rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ شمالی کوریا پر اجلاس میں گفتگو

Español Español, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
27 ستمبر 2028

 
 

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ شمالی کوریا پر اجلاس میں گفتگو

اقوام متحدہ

نیویارک

وزیر خارجہ پومپئو: صبح بخیر۔ سلامتی کونسل کا 8363 واں اجلاس شروع ہوتا ہے۔

اس اجلاس کا ہنگامی ایجنڈا اسلحے کا عدم پھیلاؤ اور شمالی کوریا ہے۔ ایجنڈا اختیاری ہے۔

قاعدہ 37 کے مطابق میں جاپان اور جمہوریہ کوریا کے نمائندوں کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔

مجھے آج یہاں جمع ہونے والے معزز وزرا اور نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہے۔ اب سلامتی کونسل ایجنڈے کے دوسرے نکتے پر غوروخوض شروع کرے گی۔

اب میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایک بیان دوں گا۔

گزشتہ ربع صدی میں اقوام متحدہ نے بارہا واضح کیا ہے کہ ‘جوہری ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے’۔ یہ صرف امریکہ کا موقف نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کا یہی کہنا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور بلسٹک میزائلوں کی تیاری روکنے کے لیے ماضی میں کی گئی کوششیں ناکام رہیں۔ مگر اب ہم ایک نیا دور شروع کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی عالمی مہم چلائی جس کا نتیجہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی نمایاں سفارتی کامیابی کی صورت میں نکلا ہے۔

صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کی سنگاپور میں تاریخی ملاقات کے دوران چیئرمین کم نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے کام کا عہد کیا۔ دونوں رہنما مشترکہ طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات میں تبدیلی کے لیے کیا ہونا چاہیے۔

امریکہ سنگاپور میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے شمالی کوریا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ گزشتہ روز میری وزیر خارجہ ری یونگ ہو سے نہایت مثبت ملاقات ہوئی جس میں یہ جائزہ لیا گیا کہ ہم سنگاپور کے مشترکہ اعلامیے میں شامل چاروں وعدوں پر پر کیسے پیش رفت کر سکتے ہیں۔ ہم نے صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم جانگ ان کے مابین ایک اور ملاقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ کون سی چیز ہمیں یہاں تک لائی ہے۔ یہ سب کچھ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی تاریخی عالمی مہم کی بدولت ممکن ہوا جو اس کونسل نے پابندیوں کے ذریعے ممکن بنائی۔ شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے حتمی اور مکمل مصدقہ طور سے پاک کیے جانے تک یہ مشترکہ طورپر ہماری سنجیدہ ذمہ داری ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر پوری طرح عملدرآمد ہو۔

صدر ٹرمپ نے اچھی طرح واضح کر دیا ہے کہ اگر چیئرمین کم اپنے وعدے پورے کرتے ہیں تو ایک نہایت روشن مستقبل شمالی کوریا اور اس کے عوام کے سامنے ہے اور امریکہ اس روشن مستقبل کو ممکن بنانے میں سب سے آگے ہو گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ یہ وقت جلد از جلد آئے۔ مگر امن اور روشن مستقبل کی راہ تک صرف سفارت کاری اور جوہری اسلحے کے خاتمے کی صورت میں ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر شمالی کوریا کوئی اور راستہ منتخب کرتا ہے تو وہ ناگزیر طور پر بڑھتی ہوئی تنہائی اور دباؤ کی جانب جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ارکان پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔ شمالی کوریا کے جوہری اسلحے سے مکمل، حتمی اور قابل تصدیق طور سے پاک ہونے تک سلامتی کونسل کی عائد کردہ پابندیوں کو سختی سے اور ناکامی کے بغیر جاری رہنا چاہیے۔ کونسل کے ارکان کو چاہیے کہ اس کوشش کو مثال بنائیں اور ہم سب ایک دوسرے کے سامنے جوابدہ ہوں۔

خاص طور پر ہم سب کو قرارداد 2397 کے نفاذ کے حوالے سے جوابدہ ہونا چاہیے جس کے تحت شمالی کوریا میں صاف شدہ تیل کی درآمدات کے حوالے سے سالانہ حد میں کمی لائی گئی ہے۔ امریکہ کا اندازہ ہے اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس برس پانچ لاکھ بیرل کی حد توڑی گئی۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ صاف تیل کی اضافی مقدار کو ایک سے دوسرے بحری جہاز میں منتقل کر کے شمالی کوریا پہنچایا جا رہا ہے جبکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت اس کی واضح ممانعت ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان کی حیثیت سے ہمیں ان جہازوں کے کپتانوں، ان کے مالکان اور ایسی منتقلیوں میں ملوث ہر ایک پر واضح کر دینا چاہیے کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں اور انہیں بہرصورت اپنی غیرقانونی سرگرمی بند کرنا ہو گی۔

ہم سب کو شمالی کوریا کی جانب سے کوئلے کی غیرقانونی برآمدات روکنا ہو ں گی جن سے حاصل ہونے والے مالی وسائل وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام پر براہ راست خرچ ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہمیں اپنے ملکوں میں کام کرنے والے شمالی کوریا کے محنت کشوں کی تعداد میں بھی کمی لانا ہو گی۔ امریکہ کو حال ہی میں ایسی اطلاعات سے پریشانی ہوئی کہ رکن ممالک بشمول سلامتی کونسل کے ارکان شمالی کوریا کی جانب سے نئے مزدوروں کو اپنے ہاں کام کی اجازت دے رہے ہیں۔ یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روح کے منافی ہے جسے برقرار رکھنے پر ہم سب متفق ہیں۔

اگرچہ یہ پابندیاں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے چھٹکارا دلانے کے لیے بدستور ہمارے مجموعی طریق کار کاحصہ ہیں تاہم میں ایک مثبت بات پر اپنی گفتگو کا اختتام کرنا چاہوں گا۔ ہم نے سفارتی حوالے سے خاصی پیشرفت کی اور ہمیں امید ہے ۔۔۔ درحقیقت ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ کامیابی سے ہمکنار ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کے مابین حالیہ بات چیت کی بنیاد پر صدر نے مجھے آئندہ ماہ پیانگ یانگ کا دورہ کرنے اور چیئرمین کم سے ملاقات کر کے اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

میں یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ اگر شمالی کوریا حتمی اور مکمل قابل تصدیق طور سے جوہری اسلحے کے خاتمے کا عدہ پورا کرے تو اس کا مستقبل بہت روشن ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات میں مثبت تبدیلی شمالی کوریا کے عوام کی خوشحالی اور پائیدار امن کا پیش خیمہ ہو گی۔

آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کے لیے ہمارا تصور یہ ہے کہ وہاں کے ممالک مضبوط، خودمختار، مربوط، خوشحال اور پرامن ہوں۔ تاہم اگر ہم جزیرہ نما کوریا میں یہ تبدیلی لانے میں ناکام رہے تو خطے کے لیے یہ تصور کبھی تکمیل نہیں پا سکے گا۔ اگر ہم نے قیام امن کے لیے اس بے مثل سفارتی موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو کوریا کے عوام، خطہ اور دنیا مستقبل کے پورے امکان سے کبھی فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے ۔

میں نے اپنے بیان کے آغاز میں کہا تھاکہ ہم شمالی کوریا کے ساتھ دنیا کے تعلقات کا ایک نیا دور شروع کرنے کو ہیں۔ ابھی ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ دور ہمارے لیے کیا لائے گا مگر ہمیں امید ہے کہ سفارتی حوالے سے حالیہ کامیابی شمالی کوریا کے لیے روشن مستقبل اور ہم سب کے لیے محفوظ دنیا ممکن بنائے گی۔ شکریہ، اب میں بات چیت کا منتظر ہوں۔

اب میں کویت کے نائب وزیراعظم، وزیر اور وزیر خارجہ امور کو گفتگو کی دعوت دوں گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں