rss

ایران کے لیے خصوصی نمائندے برائن ہک کی میڈیا بریفنگ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
2 نومبر 2018

 
 

ایران کے لیے خصوصی نمائندے برائن ہک کی میڈیا بریفنگ
واشنگٹن ڈی سی

برائن ہک: مجھے آپ کے سوالات لے کر خوشی ہو گی۔ آپ وزیر کی گفتگو سن چکے ہیں۔ میں صرف (ناقابل سماعت)

سوال: آٹھ ممالک کون سے ہیں؟

برائن ہک: ہونہہ؟

سوال: آٹھ ممالک کون سے ہیں؟

سوال: آٹھ ممالک کون سے ہیں؟

برائن ہک: سوموار، سوموار۔

سوال: کیا آپ کم از کم یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ دو ممالک کون سے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد مکمل طور پر ختم کر دیں گے کیونکہ یوں لگتا ہے جیسے ان کے ساتھ بات چیت اب مکمل ہو چکی ہے۔

برائن ہک: یہ سب کچھ سوموار کو بتایا جائے گا۔

سوال: اگر آج اس قدر معمولی تفصیل دی جا رہی ہے تو پھر یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

برائن ہک: آج بہت سی تفصیل بیان کی گئی۔ دونوں وزرا نے مکمل بریفنگ دی۔ اس لیے ۔۔۔

سوال: اس میں زیادہ تفصیل نہیں تھی۔

برائن ہک: پابندیوں کا اطلاق سوموار سے ہو رہا ہے۔ آج اس کا جائزہ پیش کیا گیا۔

سوال: کیا میں ارشاد سے ملتا جلتا سوال پوچھ سکتا ہوں کہ بریفنگ میں ملک کے بجائے دائرہ اختیار کا لفظ استعمال کیا گیا، کیا ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ ایک خاص جزیرے کے سبب آپ ملک کے بجائے دائرہ اختیار کا لفظ استعمال کر رہے ہیں جس کا آغاز ‘ٹی’ سے ہوتا ہے؟ یا یہ کہ ۔۔۔

برائن ہک: میرا خیال ہے کہ ۔۔۔

سوال: تائیوان، میں ۔۔۔

سوال: کیا دائرہ اختیار ایک سے زیادہ حکومتوں کے لیے استعمال ہوا ہے یا اس کا مطلب ایک حکومت ہے؟

برائن ہک: کیا وزیر منوچن نے یہی کہا تھا؟

سوال: انہوں نے کہا ۔۔۔ نہیں پومپئو۔

سوال: دونوں، دونوں۔ پومپئو ۔۔۔ دونوں نے کہا ۔۔۔

سوال: انہوں نے دائرہ اختیار کا لفظ استعمال کیا۔

سوال: ۔۔۔۔ ملک کے بجائے دائرہ اختیار، یہ اس لیے ہے ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے یہ ایک تکنیکی نکتہ ہے، مگر میں صرف ۔۔۔ اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ نام نہیں دینا چاہتے۔

برائن ہک: مجھے اس کا علم نہیں، میں نہیں جانتا۔

سوال: مگر کیا تمام آٹھ ممالک؟

سوال: واحد حکومتیں؟

سوال: ممالک؟

برائن ہک: جی ہاں۔

سوال: جی ہاں ممالک یا حکومتیں؟

برائن ہک: وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔

سوال: اگر تائیوان بھی ان میں شامل ہے تو یہ ایک وجہ ہو گی کہ ۔۔۔

برائن ہک: میں سمجھ گیا۔ وہ ممالک ہیں۔ وہ ممالک ہیں۔

سوال: ٹھیک ہے، تو پھر تائیوان ان میں شامل نہیں۔

برائن ہک: میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کون شامل نہیں ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ آٹھ ممالک۔

سوال: کیا مجھے ‘ایس آر ای’ کے معاملے پر ایک وضاحت مل سکتی ہے؟

برائن ہک: جی ہاں۔

سوال: گزشتہ روز آپ نے کہا کہ چھ ماہ کے لیے چھوٹ دی گئی ہے اور پھر نیا جائزہ لیا جائے گا۔

برائن ہک: یہ قانون کے مطابق ہے۔

سوال: ٹھیک ہے۔ پھر وزیر نے کہا کہ ان ممالک کو ایران سے لین دین ختم کرنے میں مزید کئی ہفتے لگیں گے۔ کیا یہ بات چھوٹ حاصل کرنے والے آٹھ ممالک کے لیے ہے یا صرف ۔۔۔۔

برائن ہک: نہیں، وہ ۔۔۔ وہ ایس آر ای حاصل کرنے والے ان دو ممالک کے بارے میں بات کر رہے تھے جنہیں ایران سے تیل کی درآمد مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے قدرے زیادہ وقت دیا جا رہا ہے۔

سوال: مگر وہ ۔۔۔ اگر وہ اب بھی ۔۔۔ کیا چھ ماہ کی چھوٹ قانون کے مطابق ہے؟

برائن ہک: مگر عملی طور پر یہ پہلے دو ہفتوں کے لیے ہی مناسب ہے، مگر قانون کے تحت جب ہم کسی کو ‘ایس آر ای’ دیتے ہیں تو یہ 180 دن کے لیے ہوتا ہے۔

سوال: درست۔

برائن ہک: اور یہ قومی دفاع کے اختیار سے متعلق 2012 کے قانون ‘این ڈی اے اے’ کے تحت ہے۔ اسی لیے یہ 180 روز کا ‘ایس آر ای’ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیا وہ جاتے ہیں ۔۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔۔ ہر ملک کا معاملہ مختلف ہے۔ دو ممالک میں وہ ایس آر ای کے اختتام سے قبل ہی درآمدات صفر پر لے آئیں گے۔

سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایران کو نارمل حکومت کا سا طرزعمل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کون سی وسیع تر کوششیں ہو رہی ہیں؟ میرا مطلب ہے کہ آیا اس میں ٹویٹر پر پیغامات یا سماجی میڈیا پر پیغام رسانی شامل ہے یا یہ اس سے کچھ بڑھ کر حزب اختلاف کے گروہوں یا مظاہرین کی مدد جیسی کوئی مزید ٹھوس چیز بھی ہے؟

سوال: کیا محض ٹویٹر پر پیغامات سے بڑھ کر بھی کچھ ہو رہا ہے؟ کیا امریکہ مظاہرین کی مدد کے لیے کچھ کر رہا ہے؟

برائن ہک: تاریخی طور پر ایرانی حکومت نمایاں معاشی و سفارتی پابندیوں کی عدم موجودگی میں مذاکرات کی میز پر نہیں آئی۔ ہماری پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کے دو مقاصد ہیں، ایک یہ کہ ایرانی حکومت کو بیرون ملک پُرتشدد جنگوں کی مدد کے لیے درکار وسائل سے محروم کیا جائے اور قیمت و فوائد سے متعلق تجزیے کو اپنے حق میں تبدیل کیا جائے تاکہ ایران مذاکراتی میز پر آنے کے لیے کوئی فیصلہ کرے۔

آیت اللہ خامنائی نے امریکہ کے ساتھ دشمنی کی بات کی ہے اور آپ ایک انقلابی حکومت سے ایسی ہی بات کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم بالکل واضح ہیں۔ وزیر پومپئواس بارے میں بالکل واضح ہی ہیں کہ ہمیں اس بات پر دھیان رکھنا ہے کہ کیا کچھ ممکن ہے۔ ہم مئی میں صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ ترک کیے گئے ناکافی جوہری معاہدے کی جگہ ایک نئے اور بہتر معاہدے پر کام شروع کرنے کے بے حد خواہاں ہیں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ہماری مہم اس مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم تدبیر ہے۔

سوال: مگر وہ جمہوریت کی بحالی کی بات بھی کر رہے ہیں۔

برائن ہک: صدر، وزیر خارجہ اور نائب صدر سمیت انتظامیہ کی ہر سطح پر ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور بہتر زندگی کے لیے ان کی خواہشات میں شریک ہیں۔ ایرانی عوام مزید نمائندہ حکومت کے خواہاں ہیں، ایسی حکومت جو انہیں دھوکہ دہی سے نہ لوٹے، جو ان کے انسانی حقوق، ان کے معاشی حقوق، ان کی آزادی اظہار اور آزادی اجتماع کا احترام کرے۔ یہ وہ تمام حقوق ہیں جو امریکہ ایرانی عوام کے لیے چاہتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ کہیں بہتر طرز زندگی کے حقدار ہیں اور وزیر پومپئو نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اس حکومت سے ان کے اصلاحاتی مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سوال: کیسے ۔۔۔ مجھے وہی سوال پوچھنا ہے جو گزشتہ روز گارڈنر نے خشوگی کے قتل اور یمن جنگ کی بابت پوچھا تھا۔ میرا مطلب ہے کہ آپ ایک جانب تو ایران کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ پر اتنی توجہ دے رہے ہیں اور دوسری جانب بعض بنیادی امور پر سعودیوں پر خاطر خواہ دباؤ ڈالنے سے گریزاں ہیں؟

برائن ہک: ایرانی حکومت اور ہمارے مفادات یکساں نہیں ہیں۔ ہم نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ اب جبکہ ہم ایرانی تیل کو منڈی سے نکال رہے ہیں تو وہ اپنے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے اور سعودی عرب نے اس عرصے میں تیل کی خاطرخواہ مقدار منڈی میں پہنچانے کے لیے نہایت مددگار طرزعمل اختیار کیا جب ایران پر ہماری زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں ایرانی خام تیل کی درآمدات میں کمی ہو جائے گی۔ سعودی حکومت نے سیاسی امور سے تیل کو کامیابی سے الگ کر دیا ہے اور یہ ہماری جانب سے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے وسیع تناظر میں مددگار ثابت ہو گا۔

سوال: مجھے ایران کے خلاف آپ کے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ مفادات کا اندازہ ہے۔ مگر امریکہ اور سعودی عرب میں کون سے مفادات اور اقدار مشترک ہیں؟

برائن ہک: میں صرف اس پر بات کر سکتا ہوں کہ کیسے سعودیوں نے ایران کے حوالے سے ہماری حکمت عملی میں مدد دی۔ صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیرملکی دورے کے موقع پر ریاض میں ایک تقریر کی جہاں انہوں نے ہمارے سنی عرب شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایرانی بالادستی ختم کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں تاکہ ہمارے عرب شراکت دار مشرق وسطیٰ کا مزید بوجھ اٹھا سکیں۔ چنانچہ ہمیں ایران کو تنہا کرنے اور ہر ممکن حد تک اس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے خلیجی ممالک اور دیگر کی جانب سے بے حد تعاون ملا تاکہ ایران کے پاس مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے رقم نہ ہو۔

سوال: انہوں نے جس مشروط اکاؤنٹ کی بات کی وہ کیسے کام کرے گا اور آپ یہ امر کیسے یقینی بنائیں گے کہ ایرانیوں کی بنیادی ضروریات جیسے ادویات اور خوراک کی تکمیل ہوتی رہے؟

برائن ہک: ایرانی تیل کی درآمد پر مجبور ممالک کے لیے کھولے جا رہے ان اکاؤنٹس سے ایران کو نقد رقم نہیں ملے گی اور اسے تیل کی فروخت سے بھی کوئی آمدنی نہیں ہو گی۔ جب بھی ایران تیل فروخت کرے گا تو اس سے حاصل ہونے والی تیل درآمد کرنے والے ملک میں کھولے گئے ایسے مخصوص اکاؤنٹ میں چلی جائے گی اور ایران کو اسی سے خریداری کرنا ہو گی۔ ہم ان ممالک کی سختی سے حوصلہ افزائی کریں گی کہ وہ یقینی بنائیں کہ ایران اس رقم کو انسانی مقاصد اور ایرانی عوام کے فائدے کے لیے خرچ کرے۔ ایرانی عوام طویل عرصہ سے حکومت کے مظالم سہہ رہے ہیں۔ یہ حکومت امدادی تنظیموں کے نام پر جعلی کمپنیاں بناتی ہے تاکہ خوراک، ادویات اور طبی آلات پر خرچ ہونے والی رقم کا رخ دوسری جانب موڑا جا سکے اور پھر یہ رقم حکومتی خزانے بھرنے اور بیرون ملک انقلابی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

سوال: کیا آپ چین جیسے ممالک پر بھی بھروسہ کر رہے ہیں کہ وہ ان اشیا کے لیے رقم استعمال نہ کریں ؟

برائن ہک: امریکہ ان اکاؤنٹس کا بغور جائزہ لیتا رہے گا۔ گزشتہ امریکی حکومتوں سے برعکس ہم یہ امر یقینی بنائیں گے کہ یہ رقم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال نہ ہو اور ان اکاؤنٹس سے سرمایہ باہر نہ جائے۔ ہم ایرانی عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے انسانی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ضروری اشیا کی خریدوفروخت کے لیے ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اپنی پابندیوں میں ہم نے خوراک، ادویات اور طبی آلات کی فروخت پر واضح چھوٹ دے رکھی ہے۔

سوال: ایرانی عوام کے لیے امریکی مدد کو دیکھا جائے تو سفری پابندی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

برائن ہک: چونکہ ایرانی حکومت دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی معاون ہے اس لیے ہم نے محدود ویزا پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ایرانی حکومت کی دہشت گردی ہی اس پالیسی کا محرک ہے۔ اس کے پیچھے یہ خواہش ہرگز نہیں ہے کہ عام ایرانی عوام کو امریکی سفر سے محروم کیا جائے۔ ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ۔۔۔۔

سوال: مگر ایسا ہی ہوتا ہے۔

برائن ہک: مگر یہ ایرانی حکومت کا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت دہشت گردی کی مالی معاونت بند کر دے اور اپنی معیشت ہمارے معائنے کے لیے کھول دے تو اس سے ایرانی عوام کو امریکی ویزے کی فراہم کے سلسلے میں کہیں بہتر ماحول تخلیق پائے گا۔

سوال: آپ نے جن ممالک کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں تیل کی درآمد جاری رکھنے کی ضرورت ہے، تو کیا آپ انہیں بار بار یہ چھوٹ دیتے رہیں گے؟ کیا آپ کوئی حد بھی مقرر کریں گے کہ کسی کو دی گئی چھوٹ میں کتنی مرتبہ توسیع ہو سکتی ہے؟

برائن ہک: دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمدات صفر پر لانا بدستور ہمارا مقصد ہے۔ ہمارے اندازوں کے مطابق 2019 میں تیل کی رسد طلب سے کہیں بڑھ جائے گی اور اس طرح ہمارے پاس بقیہ ممالک کو جتنا جلد ممکن ہو ایرانی تیل کی درآمد ختم کرنے پر تیار کرنے کے لیے بہتر ماحول میسر آئے گا۔

سوال: اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ چھوٹ کی زیادہ سے زیادہ حد متعین نہیں کر رہے۔ اس موقع پر کتنی مرتبہ اس چھوٹ کی تجدید ہو گی؟

برائن ہک: ہم 180 دن کے عرصہ کے اختتام پر اضافی ‘ایس آر ای’ دینے کا نہیں سوچ رہے۔ ہم تیل کی قیمت بڑھائے بغیر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم آگے بڑھانے کے حوالے سے بے حد احتیاط کر رہے ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ آئندہ برس تیل کی ترسیل بہت بہتر ہو جائے گی اور اس سے ہمیں ایرانی تیل کی برآمدات صفر تک لانے میں مدد ملے گی۔

سوال: ‘سوئفٹ’ کتنے ایرانی بینکوں سے ناطہ توڑے گا؟ میرا مطلب ہے انتظامیہ اس حوالے سے کہہ رہی ہے کہ ایسے بینکوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہو گی مگر کیا آپ اس بابت کوئی مخصوص تعداد بتا سکتے ہیں؟

برائن ہک: اس کا اعلان وزیر منوچن سوموار کو کریں گے۔

سوال: اگرچہ انہوں نے اس موضوع پر بات کی ہے مگر ان کی بات نہایت نپی تلی تھی۔ انہوں نے ‘مخصوص نامزد ایرانی مالیاتی اداروں’ کا تذکرہ کیا۔ اس سے تمام ادارے مراد نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان تمام بینکوں کو دوبارہ پابندیوں کے لیے نامزد نہیں کیا جائے گا جنہیں قبل ازیں نامزد کیا گیا تھا اور دوسرا امکان یہ ہے کہ بعض بینکوں کو نامزد کیا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے ‘مخصوص نامزد کردہ’ کا لفظ استعمال کیا ہے۔

برائن ہک: میں ‘مخصوص’ کے مفہوم کی بابت کچھ نہیں کہوں گا اور مجھے بس یہی کہنا ہے کہ وہ سوموار کو تمام بینکوں کے نام کا اعلان کر دیں گے۔

سوال: جہاں تک میری معلومات ہیں 20 ممالک ایرانی تیل کا 80 فیصد درآمد کرتے ہیں۔ کیا پابندیوں میں چھوٹ پانے والے وہ آٹھ ممالک یا ان میں سے کوئی ان 20 ممالک میں شامل ہے؟

برائن ہک: ایسے ممالک کی مقابلتاً چھوٹی سی تعداد ہے جو ایرانی خام تک کی بڑی مقدار درآمد کرتے ہیں۔

سوال: کیا ان میں سے کسی کو چھوٹ مل رہی ہے؟

برائن ہک: میں سوموار کو وزیر خزانہ کے اعلان سے پہلے اس بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا۔

سوال: کیا آپ غیرامریکی سول جوہری تعاون سے متعلق ردعمل پر کچھ وضاحت دے سکتے ہیں؟ کیا اس حوالے سے چھوٹ دی جائے گی ۔۔۔

برائن ہک: وزیر نے آج صبح اس پر بات کی ہے اور اس کا اعلان سوموار کو ہو گا۔

سوال: جہاں تک بنیادی انسانی ضروریات کے لین دین کا معاملہ ہے تو یورپ والوں نے گزشتہ ہفتوں میں اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اگرچہ انسانی ضروریات کی اشیا اور خدمات پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں مگر مالیاتی طریق کار خاطرخواہ حد تک محفوظ نہیں ہیں اور آپ کو وضاحت کرنی چاہیے کہ ایسے کون سے طریقے ہیں جن کے ذریعے ممالک اور ادارے ایسا لین دین کر سکتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے آج جو کچھ کہا اس سے یہ وضاحت ہو جاتی ہے اور کیا ایران کے ساتھ انسانی ضروریات کی اشیا بارے لین دین محفوظ ہے؟

برائن ہک: ایرانی حکومت ہمیشہ جعلی کمپنیاں بناتی چلی آئی ہے جن کا مقصد انسانی ضروریات کی اشیا کی تقسیم کا رخ موڑنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں مالیاتی ادارے ایران کی جانب سے انسانی ضروریات کی اشیا کی فروخت پر بینکوں کو دھوکہ دینے کی تاریخ سے آگاہ ہیں۔ اب یہ ایران پر ہے کہ وہ اپنی تاریک معیشت کو سامنے لائے تاکہ دنیا بھر کے بینکوں کو مزید اعتماد ہو کہ جب وہ بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق لین دین کریں گے تو یہ چیزیں ایرانی عوام تک بھی پہنچیں گی۔

امریکہ انسانی امداد دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہم نے جو بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان میں خوراک، ادویات اور طبی آلات کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس طرح ہم نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ اب ایرانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک کھلے اور شفاف مالیاتی نظام کے ذریعے یہ لین دین کر کے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔

سوال: یوں لگتا ہے کہ ادویہ اور طبی سازوسامان کی تجارت کے لیے بہت زیادہ محفوظ راستے نہیں ہیں۔

برائن ہک: ایرانی حکومت نے انسانی ضروریات کی اشیا اور خدمات میں سہولت دینا بہت مشکل بنا دیا ہے۔

سوال: یورپی ممالک کہتے ہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر کوئی انسانی ضروریات کی اشیا ایران کو فروخت کرے گا تو وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آ جائے گا، لہٰذا وہ ایران کے بجائے آپ سے یہ بات کر رہے ہیں۔

برائن ہک: دوبارہ کہیے۔

سوال: یورپی ممالک کہتے ہیں کہ کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے ایران کو ایسی اشیا فروخت کیں تو ان پر امریکی پابندیاں لگ جائیں گی۔ اسی لیے وہ آپ سے کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے محفوظ راستے کون سے ہیں؟

برائن ہک: محفوظ راستے تلاش کرنا امریکہ کا کام نہیں ہے۔ یہ ایرانی حکومت کا کام ہے کہ وہ ایسا مالیاتی نظام تخلیق کرے جو انسانی ضروریات کی بنیادی اشیا اور خدمات کی فراہمی کے لیے بینکاری کے عالمگیر معیارات سے مطابقت رکھتا ہو۔

سوال: ٹھیک ہے، مگر میرے خیال میں نکتہ یہ ہے کہ وہ کسی طرح کی یقین دہانی چاہتے ہیں ۔۔۔

سوال: ‘او ایف اے سی’ سے رہنمائی۔

سوال: رہنمائی۔

برائن ہک: ‘او ایف اے سی’ نے کئی سال تک نہایت واضح رہنمائی فراہم کی ہے ۔۔۔

سوال: یہ وہ بات نہیں جو یورپی ممالک کہتے ہیں۔

برائن ہک: ہم نے ایران کے لیے بنیادی انسانی ضروریات کی اشیا فروخت کرنے کی اجازت دے کر اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ یہ ہمارا کردار ہے۔ ایران کا کردار یہ ہے کہ وہ یہ لین دین ممکن بنائے۔ مالیاتی اداروں کو ایرانی بینکاری نظام پر اعتماد نہیں ہے۔ انہیں عموماً ایسے لین دین کے لیے ایرانی بینکوں پر اعتماد نہیں ہوتا۔ یہ ایران کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: مگر بینکوں اور کمپنیوں کو اس لیے ایرانی بینکوں پر اعتماد نہیں ہے کہ ان پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔

برائن ہک: یہ بات درست نہیں ہے۔

سوال: یورپی ممالک یہی بات کہہ رہے ہیں۔ میں محض ۔۔۔

برائن ہک: میں آپ کو جواب دے رہا ہوں۔

سوال: ہم فہرست کی توقع کر رہے تھے۔ (قہقہہ)

برائن ہک: مگر انہوں نے آپ کو بتایا کہ اس کا اعلان سوموار کو ہوگا۔

سوال: ایسا کیوں ۔۔۔ اور جب آپ سوموار کی بات کرتے ہیں تو کیا یہ سوموار کی صبح ٹھیک 12 بج کر ایک منٹ پر نہیں ہو گا؟ یا میرا مطلب ہے ۔۔۔۔

برائن ہک: نہیں۔ وزیر اس کا اعلان سوموار کو کریں گے اور پھر یہ وفاقی رجسٹر میں شائع ہو گا۔

سوال: ٹھیک ہے، مگر وہ اس کا اعلان کریں گے، مجھے بس ذاتی نوعیت کی منصوبہ بندی کے لیے اس بارے آگاہی درکار ہے۔

نگران: صبح قریباً 8:30 بجے۔

سوال: سوموار کی صبح 8:30 بجے اور اس سے پہلے نہیں۔ لہٰذا دوسرے الفاظ میں ۔۔۔ یہ سوموار کی صبح 12 بج کر ایک منٹ پر موثر ہوں گی۔۔۔

برائن ہک: جی ہاں۔

سوال: ۔۔۔ مگر کیا 12 بج کر ایک منٹ پر محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر کچھ موجود ہو گا؟ میرا مطلب ہے کہ میں صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ۔۔۔

برائن ہک: میں اس بارے میں نہیں جانتا۔ جہاں تک ہمارا کردار ہے تو ‘ایس آر ای’ اور دیگر تمام باتوں کا اعلان سوموار کو ہو گا۔ محکمہ خزانہ کا انداز مختلف بھی ہو سکتا ہے کہ 12 بج کر ایک منٹ پر انہیں کہاں ۔۔۔۔

سوال: تو اس کا مطلب یہ ہو اکہ آپ لوگ 12 بج کر ایک منٹ پر یہ نہیں بتا رہے کہ وہ آٹھ ممالک کون سے ہیں۔

برائن ہک: نہیں، نہیں، نہیں۔

سوال: مگر غالباً یہ آٹھ ممالک آگاہ ہیں کہ ۔۔۔ انہیں بتا دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔ کیونکہ اب یہ اچانک سامنے آ رہے ہیں جن میں ترک، اطالوی، جنوبی کوریائی، انڈین اور دیگر شامل ہیں۔

برائن ہک: میرا خیال ہے کہ آپ نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دے دیا ہے۔

سوال: میں بس یہ یقین دہانی چاہتا ہوں کہ کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔

برائن ہک: اوہ، ہم اس کا اعلان سوموار کو کریں گے۔

سوال: کیا ان ممالک پر بھی پابندیاں عائد ہوں گی جنہیں سوموار کو چھوٹ نہیں ملے گی؟

برائن ہک: ہمیں توقع ہے ۔۔۔ ہم پہلے ہی اپنی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے متعلق دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر پیشگی تعاون دیکھ چکے ہیں کیونکہ کاروباری ادارے درست طور سے اشیا و خدمات کو ایرانی منڈی میں فروخت کرنے کے بجائے امریکہ کو بیچ رہے ہیں۔

سوال: مگر میرا مطلب ہے کہ پابندیوں میں چھوٹ سے محروم رہنے والے بڑے ممالک ان پابندیوں کی زد میں نہیں آئیں گے؟ کیا آپ سوموار کو پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں؟

برائن ہک: ہمیں توقع ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ان پابندیوں پر عمل کریں گے کیونکہ یہ ان کے مفاد میں ہے اور اس سے امن و سلامتی کو لاحق ایک نمایاں اور وسیع ہوتے خطرے کی روک تھام کی صورت میں ہماری قومی سلامتی کے وسیع مقاصد کا حصول ممکن ہوتا ہے۔

ٹھیک ہے۔

سوال: شکریہ

برائن ہک: ٹھیک ہے، آپ کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں