rss

ایران کے خلاف پابندیوں پر وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور وزیر خزانہ سٹیون ٹی منوچن کی پریس بریفنگ

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
2 نومبر 2018
بذریعہ ٹیلی کانفرنس

 

مس نوئرٹ: شکریہ جناب۔ سبھی کو صبح بخیر اور ایران کے خلاف پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے متعلق آج کی آن ریکارڈ بریفنگ کال میں خوش آمدید۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج وزیر خارجہ مائیکل پومپئو اور وزیر خزانہ سٹیون منوچن ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ یہ دونوں حضرات ابتدا میں مختصر گفتگو کے بعد آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔ ہم وزیر پومپئو سے آغاز کریں گے۔ جناب وزیر بات کیجیے۔

وزیر پومپئو: شکریہ ہیدا۔ سبھی کو صبح بخیر اور کال میں شمولیت پر شکریہ۔ اس سال کے شروع میں صدر ٹرمپ نے تباہ کن طور پر کمزور جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ایک نئی مہم پر عملدرآمد کیا جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے طرزعمل کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا تھا۔ مہم کا یہ حصہ سادہ سا ہے جس کے بارے میں آج ہم بات کر رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد ایرانی حکومت کو ان مالی وسائل سے محروم کرنا ہے جنہیں یہ دنیا بھر میں موت اور تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ہمارا حتمی مقصد ایران کو اپنی جانی مانی لاقانونی سرگرمیاں مستقل طور سے ترک کرنے اور نارمل ملک کا سا طرزعمل اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

آج وزیر منوچن اور میں صدر کی ہدایت کے مطابق ایرانی حکومت کے طرزعمل میں یہ بنیادی تبدیلیاں ممکن بنانے کے لیے بہت سے خطوط پر ہونے والی کوششوں میں سے ایک پر بات کریں گے۔ یہ معاشی پابندیاں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں تاہم یہ آیت اللہ خامنائی، قاسم سلیمانی اور ایرانی حکومت کے طرزعمل میں تبدیلی لانے کے لیے امریکی حکومت کی مجموعی کوششوں کا محض ایک حصہ ہیں۔

5 نومبر کو امریکہ ایران کے توانائی، جہاز سازی، جہازرانی اور بینکاری کے شعبہ جات پر وہ پابندیاں دوبارہ نافذ کر دے گا جو جوہری معاہدے کے تحت اٹھا لی گئی تھیں۔ ایرانی معیشت  کے بنیادی حصے ان پابندیوں کا نشانہ ہیں۔ ہم ایرانی حکومت سے جن تبدیلیوں کی توقع رکھتے ہیں انہیں ممکن بنانے کے لیے یہ پابندیاں ضروری ہیں۔

صدر کی ایران پر دباؤ ڈالنے کی مہم کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لیے ہم نے ہرممکن حد تک ایرانی تیل کی برآمدات ختم کرنے کے لیے دیگر ممالک کے قریبی تعاون سے کام کیا ہے۔

توقع ہے کہ ہم آٹھ ممالک کو ان پابندیوں کے حوالے سے عارضی چھوٹ دیں گے جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے خام تیل کی درآمد میں نمایاں کمی کی ہے اور متعدد دیگر جگہوں پر تعاون اور خام تیل کی درآمد مکمل طور پر ختم کرنے کی جانب اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں بات چیت تاحال جاری ہے۔ دو ممالک اپنے معاہدوں کے مطابق ایران سے درآمدات مکمل طور پر ختم کر دیں گے۔ دیگر چھ ممالک انتہائی کم درجوں پر درآمد کریں گے۔

میں آپ کے لیے اس کی مزید وضاحت کرتا ہوں۔ اوبامہ انتظامیہ نے 2012 اور 2015 کے درمیانی عرصہ میں متعدد اوقات میں 20 ممالک کے لیے ‘ایس آر ای’ کا اجرا کیا۔ اگر ہماری بات چیت مکمل ہو گئی تو ہماری جانب سے یہ آٹھ ممالک کو جاری کیے گئے ہوں گے اور ہم واضح کر چکے ہیں کہ ان کی نوعیت عارضی ہو گی۔ ہم نے ناصرف نہایت محدود پیمانے پر چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ ہم نے ان ممالک کو ایران سے خام تیل کی درآمد عارضی طور پر جاری رکھنے کی اجازت دینے پر رضامندی سے قبل کہیں زیادہ رعایات طلب کی ہیں۔ ایسی رعایات یہ امر یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں تیزی لائی جائے اور ایرانی تیل کی برآمدات مکمل طور پر ختم کی جائیں۔

ہماری متعین سوچ یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کو اس مقام پر مستحکم رکھا جائے جہاں یہ مئی 2018 میں تھیں جب ہم ‘جے سی پی او اے’ سے دستبردار ہوئے تھے۔ یہ ناصرف امریکی صارفین اور عالمی معیشت کے لیے بہتر ہو گا بلکہ اس سے یہ امر بھی یقینی بنایا جا سکے گا کہ ایران اپنی برآمدات کم ہونے کے بعد تیل سے آمدنی بڑھانے کے قابل نہیں ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ہم ان پابندیوں کے موثر ہونے سے پہلے ہی ایرانی خام تیل کی برآمدات میں ایک ملین بیرل سے زیادہ کمی لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

گزشتہ برس مئی سے بڑے پیمانے پر ہونے والی یہ کمی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے وقت بہت سے تجزیہ کاروں کے اندازے  سے تین تا پانچ گنا زیادہ ہے۔ ہمیں اپنی توقعات سے زیادہ حاصل ہونے کی سادہ سی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کا مطلب زیادہ سے زیادہ دباؤ ہی ہے۔

دفتر خارجہ نے اوبامہ دور کے سقم کو ختم کر دیا ہے جس کے ذریعے ممالک پابندیوں کے باوجود ایران سے منجمد تیل کی درآمد جاری رکھتے تھے۔ اس سقم کے ذریعے ایران کو کروڑوں ڈالر حاصل ہوتے تھے۔ موجودہ انتظامیہ کی منجمد تیل کے حوالے سے پالیسی بھی خام تیل جیسی ہی ہے کہ ایرانی حکومت تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غیرقانونی بلسٹک میزائلوں، دہشت گردی، سائبر حملوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں پر خرچ کرتے وقت ان دونوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھتی ۔ ڈنمارک کی جانب سے گزشتہ ہفتے قتل کا جو منصوبہ منکشف کیا گیا ہے وہ ایسی ہی سرگرمیوں کی مثال ہے۔

آج سے ایران تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ایسی کسی بھی سرگرمی پر خرچ نہیں کر سکے گا۔ میں پھر کہوں گا کہ اب یہ آمدنی صفر ہو جائے گی۔ ایران خام تیل کی برآمد سے جو آمدنی حاصل کرتا ہے وہ سو فیصد غیرملکی اکاؤنٹس میں رکی رہے گی اور ایران اسے صرف انسانی مقاصد یا پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دی گئی اشیا اور خدمات کی تجارت کے لیے ہی استعمال کر سکے گا۔

یہ نئی پابندیاں ہماری پابندیوں کے انتہائی کامیاب اثرات کو مزید تیز کر دیں گی جو پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ ہم نے ایران پر جو زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا ہے اس کے نتیجے میں ریال کی قدر میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے، روحانی کی کابینہ ابتری کا شکار ہے اور ایرانی عوام مزید زوروشور سے بدعنوان اور منافق حکومت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ہمارے یہ اقدامات ایرانی حکومت کے خلاف ہیں۔ یہ کارروائی ایرانی عوام کے خلاف نہیں جنہوں نے اس حکومت کے تحت کڑے مصائب جھیلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی پابندیوں میں خوراک، زرعی اشیا، ادویات اور طبی آلات سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی اشیا کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔

اب میں وزیر منوچن کو گفتگو کی دعوت دوں گا۔

وزیر منوچن: آپ کا بے حد شکریہ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے آغاز سے ہی محکمہ خزانہ دنیا بھر میں ایران کی تخریبی سرگرمیاں روکنے کے لیے پرعزم رہا ہے۔ ہم نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ ڈالنے کی بہت بڑی مہم شروع کر رکھی ہے جو دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون ہے۔ اب تک ہم نے ایران پر پابندیوں کے 19 ادوار جاری کیے ہیں جن میں 168 اہداف کو نامزد کیا گیا ہے جو کہ ہماری زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہے۔ ہم نے ایسے نیٹ ورکس کا پیچھا کیا ہے جنہیں ایرانی حکومت اپنے دہشت گرد آلہ کاروں، حزب اللہ اور حماس کی معاونت، یمن میں حوثیوں کی مالی مدد اور شام میں اسد کی ظالم حکومت کی معاونت کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ایران کے ساتھ لین دین ختم کرنے کے لیے دی گئی 180 دن کی مہلت اتوار 4 نومبر کو 11 بج کر 59 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ سوموار 5 نومبر کو ایران کے توانائی، جہاز رانی، جہاز سازی اور مالیاتی شعبہ جات پر حتمی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔ اس سلسلے میں سوموار کو محکمہ خزانہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں کی فہرست میں 700 سے زیادہ  نام شامل کرے گا۔ ان میں سینکڑوں ایسے اہداف شامل ہیں جنہیں قبل ازیں ‘جے سی پی او اے’ کے تحت پابندیوں سے چھوٹ دی گئی تھی اور 300 سے زیادہ نئی نامزدگیاں بھی اس کا حصہ ہیں۔ یہ ہمارے ماضی کے ایسے ہر اقدام سے کہیں زیادہ ہے۔ ایرانی جوہری معاہدے کے تحت افراد، اداروں، بحری جہازوں اور طیاروں پر اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جن کا ایرانی معیشت کے بہت سے حصوں سے تعلق ہے۔ اس میں ایران کے توانائی اور مالیاتی شعبہ جات بھی شامل ہیں۔ ہم زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کے ذریعے ایک نہایت واضح پیغام دے رہے ہیں کہ امریکہ اپنی پابندیوں کا جارحانہ طور سے نفاذ چاہتا ہے۔ کوئی بھی مالیاتی ادارہ، کمپنی یا فرد جو ہماری پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا اسے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی اور امریکہ یا امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کی اہلیت سے محرومی کا خدشہ رہے گا۔ ہم یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی وسائل ایرانی حکومت کے خزانوں میں جانے نہ پائیں۔

میں پیغام رسانی کے ‘سوئفٹ’ نظام کی بابت چند باتیں کرنا چاہوں گا کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں میں مجھ سے اس بارے میں بہت سے سوالات کیے گئے ہیں۔ چنانچہ میں اس حوالے سے چار نکات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا یہ کہ ‘سوئفٹ’ کا معاملہ کسی دوسرے نظام سے مختلف نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہم نے ‘سوئفٹ’ سے کہا ہے کہ محکمہ خزانہ ایرانی حکومت پر شدید معاشی دباؤ جاری رکھنے کے لیے جارحانہ طور سے اپنے اختیارات استعمال کرے گا اور اگر ‘سوئفٹ’ نے نامزد شدہ مخصوص ایرانی مالی اداروں کو مالیاتی پیغام رسانی کی سہولت فراہم کی تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم نے ‘سوئفٹ’ سے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے  جس قدر جلد ممکن ہو اسے ایسے ایرانی مالیاتی اداروں سے ناطہ توڑ لینا چاہیے جو امریکی پابندیوں کی زد میں آتے ہوں۔ چوتھی بات یہ کہ حسب سابق غیرنامزد اداروں کو انسانی مقاصد کے لیے لین دین کی غرض سے ‘سوئفٹ’ کا پیغام رسانی نظام استعمال کرنے کی اجازت ہو گی مگر بینکوں کو اس ضمن میں خاص احتیاط کرنی چاہیے کہ کوئی خفیہ لین دین عمل میں نہ آئے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

مس نوئرٹ: شکریہ حضرات۔ کیوں نہ ہم آگے بڑھیں اور اپنا پہلا سوال لیں۔ ہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے میٹ لی سے رجوع کریں گے۔ جی میٹ سوال کیجیے۔

سوال: شکریہ ہیدا، مجھے آپ دونوں یا کسی ایک سے ‘سوئفٹ’ کے بارے میں جاننا ہے۔ کانگریس میں صدر کے اتحادیوں میں بہت سی شکایات پائی جاتی ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے اور ‘سوئفٹ’ کا معاملہ حل کیے بغیر پیغام رسانی پر مبنی اس مالیاتی لین دین سے نمٹنا مشکل ہو گا کہ یہ سنگین نوعیت کا سقم ہے۔ میں اس معاملے پر وزیر منوچن کے بیان کردہ چاروں نکات کو سمجھتا ہوں مگر آپ اس تنقید سے کیسے نمٹیں گے؟ وجہ یہ ہے کہ یہ تنقید آج اس اعلان سے پہلے ہی جاری ہے۔

وزیر منوچن: ٹھیک ہے، میں اس پر کچھ کہنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ میرے خیال میں سوئفٹ اور اس کی بابت ہمارے اقدامات کے حوالے سے بہت سی غلط باتوں کو ہوا دی گئی ہے۔ اسی لیے میں یہ معاملہ بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی اطلاعات زیرگردش تھیں کہ ‘سوئفٹ’ پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔ ایسا نہیں ہے، سوئفٹ پر بھی پابندیاں عائد ہوں گی۔ دوسری بات یہ کہ جیسا میں نے کہا ۔۔۔ اس پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ معذرت چاہتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ ہم چاہتے ہیں پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی وہ پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں سے تعلق توڑ لیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلط اطلاعات پائی جاتی ہیں کہ پہلے انہوں نے ہر ادارے سے تعلق توڑ لیا تھا۔ پہلے بھی انہیں انسانی مقاصد کے لیے مخصوص اداروں سے لین دین کی اجازت تھی جو ہم نے بھی اپنی پابندیوں میں دے رکھی ہے۔ یہ انسانی مقاصد کے لیے استثنیات ہیں مگر میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو بالاحتیاط جائزہ لینا ہو گا کہ آیا واقعی یہ لین دین انسانی مقاصد کے لیے ہو رہا ہے یا نہیں۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ اس سے غلط فہمی دور ہو گئی ہو گی۔

مس نوئرٹ: اگلا سوال بلومبرگ سے نک ویڈہیمز کریں گے۔

سوال: میں تیل سے متعلق پابندیوں پر سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا ان میں ضروری انسانی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی چیزیں بھی شامل ہیں یا گزشتہ برس کی طرح صارفین کی اشیا جیسے لین دین پر بھی چھوٹ دی جائے گی یا ایران کو حاصل ہونے والی آمدنی خرچ کرنے کی اجازت ہو گی؟ دوسری بات یہ کہ اگر آپ آٹھ ممالک کو چھوٹ دے رہے ہیں اور دو ممالک پہلے ہی تیل کی درآمدات صفر پر لے آئے ہیں تو پھر ان دونوں ملکوں کو چھوٹ دینے کا کیا مطلب سمجھا جائے؟ شکریہ۔

وزیر پومپئو: نک میں مائیک پومپئو ہوں۔ جہاں تک آپ کی پہلی بات کا تعلق ہے تو آپ سوموار کو اس بارے میں تفصیلات دیکھ لیں گے۔ ان میں ایسی اشیا بھی شامل ہوں گی جو ضروری انسانی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوتیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ وہ ہیں جو آپ پہلے ہی صدر کی ہدایات پر دی گئی چھوٹ میں دیکھ چکے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ان میں بعض کو درآمدات صفر پر لانے میں چند ماہ لگیں گے۔ اسی لیے یہ 5 نومبر تک اس ہدف تک نہیں پہنچیں گی۔ اس چھوٹ کا مقصد یہی ہے کہ انہیں لین دین ختم کرنے کے لیے کچھ زیادہ وقت دیا جائے۔ کچھ ہفتے۔

مس نوئرٹ: معاف کیجیے؟

وزیر پومپئو: لین دین ختم کرنے کے لیے دیے گئے ہفتے۔

مس نوئرٹ: اگلا سوال ویکلی سٹینڈرڈ کے مائیک وارن کریں گے۔

سوال: شکریہ حضرات۔ میں ‘سوئفٹ’ کے حوالے سے میٹ کے سوال کو آگے بڑھانا چاہوں گا۔ وزیر منوچن آپ نے کہا کہ ایران میں مخصوص مالیاتی ادارے ‘سوئفٹ’ سے تعلق میں نہیں رہیں گے۔ کیا آپ وضاحت کریں گے کہ ان میں کون سے مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ غالباً یہ محکمہ خزانہ کی جانب سے بتائے گئے ادارے ہوں گے جن میں ایران کا مرکزی بینک اور سیکشن 104 (سی) (2) وغیرہ وغیرہ میں بیان کردہ ادارے شامل ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکی حکومت کس طرح یقین سے کہہ سکتی ہے کہ ‘سوئفٹ’ کے پاس ایسے لین دین کی نگرانی کی اہلیت موجود ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسا بہت سا لین دین ہوتا ہے۔ امریکی حکومت کیسے یقین سے کہہ سکتی ہے کہ یہ وہ لین دین نہیں ہے جس ایرانی حکومت کے برے کاموں کو فائدہ پہنچتا ہے جنہیں روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

وزیر منوچن: میں پہلے مسئلے پر بات کرنا چاہوں گا جو کہ بینکوں کی فہرست سے متعلق ہے ۔ یہ فہرستیں گزشتہ دور کی نسبت طویل ہوں گی اور ہر ہفتے کے اختتام پر جاری کی جائیں گی۔ جہاں تک اس کا لین دین کی نگرانی سے تعلق ہے تو میں ایک بار پھر کہوں گا کہ مالیاتی ادارے ایسے ہر لین دین کے ذمہ دار ہیں جو ‘سوئفٹ’ یا کسی دوسرے طریقہ کار کے ذریعے انجام پائے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ فہرست سوموار کو جاری ہو گی۔ ہمیں توقع ہے کہ جونہی قابل عمل ٹیکنالوجی دستیاب ہوئی تو اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے، شکریہ۔ اگلا سوال سی این این سے ایلیس لیبٹ کریں گی۔

سوال: شکریہ۔ یہ سوال دونوں وزرا سے ہے مگر شاید ہر ایک کے لیے مختلف زاویے سے ہو۔ یورپ والے اس معاملے میں امریکی بینکوں سے بچنے کے لیے جو کچھ کر رہے ہیں کیا آپ اس بابت کچھ کہیں گے؟ شاید وہ اس مقصد کے لیے اپنے مرکزی بینکوں یا برقی لین دین سے کام لے رہے ہیں۔ مجھے وزیر منوچن سے پوچھنا ہے کہ آپ کے خیال میں اس سے ایرانیوں کو کتنی آمدنی ہو گی اور ایک مالیاتی جزو کی طور پر دیکھا جائے تو آپ اسے کس قدر سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟

وزیر پومپئو سے میرا سوال یہ ہے کہ آیا آپ بتا سکتے ہیں کہ جب یہ پابندیاں موثر ہو گئیں اور اگر یورپ والوں نے اس کام کو شروع کرنے کی کوشش کی تو یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کون سی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی؟ شکریہ۔

وزیر منوچن: میں خاص مقاصد کے لیے ترتیب دیے گئے طریق کار پر بات کروں گا۔ مجھے ایسی کوئی توقع نہیں ہے کہ کوئی ایسا لین دین بھی ہو گا جس کے لیے خاص طور پر کوئی طریقہ کار ترتیب دینا پڑے۔ تاہم جب ایسے طریق کار کے بارے میں تفصیلات سامنے آئیں گی اور کوئی ایسا لین دین ہوا جس کا مقصد ہماری پابندیوں سے بچنا ہو تو ہم جارحانہ طور سے جوابی اقدام کریں گے۔

وزیر پومپئو: میں اس سوال کے دوسرے حصے کا جواب دینا چاہوں گا۔ ہم ان مسائل پر یورپ والوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہماری پابندیاں حیران کن طور سے موثر ثابت ہوں گی اور کھل کر بات کی جائے تو میں پہلے ہی یہ ثابت کر سکتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے کہا آج ایرانی معیشت کو اس کے اثرات محسوس ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہو گئی ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا اور ایران کو علم تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔ لہٰذا امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر طرح کے یورپی ادارے پہلے ہی ایران کے ساتھ کام بند کر چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے بعض جگہوں پر ایسا نہ ہو مگر بڑے پیمانے پر یورپی کاروبار ایران سے منہ موڑ چکے ہیں۔

لہٰذا یورپی یونین جو کچھ بھی سوچتی ہو جن لوگوں کو مالیاتی اور کاروباری حوالے سے خدشات ہیں وہ پہلے ہی ان پابندیوں کی تاثیر کے حوالے سے اپنا فیصلہ لے چکے ہیں جو آنے والے ہفتوں میں دوبارہ نافذ ہو رہی ہیں۔

مس نوئرٹ: اگلا سوال این پی آر کی مشیل کیلیمن کریں گی۔

سوال: شکریہ۔ مجھے جلدی سے یہ پوچھنا ہے کہ وہ کون سے آٹھ ممالک ہیں جنہیں یہ چھوٹ مل رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ میں وزیر پومپئو سے پوچھنا چاہوں گی کہ آپ نے اس ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ایران میں جمہوریت کی بحالی چاہتا ہے۔ کیا یہ بھی اس مہم کا ایک مقصد ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ یہ کیسے یقینی بنائیں گے کہ ان پابندیوں سے اوسط درجے کے ایرانیوں کو نقصان نہیں ہو گا جو اس بدعنوان حکومت میں مصائب جھیل رہے ہیں جیسا کہ آپ نے ابھی تذکرہ کیا ہے۔

وزیر پومپئو: جی، سوال کے لیے شکریہ۔ صدر کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ہم ایرانی قیادت کے طرزعمل میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ میں نے ان 12 باتوں کا تذکرہ کیا تھا جو ہم نے ان سے کہی ہیں۔ یہ صرف وہی مقصد نہیں ہے جس کے بارے میں آج ہم بات کر رہے ہیں اور براہ مہربانی یہ مت بھولیں کہ ہم پابندیوں کے مجموعے کی بات کر رہے ہیں جو سوموار سے دوبارہ نافذ ہو رہی ہیں۔ ایرانی طرزعمل میں تبدیلی کے لیے امریکی انتظامیہ کی کوششیں بے حد وسیع اور مضبوط ہیں اور اس ضمن میں کئی خطوط پر کوششیں ہو رہی ہیں۔ آج ہم نے ان کوششوں کے اس پہلو پر توجہ مرکوز کی ہے کیونکہ یہ 5 نومبر کے حوالے سے خاص اہمیت کی حامل ہیں۔

جمہوریت کی بحالی کے حوالے سے میری بات ان باتوں سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے جو ہم پہلے کر چکے  ہیں۔ ہم اس موقع کے لیے ایرانی عوام پر بھروسہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایرانی عوام کے پاس اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا موقع ہو۔ یہ ایسی حکومت ہو جو اپنے ملک سے دولت لے کر اسے دنیا بھر میں ضرررساں سرگرمی پر خرچ نہ کرے۔ میرا مطلب ہے کہ یہ حکومت جو آج یورپ میں قاتلانہ مہم چلا رہی ہے، اس نے ناصرف ان ممالک میں ایرانی شہریوں کو قتل کیا ہے بلکہ ان یورپی ممالک کے شہریوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یہی وہ طرزہائے عمل ہیں جن میں تبدیلی لانے کے لیے ہم کوشاں ہیں اور ہماری ہر کوشش کا مقصد ایرانی عوام کو ایسی حکومت بنانے کا موقع دینا ہے جسے وہ ناصرف چاہتے ہوں بلکہ یہ ان کا حق بھی ہو۔

مس نوئرٹ: اگلا سوال۔ واشنگٹن پوسٹ سے جوش روگن

سوال: وقت دینے کا بے حد شکریہ۔ مجھے آپ سے ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کی بابت پوچھنا ہے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے کہ آپ نے ایسی غیرملکی کمپنیوں پر ثانوی پابندیوں میں چھوٹ دی ہے جو اس ادارے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ان میں بیشتر روسی اور چینی کمپنیاں ہیں جو آراک اور فورڈو کی تنصیبات پر کام کر رہی ہیں۔ آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور کیا آپ آراک اور فورڈو کو کام کی اجازت دیں گے۔ مزید یہ کہ آیا مستقبل میں اس پالیسی میں تبدیلی کا بھی کوئی منصوبہ ہے؟ شکریہ۔

وزیر پومپئو: سوال کے لیے شکریہ۔ ہم آراک اور فورڈو میں جوہری ہتھیار اور جوہری اسلحے کا نظام تیار کرنے کے کے کام کی اجازت نہیں دے رہے۔ ہم سوموار کو اس بابت مکمل وضاحت جاری کریں گے کہ ہم ان تنصیبات کو ایسے کاموں سے روکنے کے لیے کیا کریں گے جن سے دنیا اسلحے کے پھیلاؤ کی صورت میں خطرات کا شکار ہو۔ ہم اس بارے میں آپ کو تمام تر تفصیل مہیا کریں گے۔ اس سوال کا جواب طویل اور پیچید ہو گا مگر ہمیں سوموار کی صبح اسے آپ فراہم کر کے خوشی ہو گی۔

مس نوئرٹ: اب آخری سوال، رائٹرز کے ارشاد سوال کریں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: مجھے دو باتیں پوچھنا ہیں۔ ایک یہ کہ کون سے مالیاتی اداروں کو دوبارہ پابندیوں کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے جن کا نام سوموار کو ‘ایس ڈی این’ کی فہرست میں ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ قبل ازیں یہ تعداد 30 سے کچھ زیادہ تھی۔ آپ نے کہا کہ اس میں مزید نام شامل ہوں گے۔ یہ تعداد کتنی ہو گی؟

دوسری بات یہ کہ آپ نے بتایا ہے کہ آٹھ ممالک کو استثنیٰ ملے گا۔ کیا یورپی یونین بھی ان میں شامل ہے کہ اس طرح بہت سے ممالک پر مشتمل ایک بڑے گروہ کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کی تعداد 28 ہے۔

وزیر پومپئو: سٹیون، کیا آپ پہلے بات کرنا چاہیں گے؟

وزیر منوچن: میں اس سوال کے پہلے حصے کا جواب دوں گا۔ بینکوں کی فہرست سوموار کو سامنے آئے گی۔ یہ پہلے کی نسبت بڑی ہو گی اور ہم مستقبل میں مزید بینک اس میں شامل کر سکتے ہیں۔ حقیقی فہرست سوموار کو جاری ہو گی اور ہم اس میں مزید بینکوں کی شمولیت کے لیے صورتحال کا بغور جائزہ لیں گے۔

وزیرخارجہ پومپئو: آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ ہم آٹھ ممالک کی فہرست سوموار کو جاری کریں گے۔ ‘ایس آر ای’ لینے والوں میں یورپی یونین شامل نہیں ہو گی۔

مس نوئرٹ: آخری سوال واشنگٹن پوسٹ کی کیرول موریلو کریں گی۔

سوال: بریفنگ کا شکریہ۔ ماضی میں ایرانیوں نے پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے تیل کو غیرملکی تیل کے ساتھ شامل کر لیا تھا اور اب پہلے سے کچھ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ اپنے ٹینکروں سے شناختی علامات ہٹا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان پابندیوں سے بچنے کے لیے ان کی کوششوں کی نشاندہی کے لیے آپ خاص طور پر کیا کر رہے ہیں۔

وزیر پومپئو: سوال کے لیے شکریہ۔ یاد رہے کہ ایرانی ان پابندیوں کو دھوکہ دینے کے لیے ہر اقدام کریں گے۔ یہ میرے لیے حیران کن بات نہیں ہے۔ وہ بحری جہازوں کے رخ موڑیں گے، وہ ایسے تیسرے فریق ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے جو امریکہ سے تعامل نہیں کرتے تاکہ انشورنس کا طریق کار مہیا کیا جا سکے۔ ان پابندیوں سے بچنے کے لیے ایرانی کوششوں کی فہرست طویل ہے۔ آپ سبھی کو اس کی وجہ کا علم ہونا چاہیے۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران پر قبل ازیں عائد ہونے والی تمام پابندیوں میں سب سے کڑی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان سے بچنے کے طریقے ڈھونڈنے کے لیے ہر حربہ آزما رہے ہیں۔

میں پابندیوں سے بچنے کی ان کوششوں سے نمٹنے کے لیے اپنی مساعی  پر بات نہیں کروں گا۔ ہم بہت سے اقدامات کر رہے ہیں اور یاد رہے کہ امریکہ ایران کو ناصرف خام تیل اور مالیاتی پابندیوں سے بچنے سے روکنے کے لیے ہر قدم اٹھانے کو تیار ہے بلکہ ہر طرح کی نامزدگیوں اور دیگر تمام پابندیوں کے لیے بھی تیار ہے جو آنے والے سوموار کو دوبارہ نافذ ہو رہی ہیں اور جو پہلے سے ہی عائد ہیں۔

وزیر منوچن: میں اس میں صرف یہی اضافہ کروں گا کہ ایران کے ساتھ لین دین میں سہولت دینے والے ہر فرد کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا نام اس فہرست میں ڈالا جائے گا۔

مس نوئرٹ: وزیر پومپئو، وزیر منوچن، ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ کا بے حد شکریہ۔ کال میں شمولیت پر سبھی کا شکریہ۔ امید ہے آپ کا دن اچھا گزرے گا۔ ہم کچھ ہی دیر میں اس بارے ایک مسودہ جاری کریں گے۔

وزیر پومپئو: آپ سب کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں