا ہیں”۔ جب ایک تہائی ایرانی نوجوان بے روزگار ہوں گے اور حکومت کے پارکنگ گیراج رینج روور اور بی ایم ڈبلیو جیسی گاڑیوں سے بھرے ہوں گے تو یہ رویہ قابل فہم ہے۔

ایرانی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث ایرانی عوام کو پانی کی شدید قلت اور ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے۔

گزشتہ برس ایران کے اپنے وزیر توانائی نے کہا تھا کہ 295 شہروں کو خشک سالی اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ اسی دوران ایرانی حکومت نے کئی سال تک اپنے جوہری پروگرام پر اربوں ڈالر خرچ کیے۔ ایرانی حکومت کو پینے کے پانی سے کہیں زیادہ بھاری پانی میں دلچسپی ہے۔

ایران ”انقلاب مخالف طرزعمل، زمین پر بدعنوانی، عالمگیر تکبر کی حمایت اور اسلام کے خلاف جرائم” جیسے بے بنیاد الزامات پر اب بھی لوگوں کو جیلوں میں ڈالتا ہے۔ ایرانی حکومت کے اہلکار بڑے شہروں کی سڑکوں  پر گشت کر کے حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے  والی عورتوں کو پکڑتے ہیں۔ سنی اقلیت کے خلاف وسیع پیمانے پر مظالم کے سلسلے میں گزشتہ برس ایک عدالت نے چار سنیوں کو ‘جوگنگ’ کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

ایرانی قانون مسلم شہریوں کو اپنے مذہبی اعتقادات تبدیل کرنے یا ان سے دستبرداری اختیار کرنے سے روکتا ہے۔ حتیٰ کہ سکولوں میں موسیقی کی تعلیم کی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

اگر دنیا کے ممالک ایران کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے پیش کردہ شہادت کے قائل نہ ہوں تو یہ ان کا استحقاق ہے۔ مگر ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا دعویٰ کرنے والا کوئی ملک لاقانون اور جابر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ تجارت کیسے جاری رکھ سکتا ہے؟

امریکہ ایرانی عوام سے کہتا ہے کہ ہم آپ کے مدد کے خالی خولی دعوے ہی نہیں کریں گے۔ امریکہ آپ کی آواز سن رہا ہے، امریکہ آپ کا معاون اور آپ کے ساتھ ہے۔ ہم ایسی حکومت کے تحت آزادی سے رہنے کے آپ کے حق کی حمایت کرتے ہیں جو آپ کو جوابدہ ہو اور آپ کا احترام کرے۔ آپ بدعنوان ملاؤں کی جانب سے مسلط کردہ بے ثمر انقلاب سے زیادہ بہتر کے مستحق ہیں۔

ہمارا پیغام ایران کی سڑکوں پر نکلے احتجاجی مظاہرین سے ہم آہنگ ہے اور ہم وہی بات کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں پھیلے لاکھوں ایرانی قریباً چالیس برس سے کرتے چلے آئے ہیں۔ امریکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے لیے اچھا مستقبل چاہتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایران کے تمام ہمسایے اس کے رہنماؤں کو ایک مختلف راہ پر چلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پوری دنیا بھی یہی کچھ چاہتی ہے۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ اور میں نے کئی مرتبہ کہا کہ ایک نیا معاہدہ بھی ممکن ہے مگر تبدیلی ان بارہ جگہوں پر آنی چاہیے جن کا خاکہ میں نے مئی میں پیش کیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے حوالے سے ایرانی ریکارڈ بھی بہتر بنایا جانا چاہیے۔

اس ہفتے ایران کے لیے ہمارے نئے خصوصی نمائندے برائن ہک یہاں نیویارک میں ایرانی تارکین وطن کے ارکان سے ملیں گے۔ وہ انہیں اپنی ذاتی داستانیں سنائیں گے کہ انہیں، ان کے اہلخانہ اور دوستوں کو کیسا تجربہ ہوا اور انہوں نے کیا کچھ بھگتا۔ وہ اپنے آبائی وطن کے مستقبل اور ایرانیوں کی نئی نسل کے حوالے سے اپنی امیدیں بیان کریں گے۔ وہ بتائیں گے کہ ہم ایرانی لوگوں کی مدد، ان کی حمایت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ایران میں ذمہ دارا حکومت کی خواہش رکھنے والے تمام ایرانیوں کی آواز سنی جانا چاہیے۔ ہم یہ گفت و شنید جاری رکھیں گے تاکہ ایرانی حکومت پر واضح ہو جائے کہ ہم کس کے ساتھ ہیں۔

٭٭٭

میں ایک ایسے امریکی کی بات دہراتے ہوئے اپنی گفتگو کا اختتام کرنا چاہوں گا جو ہمارے دوست سینیٹر لائبرمین کی طرح سچائی کی خاطر عموماً اپنے پارٹی موقف کی پروا بھی نہیں کرتے۔ میری مراد ڈینیل پیٹرک موئنیہن ہیں جنہوں نے 24 سال تک امریکی سینیٹ میں نیویارک کی عظیم ریاست کی نمائندگی کی۔ وہ صدر فورڈ کے دودر میں اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر بھی رہے۔

ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا کہ ”اقوام متحدہ کا چارٹر ارکان پر دو ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ پہلی سے سبھی واقف ہیں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں قوانین کی پاسداری کی جائے، ان پر حملہ نہ کیا جائے اور انہیں کمزور کرنے سے گریز کیا جائے۔ مگر ایک اور ذمہ داری بھی ہے کہ اپنے ہی شہریوں کے ساتھ قانونی سلوک کیاجائے”

ایران یہ دونوں ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا ہے۔

سفیر موئنیہن نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا تھا کہ ”ہر شخص کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے مگر ہر ایک کے اپنے حقائق نہیں ہوتے”

یہ حقیقت ہے کہ ایران بند دروازوں کے پیچھے اپنی دلفریب جارحیت سے سلامتی کونسل کے چیمبر میں کیے وعدے توڑنے پر کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی حکومت بیرون ملک موت اور تباہی کی قیمت چکانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ لاقانون ایرانی حکومت نے اپنے خطے سمیت ہر براعظم میں لوگوں کے امن و وقار سے جینے کی اہلیت تباہ کی ہے۔

امریکہ تمام ممالک سے کہتا ہے کہ وہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سےاس  انداز میں جواب طلبی کریں جیسی پہلے کبھی نہیں کی گئی۔

اسی صورت میں ہم اپنے امن پسند عوام کی سلامتی اور ایرانی عوام کی آزادی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے نئے اور حقیقی اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔

شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں