rss

ایران کے خلاف جوہری پروگرام سے متعلق پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر صدر کا بیان

العربية العربية, English English, Русский Русский, Español Español, Português Português, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
2 نومبر 2018

 

میں نے مئی میں اعلان کیا تھاکہ امریکہ خوفناک یکطرفہ ایرانی جوہرے معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔

یہ معاہدہ اپنے بنیادی مقصد کے حصول میں ناکام رہا جو کہ ایران کے جوہری بم بنانے کے تمام راستے مستقل طور سے مسدود کرنا تھا اور اس معاہدے نے مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں ایرانی حکومت کے ضررساں اقدامات سے نمٹنے میں کوئی مدد نہیں دی ۔

جب سے یہ تباہ کن جوہری معاہدہ طے پایا، ایران کے عسکری بجٹ میں قریباً 40 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی حکومت نے علاقائی جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے، میزائلوں کی تیاری اور پھیلاؤ کی رفتار تیز کی اور اپنے جوہری عزائم کی بابت تواتر سے جھوٹ بولا۔

سوموار 5 نومبر کو ایرانی جوہری معاہدے میں امریکی شرکت کا خاتمہ مکمل ہو جائے گا۔ خوفناک جوہری معاہدے کے تحت اٹھائی گئی پابندیوں کا آخری مجموعی دوبارہ نافذ ہو جائے گا جن میں ایران کے توانائی، جہازرانی اور جہازسازی کے شعبہ جات پر طاقتور پابندیاں بھی شامل ہیں جبکہ ایران کے مرکزی بینک اور پابندیوں کا شکار ایرانی بینکوں کے ساتھ لین دین کی ممانعت بھی اس کا حصہ ہے۔

ہمارا مقصد ایرانی حکومت کو ایک واضح انتخاب پر مجبور کرنا ہے کہ یا تو وہ اپنے تباہ کن طرزعمل کو ترک کر دے یا معاشی تباہی کی راہ پر چلتی رہے۔

یہ پابندیاں اس آمدنی کو ہدف بنائیں گی  جسے ایرانی حکومت  اپنے جوہری پروگرام کی مالی معاونت اور بلسٹک میزائلوں کی ترقی اور پھیلاؤ نیز علاقائی جنگوں کو ہوا دینے، دہشت گردی کی معاونت اور اپنے رہنماؤں کی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

یہ اقدامات اور جنوری 2017 سے پابندیوں کے لیے نامزدگیوں کے 19 ادوار ایران کے خلاف اب تک کی کڑی ترین امریکی پابندیاں ہیں اور ان کی بدولت پہلے ہی ایرانی معیشت پر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے۔

گزشتہ برس ایرانی ریال کی قدر میں قریباً 70 فیصد کمی رونما ہوئی اور ایرانی معیشت میں گراوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اس سال مئی سے ایران میں افراط زر کی شرح قریباً چار گنا بڑھ کر اکتوبر میں قریباً 37 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ 100 سے زیادہ کمپنیوں نے  ایران کے ساتھ کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہمیں اس تعداد میں اضافے کی توقع ہے۔ حکومتوں اور کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ خود سے پوچھیں کہ آیا ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کا خطرہ مول لیا جانا چاہیے۔

میں آخر میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی اقدامات ایرانی حکومت اور اس کے خطرناک طرزعمل کے خلاف  ہیں۔ یہ اقدامات طویل عرصہ سے مصائب جھیلتے ایرانی عوام کے خلاف نہیں ہیں۔ اسی لیے آج ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایران کو خوراک، ادویات، طبی آلات اور زرعی اشیا کی فروخت  پابندیوں سے مستثنیٰ رہی ہے اور بدستور رہے گی۔

ہم ایرانی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے جوہری عزائم ترک کر دے، اپنے تباہ کن طرزعمل میں تبدیلی لائے، اپنے عوام کے حقوق کا احترام کرے اور نیک نیتی سے مذاکراتی میز پر آ جائے۔ ہم اس کوشش میں اپنے تمام اتحادیوں اور شراکت داروں سے تعاون کے طلب گار ہیں۔

امریکہ ایران کے ساتھ ایک ایسے نئے اور جامع تر معاہدے کے لیے تیار ہے جس میں اس کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی راہ ہمیشہ کے لیے مسدود ہوتی ہو، اس کے تمام ضرررساں اقدامات سے نمٹنا ممکن ہو اور جس سے ایرانی عوام کو فائدہ ہو۔

اس وقت تک ہماری تاریخی پابندیاں پوری طرح لاگو رہیں گی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں