rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا بیان

Facebooktwittergoogle_plusmail
العربية العربية, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
20 نومبر 2018
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی

 

وزیر پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ یوم تشکر مبارک ہو۔

آج میں پانچ موضوعات پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ آج امریکہ نے ایک عالمگیر نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی ہیں جسے ایرانی حکومت اور روس اسد حکومت کو کروڑوں بیرل تیل فراہم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے ایرانی پاسداران انقلاب – قدس فورس کو سینکڑوں ملین ڈالر حاصل ہوتے ہیں اور پھر یہ رقم حزب اللہ اور حماس جیسی دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتی ہے۔ امریکہ ایسے ناجائز لین دین کا فروغ روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ایران کو دہشت گردانہ  سرگرمیوں کی مالی معاونت، فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی مدد، عام شہریوں سے بدسلوکی یا خطے کو غیرمستحکم کرنے کے لیے مالی  ترسیلات چھپانے کی غرض سے عالمی مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میرا دوسرا موضوع انٹرپول سے متعلق ہے۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ انٹرپول نئے صدر کا انتخاب عمل میں میں لا رہا ہے۔ یہ ایک اہم ادارہ ہے۔ ہم اس کے قائم مقام صدر کم جانگ یانگ کی بھرپور توثیق کرتے ہیں۔ ہم انٹرپول کے فریق اور قانون کا احترام کرنے والے تمام ممالک اور ادارں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں نفاذ قانون کے اس نہایت اہم ادارے کے لیے ایک قابل بھروسہ اور دیانت دار رہنما کو منتخب کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ جناب کم اس منصب کے لیے موزوں ہیں۔

تیسری بات یہ کہ افغان مفاہمتی عمل کے لیے ہمارے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد حال ہی میں افغانستان، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ سفیر خلیل زاد کا پہلا اور آخری پڑاؤ کابل میں تھا جہاں انہوں نے حکومت افغانستان اور طالبان کے مابین امن عمل میں سہولت دینے کے لیے صدر غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ اور دیگر افغان فریقین سے ملاقات کی۔ کابل کے اس دورے میں سفیر خیل زاد نے افغان سول سوسائٹی اور امن کی کوششوں میں متحرک مردو خواتین، میڈیا کے ارکان اور دیگر حکومتی اور غیرسرکاری اداروں کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ سفیر خلیل زاد نے اپنی ہر ملاقات میں زور دیا کہ افغانستان کے لیے پائیدار امن ممکن بنانے کے لیے تمام افغانوں کی آواز سنی جانی چاہیے۔ ہم ایک جامع امن عمل میں سہولت اور مدد دینے کے لیے دلچسپی رکھنے والے تمام فریقین کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

میرا چوتھا موضوع شمالی کوریا سے متعلق ہے۔ شمالی کوریا کے لیے ہمارے خصوصی نمائندے سٹیو بیگن آج اپنے جنوبی  کوریائی ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں جس کا مقصد شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے حتمی اور مکمل مصدقہ طور سے پاک کرنے کے ہمارے مشترکہ مقصد کے حصول کی خاطر کوششوں پر باہم قریبی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ وہ مقصد ہے جس پر چیئرمین کم کی جانب سے اتفاق پایا گیا تھا۔ آج جمہوریہ  کوریا کے ساتھ یہ اہم نوعیت کی بات چیت ہے۔ وہ جاری سفارتی کوششوں، اقوام متحدہ کی پابندیوں پر ہمارے مستقل عملدرآمد اور بین کوریائی تعاون پر بات چیت کر رہے ہیں۔

آخری بات یہ کہ آج میری ابھی ترک وزیر خارجہ کاؤس اوگلو سے ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے پادری برنسن کی رہائی کے بعد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور باہمی دلچسپی کے امور سے نمٹنے کے لیے اضافی  ذرائع سے ازسرنو کام لینے پر زور دیا۔ ہمیں ترکی کی جانب سے امریکی سفارتی عملے کے مقامی ارکان اور شہریوں بشمول ناسا کے سائنس دان سرکن گولگ کو غیرمنصفانہ قید میں رکھے جانے پر بے حد تشویش ہے۔ ہم نے خشوگی معاملے اور شام میں جنگ کے خاتمے، اقوام متحدہ کے زیرقیادت امن عمل ازسرنو شروع کرنے کی حمایت اور شامی تنازع کے پرامن و پائیدار حل کے لیے اکٹھے کام کرنے پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے آپ کے چند سوالات لے کر خوشی ہو گی۔

مس نوئرٹ: این بی سی سے ایبی، جی بات کیجیے۔

سوال: یقیناً، جناب وزیر، صدر نے اپنے بیان میں جن چیزوں کی نشاندہی کی ہے ان میں 110 ارب ڈالر مالیتی اسلحے سے متعلق اقدام بھی شامل ہے۔ مگر اکتوبر میں دفتر خارجہ کے اپنے ریکارڈ کی رو سے صرف 14.5 ارب ڈالر آئے ہیں۔ آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ اسلحے کے اس معاہدے سے بقیہ رقم کب تک موصول ہو گی؟

وزیر پومپئو: ان میں بعض معاہدے، خاص طور پر دفاعی معاہدے پیچیدہ اور طویل گفت وشنید پر مبنی ہیں۔ ہم بقیہ امور پر تندہی سے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اعدادوشمار اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ بات چیت کب ختم ہو گی مگر ہمیں پوری امید ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اسلحے کی خریداری کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدے بروقت تکمیل کو پہنچیں گے۔

مس نوئرٹ: الحرا سے مشعل۔

سوال: آپ کا بے حد شکریہ۔ جناب  وزیر، صدر کے بیان کو دیکھا جائے تو انہوں نے کہا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ سعودی سلطنت اور ولی عہد میں کیسے فرق کریں گے؟

وزیر پومپئو: مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہم مفادات ہیں جن میں امریکی عوام کا تحفظ اور امریکیوں کی حفاظت شامل ہے،  ان میں صرف وہی امریکی نہیں  آتے جو یہاں ہیں بلکہ ان میں وہ امریکی بھی شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ کا سفر کرتے، وہاں کام اور کاروبار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ امر یقینی بنانا صدر کی ذمہ داری اور دفتر خارجہ کا فرض ہے کہ ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جن سے امریکی قومی سلامتی کا مزید فروغ ممکن ہو سکے۔

چنانچہ جیسا کہ صدر نے آج کہا، امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھے گا۔ وہ ہمارے اہم شراکت دار ہیں۔ ہماری یہ شراکت سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ ہے۔ صدر نے آج یہی عہد کیا۔ یہ سیدھی سی بات ہے۔

ویسے دیکھا جائے تو یہ ایک طویل اور تاریخی وابستگی ہے اور یہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے قطعی طور پر اہم ہے۔ ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ دنیا میں مختلف ممالک کے ساتھ کام کرنے سے متعلق تمام تزویراتی فیصلوں میں امریکی عوام کا خیال رکھا جائے۔

مس نوئرٹ: این پی آر سے مشیل۔

سوال: مجھے اسی موضوع پر ایک سوال پوچھنا اور پھر ایران کی بابت کچھ جاننا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ”پہلے امریکہ” کے ایجنڈے کا مطلب انسانی حقوق سے متعلق خدشات پر امریکی کاروباری مفادات کو ترجیح دینا ہے؟ ایران کے حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے ایران میں قید امریکیوں کی رہائی کے لیے اس پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے کسی طرح کے خصوصی اقدامات یا خصوصی پابندیوں کے بارے میں بھی سوچا ہے؟

وزیر پومپئو: میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

سوال: جی

وزیر خارجہ پومپئو: ہم روزانہ کی بنیاد پر مصروف عمل ہیں، واقعتاً ہم دنیا بھر میں غلط طور سے قید کیے گئے یا یرغمال بنائے گئے ہر امریکی شہری کی واپسی کے لیے روزانہ کام کر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں باب لیونسن اور ایسے تمام افراد بھی شامل ہیں جنہیں ایرانی حکومت نے قید کر رکھا ہے۔ ہم ان کی واپسی کے لیے پرعزم ہیں۔ جیسا کہ صدر نے بالکل واضح کیا ہے کہ ہم ان کی واپسی کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کریں گے مگر ہم ان تمام کے ساتھ مل کر کام کے لیے تیار ہیں جو ان امریکیوں کو اپنے اہلخانہ سے ملوانے اور وطن واپس لانے میں ہماری مدد کر سکتے ہوں۔

ہماری اب تک کی کارکردگی آپ کے دوسرے سوال کا بہترین جواب ہے۔ ہم نے جمال خشوگی کے قتل سے متعلق حقائق جاننے کے لیے بے پایاں کوشش کی ہے۔ اس واقعے کی بابت تفصیلات سے آگاہی کے لیے امریکہ نے بہت سے وسائل خرچ کیے ہیں۔

امریکہ نے اس واقعے پر کڑا ردعمل دیا ہے۔ ہم نے اس قتل کی تفتیش کے دائرے میں آنے والے 17 افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے بھی پرعزم ہیں کہ امریکی قومی سلامتی کے مفادات مقدم رہیں اور درست سمت میں تمام اقدامات کے ضمن میں امریکہ کی بہتری یقینی ہو۔ اس سے دنیا کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کے لیے بھی مفید ہے۔

مس نوئرٹ: این ایچ کے سے بین۔

سوال: آپ نے بتایا کہ سٹیو بیگن اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مجھے بس یہ پوچھنا ہے کہ وہ کون سا پیغام دیں گے اور امریکی حکومت بین کوریائی کوششوں اور جوہری اسلحے کے خاتمے سے متعلق جنوبی کوریا کی حکومت سے کیا توقع رکھتی ہے؟

وزیر پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جنوبی کوریا والوں اور ہمارے مابین مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ورکنگ گروپ ہے جو ان طریقہ ہائے کار کو رسمی شکل دیتا ہے تاکہ ہمیں یقین ہو کہ ہم ایک ساتھ چل رہے ہیں اور کوئی فریق ایسا قدم نہیں اٹھا رہا جس سے دوسرا آگاہ نہیں ہے یا اسے اس پر تبصرہ کرنے یا اپنی رائے دینے کا موقع نہیں مل سکا۔ یہی اس ورکنگ گروپ کا مقصد ہے جس کی ہماری جانب سے قیادت سٹیفن بیگن کر رہے ہیں۔

ہم نے جمہوریہ کوریا پر واضح کر دیا ہے کہ ہم یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دونوں کوریاؤں کے باہمی تعلقات میں اضافے کے عمل میں جزیرہ نما میں امن اور شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کیے جانے کا عمل سست روی کا شکار نہ ہو۔ ہم اکٹھے آگے بڑھتے ہوئے ان دونوں معاملات  کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔ ہم ان دونوں کو اہم متوازی عمل سمجھتے ہیں اور ورکنگ گروپ اسی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے وجود میں آیا ہے۔

مس نوئرٹ: آخری سوال، سی این این۔

سوال: وزیر پومپئو، آپ نے بتایا کہ آپ لوگ یہ تمام حقائق جمع کر رہے ہیں۔ کیا آج صدر کے بیان کا یہ مطلب ہے کہ حقائق کی تلاش کا دور ختم ہو چکا ہے اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس حوالے سے انہیں جو حتمی رپورٹ دی جانا ہے اس کے مندرجات کیا ہیں؟

وزیر خارجہ پومپئو: میں انٹیلی جنس سے متعلق معاملات پر بات نہیں کر سکتا۔ اس مقصد کے لیے میں آپ کو ‘ڈی این آئی’ کے ڈائریکٹر کوٹس یا انٹیلی جنس سے متعلق خاص امور پر بات کے لیے سی آئی سے رجوع کرنے کو کہوں گا۔ یقیناً حقائق سامنے آ کر رہیں گے۔ مجھے اس کا یقین ہے۔ دنیا اسی طرح چلتی ہے۔

سوال: جب یہ حقائق منظرعام پر آئے تو کیا آپ مزید اقدامات اٹھائیں گے خواہ اس میں وہ بھی قصوروار ٹھہریں جو ۔۔۔۔

وزیر خارجہ پومپئو: اپنی حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں ہمارے اقدامات واضح رہے ہیں۔ جب امریکہ کو درکار معلومات حاصل ہو گئیں تو پھر یقیناً امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے درست فیصلے کیے جائیں گے۔ ہم نے ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے۔

مس نوئرٹ: سبھی کا شکریہ۔

سوال: اس قدر غلط معلومات کے بعد آپ سعودیوں پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں؟

سوال: حزب اللہ سے متعلق سوال۔ وزیراعظم سعد حریری نے کہا ہے کہ وہ (ناقابل سماعت) حکومت ۔۔۔۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں