rss

امریکی حکومت کا بے مثل معاشی دباؤ کی مہم کے سلسلے میں ایرانی حکومت کے خلاف پابندیوں کا مکمل ازسرنو نفاذ

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, العربية العربية, Español Español, Português Português, Русский Русский

امریکی محکمہ خزانہ
دفتر برائے عوامی امور

 

آج ایرانی حکومت کو ہدف بنانے کے لیے ایک دن میں پہلی سب سے بڑی کارروائی کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ میں غیرملکی اثاثہ جات پر کنٹرول کے دفتر (او ایف اے سی) نے 700 سے زیادہ افراد، اداروں، طیاروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ کارروائی جوہری معاملے سے متعلق بقیہ امریکی پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کا اہم جزو ہے جو مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) کے نتیجے میں اٹھا لی گئی تھیں یا ان میں چھوٹ دی گئی تھی۔ ‘او ایف اے سی’ کی یہ کارروائی ایرانی حکومت کی وسیع پیمانے پر اپنی نقصان دہ سرگرمیوں کو مالی وسائل مہیا کرنے کی اہلیت کے خاتمے کی غرض سے عمل میں لائی گئی ہے اور یہ ایرانی حکومت پر بے مثل مالیاتی دباؤ ڈالتی ہے تاکہ وہ ایک جامع معاہدے کے لیے مذاکرات کرے جو اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مستقل طور پر روکے گا اور اس کی جانب سے بلسٹک میزائلوں کی تیاری نیز  ایران کی وسیع تر ضرررساں سرگرمیوں کا خاتمہ کرے گا۔ اس کارروائی کے بعد موجودہ انتظامیہ کے تحت دو سال سے بھی کم عرصہ  میں پابندیوں کا شکار ہونے والے ایران سے متعلقہ اہداف کی تعداد 900 سے بڑھ گئی ہے جو کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کا اب تک سب سے بڑا درجہ ہے۔

وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے کہا ہے کہ ”محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران پر ڈالے جانے والے بے مثل مالیاتی دباؤ سے ایرانی حکومت پر واضح ہونا جانا چاہیے کہ اگر اس نے اپنے تخریبی طرزعمل کو بنیادی طور سے تبدیل نہ کیا تو اسے بڑھتی ہوئی معاشی تنہائی اور اقتصادی جمود کا سامنا ہو گا۔ اگر ایرانی رہنما پابندیوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو انہیں دہشت گردی کی معاونت بند کرنا ہو گی، بلسٹک میزائلوں کا پھیلاؤ روکنا ہو گا، علاقے میں تباہ کن سرگرمیوں کا خاتمہ اور اپنے جوہری عزائم کو فوری ترک کرنا ہو گا” ان کا کہنا تھا کہ ”امریکہ کی جانب سے ڈالے جانے والے زیادہ سے زیادہ دباؤ میں اب سے مزید اضافہ ہی ہو گا۔ ہم یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایرانی حکومت اپنے نقد وسائل بدعنوان سرمایہ کاریوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکے”

آج کی کارروائی میں 50 ایرانی بینکوں اور ان کے بیرون ملک و مقامی اداروں کی پابندیوں کے لیے نامزدگی، 400 سے زیادہ اہداف کی نشاندہی بشمول ایرانی جہاز رانی اور توانائی کے شعبوں میں 200 سے زیادہ افراد اور جہازوں نیز ایک ایرانی فضائی کمپنی اور اس کے 65 سے زیادہ جہازوں کی نشاندہی شامل ہے۔ علاوہ ازیں خصوصی طور پر نامزد کردہ 250 ایرانی شہریوں اور روکے جانے والے افراد (”ایس ڈی این فہرست”) نیز ان سے متعلقہ ایسی جائیداد بھی اس میں شامل ہے جو آج تک انتظامی حکم (ای او) 13599 (”ای او 13599 فہرست) کے تحت روکے جانے والے افراد کی فہرست میں آتی ہے۔ ‘او ایف اے سی’ نے ‘جے سی پی او اے’ میں امریکی شمولیت کے خاتمے پر انتظامی حکم 13500 کی فہرست ختم کر دی ہے۔

آج پابندیوں کی زد میں آنے والے اہداف کی مکمل فہرست کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

آج تک انتظامی حکم 13599 کی فہرست سے ایس ڈی این کی فہرست (انتظامی حکم 13599 کے تحت آنے والے ایرانی مالیاتی اداروں کے علاوہ) میں جانے والے بیشتر افراد کے ساتھ اہم نوعیت کے لین دین پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ ایسے افراد کو ‘ایس ڈی این’ فہرست کے اندراج میں ”ثانوی پابندیوں کے تحت اضافی پابندیوں کی معلومات” کی ذیل میں شامل کیا جائے گا۔

اس کارروائی میں ایرانی عوام کے بجائے ایرانی حکومت کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ”او ایف اے سی” نے اس ضمن میں انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندیوں سے استثنیات بھی جاری کی ہیں جن کے تحت ایران کو زرعی اشیا، خوراک، ادویات اور طبی آلات فروخت کرنے کی اجازت ہے۔

آج کے اقدام کا عمومی جائزہ

8 مئی 2018 کو صدر نے ‘جے سی پی او اے’ میں امریکی شرکت ختم کی۔ اسی روز صدر نے قومی سلامتی سے متعلق صدارتی یادداشت 11 جاری کی جس میں وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کو ‘جے سی پی او اے’ کے تحت ایران سے اٹھائی گئی یا نرم کردہ تمام پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کے سلسلے میں اقدامات اٹھانے کا حکم جاری کیا گیا۔ اس میں ایسے افراد کی فہرست دوبارہ تیار کرنا بھی شامل تھا جنہیں ‘جے سی پی او اے’ کے بعد امریکی پابندیوں کی فہرستوں سے نکال دیا گیا تھا۔ صدر نے حکم دیا کہ یہ اقدامات جتنا جلد ممکن ہو اٹھائے جائیں اور 8 مئی 2018 کے بعد اس میں کسی صورت 180 یوم سے زیادہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے دی گئی 180 یوم کی مدت کل ختم ہوئی ہے۔ ‘جے سی پی او اے’ کے تحت ایران سے اٹھائی گئی یا نرم کردہ تمام  امریکی پابندیاں دوبار نافذ کر دی گئی ہیں اور یہ پوری طرح موثر ہیں۔ ‘او ایف اے سی’ نے ان پابندیوں کے ازسرنو نفاذ سے متعلق تواتر سے پوچھے جانے والے سوالات یہاں اضافی  طور پر شائع کیے ہیں۔

امریکی پابندیوں کے ازسرنو نفاذ اور ‘جے سی پی او اے’ کے بعد امریکی پابندیوں کی فہرستوں سے خارج کیے جانے والے افراد کی دوبارہ شمولیت کے سلسلے میں سینکڑوں اہداف کی نامزدگی یا نشاندہی عمل میں آئی اور انہیں آج کی ‘ایس ڈی این’ فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ ان میں ‘غدیر انویسٹمنٹ کمپنی’ کی ملکیت یا اس کے زیراہتمام چلائے جانے والے 92 ادارے بھی شامل ہیں جسے قبل ازیں ‘او ایف اے سی’ نے امام خمینی کے حکم (ای آئی کے او) پر عملدرآمد کرنے والی سرمایہ کار کمپنی کے طور پر شناخت کیا تھا۔

علاوہ ازیں پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور ان سے متعلقہ جائیداد جو قبل ازیں انتظامی حکم 13599 کی فہرست میں شامل  تھی اسے ‘ایس ڈی این’ فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13599 کی فہرست کو ختم کر دیا ہے جو 16 جنوری 2016 کو تیار کی گئی تھی۔ اس کا مقصد انتظامی حکم 13599 کے تحت پابندیوں کی زد میں آنے والے شناخت شدہ افراد اور اداروں کا دائمی درجہ ظاہر کرنا تھا جو ‘حکومت ایران’ یا ‘ایرانی مالیاتی اداروں’ کی ذیل میں آتے ہیں۔

مزید براں ‘ایران کے ساتھ لین دین پر پابندیوں کے ضوابط’ (آئی ٹی ایس آر) سے متعلق ترمیم بھی آج سے موثر ہے جو انتظامی حکم 13846 کے مخصوص حصوں کے تحت پابندیوں کے ازسرنو نفاذ اور ‘ایس ڈی این’ نیز ‘انتظامی حکم 13599 کی فہرست’ میں تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہے۔

بینکاری کا شعبہ

ایرانی حکومت کی جانب سے ملکی بینکاری کے شعبے کو تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے خلاف آج ‘او ایف اے سی’ نے ایک دن میں سب سے بڑی کارروائی کی ہے۔ مثال کے طور پر ایرانی حکومت نے اپنے بینکاری شعبے کے ذریعے اربوں ڈالر کے مساوی رقم پاسداران انقلاب-قدس فورس کو منتقل کی۔ اس کارروائی میں خاص طور پر ایسے ایرانی بینکوں کو ہدف بنایا گیا ہے جنہوں نے ایرانی حکومت کی جانب سے عالمگیر دہشت گردی، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کی ڈلیوری نیز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کو معاونت فراہم کی یا وہ ایسے افراد کے زیرانتظام کام کرتے ہیں۔

آج جن بینکوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں بعض پاسداران انقلاب-قدس فورس، وزارت دفاع اور مسلح افواج کے انصرامی شعبے، اسلامی جمہوریہ ایران کے نشری شعبے، شہدا فاؤنڈیشن، ماہان ایئر اور ایران کی نفاذ قانون کی فورسز کو درکار مالیاتی وسائل کے لیے گزرگاہ کا کام دیتے ہیں۔

نائب وزیر خزانہ سیگل مینڈلر نے کہا ہے کہ ”ایرانی عوام کو مالیاتی بدانتظامی اور ریال کی گرتی قدر کا سامنا ہے مگر ایرانی حکومت اپنی اشرافیہ کی جیبیں بھرنے اور جابرانہ ریاستی اداروں کو چلانے کے لے ملک کے بینکاری نظام سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر تخریبی ادارے شام، عراق اور یمن میں لڑنے والے اپنے آلہ کاروں کو مالی وسائل مہیا کرنے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا انہیں داغنے کے ذرائع کی تیاری اور ایرانی شہریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مسلح کرنے کے لیے عالمگیر مالیاتی نظام تک اپنی رسائی  سے فائدہ اٹھاتے ہیں”۔ ان کا کہنا ہے کہ ”اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے اندرون ملک جبر اور بیرون ملک سرگرمیوں میں مالی سہولت دینے والے ایرانی بینکوں کا عالمگیر مالیاتی نظام سے رابطہ ختم کرنا اور ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے مقامی بینکاری نظام کے استحصال کی نوعیت سامنے لانا ہے”

آج ایران سے متعلقہ 70 سے زیادہ مالیاتی ادارے اور ان کے بیرون ملک و مقامی اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد اور شناخت کیا گیا اور ان کی ‘ایس ڈی این’ فہرست میں شمولیت عمل میں آئی۔

انتظامی حکم 13224 کے تحت ‘بینک ملی’ کو پاسداران انقلاب-قدس فورس یا اس کے لیے معاونت یا اسے مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد دینے یا اسے مالیاتی یا دیگر نوعیت کی خدمات مہیا کرنے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا، قبل ازیں اس کی 25 اکتوبر 2007 کو انتظامی حکم 13224 کی مطابقت سے نامزدگی عمل میں آئی تھی۔ 2018 تک اربوں ڈالر کے مساوی رقم کی بینک ملی کے پاسداران انقلاب-قدس فورس کے زیر قبضہ اکاؤنٹس کے ذریعے منتقلی عمل  میں آئی۔ بینک ملی نے پاسداران انقلاب-قدس فورس کو ادائیگیوں کے لیے گزرگاہ کے طور پر کام کیا ہے۔ پاسداران انقلاب-قدس فورس نے بینک ملی کو عراقی شیعہ جنگجو گروہوں میں رقومات کی تقسیم کے لیے استعمال کیا اور بینک ملی کی عراق میں موجودگی اسی منصوبے کا حصہ تھی۔ 2000 کے وسط سے بینک ملی ایرانی فوج سے متعلقہ اداروں کو خدمات مہیا کرتا چلا آیا ہے جن کا ایرانی معیشت  کے تمام پہلوؤں میں دخل مزید بڑھ گیا ہے۔ بینک ملی نے پاسداران انقلاب اور اس سے متعلقہ اداروں کے لیے ایران کے اندر اور باہر رقومات کی منتقلی ممکن بنائی۔ پاسداران انقلاب کو 13 اکتوبر 2017 کو انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ بینک ملی نے ‘ایم او ڈی اے ایف ایل’ کو بھی مالیاتی خدمات مہیا کیں جسے 25 اکتوبر 2007 کو انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ بینک ملی کے ذیلی ادارے آرین بینک کو بینک ملی کی ملکیت ہونے یا اس کی  جانب سے چلائے جانے پر انتظامی حکم 13224 کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

‘او ایف اے سی’ نے آرین بینک کے علاوہ 12 دیگر اداروں کو بھی انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ نامزدگی ان کے بینک ملی کی ملکیت ہونے یا اس کا ذیلی ادارہ ہونے کی بنا پر عمل میں آئی۔ ان میں بینک کارغوشائی، ملی بینک  پی ایل سی، طوسے ملی گروپ انویسٹمنٹ کمپنی، طوسے ملی انویسٹمنٹ کمپنی، نیشنل انڈسٹریز اینڈ مائننگ ڈویلپمنٹ کمپنی، بہشہر انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ، سیمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی، ملی انٹرنیشنل بلڈنگ اینڈ انڈسٹری کمپنی، بی ایم آئی آئی سی انٹرنیشنل جنرل ٹریڈنگ ایل ایل سی، شومال سیمنٹ کمپنی، پرشین گلف سبز کارافرینان اور میر بزنس بینک (ایم بی بینک) شامل ہیں۔

‘فیوچر بینک بی ایس سی’ کے اثاثے اور اثاثوں میں مفادات اس حقیقت کے پیش نظر روکے گئے کہ بینک ملی اور بینک صدرات اس بینک میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ مفادات کے حامل ہیں۔ ان دونوں اداروں کے اثاثوں اور مفادات پر انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ایران کے ‘ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بینک’ (ای ڈی بی آئی) کو ‘ایم بی بینک’ کی معاونت یا اسے مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی سے متعلق مدد دینے یا مالیاتی اور دیگر خدمات یا معاونت مہیا کرنے کی پاداش میں انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ انتظامی حکم 13224 کے تحت تین دیگر اداروں کو ‘ای ڈی بی آئی’ کی ملکیت ہونے، اس کے ذریعے چلائے جانے یا اس کی جانب سے کام کرنے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ای ڈی بی آئی میں ‘ای ڈی بی آئی سٹاک ایکسچینج، ای ڈی بی آئی ایکسچینج بروکریج اور ‘بینکو انٹرنیشنل ڈی ڈیسارولو سی اے’ شامل ہیں۔ مزید برآں ایران اور وینزویلا کے دو قومی بینک کو ‘ای ڈی بی آئی’ کی معاونت یا اسے مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی سے متعلق مدد دینے یا مالیاتی اور دیگر خدمات یا معاونت مہیا کرنے کی پاداش میں انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

‘غوامین بینک’ کو ایرانی ‘ایل ای ایف’ کی مادی معاونت یا اسے مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد دینے نیز اسے یا اس کی معاونت میں اشیا یا خدمات مہیا کرنے پر انتظامی حکم 13553 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ غوامین بینک نے ‘ایل ای ایف’ کے لیے جامع بینکاری خدمات مہیا کیں اور روزمرہ کے مالیاتی لین دین میں سہولت دی۔ ایل ای ایف کو 2011 میں ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں بشمول حراستی مراکز چلانے کی پاداش میں پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ایسے مراکز میں مظاہرین کو طبی نگہداشت جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

‘بینک سپاہ’ کو ‘ایم او ڈی  اے ایف ایل’ کو مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سہولت مہیا کرنے یا ایسی کوشش یا اشیا اور خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ 2017 تک بینک سپاہ نے ‘ایم او ڈی اے ایف ایل’ کے کارندوں کو بیرون ملک ادائیگیوں کے لیے مالیاتی پلیٹ فارم کا کام دیا تھا۔

‘بینک آف انڈسٹری اینڈ مائنز’ (بی آئی ایم) کو ‘بینک سپاہ’ کے لیے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ 2018 تک ‘بی آئی ایم’ نے ‘بینک سپاہ’ کے لیے اکاؤنٹس سے متعلق خدمات فراہم کیں جن میں اس کے لیے ایرانی ریال کا یورو سے تبادلہ بھی شامل تھا۔ بی آئی ایم نے بینک سپاہ کے لیے اربوں ڈالر کے مساوی یورو کی منتقلی میں رابطے کا کردار ادا کیا۔

یوروپیش ایرانیش ہینڈلزبینک (اے جی) (ای آئی ایچ) کو ‘بی آئی ایم’ کی ملکیت یا اس کے زیرانتظام ہونے اور اسے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ 2018 تک ‘ای آئی ایچ’ نے ‘بینک سپاہ’ کے لیے جاری  کھاتوں کی خدمات برقرار رکھی ہوئی تھیں جن میں اربوں ڈالر کے مساوی یورو کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔

‘پوسٹ بینک آف ایران’ کو ‘بینک سپاہ’ کے لیے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ 2018 تک ‘پوسٹ بینک آف ایران’ ‘بینک سپاہ’ کے لیے جاری یورو کھاتوں کے ذریعے یورو کے بدلے ایرانی ریال کے تبادلے میں ملوث تھا۔

‘بینک تجارت’ کو ‘بینک سپاہ’ کے لیے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ 2018 تک ‘بینک تجارت’ نے ‘بینک سپاہ’ کو اہم مالیاتی خدمات فراہم کی تھیں۔ بینک تجارت کو ‘ماہان ایئر’ کے لیے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ یہ پابندیوں کی زد میں آنے والی ایرانی فضائی کمپنی ہے جو پاسداران انقلاب-قدس فورس کو نقل و حمل، مالیاتی وسائل کی منتقلی اور اہلکاروں کی سفری خدمات کے ضمن میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ ماہان ایئر کو انتظامی حکم 13224 کے تحت 12 اکتوبر 2011 کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ بیلارس سے تعلق رکھنے والے ‘ٹریڈ کیپیٹل بینک’ کو ‘بینک تجارت’ کی ملکیت یا اس کے زیرانتظام ہونے کی بنا پر انتظامی حکم 13382 اور 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

‘آیاندے بینک’  کو ‘آئی آر آئی بی’ کی مادی معاونت یا اسے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد دینے یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13846 اور ‘ایرانی خطرے کو محدود کرنے کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ آئی آر آئی بی ایران میں ریاستی میڈیا ادارہ ہے جو تواتر سے جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈہ نشر کرتا ہے جس میں سیاسی قیدیوں کے جبری اعترافات بھی شامل ہوتے ہیں۔ آئی آر آئی بی کو ایرانی عوام کے لیے یا ان کی جانب سے اطلاعات کے آزادانہ بہاؤ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پاداش میں فروری 2013 میں انتظامی حکم 13628 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ آئی آر آئی بی متعدد میڈیا اداروں کو سنسر کرنے اور سیاسی قیدیوں کے جبری اعترافات نشر کرنے کا ذمہ دار ہے۔

ڈے بینک کو ‘شہدا فاؤنڈیشن’ کی ملکیت یا زیرانتظام ہونے اور اسے مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد دینے یا اشیا و خدمات کی فراہمی پر انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ شہدا فاؤنڈیشن بااثر ایرانی ادارہ ہے جو شام، عراق، اردن اور فلسطین میں متعدد دہشت گرد تنظیموں بشمول حزب اللہ، حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد (پی آئی جے) کو مالیاتی معاونت فراہم کرتا ہے۔ جولائی 2007 میں انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والی شہدا فاؤنڈیشن نے لبنان میں شاخیں قائم کر رکھی ہیں جنہیں دہشت گر گروہوں کے رہنما اور ارکان چلاتے ہیں اور ان کا مقصد حزب اللہ اور پی آئی جے کے ہلاک و زخمی ہونے والے ارکان کے اہلخانہ کو خدمات کی فراہمی ہے۔ ڈے بینک ‘شہدا فاؤنڈیشن’ کو اہم  مالی معاونت اور بینکاری خدمات مہیا کرتا ہے۔

مزید براں ‘ڈے بینک’ کی ملکیت یا اس کے زیرانتظام 14 اداروں کو انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ایرانی معیشت کے متعدد شعبہ جات میں وسیع کاروباری سرگرمیوں میں شامل ان 14 ذیلی اداروں میں عطیہ سازاں ڈے، بوعلی انویسٹمنٹ کمپنی، تجارت گوستار فرداد، ڈے ایکسچینج کمپنی، ڈے لیزنگ کمپنی، ڈے بینک بروکریج کمپنی، طوسے دیدار ایرانین ہولڈنگ کمپنی، رویا روزکش انویسٹمنٹ کمپنی، ڈے ای کامرس، طوسے دنیا شہر کوہان کمپنی، دماوند پاور جنریشن کمپنی، امید بونیان ڈے انشورنس سروسز، اومران و مسکان عباد ڈے کمپنی اور ڈے ایرانین فنانشل اینڈ اکاؤنٹنگ سروسز کمپنی شامل ہیں۔

پرشیا انٹرنیشنل بینک پی ایل سی، فرسٹ ایسٹ ایکسپورٹ بینک پی ایل سی اور ملت بینک جوائنٹ سٹاک کمپنی کو ‘بینک ملت’ کی ملکیتی یا زیرانتظام ہونے کی بنا پر انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ بینک  ملت پر 16 اکتوبر 2018 کو انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

جہاز رانی کا شعبہ

آج ‘ایس ڈی این’ کی فہرست میں ایرانی جہاز رانی کے شعبے سے ملک کے قومی جہاز راں ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران شپنگ لائنز (آئی آر آئی ایس ایل) اور تیل کی نقل و حمل کا سب سے بڑا ادارہ ‘نیشنل ایرانین ٹینکر کمپنی’ (این آئی ٹی سی) شامل ہیں اور ان دونوں کو ‘حکومت ایران’ کی اصطلاحی تعریف پر پورا اترنے پر انتظامی حکم 13599 کے تحت پابندیوں کے لیے شناخت کیا گیا۔ مزید براں یہ سامنے آیا کہ یہ ادارے ایران کے شعبہ جہازرانی کا حصہ ہیں۔ لہٰذا جانتے بوجھتے ہوئے  ان اداروں کو مالیاتی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دی جانے والی اہم معاونت یا اشیا و خدمات کے حوالے سے دیگر مدد پر پابندیوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ‘او ایف اے سی’ نے ‘آئی آر آئی ایس ایل’ کے 65 ذیلی اداروں اور متعلقہ افراد کو انتظامی حکم 13599 کی مطابقت سے ‘ایس ڈی این’ فہرست میں شامل کیا ہے۔ مزید براں 122 ایسے جہاز بھی سامنے آئے ہیں جن سے ‘آئی آرآئی ایس ایل’ کا مفاد وابستہ ہے۔

‘آئی آر آئی ایس ایل’  کا ایک ذیلی ادارہ ‘والفجر شپنگ کمپنی پی جے ایس’ پاسداران انقلاب کے لیے اس کے زیراہتمام بندرگاہوں سے مسافروں، سامان، کنٹینروں کی خلیج فارس کی بڑی بندرگاہوں کو باقاعدگی سے منتقلی  کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

‘آئی آر آئی ایس ایل’ کے ایک اور ذیلی ادارے ‘حافظ دریا آریا شپنگ کمپنی’ نے ایرانی دفاعی صنعتی ادارے (ڈی آئی او) کے لیے کم از کم ایک جعلی کمپنی کو سازوسامان پہنچایا ہے۔ قبل ازیں 30 مارچ 2007 کو ڈی آئی او کو ایرانی جوہری اور میزائل پروگراموں میں مادی معاونت پر مبنی سرگرمیوں میں شمولیت کی پاداش میں انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

2017 میں ‘آئی آر آئی ایس ایل’ کے ذیلی ادارے ‘سفیران پیام دریا شپنگ کمپنی’ نے 136000 میٹرک ٹن سے زیادہ مقدار میں ایرانی ہلکے خام تیل کو ایران سے شام پہنچایا۔

مزید براں انتظامی حکم 13599 کی مطابقت سے ‘او ایف اے سی’ نے ‘این آئی ٹی سی’ سے ملحقہ 37 اداروں اور جہازوں کو شناخت کیا جن سے ‘این آئی ٹی سی’ کے مفادات وابستہ تھے۔ 52 دیگر جہازوں کے بارے میں شناختی معلومات سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ان سے ‘این آئی ٹی سی’ کا مفاد وابستہ ہے۔ ہر سال یہ جہاز دسیوں  ملین بیرل ایرانی تیل اور قدرتی گیس منتقل کرتے ہیں جو کہ ایرانی حکومت کی ضرررساں سرگرمیوں کو مالی وسائل کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تہران کو ملنے والی یہ مالی معاونت بند ہونا ضروری ہے۔

ایرانی جہازراں صنعت جہازوں اور دیگر اثاثوں میں ‘آئی آر آئی ایس ایل’ یا ‘این آئی ٹی سی’ کے مفادات چھپانے کی کوشش میں ماضی کے گمراہ کن طریقہ ہائے کار سے کام لے رہی ہے۔ آج ‘آئی آر آئی ایس ایل’ سے وابستہ جہازوں میں چار ایسے ہیں جنہوں نے حال ہی میں اپنے نام اور جزوی ملکیت تبدیل  کی ہے مگر ان سے ‘آئی آر آئی ایس ایل’ کے ایسے مفادات بدستور باقی ہیں جن پر روک لگائی جا سکتی ہے۔ ایران کی ایسی چالوں پر عالمی جہاز راں صنعت کو چوکنا رہنا چاہیے اور ایران کی جانب سے جعلی کمپنیاں بنانے، آئی آر آئی ایس ایل اور این آئی ٹی سی کے جہازوں پر اپنے جھنڈے ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ اسے ایسے ذرائع کے حصول سے روکنا چاہیے جن کی بدولت اسے ان جہازوں پراپنے مفادات چھپانے میں مدد مل سکتی ہو۔

ایران کی جانب سے دھوکہ دہی پر مبنی اقدامات بارے اضافی معلومات سے آگاہی کے لیے مالیاتی روک تھام کےامریکی  نیٹ ورک کے ایران سے متعلق حالیہ مشورے یہاں دیکھیے۔

ایرانی ادارہ جوہری توانائی

‘او ایف اے سی’ نے آج ایران کے ادارہ جوہری توانائی (اے ای او آئی) نیز اس کے 23 ذیلی اداروں اور متعلقہ افراد کو ‘ایس ڈی این’ فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ ادارے اور افراد انتظامی حکم 13599 اور سیکشن 560،211 کی رو سے ‘ایرانی حکومت’ کی اصطلاحی تعریف سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ایرانی جوہری پروگرام پر اے ای او آئی کا عملی و انضباطی کنٹرول ہے اور یہ ادارہ جوہری تحقیق و ترقی کا ذمہ دار ہے۔

مزید براں ‘او ایف اے سی’ نے مرتضیٰ احمدالی بہزاد کو ‘پیشرو کمپنی’ کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر کام کرنے کی پاداش میں انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ پیشرو کمپنی ایران بھر میں جوہری پروگرام پر تحقیق و ترقی کی ذمہ دار ہے اور ایران بھر میں جوہری پروگرام پر تحقیق و ترقی کا ذمہ دار ہونے پر اسے 9 مئی 2013 کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

ہوابازی

‘او ایف اے سی’ نے آج ایران کی قومی فضائی کمپنی  ‘ایران ایئر’ کو ایرانی حکومت کی ملکیت یا زیر انتظام ہونے کی بنا پر انتظامی حکم 13599 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ او ایف اے سی نے ‘ایران ایئر’ کے 67 طیاروں کو بھی ‘ایس ڈی این’ فہرست میں شامل کیا ہے۔

پابندیوں کے اثرات

آج کی کارروائی کے نتیجے میں امریکہ یا امریکیوں کے قبضے اور اختیار میں ان اہداف کے تمام اثاثے اور اثاثوں میں مفادات مسدود ہونے چاہئیں اور ان کے بارے میں ‘او ایف اے سی’ کو اطلاع دی جانی چاہیے۔ او ایف اے سی کے ضوابط عمومی طور پر امریکی افراد کی جانب سے یا امریکہ میں (بشمول امریکہ کے ذریعے ہونے والا لین دین) ایسے تمام سودوں کی ممانعت کرتے ہیں جن میں مسدود یا پابندی کے لیے نامزد افراد کے کسی اثاثے یا اثاثوں سے وابستہ مفادات کا کوئی کردار ہو۔

مزید براں آج نامزد اور شناخت ہونے والے اداروں اور افراد کے ساتھ مخصوص لین دین میں شامل افراد کے خلاف بھی نامزدگیاں یا مسدودی پابندیاں عمل میں آ سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں اگر کسی استثنیٰ کا اطلاق نہ ہو تو کسی بھی غیرملکی مالیاتی ادارے کو آج نامزد کردہ کسی بھی ایرانی ادارے یا ‘ایس ڈی این’ فہرست میں شامل مخصوص ایرانی افراد (”ایرانی حکومت” کے طور پر شناخت شدہ ایرانی مالیاتی اداروں کے علاوہ) کے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے کسی اہم لین دین کی سہولت دینے کے لیے امریکہ کے نمائندہ یا مخصوص اکاؤنٹ سے رجوع کرنا ہو گا۔

آج نامزد ہونے والے اداروں کے بارے میں شناختی معلومات


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں