rss

ایران کا مقابلہ: ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
15 اکتوبر 2018
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی تحریر

 

سرد جنگ کے اختتام نے پالیسی سازوں اور تجزیہ کاروں میں امریکی قومی سلامتی کو درپیش عظیم تر مسائل کی بابت نئی سوچ پیدا کی۔ القاعدہ، سائبر مجرموں اور دیگر خطرناک تنظیموں کے ظہور نے غیرریاستی کرداروں کے خطرے کی توثیق کر دی ہے۔ تاہم لاقانون حکومتوں کا ایک بار پھر ابھرنا بھی اتنا ہی پریشان کن ہے۔ یہ وہ سرکش ریاستیں ہیں جو عالمگیر اصولوں کو پامال کرتی ہیں، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام میں ناکام ہیں اور امریکی عوام، امریکہ اتحادیوں، شراکت داروں اور بقیہ تمام دنیا کی سلامتی کے خلاف اقدام کرتی ہیں۔

ان لاقانون حکومتوں میں شمالی کوریا اور ایران سرفہرست ہیں۔ عالمگیر امن کے خلاف ان کے اقدامات کی تعداد بہت زیادہ ہے تاہم یہ دونوں ممالک سب سے زیادہ اس وجہ سے بدنام ہیں کہ انہوں نے عالمی امتناعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی دہائیوں تک جوہری ہتھیاروں کے پروگراموں پر کام کیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے بہترین سفارتی کوششوں کے باوجود پیانگ یانگ نے اسلحے پر کنٹرول کے بہت سے معاہدے توڑ کر امریکی پالیسی سازوں کو دھوکہ دیا۔  یہ سلسلہ جارج ایچ ڈبلیو بش کی انتظامیہ سے شروع ہوتا ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور بلسٹک میزائلوں کے پروگرام  تیزرفتار سے جاری رہے اور جب ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب عمل میں آیا تو صدر باراک اوبامہ نے انہیں بتایا کہ یہ قومی سلامتی کے حوالے سے ان کا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ اسی طرح اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے 2015 میں ایران کے ساتھ ‘مشترکہ جامع منصوبہ عمل’ یا ‘جے سی پی او اے’ ایران کے جوہری عزائم کے خاتمے میں ناکام رہا۔ درحقیقت ایران جانتا تھا کہ اوبامہ انتظامیہ ہر قیمت پر اس معاہدے کو قائم رکھنے کو ترجیح دے گی اسی لیے ‘جے سی پی او اے’ کی بدولت ایرانی حکومت کو کھلی چھوٹ کا احساس ہوا نتیجتاً اس نے ضرررساں سرگرمیوں میں اپنی معاونت مزید بڑھا دی۔ اس معاہدے سے ایران کو بھاری رقم بھی ملی جسے اس کے سپریم لیڈر نے مشرق وسطیٰ بھر میں ہر طرح کی دہشت گردی کی معاونت میں استعمال کیا (جواب میں چند ہی نتائج سامنے آئے) اور اس رقم سے حکومت کے خزانے بھر گئے جو بدستور اپنے انقلاب کو بیرون ملک وسعت دینے اور اسے اندرون ملک نافذ کرنے میں مصروف ہے۔

عراق جنگ کے بعد شمالی کوریا اور ایران کی جانب سے ابھرنے والے خطرات نے اس سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیا کہ ان کا بہتر طور سے مقابلہ کرنا کیسے ممکن ہے۔ امریکی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے تحفظ کے نام پر طویل عسکری کارروائی کی قیمت کی بابت بجا طور سے متشکک ہیں۔ عراق میں پیش آنے والی مشکلات اور شمالی کوریا و ایران کو باز رکھنے کے معاہدوں کی کمزوری مدنظر رکھتے ہوئے ان سرکش حکومتوں کو نقصان کے ارتکاب سے روکنا نئے سفارتی نمونوں کا تقاضا کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی سفارت کاری کی بنیاد غوروفکر پر مبنی ایک طریقہ کار پر ہے جو امریکہ کو لاقانون حکومتوں کے مقابل فائدہ پہنچاتی ہے۔

ٹرمپ کا نظریہ

صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اور عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی اس بارے میں واضح موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی سلامتی کے مفادات کو ترجیح دینے کے لیے دلیرانہ قیادت کی ضرورت ہے۔ یہ عام فہم اصول اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ‘عقب میں رہ کر قیادت’ کے ترجیحی انداز سے برعکس  ہے جو کہ سمجھوتے پر مبنی حکمت عملی تھی اور جس نے غلط طور سےامریکی طاقت اور اثرورسوخ میں کمی کا تاثر پیدا کیا۔ عقب میں رہ کر قیادت کی حکمت عملی سے شمالی کوریا آج پہلے سے کہیں بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ اسی طرح عقب سے قیادت کے نتیجے میں ایران کے جوہری طاقت بننے کی کوشش زیادہ سے زیادہ کچھ دیر تک موخر ہوئی جبکہ اسلامی جمہوریہ کو اپنا ضرررساں اثرورسوخ پھیلانے اور دہشت گردی کے خطرے کو بڑھانے کا موقع مل گیا۔

آج شمالی کوریا اور ایران دونوں کو بتا دیا گیا ہے کہ امریکہ ان کی تخریبی سرگرمیوں سے صرف نظر نہیں کرے گا۔ امریکی قیادت میں شمالی کوریا کے خلاف جارحانہ کثیرملکی دباؤ کی مہم اور صدر کی جانب سے بوقت ضرورت امریکہ کے اہم مفادات کے بزور طاقت دفاع سے متعلق واضح اور غیرمبہم بیانات نے بات چیت کے حالات پیدا کیے جو رواں سال جون میں سنگاپور میں صدر ٹرمپ کی چیئرمین کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات پر منتج ہوئے۔ وہیں چیئرمین کم نے شمالی کوریا کو حتمی اور مکمل تصدیق شدہ طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنے کا وعدہ کیا۔ شمالی کوریا نے ایسے ہی وعدے ماضی میں بھی کیے تھے مگر ان سے برعکس یہ پہلا موقع تھا جب جوہری اسلحے کے خاتمے کے لیے دو رہنماؤں کی بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ ممکن ہے یہ چیئرمین کم کی جانب سے بڑی تزویراتی تبدیلی کا اشارہ ہو یا نہ ہو۔ ہم نے ان کے ارادوں کو جانچنے اور ان کے وعدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ مگر صدر ٹرمپ کے طریق کار نے قومی سلامتی کے اس مسئلے کو پرامن طور سے حل کرنے کا ایک موقع پیدا کیا جس نے پالیسی سازوں کو طویل عرصہ سے پریشان کر رکھا تھا۔ صدر، شمالی کوریا کے لیے ہمارے خصوصی نمائندہ (سٹیفن بیگن) اور میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مستعدی  سے کام جاری رکھیں گے۔

اسی طرح ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی مہم سے کام لے رہی ہے جس کا مقصد ان مالی وسائل کو روکنا ہے جنہیں ایرانی حکومت خصوصاً ایرانی فوج میں شامل اور سپریم لیڈر کے براہ راست ماتحت پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) لبنان میں حزب اللہ، فلسطینی علاقوں میں حماس، شام میں اسد حکومت، یمن میں حوثی باغیوں اور عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کے ذریعے تشدد کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے جبکہ اس کے کارندے دنیا بھر میں خفیہ کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔

تاہم اس کے لیے صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ یا کسی اور خطے میں امریکی فوج کی طویل مدتی موجودگی نہیں چاہتے۔ وہ 2003 میں عراق پر چڑھائی اور 2011 میں لیبیا میں مداخلت کے خوفناک نتائج پر کھل کر بات کر چکے ہیں۔ ماہرین یہ کہہ کر ہراس پھیلا سکتے ہیں کہ موجودہ انتظامیہ  امریکہ کو جنگ میں دھکیل دے گی مگر یہ واضح ہے کہ امریکیوں کے پاس ایسا صدر ہے جو اگرچہ عسکری طاقت کے استعمال سے خوفزدہ نہیں ہے (داعش، طالبان یا اسد حکومت سے پوچھیں) تاہم وہ اس کے استعمال کا خواہاں بھی نہیں ہے۔ عسکری طاقت امریکی عوام کے تحفظ کے لیے ہمیشہ عقب میں موجود رہے گی مگر یہ پہلی ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔

امریکہ کے نہایت پکے دشمنوں سے بات چیت پر آمادہ رہنا صدر کی سفارت کاری کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ جیسا کہ جولائی میں انہوں نے کہا تھا ”سفارت کاری اور رابطے کو جنگ اور دشمنی پر ترجیح دینی چاہیے” شمالی کوریا کے حوالے سے ان کے طریقہ کار پر غور کیجیے۔ چیئرمین کم کے ساتھ ان کی سفارت کاری نے اس تناؤ کو ختم کر دیا جو دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔

صدر کی جانب سے رابطہ کاری کے لیے آمادگی برے معاہدوں سے ان کی جبلی بیزاری کی تکمیل کرتی ہے۔ کسی بھی بات چیت میں فوائد کے حصول کی طاقت کی اہمیت بارے ان کی سمجھ بوجھ ‘جی سی پی او اے’ جیسے انتہائی نقصان دہ معاہدوں کا امکان ختم کر دیتی ہے۔ وہ امریکہ کے دشمنوں کے ساتھ معاہدوں پر آمادہ ہیں تاہم جہاں وہ سمجھیں کہ کوئی چیز امریکی مفادات کے خلاف ہے تو وہاں وہ بات چیت چھوڑ دینے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ یہ اوبامہ انتظامیہ کی ‘جے سی پی او اے’ سے متعلق سوچ سے واضح طور پر متضاد ہے کہ سابق حکومت کے لیے یہ معاہدہ بذات خود ایک ایسا مقصد بن گیا تھا جسے اس نے ہر قیمت پر حاصل کرنا تھا۔

مستقبل میں شمالی کوریا کے ساتھ ‘جے سی پی او اے’ سے بالاتر معاہدے کی بابت ہم نے اپنے مقصد کو ‘جزیرہ نما کوریا سے جوہری اسلحے کے  حتمی اور مکمل تصدیق شدہ خاتمے’ کے طور پر بیان کیا جیسا کہ چیئرمین کم جانگ ان نے اس پر  رضامندی ظاہر کی تھی”۔ اس میں حتمی  کا مطلب یہ ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے کبھی بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور بلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ یہ ایسی چیز ہے جو ‘جے سی پی او اے’ کے ذریعے حاصل نہیں ہو پائی تھی۔ اس میں ‘مکمل قابل تصدیق طور سے’ کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ‘جے سی پی او اے’ کی نسبت تصدیق کے کڑے معیارات ہوں گے۔ ایرانی جوہری معاہدے میں دیگر کمزوریوں کے علاوہ یہ خامی بھی تھی کہ اس میں اہم ایرانی عسکری تنصیبات کے معائنے کی کوئی بات شامل نہیں تھی۔ شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے کے حتمی خدوخال پر بات چیت ہونا ہے مگر ‘حتمی’ اور ‘مکمل قابل تصدیق طور سے’ وہ بنیادی نکات ہیں جن پر ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

امریکی عوام کی سلامتی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے عزم، عسکری طاقت کے غیرضروری استعمال سے ان کے پرہیز اور دشمنوں سے بات چیت پر ان کی آمادگی نے لاقانون حکومتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا فریم ورک مہیا کر دیا ہے۔ آج کوئی حکومت ایران سے زیادہ لاقانون نہیں ہے۔ یہ سلسلہ 1979 سے چلا آ رہا ہے جب اسلامی انقلابیوں کی مقابلتاً چھوٹی سی جمعیت نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت سے ایرانی حکومت کی انقلابی ذہنیت ہی اس کے اقدامات کا محرک چلی آ رہی ہے۔ درحقیقت ‘آئی آر جی سی’ نے اپنے آغاز سے فوری بعد قدس فورس قائم کی جو کہ اس کی اعلیٰ خصوصی فورسز کا یونٹ ہے اور اسے انقلاب کو بیرون ملک برآمد کا کام سونپا۔ اس وقت سے ایرانی حکومت کے حکام کے لیے دیگر تمام مقامی و عالمی ذمہ داریاں ثانوی قرار پائیں جن میں ایرانی عوام کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

نتیجتاً گزشتہ چار دہائیوں میں ایرانی حکومت نے بڑے پیمانے پر تباہی اور عدم استحکام کے بیج بوئے ہیں اور یہ برا طرز عمل ‘جے سی پی او اے’ کے ذریعے ختم نہیں ہو سکا۔ اس معاہدے نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش سے مستقل طور پر نہیں  روکا۔ درحقیقت اپریل میں ایران کے اعلیٰ سطحی جوہری حکام کا بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران چند دنوں میں ہی اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے سرے سے اپنا پروگرام ملتوی ہی نہیں کیا تھا۔ یہ معاہدہ افغانستان، عراق، لبنان، شام، یمن اور غزہ میں ایران کی متشدد اور تخریبی سرگرمی کو بھی نہیں روک سکا۔ ایران اب بھی حوثیوں کو میزائل فراہم کرتا ہے جو سعودی عرب پر داغے جاتے ہیں۔ یہ اسرائیل پر حملوں کے لیے حماس کی معاونت کرتا ہے اور افغان، عراقی و پاکستانی نوجوانوں کو شام میں لڑنے اور مرنے کے لے بھرتی کرتا ہے۔ ایرانی مدد سے حزب اللہ کا ایک اوسط درجے کا جنگجو ایران میں آگ بجھانے والے عملے کے رکن کی نسبت دو سے تین گنا زیادہ کما لیتا ہے۔

مئی 2018 میں صدر ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کیونکہ یہ امریکہ یا ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی قومی سلامتی کے مفاد کی تکمیل میں واضح طور پر ناکام تھا اور اس کے ذریعے ایرانی طرزعمل کو ایک عام ملک جیسا بنانے میں بھی کوئی کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ جولائی میں ویانا میں مقیم ایک ایرانی سفارت کار کو دہشت گردوں کو دھماکہ خیز مواد مہیا کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ یہ مواد فرانس میں ایک سیاسی ریلی میں استعمال ہونا تھا۔ اگرچہ ایرانی رہنما یورپ کو جوہری معاہدے میں شامل رہنے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم وہ خفیہ طور پر اس براعظم کے قلب میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی مصروف ہیں۔ ایرانی اقدامات نے اس ملک کو اچھوت بنا کر رکھ دیا ہے جو اس کے اپنے عوام کے لیے نہایت مایوسی کا باعث ہے۔

دباؤ کی مہم

صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے کی جگہ دباؤ ڈالنے کی ایک کثیر رخی مہم شروع کی ہے۔ اقتصادی پابندیاں اس کا پہلا جزو ہیں۔ صدر اس بات کو سمجھتے ہیں کہ پابندیوں میں اتنی طاقت ہے کہ ان کے ذریعے امریکہ کے لیے بہت کم قیمت ادا کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنا ممکن ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ نے ایران سے متعلق پابندیوں کے 17 ادوار کا نفاذ کیا ہے جن میں ایران سے متعلق 147 افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان جارحانہ پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کو ایک انتخاب پر مجبور کرنا ہے کہ آیا وہ ان پابندیوں کا سبب بننے والی اپنی پالیسیوں کو ختم کرے گا یا جاری رکھے گا۔ ایران کی جانب سے اپنی تباہ کن سرگرمی جاری رکھنے کا فیصلہ پہلے ہی اس کےلیے  سنگین معاشی نتائج کا باعث بنا ہے جنہیں ایرانی حکام کی جانب سے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے بڑے پیمانے پر بدانتظامی نے مزید بڑھا دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے نجکاری کی آڑ میں معیشت  میں بڑے پیمانے پر مداخلت نے ایران میں کاروبار کرنا گھاٹے کا سودا بنا دیا ہے اور غیرملکی سرمایہ کار کبھی نہیں جان سکتے کہ آیا وہ تجارت میں سہولت دے رہے ہیں یا دہشت گردی میں معاون ہیں۔ جے سی پی او اے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کو ایرانی عوام کی مادی حالت بہتر بنانے کے بجائے حکومت نے اسے آمروں، دہشت گردوں اور سرکش ملیشیاؤں کی مدد کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایرانی عوام کی مایوسی قابل فہم ہے۔ گزشتہ برس ریال کی قدر میں بری طرح کمی واقع ہوئی۔ ایرانی نوجوانوں کا ایک تہائی بیروزگار ہے۔ اجرتوں کی عدم ادائیگی بے قابو مظاہروں اور ہڑتالوں کا باعث بن رہی ہے۔ ایندھن اور پانی کی کمی عام ہے۔

عوام میں پائی جانے والی یہ بے چینی ایرانی حکومت کی اپنی پیداکردہ ہے۔ ایران کی اشرافیہ مافیا کی طرح منظم استحصال اور بدعنوانی میں ملوث ہے۔ دو سال پہلے ایرانیوں نے بجا طور سے غصے کا اظہار کیا تھا جب یہ سامنے آیا کہ بہت بڑی رقم اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے بینک کھاتوں میں جا رہی ہے۔ سالہا سال تک مذہبی پیشواؤں اور حکام نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ایرانی عوام کو لوٹا ہے۔ آج مظاہرین یہ نعرے لگاتے ہیں کہ ”آپ نے ہمیں مذہب کے نام پر لوٹا ہے” لندن سے جاری ہونے والے اخبار ‘کیہان’ کے مطابق ایرانی عدلیہ کا سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی کم از کم 300 ملین ڈالر مالیتی دولت کا مالک ہے جو کہ عوامی وسائل میں غبن کے ذریعے حاصل کی گئی۔ امریکہ اس برس لاریجانی پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اعلیٰ درجے پر فائز آیت اللہ نصر مکرم شیرازی بھی کروڑوں ڈالر کا مالک ہے۔ اس نے ایرانی حکومت پر چینی کے مقامی پیداکاروں کے لیے امدادی قیمت کم کرنے پر دباؤ ڈالا تھا تاکہ منڈی میں اپنی درآمد کردہ مہنگی چینی لائی جا سکے۔ اسی بنا پر اسے ‘چینی کے سلطان’ کا نام دیا گیا۔ ایسی سرگرمیوں کے باعث عام ایرانی بے روزگار ہیں۔ گزشتہ 30 برس سے تہران میں جمعے کی نماز پڑھانے والا آیت اللہ محمد عمامی کاشانی متعدد منافع بخش سرکاری کانیں اپنے ذاتی ادارے کو منتقل کرا چکا ہے۔ اس کے اثاثوں کی مالیت بھی کروڑوں میں ہے۔ بالائی سطح پر بدعنوانی عام ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کے پاس سیتاد نامی 95 ارب ڈالر مالیتی فنڈ ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ یہ بالائے محصول اور ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت عام طور پر سیاسی و مذہبی اقلیتوں کے اثاثوں کو چھین کر بنائی جاتی ہے جسے پاسداران انقلاب کے بے نامی کھاتے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ باالفاظ دیگر ایرانی قیادت میں شامل مقدس شخصیات لوٹ مار کے حوالے سے تیسری دنیا کے آمروں جیسی خصوصیات کی  حامل ہیں۔

حکومت کے لالچ نے ایرانی عوام اور ان کے رہنماؤں میں خلیج پیدا کر دی ہے اور حکام کے لیے نوجوان ایرانیوں کو انقلاب کی اگلی نسل کے ہراول دستے کے طور پر تیار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ دینی ملا دن رات ‘مرگ بر اسرائیل’ اور ‘مرگ بر امریکہ’ کی تبلیغ تو کر سکتے ہیں مگر وہ اپنی منافقت پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سان فرانسسکو سٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ڈینور سے فارغ التحصیل ہیں اور سپریم لیڈر کے اعلیٰ ترین مشیر علی اکبر ولایتی نے جان ہاپکنز یونیورسٹی سے تعلیم پائی ہے۔ خامنائی خود بی ایم ڈبلیو میں سفر کرتے ہیں جبکہ وہ ایرانی عوام سے کہتے ہیں کہ وہ اندرون ملک تیار شدہ اشیا خریدیں۔ یہ وہی صورتحال ہے جو 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں سوویت یونین میں رونما ہوئی تھی جب 1917 کے انقلاب کا جذبہ اس کے داعیوں کی منافقت کے باعث کھوکھلا ہو گیا تھا۔ سوویت حکام خفیہ طور سے جینز کی نیلی پتلونیں اور بیٹلز کے گانے اندرون ملک سمگل کر رہے تھے تو ان کے لیے سوویت شہریوں کو اشتراکیت سے وابستہ رہنے کے لیے کہنا ممکن نہ رہا۔

ایرانی رہنما خصوصاً پاسداران انقلاب کی اعلیٰ قیادت جیسا کہ قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ان کے تشدد اور بدعنوانی کے تکلیف دہ نتائج کا احساس دلایا جانا چاہیے۔ چونکہ ایرانی حکومت کو ذاتی جیبیں بھرنے کی خواہش اور انقلابی نظریے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جس سے وہ علیحدہ نہیں ہو گی، اس لیے اگر وہ اپنی عادات تبدیل نہیں کرتی تو اس کے خلاف کڑی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر رہی ہے جو ہم نے جوہری معاہدے کے تحت اٹھا لی تھیں یا ان میں چھوٹ دی گئی تھی۔ ان میں پہلی پابندیاں 7 اگست کو موثر ہوئیں جبکہ بقیہ 5 نومبر کو دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔ ہم دنیا بھر میں ایرانی خام تیل کی درآمد 4 نومبر تک صفر پر لانا چاہتے ہیں۔ ایرانی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت ختم کرنے کی اپنی مہم میں ہم نے کرنسی کے تبادلے کے ایک نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے کروڑوں ڈالر قدس فورس کو منتقل کیے جا رہے تھے۔ امریکہ ایرانی تخریبی طرزعمل سے متاثرہ اور تنگ آئے ہر ملک سے کہہ رہا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے لیے کھڑا ہو اور دباؤ کی اس مہم میں ہمارا ساتھ دے۔ ایران کے لیے ہمارے نئے خصوصی نمائندے برائن ہک ماہرانہ طور سے ہماری کوششوں کی قیادت کریں گے۔

معاشی دباؤ امریکی مہم کا ایک جبکہ رکاوٹ دوسرا حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ جوہری پروگرام کے دوبارہ اجرا یا دیگر ضرررساں سرگرمیاں جاری رکھنے کے ضمن میں ایران کی حوصلہ شکنی کے لیے واضح اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایران اور دوسرے ممالک پر واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کو دھمکانے کی کوششیں برداشت نہیں کریں گے۔ اگر امریکہ کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو وہ سختی سے جواب دیں گے۔ چیئرمین کم نے اس دباؤ کو محسوس کیا اور اس کے بغیر وہ کبھی سنگاپور میں مذاکرات کی میز پر نہ آتے۔ عوامی سطح پر صدر کی اپنی بات چیت بھی روک کے طریق کار کا کام دیتی ہے۔ جولائی میں ایرانی صدر حسن روحانی کے نام ان کے تمام ٹویٹ جن میں انہوں نے ایران سے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو دھمکانے سے باز رہے، دراصل تزویراتی حساب کتاب کی روشنی میں کیے گئے تھے کہ ایرانی حکومت کو امریکہ کی عسکری طاقت اندازہ ہے اور وہ اس سے خوف کھاتی ہے۔ ستمبر میں عراق میں جنگجوؤں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے احاطے اور بصرہ میں امریکی قونصل خانے پر راکٹوں سے حملے کیے۔ ایران نے ان حملوں کو نہیں روکا جو اس کے آلہ کاروں نے کیے تھے جنہیں ایران سے مالی مدد، تربیت اور اسلحہ ملتا ہے۔ امریکہ ایسے کسی بھی حملے پر تہران کو ذمہ دار سمجھے گا جس  میں اس کے لوگوں یا تنصیبات کو نقصان پہنچا ہو۔ امریکہ اپنے عوام کے دفاع میں تیزتر اور فیصلہ کن انداز میں جوابی کارروائی کرے گا۔

ہم جنگ نہیں چاہتے۔ مگر ہمیں واضح کرنا ہے کہ اشتعال انگیزی ایران کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ اسلامی جمہوریہ امریکی عسکری دلیری کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ہم ایرانی رہنماؤں کو یہ بتانے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

ایران بے نقاب

ایرانی حکومت کے مظالم سامنے لانا اس کے خلاف امریکہ کی دباؤ ڈالنے کی مہم کا ایک اور اہم جزو ہے۔ لاقانون آمرانہ حکومتوں کو اس سے زیادہ کوئی خوف نہیں ہوتا کہ ان کے اصل کرتوت سامنے نہ آ جائیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکومت کی جانب سے مالی وسائل کے غیرقانونی ذرائع، ضرررساں سرگرمیوں، بددیانتی اور وحشیانہ جبر کو بے نقاب کرتی رہے گی۔ ایرانی عوام اپنے حکمرانوں کے مضحکہ خیز حد تک بڑھے ذاتی مفاد سے آگاہی کا حق رکھتے ہیں جو اس کے افعال کو مہمیز دیتا ہے۔ اگر سب کچھ سامنے آ گیا تو خامنائی اور ان کا خاندان مقامی اور عالمی سطح پر غیض وغضب کو برداشت نہیں کر پائے گا۔ گزشتہ برس سے شروع ہونے والے مظاہروں میں لوگوں نے سڑکوں پر یہ نعرے لگائے کہ ”شام کو چھوڑو، ہمارے بارے میں سوچو” اور ”لوگ کنگال ہیں اور ملا خداؤں کی طرح رہتے ہیں”۔ امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ ہے۔

امریکی صدر رونلڈ ریگن نے جب سوویت یونین کو ‘بدی کی سلطنت’ قرار دیا تو وہ ایسی حکومتوں کو بے نقاب کیے جانے کی طاقت سے آگاہ تھے۔ سوویت حکومت کی منفی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ان لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جنہوں نے اشتراکیت میں طویل عرصہ تک  مصائب سہے تھے۔ اسی طرح ایرانی عوام کے لیے ٹرمپ انتظامیہ بھی اس حکومت کے اندرون ملک بے رحمانہ جبر کو سامنے لانے سے خوفزدہ نہیں ہے۔ ایرانی حکومت مخصوص نظریاتی اصولوں بشمول اپنے آلہ کاروں کی مدد سے لڑی جانے والی جنگوں کے ذریعے اسلامی انقلاب کی برآمد اور ساتھی مسلم اکثریتی ممالک میں تخریب کاری، اسرائیل اور امریکہ کی سنگدلانہ مخالفت اور خواتین کے حقوق محدود کرنے کے لیے کڑی سماجی پابندیوں پر اس طرح کاربند ہے کہ وہ کسی بھی مسابقتی نظریے کو برداشت نہیں کر سکتی۔ اس نے کئی دہائیوں تک اپنے ہی لوگوں کے انسانی حقوق، وقار اور بنیادی آزادیاں سلب کیے رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر اسی لیے مئی میں ایرانی پولیس نے ایک نوجوان جمناسٹ مہدی ہوجابری کو انسٹاگرام پر اپنی رقص کی ویڈیو پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا تھا۔

خواتین کے حوالے سے ایرانی حکومت کے خیالات خاص طور پر رجعتی ہیں۔ انقلاب کے بعد خواتین کو حجاب پہننے پرمجبور کیا جاتا ہے اور حکومت کی اخلاقی پولیس اس پابندی پر عمل نہ کرنے والی خواتین کو مارتی اور انہیں گرفتار کرتی ہے۔ خواتین کے لباس کے حوالے سے اس پالیسی کے خلاف حالیہ مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے اور خامنائی کو بھی اس کا علم ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود جولائی میں ایک کارکن کو حجاب اتارنے پر 20 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

ایرانی حکومت اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی مذہبی یا نسلی اقلیتوں بشمول بہائیوں، عیسائیوں اور گونابادی درویشوں کو بھی باقاعدگی سے گرفتار کرتی ہے۔ ایوین جیل میں ایرانیوں کی نامعلوم تعداد تشدد کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکی ہے۔ یہ جگہ کے جی بی کے خوفناک مرکز لوبیانکا کے تہہ خانے سے کسی طرح کم نہیں کہی جا سکتی۔ یہاں بے گناہ امریکیوں سمیت جعلی الزامات میں قید لوگ ایرانی حکومت کی جانب سے یرغمالیوں کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے طریق کارکا نشانہ بن رہے ہیں۔

گزشتہ دسمبر میں شروع ہونے والے مظاہرے تہران، کاراج، اصفہان، آراک اور متعدد دوسرے شہروں کی سڑکوں پر پھیل گئے جن میں پرامن طور سے بہتر زندگی کے مطالبات کیے گئے۔ جواب میں ایرانی حکومت نے ان میں 5000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سینکڑوں اب بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور درجن سے زیادہ لوگ اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی رہنما خشک لہجے میں ان اموات کو خودکشی قرار دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی ان پامالیوں کو بے نقاب کرنا امریکی کردار کا حصہ ہے۔ جیسا کہ صدر ریگن نے 1988 میں ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ”آزادی اس امر کو تسلیم کرنے کا نام ہے کہ کسی فرد یا حکومت کا سچائی پر اجارہ نہیں ہے، ہر فرد کی زندگی قیمتی ہے اور اس زمین پر موجود ہم میں ہر فرد ایک خاص وجہ سے اور خاص کردار ادا کرنے کے لیے آیا ہے”

مئی میں ٹرمپ انتظامیہ نے 12 امور کی فہرست تیار کی تھی۔ اگر ایران ہمارے باہمی تعلقات میں تبدیلی چاہتا ہے تو اسے ان امور پر بہرصورت پیش رفت کرنا ہو گی۔ ان میں اس کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور سے روکنا، اپنے جوہری پروگرام کے عسکری پہلوؤں بارے مکمل تفصیلات مہیا کرنا، بلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ اور اشتعال انگیز تجربات کا خاتمہ، قید کیے گئے امریکی شہریوں کی رہائی، دہشت گردی کی معاونت کا خاتمہ اور دیگر شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ، اس کے شراکت داروں اور اتحادیوں نیز خود ایرانی عوام کی جانب سے طے کردہ معیارات پر عمل نہ کیا تو دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ تہران کو انسانی حقوق کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کرنی چاہیے۔ جیسا کہ صدر نے تسلسل سے کہا ہے وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم جیسا کہ شمالی کوریا کے معاملے میں ہوا امریکہ اس وقت تک دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رکھے گا جب تک ایران اپنی پالیسیوں میں واضح اور پائیدار تبدیلی  ثابت نہیں کرتا۔ اگر ایران ایسی تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ایک نئے جامع معاہدے کا امکان بہت بڑھ جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے۔ بصورت دیگر ایران کو دنیا بھر میں اپنی لاپرواہانہ اور متشدد سرگرمی کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

صدر ٹرمپ یہ مہم اکیلے نہ چلانے کو ترجیح ددیتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ امریکی اتحادیوں اور شراکت داروں کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت دوسرے ممالک پہلے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ ایران سے درپیش خطرہ اس کی جوہری خواہشات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ”ایران کی علاقائی سرگرمیوں اور اس کے بلسٹک میزائل پروگرام پر اس سے سختی کرنا اہم ہے” برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ وہ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں ایران سے درپیش خطرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی خطرے سے متعلق وسیع پیمانے پر پھیلا یہ اتفاق رائے دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایرانی طرزعمل میں تبدیلی کے لیے عالمگیر کوشش میں شمولیت اختیار نہ کرنے سے متعلق کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ یہ ایک بڑی کوشش ہے جو وقت کے ساتھ مزید بڑی ہو رہی ہے۔

اخلاقی صراحت کی طاقت

صدر ٹرمپ کو ایسی دنیا ورثے میں ملی ہے جو کئی اعتبار سے اسی دنیا جیسی خظرناک ہے جس کا سامنا امریکہ کو پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم سے قبل اور سرد جنگ کے عروج پر ہوا تھا۔ مگر پہلے شمالی کوریا اور اب ایران کے معاملے میں ان کی دلیرانہ حکمت عملی نے ثابت کیا ہے کہ ایقان کی صراحت کو جوہری عدم پھیلاؤ اور مضبوط اتحادوں کے ساتھ ملا کر کس قدر پیش رفت ممکن ہے۔ لاقانون حکومتوں کے مقابل صدر ٹرمپ کے اقدامات اس یقین سے پھوٹے ہیں کہ اخلاقی مقابلہ سفارتی مفاہمت کی جانب لے جاتا ہے۔

یہ گزشتہ صدی میں خارجہ پالیسی کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک کا خاکہ تھا یعنی ‘سرد جنگ میں امریکی فتح’۔ صدر ریگن نے اپنی صدارت کے پہلے ہفتے میں سوویت رہنماؤں کے بارے میں کہا تھا کہ ”وہ صرف اسی اخلاقیات کو مانتے ہیں جس سے ان کا مقصد پورا ہوتا ہو یعنی جس سے انہیں کوئی بھی جرم کرنے، جھوٹ بولنے یا دھوکہ دینے کا حق ملتا ہو”۔ خارجہ پالیسی کے تجزیہ کاروں نے ان کے بیانات کا مذاق اڑیا اور ان کا خیال تھا کہ ان باتوں سے امن کی جانب پیش رفت میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ مگر صدر نے سوویت یونین سے بات چیت کے عزم پر بھی زور دیا، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے بڑی حد تک نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ صدر ریگن کی جانب سے اخلاقی صراحت اور سفارتی تیزی نے 1986 میں ریکجاوک میں مذاکرات اور بعدازاں سوویت اشتراکیت کے زوال کی بنیاد رکھی۔

جو لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ صاف گوئی سے مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی تو انہیں لاقانون حکومتوں کے خلاف مخصوص بیان اور عملی دباؤ کے اثرات مدنظر رکھنے چاہئیں۔ ایرانی معیشت جس شرح سے گر رہی ہے اور مظاہروں میں شدت آ رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ایرانی قیادت پر واضح ہو جانا چاہیے کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کی بہترین راہ ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں