rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس بریفنگ

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
23 اکتوبر 2018
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی

 

میں اپنی بات کا آغاز ایک افسردہ یاد سے کرنا چاہتا ہوں۔ پینتیس سال پہلے آج کے دن ایرانی حکومت کے تربیت یافتہ حزب اللہ کے دہشت گردوں نے لبنانی شہر بیروت میں دھماکہ خیز مواد سے بھرا ٹرک میرین کی بیرکوں پر چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں 241 میرین، سیلر اور سپاہی ہلاک ہو گئے تھے۔ ہم دہشت گردی کے اس بزدلانہ عمل یا ان بہادروں کو کبھی نہیں بھلائیں گے جو پرامن تھے اور جنہوں نے اس دن اپنی جانوں کی قربانی دی۔

جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگ جانتے ہیں صدر نے ابھی بات کی ہے۔ آج میں پانچ موضوعات پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں جو صدر کی کہی بعض باتوں کی مزید تفصیل مہیا کریں گے۔

پہلی بات یہ کہ گزشتہ ہفتے افغانستان کے پارلیمانی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے جانا ہمارے لیے بے حد حوصلہ افزا تھا۔ ہم قابل اعتبار انتخابات میں سہولت دینے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی ستائش کرتے ہیں۔ انہیں بعض تکنیکی مسائل درپیش تھے مگر اس کے باوجود ہم الیکشن کمیشن کی معاونت خاص طور پر اپریل 2019 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے ان کے کام میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

دوسری بات یہ کہ تارکین وطن کا قافلہ میکسیکو کی خودمختاری، قوانین اور امیگریشن کے طریقہ ہائے کار کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ امریکہ کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ بے رحمانہ اقدام ہے انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تارکین وطن کے معاملے میں امریکہ تاریخی طور پر ایک فیاض ملک رہا ہے۔

ہر سال دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو یہاں امریکہ میں مستقل قانونی درجہ دیا جاتا ہے۔ اس وقت یہاں تین کروڑ 30 لاکھ  سے زیادہ لوگ ایسے ہیں  جو دوسرے ملکوں سے قانونی طور پر یہاں آ کر رہ رہے ہیں۔ قانونی طور پر ملک میں داخلہ ہی امریکہ میں درکار بہتر زندگی کا یقینی ترین راستہ ہے۔

سلامتی کے نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس قافلے میں شامل افراد کے بارے میں خاطرخواہ معلومات دستیاب نہیں ہیں اور یہ امریکہ کی سلامتی کے لیے ناقابل قبول خطرہ ہے۔ مزید براں ان میں بہت سے لوگ انسانی بیوپاریوں اور استحصالی عناصر کے آسان شکار ہیں۔ ہم ایسا ہونے دینا نہیں چاہتے۔

میں نے گزشتہ دو روز میں اپنے ہم منصب وزیر خارجہ ویڈیگیرے سے دو مرتبہ بات کی ہے۔ ہمیں اعتماد ہے کہ میکسیکو کے رہنما جانتے ہیں کہ اس صورتحال سے نمٹنے کا بہتر طریقہ کون سا ہے اور ہم ان پر بروقت اقدام کے لیے زور دیتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایسے لوگوں کے لیے بھی پیغام ہے جو اس قافلے میں شامل ہیں یا اس کے بعد ایسے کسی قافلے کا حصہ ہو سکتے ہیں: آپ کسی صورت غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ میں اپنی بات دہراتا ہوں کہ: یہ قافلہ کسی طرح کے حالات میں ہماری جنوبی سرحد کو غیرقانونی طور پر عبور نہیں کرے گا۔

اگر آپ یہاں آنا چاہتے ہیں تو پناہ کے عمومی طریقہ کار سے رجوع کریں۔ اگر آپ پناہ گزین کے طور پر درخواست دیتے ہیں تو میکسیکو یا کسی تیسرے ملک میں اس کا مستقل حل ممکن ہے۔ مگر میں آپ پر اچھی طرح واضح کر دوں کہ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ اس قافلے سے کسی فرد  کا امریکی سرحد میں غیرقانونی داخلہ ممکن نہیں ہو گا۔

تیسری بات یہ کہ دفترخارجہ جمال خشوگی کے قتل کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے تمام متعلقہ حقائق تک پہنچنے، کانگریس سے مشاورت اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔ امریکی انتظامیہ فی الوقت اس حوالے سے دستیاب معلومات کی بنیاد پر مناسب اقدامات اٹھا رہی ہے۔

ہم نے اس واقعے کے بعض ذمہ داروں کی نشاندہی کر لی ہے جن کا تعلق انٹیلی جنس، شاہی محل، وزارت خارجہ اور دیگر سعودی وزارتوں سے ہے اور جن پر شبہ ہے کہ وہ خشوگی کے قتل میں ملوث ہیں۔ ہم مناسب اقدامات اٹھا رہے ہیں جن میں ویزوں کی منسوخی، ملک میں داخلے کی نگرانی اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ ہم ان افراد پر ‘عالمگیر میگنیٹسکی پابندیوں’ کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ بھی مصروف عمل ہیں۔

یہ سزائیں اس معاملے پر امریکہ کی جانب سے آخری اقدام نہیں ہو گا۔ ہم اس واقعے کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے اضافی اقدامات جاری رکھیں گے۔ ہم اچھی طرح واضح کر رہے ہیں کہ امریکہ خشوگی جیسے صحافی کی آواز کو تشدد کے ذریعے خاموش کرنے کے لیے ایسے بے رحمانہ اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کے ساتھ ہماری مضبوط شراکت بدستور قائم ہے۔ صدر اور میں اس صورتحال پر خوش نہیں ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ ہمارے مشترکہ تزویراتی مفادات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بیک وقت امریکہ کا تحفظ اور خشوگی کے قتل کے ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ممکن ہے۔

چوتھی بات یہ کہ گزشتہ ہفتے کیوبا کے ایک سفارتی وفد نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں بچگانہ طور سے غصے کا اظہار کیا۔ اس اجلاس میں کیوبا کی حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کے حوالے سے عدم برداشت اور وہاں سیاسی قیدیوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ جواباً میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیخش کو ایک خط لکھا جس میں یہ جاننے کی درخواست کی گئی کہ اقوام متحدہ ایسے اقدامات کے جواب میں ایسے کون سے اقدامات اٹھا سکتی ہے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

آخر میں آپ کو اس بات سے آگاہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے کہ سفیر ڈین سمتھ ‘فارن سروس انسٹیٹیوٹ’ کے نئے ڈائریکٹر ہوں گے۔ یہ ایسا ادارہ ہے جسے میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے نمایاں وقت اور توجہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ ہمارے خارجہ ملازمت کے افسروں کے لیے نہایت اہم ادارہ ہے۔ ڈین ہماری ٹیم کی ابتدائی تربیت اور ان کی پیشہ وارانہ ترقی کے ذمہ دار اس ادارے کی قیادت کریں گے۔ ڈین اور میری سوچ ایک جیسی ہے۔ میں انہیں اس دور سے جانتا ہوں جب وہ آئی این آر کے سربراہ تھے اور میں اپنی گزشتہ ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔ ڈین دنیا میں بہترین تربیت یافتہ اور انتہائی پیشہ ور سفارتی عملے کے حوالے سے مجھ جیسی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے پوری طرح موزوں ہیں اور میں ان کی جانب سے ‘ایف ایس آئی’ کی قیادت سنبھالنے کا منتظر ہوں۔ اب میں آپ سے چند سوالات لینا چاہوں گا۔

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے۔ آج ہمارے پاس سوالات کے لیے چند ہی منٹ باقی ہیں۔ ہمیں ایک اور اجلاس میں جانا ہے جس کے لیے معذرت چاہتے ہیں۔ میٹ، ہم آپ کے سوال سے آغاز کریں گے۔

سوال: شکریہ ہیدا، شکریہ جناب وزیر۔

وزیر پومپئو: ہیلو جناب۔

سوال: صدر، جیسا کہ ۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ آیا آپ صدر کی بات کی وضاحت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی کارروائی حقائق پر پردہ ڈالنے کا بدترین واقعہ ہے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟ دوسری بات یہ کہ آیا آپ ہمیں ویزوں کی منسوخی کے حوالے سے کچھ مزید تفصیل سے بتا سکتے ہیں؟ یہاں اندازاً کتنے لوگوں کی بات ہو رہی ہے؟ اور پھر تارکین وطن کے معاملے پر آپ ایسے لوگوں سے کیا کہیں گے جو پناہ کے لیے درخواست دینے کے حوالے سے آپ کی حالیہ بات کو نامخلص قرار دیں گے کیونکہ موجودہ امریکی انتظامیہ پناہ گزینوں کی تعداد پہلے ہی کم کر چکی ہے۔

وزیر پومپئو: میں نے کہا تھا کہ مجھے چند سوالات لینا ہیں، آپ نے تین باتیں پوچھ لیں۔ میرا اندازہ ہے کہ اگر آپ تمام سوالات کر لیں گے تو یہاں موجود ہر ایک کو مایوسی ہو گی۔

سوال: مجھے امید ہے ایسا نہیں ہو گا۔

وزیر پومپئو: میں آپ کے آخری سوال کا جواب پہلے دینا چاہوں گا۔ یہ ملک پناہ گزینوں اور دنیا بھر سے لوگوں کو قبول کرنے کے اعتبار سے تاریخی طور پر فیاضانہ کردار کا حامل رہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔ لہٰذا جو لوگ قانونی طور سے یہاں آنا چاہتے ہیں ان کے لیے ہر ذریعہ دستیاب ہے۔ لوگ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کی بنیاد قوانین پر ہے۔ ہماری ایک ذمہ داری ہے۔ امریکی خودمختاری کا تحفظ اور ملکی سرحدوں کی حفاظت صدر کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں آنے جانے والوں کی بابت آگاہی یقینی بنانے کے لیے ایسا کرنا امریکی حکومت کے لیے مناسب اقدام ہی نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ ہم یہ امر یقینی بناتے رہیں گے کہ اس سلسلے میں پوری طاقت اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کیا جائے۔

دوسری بات یہ کہ میں آپ کو اعدادوشمار پیش کروں گا۔ یہ ہمارے پاس موجود ہیں مگر میں یہ بات یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ یہ آپ تک پہنچیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سبھی کو ان کا جائزہ لینے کا موقع ملے۔ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ یہ اس معاملے میں ہمارا واحد اقدام نہیں ہو گا بلکہ ہم اپنی کوششیں، حقائق تک رسائی کی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ امریکی فیصلوں کی بنیاد حقیقی باتوں اور حقیقی معلومات پر ہو جن کی ہم خود تصدیق کر سکتے ہوں۔ یقیناً ہم ترک انٹیلی جنس اور سعودی ذرائع سے معلومات بھی لیں گے۔ ہم ان معلومات کا تجزیہ کریں گے، ان کی تصدیق کی جائے گی اور پھر ہم حقائق کے حوالے سے اپنی رائے قائم کر کے اس کی بنیاد پر ذمہ داروں کا تعین کریں گے۔

ہم کانگریس کے ساتھ کام کریں گے۔ میں نے دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں سے بات کی ہے۔ ہم یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سبھی یہ بات سمجھ لیں کہ امریکہ جمال خشوگی کے قتل کو ایک ہولناک اقدام سمجھتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اس واقعے کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کے لیے کانگریس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چل سکتے ہیں۔

مس نوئرٹ: اب افغانستان سے نذیرہ سوال کریں گی۔

سوال: ہیدا آپ کا بے حد شکریہ۔ جناب وزیر، افغانستان کے انتخابات پر بات کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ یہ واقعی منفرد بات ہے۔ شکریہ۔ ہم اس پر بے حد خوش ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان اب بھی کچھ غلط کر رہا ہے۔ جیسا کہ آپ جنرل رازق کی ہلاکت سے آگاہ ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا۔ اگر پاکستان اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا تو امریکہ افغانستان کے حوالے سے اس کی پالیسی تبدیل کرانے کے لیے آئندہ کیا اقدام کرے گا؟

وزیر پومپئو: مجھے چند ہفتے قبل ہی پاکستان جانے اور وہاں نئے رہنما سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہم نے ان پر یہ واضح کیا تھا کہ جنوبی وسطی ایشیا کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں کرے گا۔ ہم اس سے زیادہ واضح انداز میں یہ پیغام نہیں دے سکتے اور اگر پاکستان نے ایسا نہ کیا اور اس سلسلے میں مخلصانہ کوشش نہ کی تو اس کا احتساب ہو گا۔

سبھی افغانستان میں مفاہمت چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے طالبان، حقانی اور دیگر ایسے گروہوں کے پاس پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہونی چاہئیں۔ پاکستانی حکومت جانتی ہے کہ ہم اس بارے میں کیا سوچتے ہیں اور موجودہ انتظامیہ ان کے احتساب کے حوالے سے پہلے ہی نمایاں کوششیں کر چکی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم نے انہیں جو ہدف دیا ہے اسے وہ حاصل کر لیں گے۔

ہیدا نوئرٹ: رائٹرز۔

سوال: شکریہ جناب وزیر، آپ کا بے حد شکریہ۔ حقائق پر بدترین انداز میں پردہ ڈالنے کے حوالے سے صدر کی بات کو دیکھتے ہوئے کیا امریکہ انتظامیہ اب بھی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سلامتی کے حوالے سے امریکہ کا قابل اعتبار شراکت دار سمجھتی ہے، یا اس ضمن میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ حقائق چھپانے میں ان کا کردار بھی ہو سکتا ہے اور جب تک خشوگی کی ہلاکت میں ان کے کسی کردار کی بابت کچھ واضح طور پر سامنے نہیں آ جاتا اس وقت تک انہیں عارضی طور پر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

وزیر پومپئو: جوں جوں حقائق سامنے آ رہے ہیں ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کون سے لوگ اس کے ذمہ دار تھے جنہوں نے ناصرف یہ عمل انجام دیا بلکہ یہ ان کی نگرانی  میں ہوا اور کون کون سے لوگ اس میں شامل تھے۔ دنیا کو علم ہونا چاہیے کہ جب حقائق ہمارے سامنے ہوں گے تو ہم ان افراد کا احتساب کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ حقائق سامنے آ جائیں گے۔ گزشتہ چند روز میں ہمیں بہت کچھ علم ہوا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ 48 سے 72 گھنٹے میں ہمیں مزید معلومات حاصل ہوں گی اور اس دوران بہت کچھ سامنے آ جائے گا۔

مس نوئرٹ: آخری سوال، اینڈریا۔

سوال: جناب وزیر ۔۔۔

وزیر پومپئو: جی محترمہ۔

سوال: شکریہ۔ صدر اردوگان نے آج کہا ہے کہ یہ وحشیانہ اور منصوبہ بند قتل تھا۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ حقائق سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ صدر کہتے ہیں کہ یہ حقائق چھپانے کا بدترین واقعہ ہے۔ سعودی اب ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ یہ خشوگی کو ترکی میں پوچھ گچھ کے لیے دو دن تک ایک جگہ رکھنے کی کوشش تھی۔ کیا یہ وضاحت آپ کے لیے قابل قبول ہے؟ آپ کو ذاتی طو ر پر ایک کہانی سنائی گئی اور وقت کے ساتھ یہ آگے بڑھتی گئی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سعودی اب بھی اس پر پردہ ڈال رہے ہیں اور انہوں نے آپ کو دھوکہ دیا؟ آپ نے کہا ہے کہ آپ اور صدر اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔ کیا آپ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ ولی عہد نے آپ کو گمراہ کیا اور کیا آپ آج صدر اردوگان کی کہی باتوں کو قبول کریں گے؟

وزیر پومپئو: میں نہیں سمجھتا کہ میں نے یہ بتایا ہو کہ ولی عہد نے مجھے کیا کہا تھا۔ میں نے اس گفت و شنید کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور اب بھی ۔۔۔۔

سوال: میرا سوال صرف یہ ہے کہ انہوں نے آپ سے جو کچھ کہا کیا آپ نے اسے قبول کیا؟

وزیر پومپئو: ۔۔۔۔ میرا اس پر کوئی بات کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہمیں وہی بات قبول ہو گی جو امریکہ کے نزدیک درست ہو گی۔ ہمیں اپنے طور پر جو معلومات حاصل ہوں گی وہی ہمارے لیے قابل قبول ہوں گی۔ ہم دنیا بھر سے معلومات جمع کر رہے ہیں تاکہ حقائق کی بنیاد پر اس بابت کوئی رائے قائم کی جا سکے۔ میں نے بتایا ہے کہ ہم نے ‘عالمگیر میگنٹسکی’ کے حوالے سے دفتر خارجہ کی معاونت کے لیے محکمہ خزانہ سے بات کی ہے۔ ہم نے قابل اعتبار شہادتوں کی بنا پر اپنی معلومات جمع کرنا ہیں تاکہ دیکھا جائے کہ آیا کسی نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی یا نہیں۔

لہٰذا ہم کچھ ایسا ہی کریں گے۔ جیسا کہ میں اپنی گزشتہ ذمہ داری میں کیا کرتا تھا، ہم ہر طرح کی معلومات جمع کریں گے اور ان کی تصدیق کی جائے گی، ہم اپنے لیے حقائق سے آگاہی حاصل کریں گے اور پھر ہم ۔۔۔۔

سوال: کیا ترکی نے تعاون کیا؟ کیا وہ آپ کو ایسی معلومات دے رہے ہیں جو آپ کو درکار ہیں؟

وزیر پومپئو: جی ترک ہم سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ سعودیوں نے بھی ان سے تعاون کیا ہے ۔

سوال: کیا کسی امریکی عہدیدار نے اس واقعے کے حوالے سے آڈیو ٹیپ سنی یا کوئی شہادت دیکھی ہے؟

وزیر پومپئو: میں اس حوالے سے کسی مخصوص معلومات کی بابت آپ کو مزید کچھ نہیں بتا سکتا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جونہی ہمیں معلومات حاصل ہوں گی ہم انہیں آپ تک پہنچائیں گے۔ ہمیں جن حقائق سے آگاہی ملے گے انہیں آپ کے علم میں لائیں گے۔ مزید اہم بات یہ کہ آپ دیکھیں گے امریکہ ان لوگوں کا احتساب کرے گا جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ آپ یقین رکھیے کہ صدر اس بابت پرعزم ہیں۔ ہیدا میں مزید ایک سوال لوں گا۔

سوال: (مائیک کے بغیر)

وزیر پومپئو: مزید ایک۔ آپ نے کیا سنا؟

سوال: سینیٹ اور ہاؤس نے ‘ایچ آئی ایف پی اے’ نامی نئے بل پر بھی دستخط کیے ہیں۔

وزیر پومپئو: ہونہہ۔

سوال: اب یہ صدر کی میز پر موجود ہے۔ کیا انتظامیہ کو جلد اس پر دستخط کی امید ہے یا وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایسا ہو گا؟

وزیر پومپئو: میں نہیں جانتا کہ صدر کب اس پر دستخط کرنا چاہیں گے۔

سوال: (مائیک کے بغیر)

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے۔ آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔ وزیر کو اب جانا ہے، انہیں ایک اجلاس سے دیر ہو رہی ہے۔

وزیر پومپئو: آپ سبھی کا شکریہ۔ سہ پہر بخیر۔

سوال: شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں